آپکا زگ ے

خرم مراد ل مسلم سجاد

۔٭٭ ا اپ 7

ہیں لفظ عرٹس ریم

ہاب اول: زندگ یک سم

ہو ےًّ ےً ےر ے0

ازم وابدیی زنر وضطیقت دیاآ پک خنظر سے

.فا نکیا ہے؟

بے صضاب رںجہمت خطرات اور رکاوٹُلش علاوتث

اب دوم: پیا دگیاشرا ئا

٥‏ کہ وہ رہ و

ایمان : غدا کا کلام مب تکااخاگل

شر او رج کی اکیفیت مو لیت او رگھروسا اطاعت اورتر ٹٰ

و1 انکارامع

2 مت

رکاوئل اورمشکڑا ت اعختاداو رکھروسا

اب سوم: اپ نے قل بکی شرکت

زی رصع

فک بکیا ہے؟ بی راشلی فیمات

شعور کی حالتیں

زی

آ٥‏ ئن وہ رہ رہہ

داشلی رک ت کا ق رآ ی معیار الرحاضروناظمزے

اھ سے سنا

الٹ کا او راست خطاب

ہرلف ظط آپ کے سم یے

الہ ے بات چچیت

اللہ کے انھا ما تک امیر او رگجھروسا

0

000-۰0 0 (0

آپ کے دل کا رٹل

آ پک ذبا نکاروشل پکی ؟ مگھوں میں نو آپ کے عم کے انداز

تر تل ہے ساتو اوت

زین

۳'۴" ۵ۃ

2 ۹م"

۵۰

۵۱ ۵۳ ۵۵ ۵٦ ۵٦

ے۵

۵۹

٦ سل‎ لال‎ از‎

٦

ن- تث0ًَ0 00

رما

ان کی حاظت

خر نکی برکیا تک طلب وی دعاخشیں

کپ ھکر پڑھنا

باب چارم :ھا وت کے1 داب

000٥٠.٥0۸ 0 ی0‎ 0

تی مب پچھیں؟. کتنا بڑھاجاۓ؟

کب پڑھاچاےۓ؟ صعحت کے سا تھحلاوات نس نف رت

ین نا

عم فرکن

حف اٹ مآن

اب نم : مطالعہ جم

00 پ0 ں0 ب0000

ابھہت وضرورت

زا ی مطالد

مطالعہ کے خلاف اسر زا ل قرآن 6 ور

دوراڑ ل کا تہ

زائی مطا لے بی اند یٹ

ف89

ٌٌ

فھم کے درجات

و ًذًٌر

و ےلم

دہ ک پ ےم اصد

ں لی سعحیں ور یں بنیادی شرائط

٥‏ لب

ہ پراٹآن‌ ھا

د۹٥‏ ہا ح رکا طالد

ن توف تصوںما الد

د9 پارہارڑھنا

پہ مج اش ی زین

رئ مطالد کے محاونات

ہ مال کی ےکر ں؟

0 مم کے جھیں؟ عمومی اصول

زی زند و تقیقت کے طور پر کے

9 کل کے جز و کےطور پر بک

ئ مربوط کیک جامشن کے طور پر جک

ر۵2 ہنیعم وجود کے سمات ربکت

ہ ترآن ج جاج ےا ےھ

ں صن علیہ آ راکی حروریٹیش کے

:ہ2

0

رف تق رآپی معیارات سے بے تر نکوق م1ن سے گے

عد یٹ اورسرت سے بگے

عم ری ز بان سے کے

طریق کار کے لیے ھدایات

رصع

ہ وہ وہ وہ رہ رہ رہ رہ27

الا کا مطال

مع ن کا سیاقی

جارتجی ہیں مظر

بل ما

ااصسورت عال راطبای ٰ دور ا زفار اور چم تلق موا لی علم اور ذ باج تکاس موجودواضمالی عم

جآ پبجھوکئیں سکت

رت اک

اب شع : اتا گی مطالعہ

ن0

رہ کہ ہ27

ابست اورضرورت

اہشماىی مطاعے کے رت چار ذیادی ضا بط

علق مطالعہ

ٹا

۸ر

ےا

خ۳۲۳

در سی تاری رص درس دی ےکا ظر لقہ سے رد کے مطا بی زمدگی

2 تر نکی پروی 9*0 تر نیم نکی کیل

یہ را: رسول اللہ نماصص طور رکون رے جھے پڑ سے ے؟ مخلف نمازوں م' شآپ ٌ 7 جے؟ آپ ا موا > پرکیابڑ ے

شی ہر۴

مطا لت ٹرآ ن کے لے تجوز و نصابات محتقرنصاب اامتف صے طول نصاب : ہم مض سے

۵ ۳۲

رھ

٦ے‎

ضوح الله الےعس الرعیم

ان اشْكرْلِى وَلِوَالِدیُک * (لقمان۳۱:٢۱)‏ میر ےشکر اررہواوراۓ والد بی ے

خاں --۱۳۷-

ان کے قزموں میں بیٹک رج نے ق رن پڑ ہنا ھا ان کا اصرارتھاکہ بے ۶ر املھنی جا ہیاس لیے یھ اسکول کے مولوبی صاحب کے پااس بھیچا گیا جفھوں نے مہرے لیے مکی دہ نیاد می فراب میں جن بر ںآ ند :مار تفہ رک ۔کا- ا نکا خرن سےشغف اورکھنوں اب بج ھکر بڑ ھت ہو ۓ و گے سے مہرے دل میس وہنشعل فروزوں ہوئی جس نے مر راس

پیش رشن رکھا ہے۔ اور پالأخر ا نکی مشثال اورخاموشل ود ےش ے ال دک راشُل جدوججدک زھرگی کا امھ پایا۔

رب ارّحَمُهُمَا کُمَا رَبلی صَفِیْراہ (ہنی اسرائیل كا:۲۳) میرے رب ! میرے والد بن پر رق ف رما جیہ اکہاکھوں نے مہرے کین میس میرک پرورل گا۔

یں افظ

پیل ی دم پ مج ہہ اعترا فکرن چا ےک میرے اندد میکتا ب لکن کی پالنل اہلی تکیں ے اس سی ےہکہ می کوک ی عا ہیں ہوں اور ایمان اورگل کے اط سے بھی ٰ کور ہوں _ الد سجعانہ وت لی فر متا ہے: اکر ہم نے بیقر نی پہاڑ ئگ جار دیا ہوتا زم د ین ےک دواللد کے توف سے دبا جار ما سے اور پٹا تا ے (الحشر ۲۱:۵۹)۔

یں طرئ ہوسا ےک ایک انمان جوظم ی ںيگزرور اور روعا یٰ طور پر ام ہو قر نکی خعظت وربممت اور عمال ددان شک طرف رفا یٌکرے؟ بہرعالی مس بجر نے میرے اندر ا لی ات پیداکی وہ ہت ے دوستو ںکی طرف ے ءلا لی جانے دا ی اد پا ری تج نشی جھ یگنت ےک اخھوں نے میرے ساتیدمل جح لک جھ جاتھ بایا ہے دہ دوسروں کک بھی پپچنا جا بے لجا نیقی معنوں یس ططاقت ادحوصلہاس سے پیا ہوا: چھ گار راہ ٹ جدوچھدکرتے ہیں' یقن ہم یں اپنے راستو ں کی طرف رہنمائ یک بی گے(العسکبوت ۱۹:۲۹)۔

رسول اڑشرم٥لی‏ اللہ علیہ ویلم کے فرمان: میری طرف سے ہیا دد جا سے ایک نقرہ

یکیوں نہ مو اور تھھدارے بہت رین دہ ہیں جو رآ ن سکعت سکھاتے ہیں نے اے ایک ایا فرٹش بنا دی سے اداکرن ےکآ رز دک نا جا ہے ۔

ان سکتزا بکو اٹہ سے میرا مقصید بت عام سا ے۔ یکوئی عل یختقین نہیں ے۔

مۓ۳

2 نکا را

میں مفتیکیں ہوں اور نہ کاب علما کے لیے سے۔ می سن ں بچھتتا کہ می استا دکی طرح ڑھارپاموں اکوئی رہنما ‏ یکر رہ ہوں' اں لی ےکہ جیھے اس طرح کسی منص بکاکوئی دوک ہیں ہے۔ می ب یکا ب ف رآ ان کے ان عام ہے بڑ ھے کک نا وا قف ش این خصور] طلبہو طالبات کے لیے لکھر پا ہوں جوق رآ نکو ہٹھٹ ابینے اندد یذ بک نے اود انس کے مطابقی زمدگ یگمز ورنے کے لی ست چروچ در رے ہیں چھھ یک میں خودکر رپا ہوں- بش طالببم٢لھوں‏ کے لیے ان چیزوں کے بارے می سککر ہا ہوں جو یں ابھی خود سے را ہوں۔اس لیے ا سکتتاب می سلگو یا ایک ہم سفز این سائھی ےم وگنشگوھ ہے مر یکوششل ےک ہق رآ نکی طرف اود ق من کے اندرسف ری سان اورففم پش شامراہ 9 خامیوں کے ساتھ ا گت رنے کے دوراان' یس نے جو پک مفید بایا اور اختیا رکیا ے اس مم ساحیو ںکوبھی ش ری ککروں۔ یھے یقن ےکہ جو ھٹیس نے یی کیا ہے دہ اپنے ْ ناو فرش آنع او ےآ رت تا کت لس

کاب ایک طو یل جو کا تخجیہ ے۔ اس کا اوازم ہگئی بریسں کے مطا لیے دوران مع کیا گیا ہے اسے کیج ےکا آ غاز رع سےتمیں بی نیل اس وفت ہوا ھا جے یس نے رآ ن کے مطابقی زندگ یگز ار ن ےکی جدوجہد شرور ب یک یبی۔ اس وقت بے مقصد ےلکن رک دانے اپنے بی جیسے پکجونو جواوں کے ای کگرو پکو ہہ بتان ےکی ڈمہ دارگی پر دک یگئ یئ یکہق رآ نکا مطال ہکس طر کیا جا ۔ اس وقت یش نے جو پت بتایا اس کا خی تحصہ ان چتر ماغر ری تھا: حمیدالد گن ڈرای تفاسیر فراھی' ابوالا گی مودودی تفهیم القرآن' اشن ان اصلاگی تدبر قرآن امام مزا ی احیاءُ علوم الدینٴ شاہ ول ی ال حجة الله البالغەادر الفوز الکبی'ر جال الد گن سیوڑلی الاتقان فی علوم القرآن۔

ا سکاب می ج جم وبھی ہے اس کے لے میں ان کا ہج بھی شک رگم ار ہوں ۔ اس کا اخترا فکرتے ہے یس ىیکہنا بھی ضروری بکھتا ہو ںکہ یم نفین' مجکھنے اور ہیی

۱۴ -

یں لفظ

رن ےکی میرک خامیوں کے لع ذمہ دا رکیل ہیں ۔ این خیالا تکوف ری کر نے کا سا مو بجھے سے ے۱۹ء مس اس وت ملا جب میں نے عبدالل بوسف می کے تر جمہ ق رن (شا جغعکردو: اسلاک فا رشن ) کات رارف :ںہ 6 ٦٤‏ ج۷۸۷ آگھا۔ یکنا ب لی مسل رہ ال کا تتجیہ ہے ۔کناب میں ا نک نشرک یکئی سے لیکن ان یل سے چتھکا یہاں انار سے زکرمفیر ہوگا_ اوٗل: ہعارگی زنگیاں ہے مقصدر ہی ںگی اور تاہ ہو جا ٠ی‏ ں گی اگر ایں اللہ کے کلام رآ ن پا کک رنماگی یش نہگز اراگیا۔ دوم: فرآن خدا ےکی و قو مکی جاابد رای تکی حیفیت سے آ بح بھی ہعارکی زندگی سے اتا ہی تحلقی سے جتنا چودوصد یا ٹل تھا.۔۔ اور ببیشہ رےگا۔ سوم: قرآ نکی برکا تصی نی مفبوم می اورشی شی مقدار لآ بھی ہمیں اسی طرح عاصل ہو نے کاعی ہونا چا ہے جس طرع اس کے اولیشن ای نکو حاصل ہوئیں ۔ اس مشرط کے ساتج ہک ہہ بھی اس طرع ان کی طرف ئمیں اور اس کے اندرسف کی کہ ا سکی ھت افصمل می حصہ پان کا ہیں واٹجی اخمقاتی مال ہو_ ۱ چھارم: رصلان کا 27 ےک دہ مرن ا کک علاو تک نے حفظ کمرنے اور گے کے لیے ول وجان ے وفت دے۔ پنجم: قرآن جو چجگھی سی ای ںو سکو ات قول دحل ہرفیاظہ سے اپے آ پکوااس کے ؟ کے بپپراندا زکرد بنا جا بے ۔ ابی مڑائی کا ساس خودسرئیکی کیغیت' کوٹ حفظط یا اڑسی جبدت جس ے ناد موم گل ق رکآ ن کا ہم حاضصل رن ےک یکوششوں کے ل ےمم مائل ہے۔ اس طرح ا کی برکا ت کا ددواز ہ بند ہو جا ۓگا۔ ششم: رآ ن کا رات اپٹنے آ پکو اس کے1 کے ڈال دی کاٗ اور جو وہ

دا

خ رآ نکاراسع

تا اس پیش لک رن کا راستہ سے خواہ نے ای کآ یت ہی مکھی ہو۔ یک آ یت جھ کو ھکر اس پر٠‏ لکیا جائے اسکی ہرارآ ات سے مہتر ہے جن نکی خوب صورلی :۵]0۳03‪۷‪ٗف۵ەٗ78)) ہولئین جس نے اد یکا زمدگ یکوکوگی ضصن نعط ا کیا ہو ورتقیق تش مق رآ نکی شا وی اطاعت دفرمالں برداری سے۔

ا ل ماب کے مات الاب ہیں ۔ ہرمیک ٹیل ال سفر ےکی ملف بل وکو بیان کیا گیا ے۔ پہلا: ہماری زندگیوں کے لیے اس سف رک ےکیامفی ہیں دوسرا: آ غازسفر سے پپی دل ددماغ می سکیا زاوسف رشع کر میں ۔تیسرا: اپٹی ذا کیل شمولیت کے لے رل ودااورم سک ےکیا اطوار واعمال ناگز مہ ہیں۔ چوتھا: حلادت کے لی ہک نآ دا بکو وب رکھنا چا ے۔ پانچداں مق رہن کیوں او رگیے؟ ھا: اج مطال دمآ 27 مر کیا جاے؟ ساقذاں ران کےمش نکی کیل کے لیے انی زنیگمیاں جی رن ےکی مرورت۔

بک شی میں ق ر1 ن کے ضحخفصوس حموں کے بارے میں رسوی الد کے ارشادات ش کر د بے گے ہیں دوسرے کے میں انفرادی اور اش گی مطا لے کے ے صاب کی سے گے ہیں جو بہت ے لوگ مفید 2 گے مطال عکینبتض معاونات بھی شام لک کی ہیں ۔ ٰ بی اس وعی تک یکنا بجی سک جلدی جلدی بڑ ھکر ایک طرف رک دئی جاے“

الا کہ جو اس 8 لکہا گیا ےکس یکو دہ پندر نہ ہو یادہ اے مفی روس نکرے۔ ھے امیر ےکہ جو اا لکتا بکی ضرور تمحسو کر میں اور اسے مفید پانمیں گے دو ضرور ال کے ٰ ہر ضے کے سیےکائی وقت مالیں ے اوراے پاد بار نعل گے ان سے مہ را کہنا ‏ ہوگا: ا سے نے تل سا یکی حیثیت سے اپ ےکا مآ نے د ہیی ۔

آ پکو یجھ چچیزو ںکا احقیاط سے مطال کر نا ہوگا کو اپٹی یادداشت می فو رکنا ہوگا' تھکا پک باد ہا عوالہ دی ےک ضرورت پڑ ےکی مک نپ کے لیے وہی

٦

جنزمغید ہوگی ےآ پگ افقیارکریسں مے۔

رت ج پچ ےکر بی ے و ہے سےکہ رات کی عدبند یکر ی سے صروری نشانات را وکا نی نک ری ے اورٹھی جہاں ضرورت ہو اطاط وج- یا عمانعتکی رایت دی ہے۔ اس کے باو جو 1 پکوسوارکی کا اما مکر نا ہوگا' اس شل پٹرول فروانا ہوگا' ماک 7 بہوگا او رگا ڑ ‏ یکو چلا نا ہوگا ۔ کنا بک یکوگی بات آٗ پک اندرو ی تما ارارہ اورعزم اورسس لکویشش کا قراول فر بھی سک رسکی ۔ ٰ

وکت--- میں جلہجل ہآ لکنا جن یا نکی ہوئی بات ںکوقجو للکر ے اور یں کام یش لانے کے بارے یں تببات اور اعقیاطوں کے مشورے میں گے_ بی مات اہم ہیں اورضصوشی توجہ چا بے ہیں ۔آ پ ق رآ نکوخود سے یک ہک یکوصت لکررے ْ ول یا نصابات کے مححت ڑھ رے یں اک اور چر کے مطال یکر رے ہوں' ان ا لکو پیش این سا رھیے۔ ٰ

را سارازوراک بات کہ ےکہ ہرمسما نکوخ رآ ن جڑھنے کے لیے خود ذائی کو میں اکر ن ےکی مخت ضرورت ہے مر ے نز د یگ یٹ ھ1 نکا ہب ے زیادہ بیادی مطالبہ ہے۔ میس اس مک ک ےگڑھوں ے وائف ہول اور ُل نے ا نک نان دی کروی ہے۔ ال جو انے ےآ پ سیدنا ااوبگرشی الله ع کا ول یش ہیی نظر ممیں: اگرقر ن کا مطلب بتاتے ہوۓ شم اپنی رف سےکوئی با تکہوں ت کو نی ز ین جے ناو د ےگا اورکون سا آ سان مرے ا9ی سا ہیر ےگا ا تو لکا بجھ پر بھیشہ ببت اسجا اءٗہاے۔آ پکڑجھی اں ے فا تر اٹاناچاے۔ ٰ

جھم ایک ایے دور یم رہ رہ ہیں جب اپنی زملگیاں ق رآ نکی رش مم گمزارن ےکی ضرورت بہت اہم اور اگزسہ ہ وگ ہے۔ اس کے ایر ہم مسلمان شہ اپے آ پکودوپارہ دریافت یت ہیں نابی دی کو ۱ مکی بنا کت ال اور دنا میںشرف دوقارعاص لکر سے ہیل اور ۔۔۔۔ اہم ت ین بات کہ نہ اپنے لق و ما لی ککو را یکر سکت

ےا

ش رآ نکا راس

ہیں ۔ انا شی تکھی ق رہن کے فیا یکیمگبرائیوں می لت گی جارعی ہے

بج ملمانوں میں اس ضرور تکا اساس جیزکی سے بڑھ دہ ے۔قظ رآ نکو جن اور اس کے مطابی زندگ یگ ار ن ےکی خوائش عام ہو رجی ہے ۔ اجاے اسلا مک لہر اس بیداری اور رز وکا شمراود ا جج رک رن ےکا ڈر مہ ے۔ ْ

اس نازک دور می گر ررممول یکوش چتو ولوں یں ق ران کےسفر یر جو زندگی پھ رکا سفرے روانہ ہو ےکی تمنا پید اکر دے اور ىہ اع کے سرائی کا کا مر ے فو میں ککھو ں گا کہ مری عحن تکا مر بچھےم لگیاے۔ اگر چہ می را ال ذائدہ می ہوگا کہ الله تعالی ری نببت او رآ کی تام خلطیو ںکو مواف فر ا دےاوردل دو جان ےکا جانے وا ی ال کوٹ شکواٹی تو لیت ت ےلوازرے۔

جو ھی ا سکاب سے فائتدہ اٹھائۓ' اس سے میریی درخواست ہے: جھے انی

دعاٗؤں| مشیل نہکھو نے ۔ ۵اشبان ۴۷/۳۵گ۱۹۸۵ء - خرم مراد

عریس م تم

رے ٹو دی قرآن کوک م خرم عراد علیہ ال رح کی متبول ین اور موشر خر یی کنا بکہا جا ے ہے جا نہ ہوگا۔ ا نکی خوا یٹ لت کہم ےکتاب ُردو می کچھ ؟ ے ۔کوئی ام تر جمہ ہو جاۓ اور وہ اسے دک ےک ھی کک د بی میکام ا نکی وفات تک ث ہو ۔کا۔

ا نکی زندگی یی یی نے ایک جا ب کا تج کیا تھا جو ایک ددایت کے مطا لق اھوں نے پپن دکیا تھا۔اس ےموصلہ یا راب میں نے ام کاعمل ت جج کیا کا بک دےپا افذادیت اورابمیت کے یں نظ رمیں نے نفرم روفسرعبرالقد یم تمرم روشم ڈارٹحخ الد بین ہاشھی اور رق عمزیزسلی منصور خاللد سے مجن یں ےکک ای عمارت تاب تحار فگیں' درخواس تک کے رنظرمانی کرد ں۔ برادر۶: ء: اشفاثق۱ مال ےَ خر روف ال 1 _ ال کا کے حد کر ے کہ اع سب نعخرات نے نعاون' غدمت اور نیقیا اج یش شش رلت کے ج بے سے وفت لگا کر محنت سے م کا مکیا۔ شی اپینے ان رثا کا کیرب سے شر ارہوں_

مس نے ان را ت کیاکی سام رک ھک رآ خری نظرم ٹی کی۔ امید ےکلہ اب کاب میں کوگی جرل نہ ہوگا۔ اگ رکوگی 2 سو کر ے لو ضرو رلوے ولا ئے۔ اگ رکوگی 7 ہےر یق ا کیا دج میرک الیت لگا ہے۔

قراٴنک راس

اب یناب یٹ ہے۔

گذشنت چتند برسوں شش ہمارے معانٹروں میں تر نکی ططرف رج دان طور ڑھا سے رد اورخو اق نی طلبہ و طالیا ت رآ نکوکیکھنا چائے یلں۔ کاب اع سب کے لے ایک ضرور تک حیثیت ربحتی ہے۔ مان کے ق رہن ےیتعل کوٹ صت در ےکر أص تکوعردنع دفلا ع کے رات پرگا زنک ن ےکا سبب ہی گیا۔

اللکی اٹ سے لفن ہے دہ اپئی رمعت دکیم سے میرے ال لکا مکوصاب کے دلن میرک گی کے پاڑ ےکو جھکا ن ےکا سبب بنا در ےگا۔ ُ

رین سے مصنف اور ٹریم اود ا لا بکو ہی یکر نے ش۳ حصہ لیے والے قام اباب کے لیے دعا کی درخواست ے۔ ٰ

وی ات۲۰۰۲ء ٰ مل ساد

۲٢

سم الد الین ارتم

زندگیکاسر

از می وابریی ز رہ خیشت

قرآن خداۓىی و و مکا کلام ہے۔ یہ تھا مآ نے دانے وقوں یں انا نکی رما کے میے نا نز لک یا گیا سے ۔کوئ یساب اا سکع لنمیں ہوحکتی ۔ جیسے جی ےآ پ قرآ نکی طرف قدم بڑھاتے شی آپ الد تھاٹی سے ہممکلائی کےترجب ہو تے جاتے ہیں ۔رآن بڑھنا' الل تا یکوسضنٴ اس سے باج ںکرنا اود اس کے رات پہ چنا ہے سے زدگی دینے وانے کے سسانتے ز نگ یکو پٹ یکنا ہے۔' اللہ کے سواکوگی الننیں ہے وہ زمرہ جادید “کی ے بج ظا مکا یا کو سنا نے ہو ے ہے۔ ا" نے کم بپہ کاب نازل ٰ گیا سے جیقی نےکر کی ہے---انسانو ںکی ہدایت کے لیے (آل عمران ىض٣۰۶ص۳۳)‏

جن لوگوں نے اسے سب نے پیل الد کے رسول صلی انشد علیہ یلم سے سنا ان کے لے قرآن ایک چلتی چھرتی فی تکگ۔ یں اس بارے مل ذرہ برابرشیہہ نی تھاکہ رسول کے ذر یئ خود الد تھاٹی ان سے مکلام بو را ہے ال لیے دہ جب اسے ضت تھے ان کول اؤردازا پ چھاجات تا۔ا نک |گھوں سے؟ سو یت ان سے

نا

رانک راس

نم کاچ گت تھے دہ اس کے ہرلفظدکوزندکی کے معاملات او رتچ بات ے پ ئل متحلق پاتے تاودرا مل طود پہ اہی زندگیو ںکا بنا لیے تھے ۔ اس قرآن نے ا نک فرد اور معاشرےکی دوفو ں میجلتں ے اک پالیل سے زندہ اورحیات آ ٹر ل وور ٹل مل طور پرتیدہ لکر دیا تھا ۔ جھ پیٹ ریھریاں جراتے تھے أونو ںکی گلہ بال ی کمرتے تھے مصعم وی کاروبارکر تے تھے انساحیت کے رما بن یئ _

آَ بعادے پاس وی ٹآن ے۔ اس کے لاکھوں مرش مس ہیں۔ گررل ش'“رزن نگ" جرول ہے زن اوذزات کس ا سک عاد تک جال ے۔ ال کسی ومطااب کے جال کے لیے نھائیر کے ذخیرے موجود ہیں 027

سنہ > جستر یو سس یت

کے یی مارکا ایک نشخحم ہونے والا سلسلہ ارگی ہے لیکن میں خی رمق جں رلوں پر اشڑنیں ہوم دمانھوں جک با ت یں پپپنی زنریوں سکوئی بد گی واج یں ہوئی۔ ایا گن ےکہ ذات و تی قرآ نکو ماتۓ والوں کے لی ےکک دب یگئی ہے۔ ایا کیوں ہے؟ اس کہ اب ہم قرآ نکو زندو یقت کے طور پرنیں پڑت ۔ یہ ایک مقر کاب ضرور ہ ےگ جمارا خیالی ہ ےکہ یل صرف ماش کا بات بای ے۔۔۔ کافروں کے بارے میں ملمافوں کے پارے شی یسائوں اور بیہودوں کے پارے مونیشن اورم اشن کے بارے میں--سوہ جکسی ز مانے می ہوتے جے !

کیا صدیا لگ ر نے کے بحدبھی' قرآن ہمارے لے ای طرح طاقت کی ہوسکما سے جیا وہ اس وقت تھا؟ اہم تر بن سوال ہے ںیم کا یل جواب دینا ے۔-۔ رہ7 ا نکی رہنمائی میں اپنی تر کی ازس نی کر نا جا ہیں تو ا

اس یس چچھھمشکلات نظ رآ نی ہیں جن مس اسیک مہ اصا بھی ےم ہقرآن جس خائ زمانے میں ناز لکیا گیا تھا ہم اس سے ببت 7 کے کل ہے ہیں ککزا لو ہی کے میدان یش بڑی بٹڑئی دای لائی ں' اور انسالی سعاشرے یس بڑئی بی تد ییاں

۲۲۳

زندگ یکاسفر

رو ما ہو چی إں- علاوہ اڑل آ نج قرآن ے پٹردکاروں میں سے ٹیش تر عرلیکہیں جات اور جو جات شیں وٹ رآن اکل'زھ؛زبا نوم می یلت ہیں ۔ان سے نوع ہی ںکی جات کہ دو قرٹی محاوروں اور اسستارو ںکو جھییں گے جوش رآن کے مطال بک یمگہ رئیو ںکو علا شکرنے اور جذ بک نے کے لیے بے حدضروری ے۔

ین اس کے ایے دوے کے مطابقی ا سک ہدایت تمام انماٹوں اور تام زمانوں کے ے پھیث کے سے سے اس لس کہ یہ یہ ر بے وانے دا کی طرف سے ے۔

گر ہے دگوگی سا ے اور لا / ےب چا ےو یرے خال یش ہمارے لیے من دن جا ےکی سی ددہے راک عیی مک ھ رت نکواہی طرح انی جھیں او تر یک جی؟ جیہاکہ اس کے اولین مخانین ن ےکیا تھا۔ میہ با ت کہ ائل تھا ی کیا ہدایمت ہیں اٹ یعمل شان' کمالات اور انعامات کے ساتھ لے ہماراجض ہے۔ دوسرے الفاظ یش قرآن کے ز مان و مکان کے ایک خخاصصس سے میس ایک خخاضص زبان می نزولی کے جارنی وا خے کے پاوجوڈ ہیں قرآ نکو اب اسی وقت نازل ہوتا ہوا مسو ںکرنا جا ہے (کیوکمہ اس کا پام دائی ہے ) اود جمارے لیے یکن ون چا ہےکہ اس کے پیا ھمکواپنی زنرگیوں کا بی طرح ضفقی حصہ بالیس جنس طرع کہ اس پر ایمان لانے وانے اولین لوگوں نے بنایا تھا اور اج نام موچودہ مالات اور پ پٹاعّول فوری اورمل رہمالی اسی طرع اس سے پا یں۔

گر ہہ مک طر نکر میں؟

اکر بالنل صاف صا فکہا جاۓے فو ا سکا صصرف ایک ہی راستہ ے: قرآ نکی دما میس اس طرع وقل ہوں ہی ےکہ الد تا ٹی اس کے ذر بی اب او رآ ع بھم سے خاطب ے اور ال ںلکیفیت ے شعوری طور رلزرنے کے سے جوشرائط ضروری ہیں" میں برا ریں۔

۲۳

رن کارمت

ولا میں مو ںکرن چا ےک ال کا ام ہون ےکی حثیت سے ق رآ نکتا نیم

سے اور ہمارے لسیے ا ںکا کیا مطلب ہے اود راس کے لیے اترام دمحبت

اورنحلق گے عذبات اور اراو) ف٣‏ لو ای طرب بردے ہار اض ج ا

اصا کا قاضاے۔ ٰ

ثا نا یں فرآ نکواس طط رع پڑھنا چا ہے جن رآ یہ چا بتا ےک اے بڑھا

جاۓے۔ جس ط رم پڑھنا ال کے رسولی نے ہیں سکھایا ہے ۔ جس ط رع 1 پا

خوداو رآ پ کے سا ہکرام اسے پڑت تھے۔

7 میں جا ہیےکہزمان ومکان' 7- ونقافت اورفقرات وژجرلا کی

تب یگ کی خھام رکاوڈٹو ںکوعبورکرتے ہو ف رن کے ہرلفظکی زی -ھے

مو بورہ ا اوزد الو وھیں_

انۓ پیل مناکین کے لے فرآن ان کے زمانے کا واقہتھا۔ ال ںکی زان اور طرز اکا یان واترلال' ای کے محاورے اور استوارے اںی لطامات اورغلل' ال کے واقعات دلحات سب ان کے اپے ماحول مل پوست تے۔ برلوک نول قرآن کے پور کل کےگواوبھی تھے جو ان گی پورگ زندگی یش مرعلہ برم رعلیل ہواٴ اور ایک لاظ ےش ری کبھی۔ ۴ہیں مہ مقام عاص ل یں ہے لی نصی ن ہی۶ کک یہ ہعارے لے ما چا ہدنا جا ہے۔اپنے عالات مٹں قرآ نک ینے اود ال یگ لکرنے سے ہم بڑئی حد ت کآ نمی ای طل رح اپنے ز مان کی ہچ زجھییں گے جع اکہ یراس دنت تھا۔ ای ےکر انسا نکیا سرشت مم تبد رٹ یی ہہوکی ہے۔ یہ نیرمبرلی ہے۔ انان

کے صرف خوا ہر مکی ر کے گگنا لو تی بر مل ہے ہیں۔ مہ کے مرک اف 9 وروی" ان کے عیسالی اور ینک آبادئی کے وین اور رم ون" چاٰے اب اے جاتے ہہوں گر یہکردار ہمادے پاروں طرف موجود ہیں ۔ک مٹھیک اىی ط رح انان یں بس مر رن کے پپلے خاطب انسان تھے چاہے اس سادہ سا تی کےمگہرے ۰

زمدگیکاسفر

مات ہے نین ہیں ے حدمشئیل گے۔ ایک دفعہآپ ان ای کا ادرا فک بی اور ا نکیا چیرو یک میں۔ ایک دع قرآن کی طرف اس ط رع آہنمیں جس رح اولین ملا نآ ے تھے ۔ب یہآپ کے بھی بی طرع جازل ہوگا جس طرع ان پہ ہوا تھا آ پکو اسی طرع اپنا ش ری ک کا بنا ۓے گا جس طرع یں بنایا تھا۔ پچھر یج ایک قائٹل اتترا مکماب' ایک مقدل دستاوی: اورک راگین سرچشمہ بت کے ہججاۓے ایک ار یلیم طاقت می تبد مل ہو جات ۓےگا جب مکو اپناگرفت میں ل ےک بلاۓ اور م کت در ےکر ای کاراموں کے تو ل کی طرف راجنمال یکر ے جیما اس نے بج کیا۔

دیا؟ پک فنظرے

آپ قرآ نکی طر فآ تے ہیں تو ایک نی دنا کی رف آتے ہیں ۔آ پک زندگی کاکوئی بھی افد ا قرآ نکی طرف اورقرآن کے اندرسغر سے زیادوعفظی اب نازک پامرکت اورففح ہچ ینیل ہوک

یسمف رآ پکو ال لکظا مکیا نتم ہونے دالی مسرفوں اوران بے پایاں مز انوں کے اندر نے جا گا جو پ کے ال و مالک ن ےآ پ کے لے اودرسادگی انساثیت کے کی ہیں۔ بیہاں آ ‏ پکوعلم و داش کے نا تقایل بیا ن تافو ںکا ایک جہاں لے ےگا جو زگ یک شاہراہوں پآ پک رہنخمائ یکر ےگا اور؟پ کےاگ رو لکی تج صورر گر ی کر ےگا۔ بیہاں دہ مگہریی لعیرت ل گی چھ پکو مالا الٗ/ردےک اورچخ راۓ > چلائ ۓےگی۔آ پکو اس اع زی ےکی جھآ پک روج کی مگھرائیو ںکومٹو رکر د ےگیا۔ یہا ںآ پک جذ با تک الک ارت ےکی جھآپ کے د لکو پھلا ےک اور پ کے رضاروں 7 نو سۓلگیں گے

اتآ کے کے مد یت رق ہے۔ اس لی ےک جوں جو ں آپ

۲۵

_ رآ نکارامع

قرآ نکی دنا میں سفرکر میں گے ہرغم پ آپ سے تقاضا ہوگا کہ ایک را ہکا امتقا بک یں اور ایر کے و جائمیں۔؟ زاومرضی سے لوس سے جیسو ہوک رق رآ نکی جلا ور کر ال لور پِقرآن کے مطابی زن دک یگ ارنے س ےکمنکیں سے۔

آ پک پوریی زندگی کے نڑجےکا اراس پہ ےک ہآ پ دا کی اس پکا رکا رح جواب دی ہیں۔ ال لیے بےسفرآپ کے وجود کے لیے انساحیت کے لیے اور انی تی یب کے تفبل کے لیے فی لہکن ایت رکھتا ہے۔ کا آ یات می مکڑوں نی دنیاتی ںآ باد ہیں

اس کےلحات مم لک کی صدیاں پتہاں ؤں (اتّال:جاوید نامه)

ان تیج کہ رٹ رآن--- اورصرف قرآن یا ہے جآ پکو اس دنا س بھی اور آخرت مم بھی کا میا کی منزلو ںکی طرف 1 کے جآ کے نے جا جا ہے۔ ٹر نکیا ہے؟

قرآن میں انسان کے لیے جو یھ ے ا کی حظلمت اور ایت کا اورا گکرنا یا اسے بیال نک نا اس کے اس می سکیں ہے۔ لم نآ ا زکرنے کے لیے پکو باتھ نہ یھ اندازہ ہونا چا ہجیےکہ کیا ہے آپ کے لیے ا سک کیا ایت کے ت اک ہآپ کے اندر اپنےکل وجد کے ساتھ قرآن کے اندر ڈو بے کا جذبہ بیدار ہو---کچی وا اتی مل سپ ردگی او رسک لکویشش کے ساج جیما کہ ا ںکا قاضاے۔

فرآنآآپ کے لیے ال دی سب سے ب کی نقت کے برحفر ت1 وم علیہاللام اورا نکیاسوں ے اللہ تا ی کے اس وعر ےکی بل ے: میرکی طرف سےکوٹی بدامت تھارے پاس ین وج لوگ میری اس دای تا چچرد یک سی م ان کے ےکی خوف اورررک کا موٹح تہ ہوگا (البقر ۵ ۳۸:۲)۔

اں دنا یں شراور ان لک توؤں کے مقابے میں جدوججہد کے لیے مآ پ کے

۲

زندگ یکاسفر

کور وجودگی دد ہے ۔آآ پ کے خوف اور ای کوقا لور نے کے لیے یی واعرزر لچ ے۔ ج بآ پ اندعیروں میس بتک ر ہے ہول فو کامیائٰ او رجا تکا رات ماش شر نے کے مے سی واعدفور ہے۔؟ پ کےنخس کے امرائش کے لے اور پ کے پاروں طرف جھ اجچاگی خرابیاں ہیں' ان کے لے داحد شفا ہے۔ بے پک فطرت اور ند آپ کے منصب وفر الپ کےخطرات اورانعامات کے لیے مس یادد ہی اود کر ہے-

جب چچرتل علیہ الا مکی دہ تی اسے لن ےک رکآ کی جآ سالوں ٹل طاشت ور اور تقایل اعخمادرے و اس کا امن وہ قلب مصفا دا لی تھا جھ انس خی تکی ارس یش پالل منفردتھ اور وو تھا --- حرش ٢کی‏ ارڈ علیہ یسل مک قلب مپارک !

می بھی پر سےزیادہ اہی خالقی سے ریب تر اورزدیک 7 ہون کا صرف بجی راستہ ہے۔ مآ پکو ال تق کے بارے می ا لک صفات کے بارے مل کانات پر اودتارن پا لکی حھھرانی کے بارے مھ اس کے؟ پ ےپ٥لتی‏ کے بارے آپ کے اس سے خوداپنے آپ سے دوسرے انسانول سے اوردمر ہرموجودے کلت کے بارے مل باج ے۔

آپ کے لے جوانعامات یہاں خنظر ہیں نیقیغ دہ بببت میگ رآ خرت یں اس ےکی گنا بڑھ جانیں گےںیگن سفر کے اخخظام پر آپ کے لے جو چو خنظر ہے حدریث ندری کے مطائی: ”۷وہ شی 1کھ نے دیکھا' نیا کان نے سنا اور کسی اسان کے ول ا نکا خیال آ یا ححضرت الو ہریرہ اس پر اضا فہک رت ہیں: اکر جاہول سورہ ارہ (۳۴:ے۱) میس پڑھو: بچلران کے اعما لکی جنزائجش جیا پچھہ؟ عگھمو ںکی ھن ککا سامان ان کے لیے چ اک ررکھا میا سے ا سکیس یقنف سکوٹ رکیل (بخاری' مسلم)-

نے صاب رت وعقظمت

سب ے زیادہ امم ے بات یادرکنا ےک مرن ہیل جم بے ؟

لآ نکا راع

ال رب العا لین کا کلام ہے جو ال ن جح اپنی مربالی اود ہمت در ہو یی تک بنا > انا ی زبان ںآ پ کے کے ناز لکیا ے: الَحْمْنُ ہ عَلُم الْقرانَ ہ (الرحمٰن ۵۔]) تما یت متربان (خدا) نے اس قرآن 1 ت دی ے۔ رَحْمَةمِنْ ویک (المدخخان ٦:٦٣‏ )تھا رے ر بکیا دعمت کے طور پر ٣‏ رآ نکی مظقمت وشمان انی پڑ جلای ‏ ےک کوگی انان ال س کا اددا کی ںنکرسکتا۔ اش عد کک اللہ تھاٹی نے فرمایا: اگ ہم نے بی قرآ نکی پھاڑ پربھی اجار دیا ہوتا نتم د یھت کرائلد کے توف سے دبا جار ہے اور پا ہڑتا ے(الحشر ۵۹:٥۲)۔‏ ال تھا یکی رحعت دمظم تکا جو رپ پر اا لک بیبت دجلال کے بچھانے کے لے اورآپ کے آند رش رآ نق گی دی یں را غلى 2 / 1رزہ اور چروچ کی ُ بلند یں کے تصسول کا ج ہہ بیدا رک نے کے لیے کائی ے۔ تچ یہ ےک ۔کوئی بھی زان آپ کے کے قرآن سے زیادہ ٹھتی اور تقائل قد رنبیں سے۔ جیا 2 ان خوداپۓ سے زان کا ارت لوگو! ارے پا لبھادے ر بک طرف سے تحت ؟ مگ ی ہے۔ یہ دہ ہز ہے جو داوں کے امرا شک شفا ے اور جھ اسے قو کر لیس ان ری را لی اودرعت ہے۔اے ن یکجددوکہ مہ ال کاف‌ل اور مب بای ےکہ بیقر اس نےگجبگی۔ اس پر لوکو ںکونوشی منانا جا ہے(یو نس +ا:ے۵۔۵۸)۔

۱ . نطرات اور رکاوگل

پک اللہ تھا ی کی ربمت و رکرتی ںا و عخنابہت رضرورخوب خوگی میا

جا ہے۔ ان زانو ںکوضرور حاص لکرن جا بے جوا کے ا رر پکیا ملا ختظر

ہیں ۔گگرقرآن اپنے دروازے صرف ان کے ل ہکھوتا سے جو مقصیر کے لے اخلائ'

1 رزومندی یک یکیفیت اور خصویی توجہ کے ساتقھ جھ ا لکی اہبیت او رعحظمت کے شایان

۸

زمدگیکاسٹر

مان ہو ان بر دنگ و ہے ہیں۔ صرف آشھ کو اس ے ورمیان لت ہوئے الں ے زان رن کی اجازت دی جائی ہے جو ا لکا ہدایت کے ؟ کے اپنے ‏ پکومل طور پر ڈالے کے لے اور اسے جذ بک نے کے لے انی پچتری نکون کر نے کے لیے تاریں۔ ٰ

اں لے ایا ہوا ال لگن ےک ہآ پ تقر نکی ممسل حلاوم تکر میں اس کے اورا قکو بڑے امام کے ساتھ ائنیں' اس کے الف کی خوش الاٰی کے ساتھ ق رت کسی“ ال کا مطالعہ خبایت عالمانہ انداز س ےکر میں--۔ لیان پل بھی اس کے ساتھ دہ تحلق پید ار نے میس نا کام ر ہیں جآ پک شخصی تکو مالا ما لکرتا اورتید بی لک دیتا ے۔ کیوکگہ ذہ سب لوگ جوقرآن پڑت ہیں اس ے لاز] :نف ححاص ل نی سکرتے جو ہیں حاص٥‏ لکن جا ہیے۔ ھن برکت سے محردم رت ہیں انت جک کے خی ترار اے ہیں۔ اس سخر ہے جس طربع کےہیتی اور ما مود انعامات ہیں ای طرع کے اس میں خطرا بھی ہیں اور الیبا ہونا می چا ہے۔ بت سے لوگ اسے بالئل ہات یں لگاتے“ کو ات سس یب بجی ری جوئی ے اور بہت سے ال ے ورواژولں لی کردمے جاتے ہیں۔ ببت سے اسے اکر پڑت ہی کن غالی ہاتحد رہ جاتے ہیں جب کک ببہت سے دوسرے ا لککا مطال ہکرت ہیں پچ ربھی ورتقیقت ا سکی دنا می بھی مل نیس ہوتے۔ لوک یں ات“ لین خودکم جو جات ہیں۔ دو خدا کی آواز خداکے اپ کلام مم نیس سن ہاتے ۔ وہ اس کے بجاۓ اپٹی آواز سلتے ہیں" یا خدا کے علادہ' دومرو ںکی۔

یھ دوسرے دا کی آ وا زین تو لیت یں مین اپۓے انرر ۸۶۱م وَوَارَاَوَ وا دو توصلہ پانے شی ناکام ر ہے ہیں جو اس کا جواب دیے اور اس کے مطابی زدگی گمزارنے کے لے ضروری ے۔ کچھ وو بھ یکھو دی ہیں جو ان کے پاسل ہوتا سے اور

۲۹

رانک راس

تی جواہرات شع رنے کے بجاے پٹھرو ںکاکھرفذڑ بوجھ نے؟ تے ہیں جوا نکو یش یف داز بتاے۔ تنا بڑا الیہ اود بڑعتی ہوگی ک ہآ پ قرآ نکی طر فآ میں اور خالی مات لوٹ پ لاو کو ود 2 لیو وت 7 الاے ٤ی‏ دائل ہوۓ مو سے کے وی ہی گل گے ۔ رن کی بیس شا نی کی جا کھت مگ رپ ان می سےکونی لیں گے اس کا مار اس خر فکی وسعت اور مناسبت پہ ہے جو ل ےکر پ اس کے پا س٣‏ یب اشن لیے پالئل ش روغ مس ہی اپنے آ پکوخوب اٹھی طرع اصاس دلا دتچ ےک قرآن آآپ کے لی ےکیا مرج رکھتا ہے او رآ پ سکیا تھا ےکرتا ہے۔عز مکی کیج رآ نکیا ا کی مان کے مطابی علاد تک مس گے اک ہآ پکا شمار ان لوگکوں شی ہو: جن لوکو ںکو ہم ےکاب دی سے وہ ا ںکی ال رح علاد تکرتے ہیں" شس ط رع ا سک علاد تک رن ےکاضتن ے۔(البقرہ ف۱'')(

اوت

قرآن اپنے پڑ نے کےگمل کے لیے لفظ حلاوت استعا لکرتا سے ۔کوئی ایک افظظ ٰ

اس کےعمل مع بیا نمی ںکرسکتا۔ چیرو یکر نٴ اس کے جیادی موم ے قر جب قز من

ہے۔ بڑ ھن ٹا وی حیفیت دکھتا ے۔ پٹ نے میں بھی الفاظ ایک دوسرے کے جیجیےآ نے

ہیں ایک کے بعد ایک قریب قرب مرلوط اور بای ترحیب میں ۔ گر لفظ دوصرے کے ۶ چیے نآ ہے یا اکن م وت رج ب کا فاظ نہ رکھا جاۓ نے مفبوم اب ھکر دہ جاجا ے۔

اس گے جنیادکی طود پر حلاو تکا مفبوم ہے: کیا تیب بی کرک رن 1 گے

بڑھنا ایک ترتیب می بہنا حلاش میں جانا سی مو کو این رجا" استاد اور تر مات

یکوصاحب افقا لی مک ا کسی مقص دکوانانا کسی بات پو٣‏ لک کسی کے کے چلنا'

۳

زندگیکاسفر

آزدگی کےکٗٴی راس کو افقیا رکرن “کسی سلمہ لگ کو دگھنا اور ں کا اتا کرن--۔ یا کے یچ چلنا۔ جو لوک قرآن 4 ایما ن کا کی دگوکی رکھتے ہیں وہ اں ے ا ناتعلق ھے ین اور اس پر لک نے کے ھوانے سے چا مر تے ہیں۔

خظاوت ایل ایا مل و 'شآپ ی و رکی تخمیت روغ ول ومارغٴ زبانغ او دمحم سب حصہ لیت ہیں ۔ تقر آ پک وراوچوداں یس شریک ہو جات ہے۔ قرآ نکی حلاوت میں مم ود مغ عحل و اصا سک یرش ہو جائی ہے دہ ایک ہوجاتے ہیں ز با ن حلاود کر پی ے اود ہونڈں ے الفاظ ادا ہوتے ہیں' ذ ہن و روگر تا جے دل پاش ہوتا ہے روح جذ بکرلی ےآ ضس و مگھوں میں ان1 تے ہیں ول ارز ہے کھا لکا بپتی ہے اور د لکی طرع رم بڑ جائی ے دونو ںکا بد ہوجو وجیل ر بتا' تی اکپ کے ہا ی بج یکھرے ہو جاتے ہیں:

وو اۓ ر بک رف سے ایک دوش پ4ر گلا راے۔ اشک رایت ے یں ے وہ ےچ اتا ےراوراہت ےا 7 ے(الزمر ۲۳۲۲:۳۹)۔

رآ نکی ااں طربح اوت یسا کہ اےعلاو تک نے کا تی ے آسا نکام نہیں سے مگر یہ پر مشکل پا الکن بھینیں .اکر یوں ہوت ق قرآن ہم جیسے عا مآ دمیوں کے لیے نہ ہوتا نہ ہے دہ رمقت و بدامت ہو“ تھے یقیا سے گر اہر ےکہ اس شش دل ۳ئ جزیہ ون لکواورشم ورو کو ہو شقت جبل 1 لی سے اور ا کا قاضا ہا ےکہ پت شرائا پور یک جا یں یجوف ال ادا سے جا ہیں ۔ بیتھ دای اور ہے نار جی طور 4-

پکو ان سب کامم ہونا جا بے اورقرآ نکی عا لی شمان دنا شش داخل ہونے سے پیل آکیں پو دا ن ےک یکوشی لکن جا ے۔

ای صورت شلآپ برکات د انعاما تکی وو پ ری نصل حاص لکر ھت یں جو قرآن یآ پک خظر ہے ۔ب می قرآن اپنے دردا ےآ پ کے لی ےکھو ل ےگا ۔حب

٣

ئآ نکاراستع

ى ےآ پکو اپنے اندد رپنے دے گا اود آپ کے اندد رےگا۔ رم مادر مم سلگمزرنے وا لے ۹ کول نے ایک 0 کے قطر ےکو آپ بنا دیا: سن والا" دجھۓے والا او رہ بۓے والا وجوو کیا آپ لصو رکر سج ہی ں کہ خرآن سے سات ھگمزرنے وا ی ١‏ اک ری زدگی۔۔۔ ملاش بر ہو ے سج بدئۓے و ےکھت بے سے سے ۷ ڑوے ٗ جروچھ دگرتے ہو ے--- ‏ آ پکوکیا بنا ےگیا؟ 77 70 آ پکو ایک لکل نج مسق مم تج رگ لکردے مج ضس کے7 گے بھکے میں فر ش بھی رح ںکریں۔ قرا نکی دنا کے اندراشھے دالا پرقرم اود اس کے ساھگ رنے الا پ رح ہآآپ کو ایک یم النشان بلندر یک رف نے جات ےگا آآپ اس طافت اور نک گر ت مل - 1 جا یں کے جوقرآن یں زنمدگی ٤اطب‏ دوڑتا ے۔ حر ت کپ ر الد جن گمرومین العاص ری اللہ عنہ رواب کر ے ہیں کر ول اللہ س٠ل‏ ال علیہ وم نے قرمایا: خرن کے سای سےکہا جا گا: لاو کرو اور نر یکی طرف ما و“ اتی ہی سبوات سے ہف ی سہوات سے تم دنا رش فرآ نکی حلاو تکیاکرتے تھے ۔نھارا ریس ن وہ بلنری سے جہاںم 721 أآ یت کا طاوت سے رتا چاو ے(اہو داؤد'ترمذی' احمد' نسائی)۔

رھ

٣

ظیادی خر انا

جو

ا ا ا و ا 0 کےئبصض بیادی روۓ اور عالقں ضرددری را ئا ہیں ۔آ پ ا نکو جقنا نٹ ونم دے کت ہیں دسیچیے۔ ا نکوا گج شعور کا تا جاگما حصہ بنا جیا ا نکو بھیشہ زندہ اور فعال رگیے۔ا نکو اپ ا مال سے م روط کر میے۔ یں اے وجودکیگہرائوں شس داقخل ہونے د ہے ان داٹی وسائ لکی مدہ کے ایرپ قرآ نکی برکتوں اوراتتتوں سے اپنائعھل حص نہیں پاعیل گے۔ یپ کے - سفمرمی ںآ پ کے ازئی رٹ بھی ہوں گے _

ان دائلی وسائ لک صرل رشکل سے نہ ناملکن ۔آپ اس 71 گی اورخوررگگر اور ماس ٹول نل کے ذر ہج آھھیں حاص لکر سکت ہیں اورنٹ ون ادے سج ٦ں۔‏ آپ جا زیادہ یکر یی گے قرآان کے ا سے می قریب ؟ نے کے تائل ہو جاشیں گے جقنا آ پ قرآئن کےقر یب ؟ میں گے انی ہی زیادہآپ کے صے مس فواند ومنانح یاصمل گی۔ ایمان :دا کا کلام

اول: قرآ نکی طرف ا سمگہرے اورمخبوط اعمققاد کے سا جآ می ےک ىہ ال خدا

۳٣

02 نکا راس

کا کلام ہے جآ پکا ال اور مالگ ے۔

۱ طرع کا مقیرہ ضروری اور نا الزمشرط کیوں ہو؟ با شش رآن ی اٹل اور طاقت اک ےک اگ رکوئ ینس اسے ایک عا متا بک طرع ڑھا رو کر دے جب بھی اکر وہ کھلے ز من سے مطالعہکرے نواس سے فامکدہ اما ۓ گا گگر مکنا بکوگی عام نما بکیں ے۔ ا لکا آ از اس زور گل ے ہوتا ے: لک الْکتبْ لا رَیْبَ ٤‏ فی (البقرہ۲: ۳۰)۔ ہا ک کاب ے اس می لکول شب یں -

ا لکو پڑ ھن اور مطالعدکر نے سے پ کا مقصر دکوئی عام مقص یں ہے۔آآپ اس سے اس ہدایت کے طااب ہیں جو1 پکی پو ری شخصی تکوتبد بلک د ےآ پکو صرا یئم پر لاۓ اود ال پ> ات تدم رھھے۔ امُدنا الضٌراط الْمُستقِیٔم 0 (النفاتحہ ۵:۱) پ مکوسیدھا راست دکھا آپ کے د لک پکار ہے جن سکا جوا بت رآن ے۔ ٰ

آ پ قرآ نکی تتربیفکر کت ہیں اس سے معلومات حاصص لکر ھت ہیں' من نے اس وقت کک آپ کے اندرتبد پیننیں لا سکتا جب کک اس کے الفاظ آ ‏ پکو جگانے آ پگو اپ یگرفت می لے پکوشفا دہ ے' او تب لک نے کے لی ےآ پ کے اندد تہ ات جانیں اور برا وق تک کم ن نیل ج بک کک ہآ پ اس کے الفا ےکوقرار واٹنی مقام شددلں می ارڈ کا کلام !

اس خنقیرے کے اخ ر1 پ وو مطلوبہ وا یقرت اص یں اکر کت ج سکی قرآن کے قل ب کک ہے اور اس کے پا مکو اینے اندد جذ بکرنے کے لی ہآ پکوضرورت نے ای دفدےآپ کے ول میگ کر لے مک ن نہیں ےک بےصفات اور روۓے --- شا مقضر میس اخلاص' عقیرت واىرام/عحبت ونظرٗ جھروسا واعمار مخت مت کے سے مادگی ا گی صدافت پر لین اس کے مقام کے؟ گے لی مخ کنا اس کے اھک ما ت کا کائل اتا اور ان خطرات کے خلاف چوس در ہنا جو اس کے نز انوں سے محرو مر نے کے لییے؟ ‏ پک اگحجات ٹس گے رج ہیں--۔؟ ‏ پک یشخصعی تکا جز و نہ کن جا می

اك

بیادی “رانا

الد تھا یق کی شان وشوکت اور جلال کا نمور مج آپ اس کے کلام کے لیے ری ب داتزام اور وانگی کے جذ با تشحو ں کر ل ئک رایت سیت کے بارے میں سوبے آ آپ کا دل اس کے پغام کے لے نکر عبت او رح سے رجا ۓ گا۔ ا سکی کت علم اور بای کاعلم حاصل تج آپ اس کے احکاما تک پروی یکر نے کے لیے رضا من در آمادہ' اور بے تاب ہو جانمیں جیے ۱ بجی وج ےک رقرآن یراہ تقیقت ہار باد یاددلاتا ہے۔ بالئ لآ غاز مل بہ تک سورؤ ںکی انتا ی آیات میس گی اور اگ درمیان مس بھی۔ می وھ ےک رسول الله س الشرعلیہ وم مکو ہرایت دی عالی ے روہ اینے عقیر ےکا اعلا نک بیا- کو الد نے ج کنیا ب بھی نانز لکی سے یلاس پرایمان لایا (الشوری ۱۵:۳۲)۔ آپ کے اس عقیرے میں موی ن بھی کی کآ واز ہو جات ہیں : رسول اس پرایت پہ اییان لا شی جو ان کے ر بک طرف سے ان پ> از لک یگئی سے اود ج لوک ان کے ان انے ہیں اھوں نے بھی اس برای تکوولی سے لی مک لیا ے(البقرہ ۲۸۵:۳)۔ اس لیے پکو کو شور پیش بیرار رکھنا وس 1 پ ڈڑھنے ور رے وص ہورےں., کل ض ررے تما ی نے؟آپ لیے از لکیاے۔ کیا آپ دانھی ىہ لقن رککت ہیں؟ جواب ملا ش لک نے کے لے وہ جان ےکی ضرور ت کی ۔ اہیے و کوٹ لیے اپ رو ےکا چائاہ ییے۔ اگ رآ پکو ىہ لنقین حاصل سے لو فآ ن کا ای سن ےکی رزو اورخوا ہش ليکیاں ے؟ ا سکو ہے کے ل کوٹ او رت حف تکہاں ہے؟ اس کے پخام کے لیے سلیم ورضا اور اطاح تکہال ے؟ م ىہ یقن کیے حاص لکریں' ےا تع گی را سے

۵

جج

خرآنکاراع

ریت ہیں یش یہاں صرف ای ک کا ذک رکروں گا۔ سب سے مور یقہ خو دق رآ نکی اوت ہے شمایر ایا نظ رآ ےک ہم ایک دائرے میں پچکر گا رے ہں' گر ایبانییں ہے اس لہ ہجوں جو ںآ پ قرآن پڑعیس مے آ پکا ىہ لنشین جازہ ہوتا جا ۓ گا اور آپ مت رطور پر یچچائہیں گےکہ یہ ال کا کظام ہے۔۔ و آپ ک ےک نکی شدت اود مگہراگی یں اضافہ ہوتا جا ۓگا- جے ائل ایمان ف2 دہ لوگ ہیں جن کے ول ان دکا ذک رک نکرکرز جات ہیں اور جب ال کی آیات ان کے سام پڑھی جانی ہیں نے ان کا ایمان بڑھ چاتا

ے-۔(انفال )۸"(

مب تکا الاک دوم: رآ نکوسواۓ اس مقصید کے اوریسی لیے نہ پڑ کہ اسنے مالک سے ہداجیت عاص٥‏ لک نا ہے اس کے قرب ؟ نا ہے ا سک رضا عاص٥‏ لکر لی ے۔ قرآن ےآ پکیا حاص لکرتے ہیں؟ ا ںکا مار ال پہ ‏ ےک ہپ ال کے پا یم بی آتے ہیں ۔آ پک یت فیص لکن ایت رصن ہے۔ نقیۃا قرآ نآ پکی ٰ رایت کے لجیےآ یا ہے۔ اگ رآ پ مل محرکیات اود برے مقاصد سے اس کے قریب آ1 میں 2 پ ا کے پڑ نے سےگمراءبھی ہو کت ہیں ۔ اس رب اد ایک ہی بات سے چو ںکوگھرای میس بت اکر دا ے اور ول کوراو راست دکھا دبا ہے۔ اود ال سےگمرای بی وہ یکو پت کرجا سے جو فان ہیں ُ(البقرہ ٢:٦۲)۔‏ ْ قرآن ال کا کلام ہے ۔ خی تکا اتی اخلاس اورمقصید کے لے ایی کیسوئی ٰ چا تا ہے بن یک اللہ تھال یک عبادت و بندگی ۔ ا ےج ڈانی تفع کے لیے نہ پڑ یج بکلہ مقر ن کا قد حاص لکر نے کے لے اپ عق لکو بدرج رام استعال تیے۔ کت بی لوک

کسر

نیادی شرائظط

قرآ نکی زبان' طر جار“ جغرافیہ اون اور اخلا قیا ت کا مطال کر نے بی پور یک ری زندگی صرفکر دج ہیں لیکن ا نکی زندگی بر اس کے پنیا مک اکوکی ا یں ہہوتا۔ قرآن ای افرادکا حوالہ د نے جوعلم رک ہیں نیشن اس سے استفاد کی لکرتے۔-

پکو قرآ نکی طرف اس لے شدہ ارادے سےکیں آن جا ہمہ اپے نریات" مفروضات اور نت نظ ر کے لیے ما مز ومامت اص٥‏ ل کر ی ے۔ اگ رآپ ایا کر میں گے تے ال دک ینیں خودا پٹ یآ وا زکی بازگشت اس می میس کے ۔ف رآ نکو یھن اور اس کےممی جانۓ کا بی دہ انداز سے مجن سکی الد کے رسول نے غرم تکی ہے۔ ج کوک ی تر ن کی تیر ابی ال راۓ ےکر ے سے اپی مک جن مکی بک میں نا لینی چایے(ترمدی)۔

اس سے بڑی ہأمحل کیا ہوکتی ےک رآ نکو اپٹی ذات کے لیے ناص عزت یرت حیفیت ما مال و دول تھی دنیادکی زی انے کے لیے استعا لکیا جاے۔ ہوکنا ےکآ پکو بیسب پچگنل جائے لین ال رع آپ نصرف ایک بی بھا خزانے ک ایت تیرۓ سے سوداکر رے ہوں جج بللہاہۓے کو ابر نقصانات اورچای میں ڈال رے ہوں گے۔ اود کے رسول صلی الشد علیہ یلم نے فرمایا: اگ ہکوٹی تقر ن کا مطالعہ ال ےکر ےکہ اس ط رح لوکوں سے ایے لیے روزی حا لکرے فو قیامت کے روز دو ال رح انٹھایا جات گا کرای کے چرے رگوش ٹ نہیں صرف پڑیاں ہو ںگی (بیھقی )-

پ نے بیگھی ف مایا کہ جینٹش دنا میں تحریف وین کے لیے قرآن تا ہے اور ا ںا اوت با مھ رلیںک تا ے دہ اگ یں ڈالا جاۓگا(مسلم)۔

پ قرآن کے الفاظ ے دوسر ےکم ترفوائ ھی حا لکر سے ہیں خلا جمائی امراف کی خفا نضیا ی ی سکون با خربت سےمحجات۔ ان نزو ںکو حاص لکرنے پرکوئی ند ینیں کے شین بجی وہ سب پچ نہ ہو جاۓ جھآ پ قرآن سے حاص لکرتے ہیں کووہت کے اص وف ہونے عامیں۔ اس لی کہ ان چن دگھون ںکو

ف۰

شرآن کاراسھ

اص لکرنے می ںآ پ دو ساراسمندرکھو سکتے میں جو پ کا ہوسکتا تھا۔ رآ ن کا ایک ایک و ف پڑمے کے بڈے انعامات ہیں۔ ان تام انعاما کا شور رکیےے اور میں اپٹی یت کا مقعبد بنایے ال لی ےکہاس سے؟ ‏ پکو وہ مضوطط داحیہ ےگا جوساریی زندگی قرآن کے سا تح رز ارنے کے لے جا بے گر بای نو کہ قرآ ن یلکن جذ بک نے اود اس پیش لکرنے پر (اس دنا یش اور بعدکی دنا یش سے بہت زیادہ انعاما تکا آپ سے وعد ہک یا گیا ہے۔ بی پ کا اصل مقصد ہونا جا بے ۔ نصرف یک ہآ پکا مقصد خالیس ہو نا چا ہے بللہ جب ایک دفع قرآ نآ پ کے اتآ جا ۓے--- ا کا من بھی اورسن تکی شکل میں اس کا زند وخمونہبھی-- نے پھر آ پکورہنمائی کے لم ےکی ادد مل زکی طر فنیس یکنا چابیے۔ ہن سراوں کے تی دوڑنا ہوگا ال ںکا مطلب و ہہ ہوگا ک ہآ پکوفرآن پر اویل سے بے قرآ نکی ابات ہی بر دفادار یا لی مر نے کے متراوف ہوگا- ٰ ان محات کے متقا لے میں جآ پ کلام ای کے سا تج رگ ارتے ہی ںکوکی بھی ہز آ پکواپنے مالک سے قریب ت لانے دا یگیل انل لی کہ صرف ران بی مل آپ مال یی ی کی آواز نل کی فرد برک ت کا لف اٹھاتے ہیں۔ یں آپ ج بکھی قرآن پڑھعل نے آ پکا داع دفحرک الشد سے قر یب تر آ ن ےکی شد یڑ خوائشل ہو۔ بات یہک ہآ پک نیت بی ہونا جا ےکہ اپے ردل ودما اور وق کال ہدایت کے لے اکر جو الل نے پ کے لیے بھی ہے اپنے مان کا رضا اص لکرنا ہے۔ ج بآ پ اپنے آ پکواللد کے آ کے ڈال دینے ہیں ت2 ال سودے می ںآ پکو ال کی رضا عاصل ہوٹی ے: دوسرکی طرف انماٹوں میس سے ہ یکوکی ایا بھی سے جو رضاۓے ال یکی طلب مس اپنی جا نکیا دا ے(البقرہ ٢:ے۲۰)۔‏ ْ مقمداورخی تیم کے لیے رو یا کیا داش قو تک ماخ ہیں۔ بہت سے

۳۳٣٢٣

زیادک شرائظ

نا ایک چیے نظ رآتے ہیں مین جب وونشو وم پاتے ہیں اور پل دئے ٹر ان ے فرقی وا بب جائے ہیں ۔ تی ایس اورارح یت ہوگیا اتی می زیادہ آ پک یکوششوں گی رو قمت اور ا ںکا عاگ ہوگا۔ ْ

ببیشہ اپنے آپ سے پو چم ھک یی شف رآ نکیوں پڑھ در با ہوں؟ برابد اپے آ پکو ر ہے ]نف رآن ایوں ڑم جو ہے ۔مفھیر اور نیت :کو ای اور سو رکھے کچ ےے ۱ بی رین طریقدے۔

شکر او رم کی اکیفیت

سوم: کیٹ اۓ ادراۓ مالک کے لے اجچچاکی کر اورجھ کے جذ با تکوتازہ کہا ن ےآ پکو اپنے سب سے بڑے نے -- ق ران --۔ سے لو انا ے اور اس کے مطالعہاوشہم کے لیے ؟ ‏ پک رہمائ یکا ہے۔ ایک دئ ہآ پکواضساس ہو جاۓ کہآپ کے پاتھوں می سککتا ٹیش بہا خز نہ ہے ف مک نمی ںک ہآ پکادل فر سرت سے جس می ط1 ہے اورپ گی نز یالن لواں سائگھدددے: تحریف غدامی کے لیے ہے جس نے یمیس مہ راستہ دکھایا ہم خود راہ نہ ا سکت تھے اکر خداہماریی رہنمائی ہکرت (الاعراف ے:۳٢۱)-‏ انتا ی نے1 پکونجن انعامات داکرامات سے وازا ہے ان یش سےکوئ یکبھی ٰ قرآن جیما یں ۔ اگ رآپ کے کس م کا ہر بای زبان بن جا اور ا سکی مھ شک کر ے اکر پ کے یم کا ہرقطروخون مسر تک 1 نسو ین جاے“ح بچھ یآ پکی مھ اورشک رق ران بھی بے پایاں فیاض کان ادانی سک ری ھے۔ ٰ اگ رق رآن ہمارے لیے نہ ناز لکیا گیا ہوتا ش بگھی ا ںکاعکھال و مال اور اں کی شمان وشوکت ہار تحریف وشین کےجن دار ہوتے مان ىہ با تکہ سہکائل اور عاکی شا ن تہ ہج سکو بہمنفرد اعزاز عاصل ےکہ مہ ال دکا کلام ہے صرف بہمارے لیے

۳۹

قراٴنک راہ

بھی ا گیا ۓے اللدتعالی کے لے جمارے ج ہتشک رکو بے عد وا بکرد یا ہے۔

کی بش یدکیفیت'(ا عحالشگر کے احماس میں تد بل ہو جائی سے اورشکر سے ریز اں تم بی کا ”جم“ سے کہ الفاط میس اظما رن ہوس:اَلْحمْدِله الِّیْ مَدتا لہافر َا کن لَِهعَدِیَ لو ا مَدنَا الله (الاعراف ك2:)۔

قش رآن عط اکر نے رہم او کاشر کیوں اد اکر میں؟ دراص٥ل‏ اس لس کہ اس طرح اس نے زندگی کے مقصمد و مان کی رفآ پک رہنما یکا ہے اور پکوصراط مم پ4 ےآ اڑے۔آپ کے لیے اس دنیا ۴ش عمزّت و وا رکا راس تکھول دا گیا ہے ران یش آ پ الد سے ہا تی لک ھت ہیں ۔ اس دنیا یش قرآآ نکی پچ و یکر کے بی آپ اس دنا یش ارڈ رکی مغفرت' ہنشت اور رضا عاص٥‏ لکر کت ٴٴں- ٰ

شر اورمسرت اعتا و امیر اور اس سے بھی بڑے انعا ما تا طرف لے جاتے ہیں۔ وہ تی نس نےآٴ پکوقرآن عطا کیا ہے دہ یقیۃا اس کے پڑ ےگنن اورشل کرنے می ںآ پک مددکرےگا۔

شر اورفرحت چردم الکی ماز و اناگ پداکرتے ہیں جوھآ ‏ پکو پبیشہ ایک نے 7 اور جڑزے سے راکنا کے مطالعہ کے ےآ ماد ہکرکی ے۔ تا زیادہآ پ شر زار ہوتے ہیں اتما ہی زیادہ الد تھا یآ پکوقرآن سے سے وا لے نز انے عطاککرتا ہے۔

فیاضی ے احا شک بیدار ہوتا ہے شگ ر17 پکوزیادہ فیاض یکا ا خختقاقی عطاکرتا ہے لیوں ایک ٹ,یخم ہو نے والا سلسلہ شور بہوچاتا 271-2 وعرہ ے: ٰ

ین مکرنُم لا نم (ابراہیم ۱۷:ے )اگ رش زار جنو ے نے میں میں اورڑیادووازو لگا

آپ کے پا فرآن ہو اور پ ال قت ری اکیفی یں دکرے ہوں" ق اس کے دوہی مطلب ہو کت ہیں ۔ یا ق2 آپ قرآ نک برکات سے لالم ہیں یا آپ ھی سکوئی اہمی نہیں دیے۔ دوفوں صودقوں جآ پکوقرآن سے ا پت کی کیغیت

۷۳

ناد شرالظ

کے و انے سے فی الو اف پہ یشان ہو جانا جا ہے-

شکر کے ج جذبات کےقلب ددمارغ کے ہرگوۓے طاری ٭ل' ان کا 7 9۴۳/ص 000 اس صسفرکے ہر مر طےہ ر الک شک اوا یی قرآن کے لیے وقت لے پر اسے درست پٹ ھنے پا اسے نف اکر نے "اس کے معنوں ک کک رسائی پا کے اخام پش لک تق پش رکا اظھار اعمالی ےبھی ہون چا ہے ۔ شک رکواعما لکیشکل ایا رکرن جا ہیے۔

قولبت او رگ روسا

چھارم :رآ نآ پکو جوعلم اور ہدرایت بنا جا سے اس ےک شی اور پاٹ کے بضیرقیول تھی اوراں ربھروسا رکھے۔ ْ

آ پکو سوا لِکھرن ےک ا آزادری ےک ۔فرآن ال کا کلام ے انیل اور اگر معفسٹن نہ ہوں نے ال کے دو ےکومستزدکر ن ےکی ؟ زادی سے لیکن ج بآ پ ایل دم اسے ال کا کلام تلی مک یش" تق بل راس کےےکسی اسیک لفظ پربھی شی ۔کر نک اکوکی جوا ز7 پ کے پاس یں ہے۔ ای اکر نا آپ کے پییلہقبو لک ن ےکانخی ہوگا۔

قرآئی تقلممات کے سان م لیخ مکرد ینا چاپے اور افے آ پکو پالئل اس کے پپردکردینا جا ہے ۔آپ کے اہ عق مر ٹیل مفرو سے نصورات او رآ انس یکو ا ںیکی ْ کک جات پ غااب نہ ہونا جا ہیے۔

ران ان افرادکی نذص تک رتا ہے ج کا بکو ایک ور غ بت ہیں اور پچ کیک و شیب ہکرنے والے تج ران و پر بیشان' ”٭مسلمائوں'“ جیما رویہ اخقیارکرتے ہیں : یقت ہے ےکہ اگھوں کے بعد جو لو کاب کے وارث بناۓۓے گے وہ ا ں کی طرف ہے ہڑےے اضطراب اگیفز تک یش پڑے ہو ہیں (الشوریا ۴۴۳:٢۱)۔‏

بن بار باردال بات > زور دیا سےکہ اس ےسیا لاوٹ کے ایر ناز ل کر نے

گا

رانک راسۓے

اور پچانے کے مل اوتما مک یا گیا ے۔ اس رآ نکو ہم ن ےج کے ساتھ ناز لکیا سے اور بی کے ساتھ ہہ نازل ہوا ے(ہنی اسرائیل ےا:۱۰۵)۔ تارے ر بکا بات ای اور الصاف ہے اخقیار سے کال ے (الانعام ۲))۔ را نکو چ اورممل مانۓ اور اس پر اعتمادکرنے کا مطلب اندھا امو بند زجع اورجھس تہکرنے وا عق لنویں ہے۔جو چھھقرآن میں ہے ال کے پارے میں تق نک رن کہ نمو رکرن ےکا سوا لکن کا او ری کا ری 7 پکو حاصل سے گگرجس ام کا پعمل ادرا کننی ںکر مت 'لاز] دہ خلط یا غی نع٦‏ نی ہے یک ایی کان ش ہا ںآ پ لفن رھت ہو ںکہ پ رپچ رایک ٹیش بہا ہیراے--۔ اور ایا اب تگھی ہو چکا ہو--آپ ان چند پھرو ںکو بین ککنیں دی گے جن نکی قد رو جج تآ پک نظ رین رک کے یا آپ کے پاس جاوزاد ساب ہیں دہ ا لکی قمت نہ لگا یں یا لگانے کے لیے نا کائی ہوں۔ گل ای طرع قرآن کےکسی ےکوی یک ہکرمستردنمی سکیا جا کنا ہےکہ با زکار رف ہے پرانے نیشن کا کے اگ لے وق لک یکہانیاں ہیں ۔ اگ اللد تمالی رز ما کا ءا کک سے و ا کا پا م۴" اصدیوں بعد کے لے بھی ے۔ ۳ قران ےکی ص ےکو ما ایک انا پر تر کے متراوف سے۔فھر٠ن‏ ۓجے اس و اسے جزوکی طور پر مان ےک یکول یکنیا یش ککھیں سے ہ متعقی طور سر ایا ہوک ے (البقرہ ۸۵:۳)۔ قلب وذ ئن کے بت سے امرائ ہیں۔ بیقرآن کے پا مکوقیو لکرنے اور ای ص72 گے لی کر نے یل رکاوٹ ہوتئے ہیں ان س بکوث رآن میں یا نکر دیا میا ہے حر قخصب اما ی خواہشات معاشرے کے روم وروارع کی انی یتقلیر ان

۳

بیادل ٹراکا

بش سے چند ہیں ان ان میں سب سے ب ڑا لکبراور استتغنا ہیں جآ پکو ابٹی رائۓ تر کگکرنے الل کےہظا مکو پا نۓ اور عاجز کی کے سماتقھ ا سے شل یمر نے میں رکا وٹ مثایت ہ کے میں ۔ بیس اپنی ننھاوں سے ان لوگو ںکی ہگ ہیں پھیبردو ںگا جو ین ٗیجحق کے مین یش بڑے نے ہیں۔ وو خواءکوگی نشائی دکھ یل بھی اس پہ ایمان نہ لانمیں گے۔ اگ سیدھا راستہ ان کے سام ےک ئے نو اسے اخقیار نہک یں گے اور اگر ھا راستدنظ رآ ۓ نو اس پرچل پڑیں گے (الاعراف ے:١٥۱)۔‏ ین جانو جن لوگکوں نے جماری آ یا تکو تجٹلایا ے اور ان کے مقالے میں 77 سے ان کے سے سان کے دروازے ہرگز نہکھو لے حایں او ان کا جنت میں جانا اتا بی نئمکن سے جقنا سوکی کے نا کے سے او فکاگز رتا (الاعراف ے:١٥٣)۔‏ ٰ

اطاعت او رر گی

پنجم: قرآن جھ چم کہتا سے ا کی پروی کے لے اراوہ' عمزم او رآ مادگی پر یی ادرجس رع دہ جا جا ہے الکن کے مطابقی ما ہری طور ب بھی اور پاضنی طور بھی ابی زندگ یک رولیوں اور برا کوجب دم لکر جھے۔

جب ک کآ پ اپنے خیالات اور اعما لکوقرآ نکی ہدایات کے مطابیق ڈھا لے کے لیے تار نہ ہوں اور ال کا آ از شک دی پکی ساری عنت اورخلویش بے فاندہ ر ےگا بس زیپنی مشقٍیں اور وجرا ی بجر ےآ پکو ہرگز قرآن کے میتی خزائوں کے شر ب یں لائمیں مے۔ ٣‏ شر یگمزور ہوں' تررل مڈکلات اور غار گی رکاونوں کی وجہ سے قرآ نکی پردی اور زمدگی یں جبد بی لانے مس نا کائی ایک بات ہے اود اس لیے نا کا میک ہآ پ کا اییا

ك۰

آن کا راہ

ارادہ بح ینئیں ہے یا اس کے ل ےکی شض مک یکوشش نکر میں باصکل دوسرکی بات ہے-آ قرآن کے ایک عال مکی یثیت سے شرت عاص لکر سے ہیں ین ىآ صعنو ںکو؟ شکار تی ںنکر ےگا۔

سرن نے الن افرا دکی شد ید تن زم تی سے جو دا ک ی کاب پ4 ایھا ن کا اترارکرتے ہیں من جب ا کول کے ل کہا جانا ہے یا فیصلہ طلب صورت عال ساسےآٴپی ہے فو وہ ا سک ہدای تکونظراندا زکر دسینے ہیں یا ا لک طرف سے بش پھر لیے ہیں ھی کا فر ذاست اور ا مقر ارد یانگیا ے۔

رکا ول اور مشکاا ت

ششم: یش خردارر ہی ےک ج گی آ پ رن پڑ نے کےکا کا آ ا زکر سی گے خیطان قرآن کے نزانو ںکی طر فآ پ کے راتۓ میں 7 رکاوٹ اورشگل پا کھرےگا۔

قرآن اللہ تھا ی کی طرف جانے والی صرایامتظیم کا داحد یی رہنما ہے۔ ال راتۓ پر چلنا انسا نکی نفذم ہے۔ جب حفرت آ دم پیا سے گن فو آیں ان رکاوڈٹوں اور مڈکڑا ت سے آ گا ءکیامگیا جھ انسا نکو ابی تقر ےکی کیل کے لے عپو رکرنا ہو یگی۔ ا ںکی س بکوریا ںبھو لتھول .22ھ۸+ ,2 تصوص] ارادر ےک یکزوری اور ضیان ۱۱۵:۳)۔ بیگھی دا کر دیامگیاکسفرکے ہرفدم پہ حیطان ا لک راہ ٹش رکاوٹ پیر اکر ےگا حیطان نے اللد سےکہا: اسچھا فو :نس رع فو نے بج ےگمراہی میں تا کیا سے بھی اب تتوری سیدڑھی راہ پر ان انسا فو ںکیمگعات یس لگا رہوں گا“ 1 ے اچچ دی ورای رفرف سےا نوگرو گان مس سے اک زارد ا ۓگ (الاعراف ے١:٦١۱2)۔‏

اہر ےک خیطان کے خلاف سار زمدگ یکی لڑائی اور برایت +- 2

ایت کت

لاک

نیادی شراظ

مطابی زندگ یگز ار ےکی ویش میں قرآن--۔ [وتی ہدی میرک طرف سے برایت]--- ھا را سب ے زیادہ طاشت ور سای ے۔ اس لے جھ رون کے مطا لع ے ارادے سے پیلہ قدم سے اس کے مطالبق زن دک یگ ارنے کے فرکی فر مکک شیطان آپ کے مرا سے ہت کی چالی/ کر مل عو کے فریب اور رکاونیش لا ئے گا جو آ پکو مو کرت ہو ں گی ا

خطان ١‏ آ پک نیت یں فور عداک رکا سےا پکوقرآن کے معا لی اور پغام سے ب ےت رر سک سے زین میں شکوں وشمات پیر اکر سکم ہے الد کےکظام او رآ پک روج کے درمیان تاب ان کرس نے بای نات کے ہجاۓ فروگی امر ہل اچھا سکتا سے قرآن کا اجا عکمرنے سے ور نے چا سکتا سے یا قرآن پیٹ کونظرانداز کرۓ اور یرہ لوک یکمرنے 7 ادہکر کا ہے۔ بی سب خطرات اور اند یش خود خرن یں وضاحت سے بیال نگ دیےے گے ہیں - ۱ رف ایک سادەی مال ے۔ روزاضہعحلاوت ق رن" اور ا لکا مطل ب کھت

بہت آسا نگلنا ہے۔ ؟ پکوشش شک کے دی یی اندازہ ہو جاۓ گا کہ تنا مش‌ل

ہوجاتا ے۔ وق گر جاجا ہے دوسرے اہ مکام ساس ےآ جات ہیں جاور ذم نکوم رو کرنے سے؟ پگرب کنا جا گگت ہیں--۔کیوں تصرف برکت کے لیے جلدی جلدی پڑ لیا جاے !

ان خطرات اور ائد پیشوں کے شور کے سا جح آآپ گ زبان برقرآل تر جبم قرآن پڑ ھن لو نو شیطان سے ال دکی پناہ ماگو (النحل :۱٦١‏ ۹۸)کے مطابن بے الفاظ ٰ چاری ہولں:اعوذ باللّه من الشیطن الرجیم.-

اخماد او ربجھروسا ھفتم: صرف اورصرف الله پربھروسا ر ےک دو ق رن کے مطا لع ک ےک اور

۵

رانک راج

فان کی طر فآ پکی دجنمائ یکر ےگا۔ جس طرع یہ نشکیا دحمت بے یایاں ےک دہ قرآن کے ذر یه اپنا ظا مآ پ تک لایا ے او رآ پلوقرآن تک لایا ے اس رع اں گی رحصت می سے اس ایم اور نار ککام می لآ پک مدہگار ہوکتی تا پک بہت تی اور معیاری اکا درکار ہیں' ا نکو حاص٥‏ لکنا سا ن نہیں ہے۔آ ‏ پکو بے انا خنطرات درٹپی ہیں ج نکوعبورکر نا مشکل ہے ۔آ پ الل تا ٹی کے علاو ٥‏ سکی طرف دکھہ کت ہیں ہآ پ کا اھ پکڑے او رآپ کے رات پ ہآ پک دنم یکردے۔ ٰ پک خوائش او روش لا بی ذ دا کیج ہیں مین ان کی مدداورت نی جائی انت ہیں جن سےآ پ ابنا راست ہکا میا ی اورأفع سے ساتھ ےکر سیت ہیں۔ سے می نکی حیثیت ےآ پکوزندگی کے ہرمعا لے می صرف اللہ پرپھروسا دکھنا جا ہیے۔ زندگ کی ہرچر ہے لیے صرف ا سی طرف ر نا جابے او رقرآن سے زیادہ اہم ت کو نکی چز ہے! فان کے لیے آپ چو ھکر ر سے ہیں اس پت رکا ساس نہ تجچے۔ بھیشہ انی ْ کور یوں اورعدودکا شور رکھئے ایک ایی ےکام کے لیے جن سک یکوئ یم نیس ٰ پیں قرآ نکی طرف جات ہونے ھزواکسار اوز ما برعگل اعتاد او رھروے کے اسا سس کے سا جج برلدم پراںکی رداورسہار ےکوطل کر ۓ ہوئۓ نول اور شر کے ااسات کے ساتھ ز بان اورقلب ہآ بن کر کے حلاد تکا آ از کیچ : سم الله الرحمٰن الرحیم بآ بت ١‏ ااشیل سے ایک کے سوا تما م سورفں کےا از می مو جود ہے سا تھ بی دعا جج اللدعی سے پناہ جات ہو ۓے: ۱ وردگار! ج بے لو یں سر سح راۓ 7 چک ےل پچ ہیں بمارے ولو ںکو ھی میس مطا ہک دجو .میں اہپے خمزازفیل سے رحمت عطاک تذ ہی فیا تھی ے(آل عمران ۸:۳)۔

۳٣

اپ نے فک بکی رت

فرآ نکی حلاوت ںآ کی پ ری تخصی تکوشائل ہونا چا ہے ۔ اس ط رح ٢‏ آپ ران سے اتل کو بلند یکا ا بح بک نے جانکیں مکی پکوق رآ رما انان رک دالا قرار دیا جاۓ۔ دہ ا لک اس طرب عطاو تکرتے ہیں جس طرح حلاوت رن ےکاعصن ہے۔ دہ ال پہ چجے دل سے ابھمان لے ت ہیں '(البقرہ ۳:٣١٣)۔ٴ‏

ہل بکیا سے؟

آ پک حخصی تکا اہم 7 <صآ پ کان ہے۔ قرآن ا سکوقل بکتا ہے۔رسول کی الل علیہ لمکا قلب مارک وی الیکا پلامسکن تھا۔ ٰ

برب العا ,,.0)

روح ات گی ہے ت اکم ان لوگوں میس شائل ہو جا جو مداکی طرف ےک

بر نے والے میں (الشعرا ۱۹۲:۲۲-م۱۹)_

پگوعلادت قرآ نکی برکیں اورمس یں مل طور راں وشت عا,گل ہو ںگی جب آ پ ال کام ٹش اپ قل بکمل طور پر شال لکر سی گے۔

7 ففت میں قلب' آپ کے میم کا لوکھزا نہیں لہ آپ کے اضاسمات'

ےۃ

7 نکارا۔د

جذبات' محرکات' تمنائوں' آرزوئوں'یادوں اورت جبا تکا مرلز ے: بیطکوب ہیں جوظم بات ہیں (السزسر ۴۳:۳۹)یا خت ہوک پچھریسے ہوجاتے ہیں (البقرہ )2٥:٢‏ براند حھے ہوجاتے ہیں اوت یکو پیا نے سے اکا رکر دیے ہیں (الحج ۳۸:۳۲)' ا نکا کا مھا اوراسرلا لک ہوتا ے(الاعراف ے:۹ ے1 الحج ۳۷:۲۲ ق ۴۶:۱۵۰)۔ _ قنام اھ را کی ج تقوب میں ہوٹی ے (التقرہ ۱۰:۲ ۔قلوب ایا نکامسکن ہوتے ہیں (المائدہ ۵)اورنفا یکاگی (التوبہ۹:>ے)۔ بے بجی ہیں جو ہرانچھی اور برک ا تک مرکز ہوتے ہیں خواہ فراعت اورسکون ہو(ال عمد ۲۸:۳)' مالیشوں کے متا کی طاقت (الصغابن )۱:۹١‏ رم (الحدید )۲٢۵2‏ راررادحت (الانفال ۸ قتقویٗ (الحجرات ۰:۲۹"الحج ۳۲:۲۲) یا کیک اوراچگیاہٹ (المو 7 ۹ء)) کھسمادے (آل عمران ۱۵:۳ اورغصہ(التوبه ار تر بات بی ےک ام ور تفیقت 0 کے مواططات کے لیے جواب دہ ہروں گے_ جواڈد سے مور ق یلیم نےکر ےگا ضیا تکا شی قرار پا گا۔

جو نے من میں تم لااراد کھا م یکر تے ان پر الل گر تن سکرتا مر جو

میں جج ول ےکھاے ہوٴان گی بازپرل ووضرورکر ےگا ۹رہ

۹۰۲)۔-

رن نہ ما لکوئی ذامحدہ در ےگا نہ اولا و زاس کے کوئ یفن قل ب لیم

لیے ہوۓے ارد کےتضور ما ضرہو(الشعر ء ۸۹-۰۸۸:۲۷)۔

پکو برٹٹی انا چا ےکہ جب کک آپ قرآن کے سات ہیں آ پ کا دی

آپ کے ساتھ رہے۔ دہ د ل نی جھگوشت کا ککڑا ہے بللہ وہ جے قرآن قل ب تا ے۔اگ رآ پپھھ بات ںکاشموررکی اورقلب وٛم ک ےب ایا یکا خیال ری جھ ات شرائا کے بیا نک یکئی ہیں دہ مطالحۃ قریگن یآ پک وائل یتخصیت کیل شرکت

چپ ےہ

۸م

ان فک بک شرکت

1 اتی ہیں ال کے علادہ یھ دوسرے الہ امات' د لک اس ش رکم تک یکیغیت اورشرت ٹل غُاصا اضافگردل مت

بی ذاٹ یک ات َ ٰ آ پک داشلی شک کی مرعلہ بہ مرعل ہکیفیا تکو ابی طرح بنا ۰ن2 مر مج آپ کے قلب کپ بھا جانا ے؟ اول: آ پل۷ات ک پا چها ے۔ دوم: آپ اسے بپپچاثنے ہیں اورکی مک تے ہی کہم تح سے او رآ پک زدگی تلق ے۔ سسسوم : آ پ ا سو یکو جقنا زیادہ اور جعقنالثزت سے یادرکہ کت ٹیل یاد رت ہیں_ جہسارم: آپ اے جذ بکرتے ہیں یہاں ک ککہ مآ پک داش یتفصیت کی مگبرائیوں مل رع یس جاتا ہے ۔احم سدابہارشحور یکیفیت میں ڈعل جاتا ہے۔تقل ب تل ا سںکیفیت ش د ہنا ہے۔ ج بکوئی فی آپ کے اند دک دنا یش اس ط رح ری اس جاجا ہے و پلرقول و لکی دنیا مس باہرشکل پڑتا ہے۔ یہاں ہہ یاد درکنا بھی اہم ہ ےک ہآ پ ظاہرکی طود پہ اپنی ذبان اود پاتھ پاں سے جو چھےکرتے ہیں دہ آ پک دائ ی تخصیت پر اثڑانداز ہوتا ہے ۔صی کے اقوال اور اعمال ا لک اندریکیفیت کوٹ ےگواہ ہو سکتے ہیں لان مطلوب ہہ ےک اند رکی کیفیت ایا نکی طرح قول وشتل میں انا اخہار پاۓ اورپ ک ےم مکو کےشعور پر کر کے اے ایک ستخ لکیفیت میس تب دب یکر درے۔ جھ افدامات ہا ل جو یز سے گے ہیں ای صورت میں مو ہوں گ ےک ہآپ مکوروامورکا لیاظا رنش اور ان اصولو ںکی پیر وئ یکر ں۔

گے

شعورکی حجانتیں شمعورکی سات ھالتیں ہیں جنھیں 1 پکونٹووفما دی ےک یکو لکنا جا ہے٠‏ ہہ با ںکو یاد رک ےکر ایل جذ بک کے اور ای ےآ پکواکشر ا نکی یادد اکر۔ ر ای ش کت 1 تل معیار ال :ایآ پ سے کی: یرا ٹرآ نکاڑھنا ممنوں میں حلاوت نہ ہوگاج بکک مرا اخدروٹی وجود اس یش اس طرع حصہ نہ نے ٹس رح اللہ چا بتا ہےکہ بر حصہ نے۔ انل کیا چاہتا ےے؟ آ پکوقرآن کے سا ته ھکیا روبہ افخقیا رکرنا جا ے؟ فرآن بہت ے مقادات برخود بڑی وضاحت سے اتا ےکہ اللہ کے رسو اور ان کے ھا اور ان لوگوں نے جن کے قوب ا سکیگرفت می تکس طرع قرآ نکا اٹ میا۔آ پکوکوش لکنا چا ےک الا قرآنی آیات بادکر لیس اور ج ب بھی قرآن بھیس تو ا نکود ہر انی ان رو رو کر میں۔ انآ یات ٹل سے چگھ می ٹی: ٰ نما المُومنُوْم الین بِذَا دُکر اللهُوَجِلّٹ قُلوْْهُمْ وَإذَا تلِيَثُ عَلَيْهِمْ این زَادّتَهُماِيْمَانا زانفال ۲۰۸) کے ایل ابیمان و وہ لو میں مین ہے ول الیکا زگ رس یکررز جائے ٍٴلں اور جب ال کی آ یات الع کے سائے بن جال ی ہیں لو ا نکا ایمان بڑھ جاجاے۔- تَفُقَور من ہُو لن بَحشَوْن رَلهُم ٥لم‏ نَِْْ جُلوْْعم وَفلوهُمْ لی وکر اللہ رالرمر ۳۹: ۲۳) ےس یکر أُن لوگوں کے روگ ھبھرے ہو جاتے ہیں بھ اۓ رب ے ڈرنے وا لے ہیں اور ران ک حم اوران کے ول ریم وکر اھ کے ذک کی

۰

اپنے فک بکی ۰رت

رف راغغب ہب جاے ہیں۔

ِذَا شی عَلَيهِمْ يخِرُوْہ للافْان سُجُدا ہ وّمقُووَْ مُبْحي ران او وَغة رَبَسَا لمَلعُوْلا ہ رَیَخِرُوْر لفن َتَكُوَوَیرمْْعْمْ حْشُوَْاہ (ہنی اسرائیل ےا:ے*ا-۹٥۱)‏

یں جب یہ سنایا جات ےتوہ مضہ کے ئل بیرے مم ںگر جاتے ہیں اود پار اشھتے ہیں” اک ہے جعارارب' ا ںکا وعدہ نے پورا ہونا بی تھا“ اور وہ منہ کے ل روتے ہو ۓگ جاتے ہیں اور ا ےگ نکر ان کا ضتو رح اور بڑھ چاتا ے- دا تْلٰی عَلَيْهمْ ایك الرّحُمٰن حَرُوا سُجُدَا وکا ہ (مریم ۵۸:۱۹)

آ نکاعال بی تھاکہ جب رگ نک آیات ا نک ال جائیں 9 رو ہو ۓے بجرے میںگر جات تھے۔ ٰ ٴ وَاِذَا سَمَمُوٴا ما انل إِلی الرّسُوْلِ تری اَعْيَهُم فی مِن الم مِما عَرَقُوْا مِنَ الحَق ٥‏ (المائدہ ۸۳:۵) ٰ

جب وہ ا لکظا مکو سلنے ہیں جورحول پرأُتر اہو تم د یھت ہکن شناسی کے اٹ ےا نکی ؟ میں1 ضسووں ےت ہو جال ی ہیں۔

اللدحاضروناظرے

دوم: اۓآ پ سے کیھ: یں اکر سک ےتور مل ہوںٴوہ بے دکییھ رہ ہے۔

ہے۔ اس لس کہ اللہ یش آپ کے ساتھ ہے آپ جہاں بھی ہوں' آپ جو چج بھی رر ہوں' ا لکاعم ہر پرمحیط ے۔

۵۱

رن رام

شعورکی بہ حعالت آ پکس طرحع حاص لک ھت ہیں؟ اللہ نے قران یں اس

بارے بل جو گھفرایا ہے اسے سنے۔ ان آیا تکو یادکر مج اود جب آآپ قرآ نکی لاد تک نے دانے بھوأ اکر ہے پھول فے ال کے دورالن ا نآ یا تکود ہراگے اور ان گور 2۔1 پکو ہج یر ےزیادہ رد لے 2-1 رف فنرآن ا ظلاوت بللہ اں کے مطا نی زندگیگمزارنے ہیں--۔ وم( اس مضقیق تک جتا زیاد؛ئمکن و یاد رگٹا اور ا رو رکرنا ہے۔

پ تھا ہوں یا لوگوں کے ساتھ ہول نماموش ہوں پا گنو ہوں' گے ہوں

ا کام پہ ہہول' رامک ر سے ہوں یا مروف ہوں' خاموگی ے یا بلن رآ واز سے یے: الش تما یٰ یہاں سے مہرے ساتھ دک رہ ہے کنا دہا ہے جانہا ےس ب تقو کر را سے۔--۔ اور قرآ نکی انآ یا تک او گے :

۵۳

وَهُومَعَكُم اَيْنَمَا ط َال بِمَ تَمْملُوْمَ بَصِیْرْہ (الحدید ے۰:۵٥)‏ دہ ھا رے ساتھ ہے جہا پگ یتم ہو۔ وَنحْنْ اَقَرَبُ ِلَيْه مِنْ خَبْلِ الورِيْدٍ ٥‏ ۵۰:٦ا)‏ جھم ا لک رککگمردن بھی زیادو ال کے قریب ہیں۔ مَا کون هِن نُجُوی قَللّ ال هُو رَإِفُم وَلاحَنْسَةإل هَُسَادِسُهُمْ ولا آڈنی مِنْ ڈلک وَلا افو هُو مَعَهُم اي مَا کانُوْٰا٤‏

(المجادلہه ۱:۵۸) بھی ایا نییں ہوتا تنآ دمیوں میس کی اوران کے درمیان چوتھا الڈد نہ ×۔ یا پا آریوں یس سرکڑٹی مہ اوران مل پچھٹا اللد نہ ہو۔ خقیہ بات رن وا لن ےراہ ال ےکم ×ل یا ژیادہ' جا ںکہیں کی وہ ہول'ٗ اش ان کے سا تھ ہوا ہے۔ اِنَییٔ مََكُمَا اَسْمَم اریہ (طہ۳۰:٦۴م)‏

ان ققل بکی رت

مھا رے(موئ د ارول ) ہاتھ ہول' سب یھ د بر با ہوں نار پاہول- إنک بَاغیْْنَا (الطور ۸:۵۲) تم جماری ناد ہو۔ نا نَحُیْتُجیٗ المَوٴئٰی وَنحُتْبْ مَاقَدِمُوا وَالرَهُمٰ* وَحُلْشَیٗء اَخْضَینُ فی امام مین ٥‏ (یٰس )۳٦‏ بھم ینا قیا ایک روز نُردو یکو زن کر نے" دالے یں اج پش اثعال نھوں ۓ سے ہیں دوسب ؟م ھم لکھے جار سے ہیں اور جو چھےآ مار اتھوں نے تیہیےکچھوڑے و وٹھی "یرت کرد سے ہیں ۔ اس حوانے سے عرکزکی نوعحی تک آ یت ہہ ے۔ مہ اس مفحیقق تک کہ اللہ تھا ی ہمہ ے اور ہرز درا سے ن رف رز وروی 4 انکر سے بللہ خائص طور پ“ ق رآ نکی حطاوت کے ل کات کر مرک ی کے وَمَا توم فی شَأُن ومَا لوا ِنهمِنْ فان وأ تعْملوْنمِنْ عَمَِ الا تن عَلَيكُمْ هُهُوذا اذ تُفِیْصُون فِيْهِ * وَمَا يَعْرُبُ عَنْ رَیَک بن مَعْقالِ كرٌٍ فی الارُضِ وَلافی السُمَآء وَلاَاصُفَرَ مِنْ ڈلِک وَلا ابر ال فی کتب مُِيْن ٥‏ (یونس ۰( اے !تم جس عال میں بھی ہدتے ہو اورقرآن یش سے جو بج بھی سناتے ہو اورلوگو! تم جھ بھی کمرتے ہوا سب کے دوران پھر مود یھت رے ہیں ۔کوئی ذرہ اھ پت زآ سان اور ز ٹن یش ارس یں کے نہ بچھوئی نہ دی جو غضغات رت کی نظر سے ارہ ہو اور ایک صاف دثز درد و۔ ال تھاٹی میں خود تاج ے: صا سرت سو وت ہوں۔ے بات" تھی بج لے۔

۵۳

27 نکاراسع

تلاوت ٹرآ ن عپادر تکا یگل ہے۔ ای تر بی نکمائی حاص لک نکیا راست اللہ کی عبادت ہے ۔ الم کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہ مکو بتاتے ہیں : ا ری عباد کرو جیے کم اسے دکپھر سے ہو۔ اگرقم اسے اہی ک4 نکھوں ےکی کیہ کت نو لصو رکر سج ہوک دی دکراے۔ علاوہ از یں یاد ےک شر فآ پ اش کے پا عاضر ڈل'بللہ ج بک ک؟آپ قرآ نکی حلاو کر تے ہیں ۵٥آ‏ سے قاد کروی اَدک رکم (اللقرہ ۵۳۰)) تم چھے یادرکھو شس کمیں یادرکھو ںگا_ اشیہہ ال کو یادکر ن ےکا مرن طر یق قرآ نکی خطاو تک نا ے۔

الد ےسا

سوم اپ نے آآپ سے ک:

می الد ےن در با ہوں !

انی اخددوپی ذا تکوشائ لکن ےکی اپ یکوشیش کے اسیک صے کے طور جآ ات ون ےک ی کوٹ لک ی کہ جیص ےپ قرآ نکوخود ناز لکرنے وانے ےن د سے ہیں۔ شرآن ال" کا کلام ہے۔ ہنس عطر آپ اسے دک یں سلت ج بک وہ ہروفت] پ کے ساھ ہوتا ہے ای رع آپ اس ےک نکیل کت جج بک دہ بول د با ہو۔ جیے ہوے الفاظ اور حلاو تکرنے وا ل ےکی آ وا زکو ہیں متظر ٹس جانے د سی اور اپیے آ پکو ہو لے دالے کے قریب نےآ بے جوں جو ںآپ کے ال کےتضور میں ہونے ک شور میں اضافہ ہوگابےاصال بیدار ہوگا اورزیاد و مخہوط ہوگا_ ٴ امام مزا ی اٹ ی نیف احیاءٗ العلوم یش ینف کے بارے میں یا ن‌کرتے"

ضا

اپنے قلل بکی شرکت ہی سکہاس ن ےکہا :”یس نے تر نکی حلا و تکی ین اس میں مٹھائ یی پائی ۔ چھرٹیس نے اس رع پڑھاکہ یسے رسولی اللہ اسے اپنے صا ہکوسنا ر ہے ہوں۔ ریش ایک تدم اور آ گے بڈڑھا اور ٹرآ نقکو اص طرئ تھا جیے کہ میں اے یل ےک رہایوں جب نہ دہ اسے رسولی اللدکو پیا رسے تے۔ پھر خدا نے تھے ایک قدم اور گے بڑھایا-۔۔ میں نے اس طربح ا لک حلاوت شرو کر دی یی ےکہ میں اے خور ہو لے والے ےگ رپا ہول۔- اصاسات آپ کے اندر ایی رت اور ٹھاس بجر ر یں و سا اندروی ذات پ قرآ یسل طور پہ بچھا جا ۓگا۔

اکا براہ راہست ثطاب

چھارم :اٹ ےآ پ سے کی:

جب یش ق رآ نکی حزاو تتکرتا ول" اش قا ٰ ھ سے اپيے کل کے ذر سے برا راست خطا ب'/تا ے۔

بما شب رن ار کے ایک اص مر ملے میں خخاضص وت پر ناز لکیاسگیا تھا اور آ پ کک یہ بالواسطرطور پرمخلف مقامات پر ملف ز مانوں میں ملف افراد کے زر بیع پا ے--۔لیان قرع ای ویو مکا کلام ہے جو بتک کے لیے سے اور ہرنٹص سے خطا بکرتا ہے۔ ال لیے درمیالی واسطو ںکوکھوڑبی وب کے لیے میں متظر میں جانے دیچیے اورفرآ نکو اس رح حلادت کہ جیسے ىےآپ سے ایک فردادر ایک اجشاغ کے جزوکی حؤثیت سےآ پ کے اپ زمانے می خاطب ہے۔

اس ط رع براہ راست مخاطب ہون کانھن نمور ہیآآپ کےقل بکو جھ یت1 پ بڑھھد سے ہیں ا سکیگرفت یں ر کےگا۔ ٰ

۵۵

127 نکا رامع

پنجم : اپنے آپ سے گی

ٹرآ نکا ہرلفظ مہرے لیے ے۔

اگرقرآن ابدتک کے لیے ہے اور من ہپ سے فاطب کے فآ پکو ا ں کا ہر پام اس رع لدنا جا بے جیے ےآ ۸0( متحلق ے۔-۔-۔ خواہ بےکوئی معلومات ہہوں' کردار یامکالمہ ہے وعدہ اہ ہام یا نی ٭ 7 ا ا

اس ط رع پک عطادت قرآن زحد؛ٗبا مق" او کیا ہو جات گی ۔ جو مال اس می ل1 ھت ہی ںکراپنے ےمحخلف افراد کے لے جو ہدایات ہیں“ انی اٹی ذات اورمسائل کے لیس رب قائل اطلاقی مایا جائۓ؟ لیکن درست او رخلصا کش سے ربھ یممکن ہو گا۔

ششم :اپے آپ سے گی

جب میں حلاود تکرا بہوںل نے الشد سے بات چچی تک ر با ہوتا ہول -

شرآن انل کا ام ہے آآپ سے خطاب ہے آپ کے لیے سے۔ اس کے الفاظ آپ کے ہونوں پر ہو ئے ہیں آپ کے ول بی ہوتے ہیں لیکن ىہ اللہ اور انمان کے درمیان' اللہ اد رآپ کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔ یہ مکال حفل ف میں اخقیا رکرما ے۔ ہیروا بھی ہو سکم ہے اور اس مفپوم میں یبھ کہ پک یا انشدکی طرف سےکوئی جوا مم رہو_

بمفر جات جب تکس طرع ہولی ے؟ رعو اللہ نے ایک عدیث فی میں

۵٦

اپ ےق بکی رت

خہایت خوب صصورت شال دی ے: نے نما کو اپیۓے اور بنرے کے ورمیان دوتموں زس ےرتا ےن ضف میرے لی اورنصف اس کے لے ہے مرا بندہ دہ یائ ےگا جھ ما گے گا۔ جب بند ہکا ے: لحم دلله رب الْعلَیْنَ الف راج ے:مھرے ندے نے می تھی کیا جب بند کنا ہے :الس خسن الرٗحیُم۔ انشد فرماتا تے م١رے‏ بنندے نے میرک عظمت میا نگیا۔ جب بند ہکتا سے مسلک یسوم الدین ۔الشفر اتا ے:میرے بندے نے مرک شان میان گیا۔ پیم راحصہ ہے۔ جب بند ہکہتا ے: الاک تَْبْد وَإلاک تَسْتَعیْنْ ہے میرے اود اس کے درمیانع سے ج ماگے گا الکو دیا جائۓگا۔ جب وہ کہتا ے:امُیٹا الضٍراط لمسستقِیْم ‏ اشفرا ہے بی مہرے بنر ےکا تصہ ہے۔ممرے بندےکودہ لگا جو اس نے نا لگا ے(مسسلےم 'تسرمذی' ٰ احمد)۔

؟آ گے چ لک دیھییں ےکہ رسول الڈص٥لی‏ اللہ علیہ ول مكس طرں طقف آیات کےمم_ مو اور پیا مکا داب دی اکر تے تے۔اپنے خالقی د ماک سے اس طرح کی کک وکا شعو ر1 پکی حلاوت قرآ نکوغی موی تن او رگبرائی عط اکر ےگا

الد کے انعا ما تک امیر او رگھروسا

ہفعم: اپے آپ سے کی

قب الل تھا ٹی ججھے ان سب انعامات سے نواز ےگا جن نکیا ال نے اپے رسول کے ذر یج فرآن اکاظاوت اورای نے ہدۓ ک وعر ہکیا وت

رن یش ببت سے انعاما ت کا وعد ٥کیا‏ گیا ہے۔ زندگی یں روعا ی انعامات: برا یت رت عم والْ شف ذکرٔ ور اور سا ہی دنیادئی انعامات : عزت دوقار خوش عالی و

ے۵

خر نکارامۃ

ارغ الپالی اور غٌ وکا میا ی کا ٹین دلایا گیا ہے۔ ابدی رگتیں شا مخفرت 'جڑے اور رضوا نبھی قرآن پیش لکرنے والوں کے لیے شف سک کئی ہیں ۔

ال کے رسولی صلی اللہ علیہ ےمم نے بت سے ووسرے العاما ت کا بھی تنک رہکیا

ہے۔عد ی ٹک یکول یکاب---- بخاری؛ مسلمٴ مشکوٰةٴ ریاض الصالحین ست

بے اورقرآن سےمتل ابوا بکا مطالعہ مج یآ پکددہالئل جا ہیں گے ان ٹل سے

کپچ ا سکتزاب می ںبھیلییں گے خصو] 1 خر می ۔ مثال کےطور سر: ٰ

تم یس سے کپ رین دہ ے جوف رآ ننکو یک او رککھاۓ (بسخساری رآ نکی

علاو تک وکیو يک ےآ خرت کے روز اپینے پڑ نے والو کا یدگ بی نک رآ گا

(سلم)۔ی شفا عم تکر ے وا یکا رت فرآن ےزیادہ : ہوگا (شر ح‌

الاحیسساء قیامت کے روزٹ رآن جا ہے ف رن پٹ نے کے سی ےکہا

جا گا او رآ خرکی آ یت پڑ نے کک دہ بلند کی طرف سفر جار رگا

(ابوداؤ۵)۔ ہر بڑھ ہو ے لفظ کے بد نے د ںگنا اج گا (ترمدی

ال رع کے جج زیادہے (زیادہ وعدے ای حا فظہ می س فو دکر نا کن جں'

کر یچ اور جب بھی مین ہوجو حر خلق ہو اھیں ادکر یں۔ الل تما یٰ سے أمید

.کی اعم د یی اور این لیے ان وعدوں کے انا گیا دعا سیییث ۔ اس رع کے اق امم سے

( سے حدیث ایمانًا واحتسابًا تی ہے )1پ کے اعمال لکی شی قد رو تبت بہت زیادہ

بڑھ عبائی ہے۔ ایک عدیث کے مطابق *" خیاں ہیں ۔ لک رکوئ ینس ان میس سے ایک

ا ھی امیر اور ویر ے پر اختپارکرے ہو" ئے اتجام رتا سے لو ال اے جئتی شون ان

کرد ےگا۔ ان میش سب سے ا لی گی اتی سکموی ہے جیسے پڈ یں کے ہاں ھدود تہ

گیتا (بخاری)۔

۵۸

اہ ققل بکی شرکت

فلب اور پدن کے افعال

قلب اور بدن کے سات افعال اسےسے ہیں جآ پکی ائرروٰ زا تکوعااوت ٹرآن بس جذ بکرنے مل بہت حددگاد ثابت ہو گت ہیں ان یس سے یتح آآپ کر ہے ہوں گے لین ان کاعمل فائحدہ اس لیے عاصل نہک با رہے ہوں 2 آ پ ال نکومناسب انداز سے شک ر ہے ول گے یا آ ‏ پکو اس کا شور نہ ہوگا ک ہآ پ ان سکیا عاص لک بت ہیں۔ بٹھھآ پکی لک رہ ہوں گے۔ یہ افعالی اہم ہیں اور آ پکوا سی لیا ا ہے۔

ا نی ری کی سیکا کے بین سے زیادہ وفت درکار نہ ہوگا جنقنا آپ ال وفت حلادت قرآ نکودے ر سے ہوں گے انع کے لیے صرف مر ید تج ہک زیادہ اراز کیا شمحوری طور پر ناف ا مرن ےکا اورمناسب انداز ےکن ےکی ضرورت ے۔

آپ کے دل کارگل٘

اوّل: انۓ قل پکوقلب بیدار بنا شک قرآن جھ یھ کے دہ ال کا جواب اڑا ےسےے۔

آ پ قرآن مٹش جو پٹ بھی پڑھیس' اسے اپنے د لی کک جانے دی اکم دہ ال مم سی زندگی اور رور لوک دے۔ اہی و للکوکلام الد کے یان کے مطا بی ان تام کیفیات سےگمز رنے یں :مم گر خجرت' رعب' حبت' اعتاد عبر امیر وخوف رو صرت' رم یادد ہا ی' اطاعت تع لیم ورضا--۔- جب بت ا پت شک ےآ پک عاوت سے آپ کے سے می ںآ پ کے ہونٹو کی کت سے زیادہ ینہآ ےگا

مال کے طورےےر:

٥‏ جب آ پ ال کا نام اود ا لکی صفا ت سیل پکا ول شر عحبت' رعب

۵۹

ث مآ ن)اراءۃ

اور دوسرکی مناس بکیفیات سے گھرجانا چا ہیے-

ج بآ پ اللد کے پیل رو ںکا ت دک رہ نیپ کے ول نٹ ا نکی پچردگا ےی زور بیدار ہو جالٰ جا ہے اوران لوگوں ےنفرت ہہوہچتھوں نے ا نکی عخالش تکی-

ج بآ پ روز خر تکا ذکر پڑعی۲ں' نآ پکادل جن تک آرزوکرے یمم می ایک ک4 کے لیے یی یگ جانے کے اسور ہی سے کاپ

کاپ جائے۔ ج بآ پ فان قوموں اور افراد کے بارے ٹیل بپڑاھیں

جوگراہ ہوۓ اور الد کے عذاب کے سخ نکھہر ےآ پ ان جعیسا نے کوحخت نا ین دکر گی- جآ پ ان افراد کے بارے میں بڑھعیں ہین ے ال عحی تکرتا ے اور انام ےلوازتا ےآ پ ان جیما بنا چا ڑل - ج بآ مفخفرت اور رہمت کے وعدرے پڑھیس اس دنا یش برکمت و حزت کے وعرے بڑھیں' آ رت 20 رضا اورٹرب کے وغر ۔ے دعس وآ پکا دل ان مقاصد کے ل ےکا مکر نے اور ا کا و کے ج بآ پ ا نکا ذکر پڑعھیں' جوقرآن سے (اگعلی ہیں جھ ا ےقیو ل نہیں تے جو اس کے مطابین ذمدگ ینمی سز ار ےآ پکوخو فآ ت ‏ ےکہ آ پ ان جیے نہ ہو جا خیل' اور پ عز مک ی کہ ایےکیں ہو گے۔ ج بآ پ ال لکا پا رم سلکہ الد سے انا عبد پا د اکر ان ںکی راہ یش جدوچہ دکرو و آپ ابی عز مکوماز ہک بس اود جھ میتھآپ کے پا ے اس کے تضمور چی ںکردیں۔

بس اوقاتے ج بب لی اک لفظ یا ات آپ کے ان رکوگی جنگاری میں

۰

اپنےقل بک شرکت

کروے و لٹ اس یکیفیا ت آ پ ےآ پ پدا ہوی :ہے وقت آ پکوانکا کیفیات پد اکر نے کے لیے اراویکوش شکرٹی ہوگی۔ اگ ہآ پکوئی مناسب رد 7 یی پا“ و ذ راھہر جا فی جو حصططاود کر سے تھے اسے باد بار لاد تک بل یہاں ت ککہ میہکیفی تآپ پا فا ۔اپنے دلی کے نات پککی اگ لآ بی تک باد بادد ران ےکی آپ کے اندر سے خوائش ہہوگی؟ لین اگ رآ پ اداد مک کے دہ رای وقق کر میں اور فو روک رکم میں ت1 پہحسو ںکر سی مگ ےک ہآپ کے د لک پیا اورطلب بڑ ھگئی ے۔ ا سکیفی تکا تول اتتا اہم ےک الد کے رسولل مکی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفیہ

کھا:

را نکوصرف اس صصورت یل پڑھ ک ہکھارے ول ال سے ۴ مآ نک بہوں-

اگ یم نک نہ ہوں و تم درت یقت ملا و تنج کر رسے اس لے اتجھ جا

اور پڑھنا گچوڑ رو(بخاری؛مسلم)۔

آ پک زبا نکارل

دوم: آ پ قرآن یس ج جم پڑھلیں' اس پرمناسب رون لکا اظھا رآ پک ذبان سے الفاظ شس ہونا جا یے-

زبان پر الفاظ بے ساخت جاریی ہو جانا چائیں ۔ترآن جو اندرولٰ اصاسات پیا کرتا جۓے اس کے اظہار کے لیے ماس بکطمات اپنے آپ زبائن پآ جات ہیں جن رح دہ دوسرے جط بات کے لیے تے ہیں ۔ممرت یا بر بای کی ؟آ واز میں شر عبت وف اورکرب کے الفاظا--۔ لجان اگ ہہآپ ےآ پ ز بان بر نآ میں ےکوششل گر کے لا گے ۔ ٰ ٰ

رسول انی الشر علیہ یلم رات کے وقت ح رن اکی طرح حلا و ت۷ر تے ھے۔ حضرت خف یف جیا نک تے ہیں: ٰ

٦ا‎

7 نکاراسۃ

ایک رات یش نے رسول اللد کے تیییے نماز پڑی ۔آ پ نے سودہ بھرہ سے

خرآ نکی حلاد ت کا آغپا زکیا۔ جب آ یت می الل دک رم ت کا 4 ۸آ :' آپ

ا ںکوطل بکر تے ال کے عفرا بکا ذک رآ جآ پ اس سے ال دک ناد جا جج ۔

انش کی شا نکا ذک ر1 ۴آ پ ا سک یعظمت میا نکر تے (سبحان الله کے ر)

(مسلم)۔

اییا ہی بیان ہحضرتعبدرائڈڑ بن عباا کا ے ہنخھوں نے ایک دفعہ رسولی الد کے ساتقحححضرت نمیمونہ کے تچرے میں تی ہکی نماز ڑھی جو ضضرت عبدر یجن با سکیا بجی گیں (بخاری 'مسلم)۔

کے جو کا س ےسظو ا سے ۱ شال کےطور پر جوسورہ انی نکی آ خریآ یت :الس الأّے بآ محکم الحکوین کی _ ْ لاو تک ے و بر جواب دے: بلی واناعلی ڈذلک من الشھدین ۔ ے شک اور اس پرگواہ ہوں۔ جوسوروالقیسامہ (2۵ )کی آ خر یآ مت: لیس لک بقیر غَلی أَنْ؛ بی ویپ ھھقوبلی کے ادر جم المرسلات (ےسے )کی آ خر ی1 یت: فبایَ حدیٹ بَعْدَهُ يُومِنوْنَ بڑ ھھ تو کے:امتا باللّه (ابوداؤد)۔روایت ےکہ رسول الل نے فر مایا کہ جب افھوں نے جنو ںکوسورہ رحسضن (۵۵) سالی قوج بکگھی - فا الاع مسا بین کہا جنوں نے جواب دیا: :مآ پک ای نح تکوہیں تیٹلا تے ۔ سا ریتھریی ںآ پ کے لے ہیں۔ ٰ

“ہیں رسوی ایش کی مشثال اورتحلدات سے جو بج معلوم کے اس میں سے ہہ چتد با نک اگئی ہیں ۔آپ کے لے بیمشکل نہ ہونا جابےکرتھوڑیی سی نت سے ان مثالو ںکی 7 ریف جا انار یانملییم کے لے خوداۓ رڈ لکالقی نکر ں---سبحان اللّه' الحمدللہ الله اکبر' لا اله الا الله 2-27 برک میا اتففا رک بی اس کے فضب اوردوزرخغ کی آگ سے اہ انی اور جنت میں اس کے قر بک خو ابی شک یں۔

ار

ےک نی وت آپ کی یں ض1ت

سوم: ان دی کے جز با تکو ا تکھوں سے را سے سے د تی خوشی ما خوف کے 1 نو جو ٹھپ نے قرآن ٹل بڑھا سے ال ں کا جواب !

ا رآ پ کا دلج لجھآپ حلاد تک د سے ہیں اس کے مطابق کیفیا تکی گرفت بش ہے وآ پکی آ مگھوں می ںآ ضس وآ نے چا ئکتیں ۔صرف ایک غیرموہ ہر یا مردہ دلی کے ساتھ ہیآ گی خنک رو تی ہیں۔ پیش خو فک وجہ ےنیل بلک سحائی انے بر خی می اا ںکی رحمت وک مکا اساس ہونے اس کے وید رے اورے ہو نے دک ےک ربھی 1 کھیںتر ہو جالی ہیں ۔قرآ نآ تن 1 اش کت ِزہددیّاے۔

تم د یھت ہ بک خای ے اٹ ےا نکی ؟کھھیں؟نووں سے مر ہو عا ی (المائدہ ۸۳:۵)۔ ْ دو روتے ہو ۓ منہ کے م لگر جاتے ہیں (بنی اسرائیل ے۹:۱٥۱)۔‏

رسولل کر صلی اللہ علیہ وسلم صا ہکراغم اور دو لوگ جوقرآ نکی میق ت کا اضساس ر کھت تھے جب عرآن پڑت تھے نے اکر روتے تے۔ رسول اللد نے فر مایا: قرآن ان کے ساتھ ناز لکیا گیا سے ج ب نم حرآن علاو تکر وت ای ےوک زدو بناو (ابویعلی' ْ ابونعیم )۲۔ایک دوسری حد یٹ کے مطا بی : فرآ نکی حلاو تکرواوررو2۔ اگ اچيے آ پ رونا نہ1 ہے ٹ کون شک ر کے رو5 (ابن ماجه)-

ایک دفع ہآ پ ہو رکر می اورسوچن لف رآ نکیا کیہ ر ما ہے اورنصو کر ی یک ہآپ سے پھھکہرر ا ےآ گکھوں میں ؟ نمو کر رخماروں پر پیے دمیکیں گی۔ اگ رآ پ ان بھاری ذ مہ دار بیوں کا ا صا کر یں جو ٹرآ نآ پ > ڈالا ے اور ان ہثاروں اور ویرو ں کا نمو رکر ل جوٹر انآ پ کک کیا جا سے فآ پ پآواز دز عی گے

۳حً٣‎

خر نکا راع آپ کے ۔عم کے انداز

چھارم : ایا ظا ہرک انداز اخقیار جج جس سے اپنے ما لک کےکلام کے لیے آپ کے اتترام وارگی اور٣یم‏ ورضا کی کیفیا تکا اظہار ہوتا ہو-

فرآن اس رع کے انداز کے پارے میں متعددمقامات پہ جیا نکرتا ہے۔ جے صاحب ایمان 'زشن پہ پپیٹاٹی کیک دینے ہیں سج ہ٤کرتے‏ ہیں ء'خاموش جھ جاتے ل اور سے یں ء جب حاو تکرتے ہیں وا نک یکھا لا نزم 4 ما یٰ یں او رکا یگ ہیں ۔قرآ نکی ینآ یا تکاحلادت پ مد وحلاو تکر ن ےکا عم صاف طور پر بات ےکہ آپ جو یجھ پڑہدرے ہیں حم سے ا کا اظمار ہونا جا ہے۔

سم کے انا زکیوں اہم ہیں؟

انان کا نظاہراس کے ا۰ن 7 نی رمممول طور ےٍ اٹانراز ہوتا سے۔ پھھمکیی حعاضری' و لکڑھی حاض رمق ہے ۔قرآ نک مطال ہکرت ہو ےکپ کے جم کا ریہ ال رویے سے پالئل مفلف ہونا جا بے ج ایک عا مکتا ب کا مطالعہکرتے ہوئے ہوتا ہے۔ ای لےیےحلادت کے لیے بببت سے آ1 داب ئجوبز سے گے ہیں -

ما خزا کے ہی لک ہآپ وفو سے ہوئۓے ہوں' پڑسکون ہوں' زم واڑ شُل پڑس' لہ رو ہوں' رکا 70 ہو۔ ا أُیا ی اثراز 7.20 بللہ اس طرح بے سس رع ان استاد کے سامح نت ہیں ۔

کصاب الا ذکار میں لو وق وع بد اضافہگ/رے ہیں: 7 بھی طر صاف کن جا ہیے۔ مہ پاک صاف ‏ ٗچچر ےکا رخ 0,7 رم

تر یل ہے سا جحلا وت پنجم : خرآ نکو یل سے پڑ ے۔

زرل

اپنے فک بک ش کت

ہکادکی ز با نک اکوگی ایک لفط تر تل کاعمل مفہوم ادا نی ںکرسکتا۔ عرپی میس اس کا مطلب ہ ےک یش مکی جلدی کے بیز داع طور رو سکون سے نے سے میں خوروگگر کے ساتحد--۔ ینس میں ز باندل اور اعضاے جسمائلی س بل طور پرہ مآ ہگ ہوں-

ى۔۔حخلاوت ث رآ ن کا و مطلوب طر رہ سے جس کی رایت اللہ نے اکۓے کر ال ابترا ٹس اس وقت دگی جب یں را تکا شی تر مصہمنماز سکھڑرے ہوک رفھرآن پ نے کاعلم دیاگیا (المزمل ٣۳:)۔‏ فآ نکو بترم مرعلہ بسعرعلہ ناز لک ن ےکی ححمت اللہ نے سے بیا :کہم ان لکو اتی طرع تھا رے ذ ہن نشی نکر تے ر ہیں (الفرقان ۳۲:۲۵)۔_

و للکوجزاوت ٹ رآن سے جوڑ نے اورثوت اور ژ ور پیداکر نے 7۰ھ 0 ام حصہ ہے۔ جلدی جلدی پڑ نے کے مقاے میں تر نل سے پڑ نے میں رعب و جلال کا اظہار ہوتا ے تمورولکر اور تر بر کے لیے موئع ملا ۓ اور روح و وجدان پرآزںانش تائم وت ے۔

حضرت عب ارڈ این عیا بی سے ددایت ےک شی جلدی جلدی مل قرآن پٹ من کے ما میں سورہ بقرہ اور آل عمرا نکو رکیل سے پڑھنا اپینے لیے ہت چنا ہوں ا البتمرہ اور آل عصمران کے مقا بے شل الصارعہ اوراللزلزال ترشیل اور بر کے ہاتھ پڑھنازیادہ مت ے۔

ترتیل می تصرف س ون وضاح'ےٴو تٴ براورشم وروں کی ہم 1 مر ہے بل ساتھ خی جنعض الفاظہ او رآ یا تکا بد بارحلاد تک ما زئ یت یک ہولی ے۔ جب د لک فاص لآ یت مس جذب ہک یک جائن ہو جاتا ہے قے بار باد پڑ ھت ہوے پردفعد ایک میا ذائقہ اور ایل ف حول ہوتا ہے۔ پل ریما کہم ن کہا ہے باد بادکی طلاوت سے و لک یکیفیت ا لمخمون سے مآ نگ ہو جاٹی ہے من سک آ پ ططاد تکرد ہے ہیں-

رسول اش ص٥‏ ی اللہ علیہ لم کے پارے مل روامت ,2 ے 001

۵

2 نکا راد

بسے الله الرحمٰن و حیم ٢۰‏ دفید ہرالی (احیاءُ العلوم )ایک دف ہآ پ ری رات بيآ یت بار بار پڑ ھخ رے:اِن تُعَِبِهُمْ فَإِنْهُمْ مِبَاڈک ٭ وَاِنُ تَمْفْرْلمْمْ فِنک انت از >َالْعَكَيْمُ (المائدہ ۱۸:۵)۔اب اگ رآ پ آیں سزادی نو وہآپ سےے مندے ہیں اور اکر معا فکرد یق آ پ ٹالپ اردان یں (نسائی' ابن ماجھ)۔

ححضخرت سعی رن جم رآیک دفعہ بآ بیت بار پار ڑ تھے رے:وامتازو الیومٴ ایھا ال مسجرمون اے چرم ١آ‏ ع کے دن تم انگ ہو جا ادرروتے ر ہے آ لسو بہات ر سے (احیاءُ العلوم)۔ تکیٹس

ششم :جس عوککمگن ہو اپ ےکو پاک کییے- ۱

آپ جات ہیںکہصرف پاک افراد هی فرآ نکومچھونے کا جن رھت ہیں: ل

ہے ال الْمُطَھَرُوْنَ (اسواقعہ 2۹:۵٦‏ اس ق رآ یآ ی گنی مف ہوم میں لیا جائے و ا کا مطلب ری طمارت ہے۔اعاد بیث اور اجماغ سے بہ ہابت ےک اوت کے لے وضو کے ذر مج طہارت عام٥‏ لک جاٹی ےئ

یم اورلپاس او ربج ہکی صفائی کے علادہ طہارت کےکی دوسرے پپہلو میں پْ

پسلے بی دییھ کے ہی سلکہخیت اور اراد ےکی اک یف اہم ے _ فلپ اور اعضا و ہرارر)

ناو سے پا ارک ای رس جورن از لکرنے دانے سے قخب کا سب مین گت ہیں۔

کوئی انسا نگنا ہوں ےحمل طور پہ پا کنجیں ہوسکتا یں پکوش شک ی کہ فا ان سے گے کک ہیں گیں۔ اور اگ رآ پ سے پک اس زد ہو ہا مس بی جامس ہو کے ندامت کے ساتھھ انل دکی طرف رجوع جج اور اس ے مخفرت طلب یی ۔ سے بھی خیالی رھ کہ ج بآ پ حلادت قرآ نکر رسے ہیں فو 7را مکھا نا کی سکھا ر ے“ رام

٦

ےق بکی رت

پا نیس ین رسے اورترام مال سے ضردریات پو دو لک رہے ۔آ پ نے پاک ہوں گے پکادل اتا ہیآ پکا ساتھ د ےگا قرآن کے لیے زیادہ کھ لگ" اسے بے گا اور ال سے فائدہ اٹھاے گا۔ اورپ ان لوگو ںکی طرح زیادہ ہو جا میں گے جو ند پا قرآ نکو جتفو کاب میں مبت ے(انَه لَقرْانَ كریٔم ٥‏ فِیٔ کب مکُنُونَ- امو اقعہ ۵۲:ےے-۔۸ء) یھ ون ےکا جن رکتتے ہیں۔ ٰ ۱

دیما ہسغدم : ج بآ پ فرآن پڑھیس فو اا کی مد ا لک رحمت برایت او رحاظت

کے سے دعا کیے۔ رما اگ انے دل سے زبان سے اوراہۓ ائال سے۔ ران رت ا پ

کو بالکلیہ صرف اورصرف اللہ تھاٹی بر نوک لکنا جا ہبے۔ اس وک لک یکیفی ت آپ پہ الب بی نہ ہپ اس کا اظظما رہگ کر ہیں اپنے سفر کے ہرم مل بپ ہآ پ ال کو ری مطال قرآن کے دوران و لکو حاضر رکتے اور اس بی لکرنے میس ا سکیا مدد اگے ۔ اٹ نمامیوں او رکوتابیوں پر ال سے معائی ماگتے ر ہے اللہ کےکلام کے تھر یب ہوتے ہو بھی الد سے بے نیازگی اس کے شاہے سے گی بے ۔ م ےکی رہ گناہ ہیں ۔ 1 پکو ماج کی ضردرت ہے نہک ہکبرکیا وک کا شردرت ہے خہکہ ال کے سائے خووختار یک یت .

بر امید اود اع داور لق نکہ جو کچھ پ ماگیں گے دیا جا ےگ می شا پ نے ساتھ ہون جا بے ۔ اس کے خی رآ پک دعا آپ لو سے رآ نکی بذیادی تحلعمات شل ے ایک ہے۔ذراا نآ اکب رس(

برورگار جو خربھی فو چھ پر ناز لک دے شی ا ںکاختاج ہول (القخصص

-))۰۸

٦ے‎

72 7 راس

اپنے در بک رععت سے مائپول گرا لوگ بی ہواکرۓے ژں (الحجر

۵)۔

او رھارا ر بکتا سے گے ارہ میں کم ری 07 ثول اگرولگا۔ جولوک

مگھمرڑ میں1 کر مر گیا عمادت سے مضرموڑتے 7 ضرور وہ ول وخوار ہوکر

جم میں دافل ہوں گے(المومن ٦٦:٦٦)۔‏

ٹش ان سے رنیب نیا ہو پکارنے دالا جب مجھے بپکارتا ے“ یش ا سکی

رکا رتا اور بجواپ رتا ہول لپڑا این جا بے کہم ریا دگوت پر ای ہیں بھ

پرایمان لائی کہ دہ راہ راست پا لئ (البقرہ ۱۸۷:۳)۔

آ یئ دگھی ں گی اللد ےکن الفاطظ ٹس دعا اکنا جا ہے _

ال دی اظت

اعوذ بالله من الشیطن الرجیم

ٹس شحیطان مردودے ال دکی پچاەچاتاوں۔

جم عا نکر پچے ہی کہ شیطان سے نہ طل بک ن اکن ی ایت رکتا ہے۔ قرآن

نے اسے لاز مکیا ہے (العھل ۹۸:۱۷)۔ ا ىہ ہےکہان الفاکورسما پا شی فارمو نے کے طور پر ادانہ ہے ال با تکونسول تیججک ہآ پکو این کام یش شد برخطرات درپیٹی یں شیطان آ پ کا سب سے بڑا وشن ہے جآ پکوآ پک ععت کے کیل سے محردم ری کے لیے رلک ن کا مکر ےگا اور ےک اللہ صرف الف یآ پکو ال سے پیا ۴

ہے۔ کے ۱ 0 ت۳ ۱ ماب ایا ہوسکتا ہ ےکم شیطان سے پناہ چانے کے لی ےآ پ نجنا طوبی دم

رن چاہیں جوقرآن یش آٴی ہیں (السسومنون ۹2:۲۳)۔ یا ج نک یتلم رسوی الد نے ۳

٠‏ ددکی ہے ۔آ پآ خر دوفوں سورٗ الضلق (۱۳)اورالساس )۱٣(‏ بھی پڑھھ سکت

۸۶

ا نے قل بک شرکت

یہ ٰ گا ےگا ےآ پکو اش دکی طرف رجور عحک رن جا بے اس لیے بھ یک آپ کے ول راو راگ پر ھے: اے مارے پروردگا رز یں رایت کنیشے کے بعر ی ۸ہیں 727 میں با نر رگ میں اپ نے پا سل سے دمت عطا کر بے اک و ہی سب 7 دۓ دالا ے(آل عمران ۸:۳)۔ علادت قرآن کا آ ا زکرتے ہوے انل گیا پناہ چاہنا اور ال کے ساب رم ٹ کا طل ب گار ہونا لا زئی ہے لان قرآ ن کا خشا برمعلوم ہوتا کہ یہ ایک مستفل اورسصسل جار یئل 1 جا بے ۔ کن چہاں ںی سب سے زیادہ صحرورت ےُ اور با لآپ کو اکٹ رای پڑھن چا بے دد وت ہے ج بآ پ قرآ نکا ہم عاص٥‏ لکنا جا ہژں۔ بسم الله الرحمٰن الرحیم اش کے نام سے جو رن ور“ ہے۔ ںی ایت او رصم ےت ہارئ) ج چ ہے۔ ےآ یتگل ١۱١‏ وروں یش سےسوائے ایک کے ہرایگ کےآ از مکی ہے۔اس کے نام سے ا زکرن ایک ْ رف اس کے ؟ پکونحت قرآن سے سرفرازکر نے پآپ کے احما نفک اور دوسرئی ٰ طرف پرلکن رد کے لیے اس پر اعد وف وک لکی علاصت ے ۔

رن یی برکات 1 طلے پکو ریت دوس رکا دعا نمی بھی سیکھنا جا میں : رّبَ زِدُلیٔ عِلَمَا (طٔ' )۱٢٥:۳‏ اے میرے رب ! مرےم یش اضاف ہا۔ ال تھالی نے رسول ا٥ی‏ اللر علیہ ویل لیم دک یکہان الفاظہ یل ماج کی ے

م6

727 نکاراعۃ

دع اکر ں۔سا تھ بی ٢‏ رآن کے نول کے وقت صراور انتا مت کی رف وج دلائی: اور

جلدگی کرو جب ترآ نتم ہر نازل رپا ۶۔ جب کوئ یتنس قرآن کےممنی بن نک یکوشس

کر ہا ہوقو الد کے نام سے استھاعت طل بکرن ماع طور برمفید ہے ۔ صرف مب راور اللہ

1 رد سے ب یمیا ں مق ہیں اور انان ٹرآن 27 یپ

ٰ الیک دوس رکی خوب صورت دعاے: الله اَی عَبْدُک ءاِبِنْ عَبِْک ء ان فیک نَاصِیَِیٔ بییک, اض بِیْ میک , ذل فِْقَشَاء ک اَسملک بِکلِ اشم و لک سَمَیْتٗ بم نفک او اَنْزَلَكه فیٔ کتابک ء او عَلْمعَةُ اَعَذا مَنْ عَلقَک او اسْتَائرّث ہم فِیٔ عِلم العیْبٍ عِنذک ء ان تَجُعَل لقُرَانَ رَبیٔع قَلٰہیْ ء وَنُوْرَ صَذرِی وَجَلاهَ خُزنی وَذَقَابَ مَمَی وَغَقَی (مسند احمد' ابن حبان) ٰ ٰ ”خدابااش تبرابندہ ہو" تیرے بند ےکا بنا ہوں' کی بندکی کا با ہوں' میرک پیانی ترک شی یں ہے بھ پہتیراہ عم ناف ہے۔ میرےتن رھ فیصل ہین انصاف کے یل جھ سے تیرے ہراس نام کے واسلے سے جو تیرے لیے سزادار ہے جو نے اپینے لیے رکھا ہے یا تق نے این یکتاب میں أجارای یا انی لوق جس ےیک ایا ہے با نے اپنے پال اپ خزانت” خیب یل أ سے یرہ یی رئے دی ےت ہے درٹواست کرت یں 727 ل اور ے ول 1

ْ بہار میرے سی ےکا ور یر ےگ کا مداوااور ےی یاگرو) یٹا کا عاب منادے در ذیل دعا مال وق تی 7 سے ج بکوئی ننس قرآ نکی حلاو مل

کرتا ہے لین ان ںکامضمون اتا جامع ےک وق فے تا اللہ تھا یکوان الفاظ سے پکارنا رتبا اَلَهُمٌ ارّْحَمُبیٔ بالران العَظیٔم وَاجُعَلهُ لی اِمَامَا وَنُورًا وّهُدّی

7

اپ نفک بک رت

َّحْمَة اَللهُم دی بنه َا نَِئُ ”وَعَيِمبی نُا جَهلٹ ء وَاررُفُبِی تِلوَتة 'انَءَ اللیْلِ وَ'انَءَ السّهَارِ وَاجُعَلَه لِیْ حُجُةَيَرَبَ بھے قرآ نیم کے واسلے سے اپنیا رعمت سے مرف راز فرما۔ ان ںکومیرے لیے ا رگن اور ہرایت بنا دئے اے میرے الد ! ٹیش اس میں سے جو کھو لگیا ہوں مھ با دکرادے اور ج یھ بی ںنجیں جاہتا اس کے ذر یج بے ا سکاعکم طا ف رما درے اور گے دن اور رات کے خمام اوقات ش حلاو تک نو شی عطا فرا۔۔۔ اوراے دوثوں جہاں کے پالے وا نے! اس خر نکو مر ےق میں کہ ترے۔ قرآن کے مطا لج ےکا آغا زکرتے ہوے اخظام پٗاوردرمیان مس تھی ”نن الفاظ و جال" ااپنھ سے استغطا رب یمرتے ر ے۔ استغفار کے لیے ین ق 1نی 27 ان مقاات ری سگی۔ آل عمران۳:٦االمومنون‏ ۸:۲۳ آل عمران ۱۹۳:۳۔ جم وی 7 1 خص وس الا کی ان دعاول کے ساتھ ساچپ ال دکی طرف رجو ںککر کے خوداپنے الفاظ بش ائر ٠‏ سے الع صفات اور رو یو ںکا عوال لکر کت ہیں ج نکی قرآن سے استفادہکر نے یں پاوضرورت ےت ےل میری 1کھی ںکھول دے مع نظ رہ ہے طل ال نظ رآ ے بے ری عط اک رکہ یس تیرے رات کو پان سکوں' میرر یکونششوں میں میری مددکر میرے ارادو ںکومضبو اکر درے ايیے کلام کے ؟ کے ھے عات زی عطا ۲ ری ہمت اور برامت لے 4 بے فرحدت ود خی کو مام 9-7 فیملوں اورمحا لات مم رجنمائی فرپ' جھے ہرطرح کے لاچ کے متا بے مس

ا>

خرن راس

کھڑے ہون کا حوصلہ دے سب اچک ےکا مرن ےکی طاقت عطاک مر تی و

۴ؤ رر را کلام میربی کرو لکوقوت بن میری ہرضرور کو اور

کے جب میں پر بیان ہوں نے سکون عط اکر ے ”نیف میس ہوں و راحت

فراا مکرے تیر اود ری ہرایت کا مطالع کر نے بن“ جانے او سکیٹ میں

ھددے جھے استقلال عط اک کامیا ی سے پیل مہرے قم نہ رکیل تحضبات

سے شجھے جات دۓے عابتز کیا عط اکر جو پچجد میس کیکھوں ا سے لی مر نے ا سکی

پردئ یکرنے اور اس کے مطابقی زندگ یگمز ارن ےکی فو فی عط اکر جھے اس

قائل بنا کرف ران نے جہو ین سپ ردکیا سے اسے اوراکمروں _ کپج ےک بڑھنا

فری جات جک اہ میں ہے ىہ ےک جو بک ھآ پ قرآنن مل بڑھ در سے ہیں" اسے نہ کے لے 1 پکو این اند رکی شخحی تکو ا ئل میں شا لکن ےکی ضرورت ہوگا۔ بای کے ےسب سے ا|م اورموث ذ راج میں سے ایک نب اک چک کے دو کک قرآ ن کا پغام کے کے لے لا زی ےک رمعلوم ہوک ہقرآن

ال ےکیاکہدد ہا ے؟ ان مہ الک اگز مر شر نیل ہےکہاس کے لیر اضمان' تقر نکی مرکات مل سے حتص گی نہ جا ۔ بت سے ا لے ہیں جوق رآ نکا ہرلفظہ لے ہیں ین ان کے دل قرآن کے لے بند رت ہیں۔ بہت سے ہیں جو ا ںکا ایک لفن گج یکمیں بت تن نے قلعت اق رت اخ او دا ئ کی رور) برورکیفیت عاص۷ل ہوئی ہے۔۔ الما ال ے ےکفرفن رر ھا رکی اورعن| ۶ > ے۔سات کے مان سے جا گے ہیں جن ٹس سے ککھنا ایک ہے۔ بیشہ لاکھوں افراد اپےیے ر ہیں گے 2 ایک لفظا نآ جا ہوگا ض7 جم بڑھ نے ہوں گے نہ اس رع کےکاموں کے لے ان کے نپا وفت ہوگا۔ تا ہم یں نامید نہ ہنا جا بیے۔ جب کک دوقرآ نکو

رھ

اپنے قل بک ش رت

نے کے سے ذ راع اخقا رک رن ےکی اپت یک یکوشت شلکكرتے رہیں ج بک کک دوضروری شرائا کے ساتھ ا يک و بکھنا چا ہیں جب ک کک دہ قرآ نکی تخلیمات کے مطابی زندگی گمزارن ےکی برغلو سکوش شکرتے رہیں جو ان کےملم میس دوسرے ران سے میں" جب کت ککہ دہ قرآ نکو پڑت رہیں' خواہ آجیں اس ےئم نت ہوں وہ ا ںکی بات یل سے انا حصہ پان ےکی تعکر سکتے ہیں۔ ٰ

من ان سب سے قرآن جو بجھآپ س ےکہتا ہے اسے جن کی بے انچ ابحیت یش ذرہ براببھ یک یی ںآ کی ۔ یہاں یگنت کا لفظ اس مفہوم یں استعا لک ر سے ہیں کہ الذا کا مطلب معلوم ہو غور وک تر مل معانی کک پپپچنا عالات پر اطلات یکرن' ان امور بر ؟ھم؟ کے پچ لکرکنھشگوکر میں گے_

براہ راستمفہو مبھنا کیوں ضروری ‏ ے؟

الا شرآن کے براہ راست معن کا فجم آ پکو اپتی وجہ اس پر عرکو زھرنے شمں بہت بڑگی بردد ےگا ای سے شمعورکی ملف عالتو ںوخ رک ےکی قب اور* سر ایے افعال صادر ہوں ےج نکی پ کے اندرولی وچوروٹرآن سے روب روک نے یں صرورت ہے۔

مان بج کر بی آپ اس قائل ہوں م ےک الفاظ کے ذر یج ال مل کا آ از ری ننس سے1 پ اپنا یمان حاص لکر مس اور اس ےتق یت دب اک ہآ پ اس ایمان گی رشن میں قرآ نکی تحلسدات کے مطا بی زندکی آلزازظوت

ے٣‎

٠ي‎

1 وت کے داب

قرآن کے ساتھ طول دفافت آ پک وب تر ین آ رزوؤوں اور مشافل میں سے ایک ہو جانا چا بے۔ ا لک حلاوت جشٹ یکثزت سے اورجئی زیادہ سے زیاد ہآ پکر سک ہیں کریں۔ چنا زیادہ وت پکونل کی تصوص] رات کے اوقات' شران ے ساتجھ بس رییے۔

رسول الڈصصکی الشد علیہ وسلم اور آپ کے رفقا ہین ریخ راو نٹ سک یگئی تک ہق رگن جو پچھاریا ہو چھ اور ذمہ دارگی ان پوڈاکی رہ چے ای کے لے وہ تار ہویگییں_

کتی مر یں

1 پکوروڑا لہ مھ نہ پھوقرآن ضرور پڑھنا چا ہیے۔ ابی زندگی کےصی و نکول نے ج بک کک ہا کا بھ نہ چنە حصہآآپ نے قرآن کے سات"وصرف شک رمیا ہو ۔نمھی کبھار طول صے پٹ ھن کے مقا ے میں ہہ مر ےکک دی سے روزا ٦ھ‏ رحصہ ہی بڈڑھاجائۓے۔

الد کے رسولی نے فر مایا کہ ال دکو دہ کام پپند ہیں جو با قاعدگی سے کے جا نی"

۵ے

سے ۱

نکا راس

خواہٹھوڑے ہہوں (بسخخساری 'مسسلم )۔آ پ نے مائص طور پرتجردا رکیاکقرآن باقاعدگی سے بڑھنا جا ےو رنہ جو مھ حاص لکیا ے دہ آ سالی سے ضالَن ہو جائے گا۔ ھرآن کے سائ یک عثال اس ے مند ھھ و فک کی سے انسان کے پا وہ ال وفت تک سے ج بکک دہ ا سکیگبداش تکرتا ہے اور اگ رکھطا تچھوڑ رے و وہ بھاگ چاتا- ے(بخاری' مسلم)۔

کتنا بڑھاجااۓ؟

ا ں ک اکوئی مین جوا بگھیں۔ ىہ ہرفرد کے لے ملف ہوگا مخلف عالات ۴ں لف ہوگا۔ رہنما اصول دہ رونا جا بے جو اد تھا ٹٰی نے تھام بشرکی عفر را تکوسا ےرک کرخود میا نکیاے: بڑ لوج رم 1سا ی ے پٹ گو(المزمل ٢ے:٠٢٥)۔‏

ال جو الثے سے ھا۔ اوران کےکل یں اص فرقی ھا- لوگ دا قرآن دو ماو می سان مکی ااکرتے تھے بٹھ ایک مین میس یجھھ یس دن میس یٹھھ ایک نے یں گی رن وت آپ تر ال سک سار کر ات رک تر دن ے 7 میں عرآن 2 کرت ے وہا۔ے کت کل (ابوداؤد' ترمذی ۲۔

ایک وفع حضرت این عر نے --۔ جب رسول القد نے ان سے ایک ماہ شل خر ن نت کر نے سے لف بس نت کرنے سر اصرارکیا و امہ کے رسول نے نر مایا: سات دن ڈُل ء۶ ۱۷ور؛ کت

ران ں سات منزوں او ر٣۳‏ ںو و ھا شا ر دی ہے ۔ کیا مناسب ہسے۔ اس س٣ل‏ میں امام ووی 1 رایت بببت مناسب ے۔ وو نیس جو موروخیفل سےگہرے معالی مک می کا ےا ے۷ بڑھنا جا ہے۔ ای طرع ہج نکولیم ون ریس مواعلات علومست یا اسلالم کے تفولی‌ شکردہ ہم فرائضس انام دیے یں وہ دی کم بڑھ سکت ہیں (کتاب الاذکار)۔

ے٦‎

عاوتث کے1 داب

مطالے کی مقدا رکا بڈکی حدکک ادا ر مطا للع کے مقصید پر ہہوگا۔ اگ رآ پ کے ساتقھ وفقت صر فک نا جا ہیں یا صصرف ایک طاتران نظ رڈالنا جاتجے ہیں نو آپ رفّارسی سے بڑھ کت ہیں اوراسں لے زیادہ بڑھ کت ہیں۔ اگ رآ رگد خر جات ہیں ےآ پکوست دفادری سے پڑھنا ہوگا' اس ل ےکم پڑھلیں گے۔ امام مزال جب تس یکا یتقو لن لکرتے ہیں و ا نکا مطلب بی ہوتا ے :یں ینس اوقات ہرد ھکوجس اوقاات ہر یف“ من اوقات ہرسال یل قرآن رھت ہوں نین دوسری طر فگزشۃ بر ل سے (ایک نماصس انداز سے ) مطال دکرر با ہو ں نان ابھ یم عم لکھی سکرس کا ہوں (احیساء العلوم)۔

ہمارے ۶ بودہ عالات شش یراخال ےک ہم میں سے خیش ت کو ہر۸ ماائٹل ایک دفت ران مک ن ےکا ہرف ضرددرکھنا جا بیے۔اس شل روزانہ۵ سے ۵ا منٹ سے زیادوصر ف یں ہوں گے ا سک انحھمار اس بات پ ہہوگ اک ہآ پ مع برا راس ت در ے یں با ما ےکی 7 ےر سے ہیں گر زمدگی فن مھ ی کا ضا توق میں ای ںعمل علاو تک نے یش شکرن ما ے) ایک ماہ ٹیں' تصوصآ ماو رمضمان م۴یں--۔- بے وقت

آ ہآ ہہ پر عے کے یف سک سسجت ے۔۔-۔ ضروری نیک ایا روزاۓ ہو- کب بڑھاجااےۓ؟

دن اور را تک اکوگی بھی حصہحلاوت ق رآن کے لیے نا مناس ب کیل ہے۔ نہ پنن کاکوگی ایا انداز ےجس مم لآ پ حلاوت نک بس ۔ الد تھا فرماتا ے: افینے ربکا نام دشام یادکیاکرو(الدھر ٦ے:۲۵)۔‏ ٰ جوا نت ٹچھت لیٹتے ہرحال یں الش کا یادکرتے ہیں۔(آل عمران ۱۹۱:۳) ال تھا لی کا ذکرک رن کا بہترین طر یقہ نیقی حلادت قرآن ے۔ امام و وق کے

گے

۱ قرآنکا رام

--- ) رن بڑھاک/رتے تھے خواہ وواک چیم ہوں' یا سفرکرر ہے ہوں۔ تا ہم پھھاوقات زیادہ پیندیدہ ہیں ال ل کہ قرآن اور رسول ارم نے آنھھیں تو کیا ہے بے ات زیادہ ات رکا باعحث اور ز یادہ مغفیر ہو ۓ ہیں۔اکیطرح پدجسمانی حالتو کا سفار شکاگئی ے۔

علادت کے لیے کت رین وقت را ت کا سے اور پیش رین جسمال ی حالت نماز میں قا مک ہے۔ ىہ بات ابتائی سورفوں ٹش سے ایک السمسزسل کے زر ہے معلوم ہوئی ہے۔ دوسرے مقادات می ھی جایا گی ے۔(آل عمران ۳:٣‏ ااٴبنی اسرائیل: ےا:۹ءٗ الزمر۹:۳۹)

ہر نے کے لیے ضرددی ہوگا ک ہآ پ قرآن کے پچکتھ جصے حز اکر لا اور رات کے دوران لت دی کے لیے جائ۰ کر یں دہراشیں۔آ پ سب فو ے ییشہ ایا کرنا . کئی وجوہ ےکن نا نہ ہوگا۔ خرن ان مجبور بیو ںکونسلی مکرتا ےے۔ ای 7 پکواجاأت دنا ہے:”جقناتم سای سےعلاد تکر ھت ہو۔ اس کا مطلب ہوا جقنا حصہ چا ہیں جس وت جا ہیں جن طرع جا ہیں لی فک بی ےکر بڑھ یل -

را تکونماز کے دورائنع شر نکی حلاوت کے مے انا فوائکد ہیں اور ا ںکی بڑی صرورت ہے۔۔ اس کے لے یھ نہ جھ وقت' کتنا یک کیوں نہ ہو چنرمن ف بی آ پکو ضرورششخ شس کر جا ئیں جتاکہ لے شدہ ولفوں ہے سا تھ باقاحدگی ےلاو تک ل' ول ۱ کے بی طو یل کیوں ہوں' زا ہفع وار ماہانہ۔ مٹا ی صورت سے میلنہ ععد تک تح ریب رپے کے لیے می ابچھا ہوا ک ہآ پ راو رعشاءکی نماز سے پیلہ یا بح یا لوم ؟ قب کے وفت ما رات ستر پر جانے سے پیل حطاوت قرآ نک یں۔ قرآنن ےت موس ےکا علادت کے لیے خمائس طور پ کہا ے (بنی اسرائیل ےا:2۸) ٰ

جھیے سے کیک اکر بستر یا صونے پر لی فکرفرآن بڑہنا ند ید ہنییں' نع بھی نی ۔کسی اص دجہ کے ارآ پ ہرگ ایا نہک سی نہ اسے ابی عادت بنا یں جا بھ'اگر

علاوت کے1 داب

کوئ یبن اس لے قرآن پڑ ھن سے لکل بی روم رہ ےک دہ ایک خائ طرح ٹین کے ییے ما ریس سے و ایقا دہ ایک بہت نئھتی ر7 نتصا ن/راے۔

صححت کے سا تجھ جا وت آ پکوقرآ نک جع پڑھنا چا یی تج کاغن نربھی سکیل جب بھی اعراب ارمرو فکی ادا بی صحت کے ساتھ ہونا جا بے عم پا الک زان ےکہ پڑت ہوتے - اعرا بک معمول ینعی سے طض اوقات می میں بڑی تبد بی ہو جائی ہے۔لیصض اوقات صمی پالئل غ ہو جات ہیں اور ایی مفوم پیرا ہو جانا ہے جکفر کے مصداتی ہوتا ہے۔ ایک ماوگک ای کگنطہ رو زکامسصسل مطاللیکسی بے ھ ےکک ھح کو اس کے لیے کم ےکم ضروری ابتدائی مارت عاص٥‏ لکر نے کے کاٹ ہنا جا ہے ۔ وئ ین بھی صحت کے سا تج ق رآ نکی حلاور تک ن ےکا رخلی لکوششل سے نت ٰ مدکی ال میں ہو سکیا یجن جآ پ یکدرے ہو ل' فڈے با تک پ اییا یل کر کە' عاوت تر کک رن ےگا و یں ہوا جا بے۔ایک فی رعرب۔ مت یت و عم سر انی ہوکھا۔ ریبھی ہوسکما ےکآ پکو یی کا موقح نہ لے۔دسول انڈی اللر علیہ یل مکوان مشفکلا ‏ تکا اساس تھا۔ ای لے پ نے حعرت جججرتل سےکھا: ےج ان بڑھلوگوں یس بیج ا گیا ہوں۔ان ُل لوڑ ھ مرو اور وڑشی ور یں' لڑے : اورلڑکیاں اور وولول چتھوں نے بع یکول یکنا بیس بڑھی (ترمذدی ۰ اس جوالے سے رسولی اش کے اشمنان دلا نے والے ہے القاظ آپ یادضرور بگیں' لی نکسی بھی طرح آنھیں جن ھک یکوششو ںکو تر ککرنے اک مکرنے کا بہانہ نہ بنانمیں: 0+“ ٰ جونیس قرآن بڑ ھے میس مہارت رگتا ے(و ان )محزز کر فرشتوں کے ساتھ سے جو وی ای ےکر أُترتے ہیں۔ جو پٹ نے ہیں مل یکر ے اور

۹ے

نکا راس

درست ر عے -9 وش ت میں کر ہے اے ۹ا ا ہوگا ( یڑ ھۓ کا اور

کش لک رن کا)(بیخاری مسلم)۔ نس نف رآت

قرآ نکوححت کے ساتھ بے نے کے بح دکا ھرعلہ مہ ےکہق رآ تککاغن سیھا جا ئۓے کہ اےجسن کے ساتھ بڑہا جاۓ نغخش گور منرغم انداز اورٰڑنھی گآ واز میں _ متودد اعادییث ال طرف اشار ہ٥کرپی‏ شیں:

شرآن کو 71 واژزول ےز نت رو(ابوداؤد)۔

ال تھا کسی جا کو اتی اٹھی طر نییں تا جلت کسی نی کے بلن رآ واز سے ش رآ ن۶ا ور تکر نے کو(بخار یىی مسلم)۔

جوقرآن مر مآ واز سےکییں پڑہتا دہ ہم یں ےکڑل (بخاری )-.

گر ماد رھ ےک اصل تن وہ سے جودل میس خشیت الی ےہ واز ل1 ے: اس ئن سک حطاوت و1ٴواز سب سے زیادہ قوب صورت ےکہ جب آ پ اےطاوت کرت ہو ۓسممیں قے خیا لک يک اے ال" دکا رن ے۔ ٰ

اوجہ سے سنا جب لگ ق راکنا پڑھاجاےۓ موجہ ہو جا جج اور امو ہوکر نج رن ےے خودا ںکا اع دیاے: ْ

جب قرآ نتکھارے ساس بڑھا جاۓ تو اسے لوجہ سے ستو اور نما مل رہو جاک بر رق مکیاجاے (الاعرافے:۳٥)۔‏ - بٔ طاہر بات ت ےک جب اللد تال آپ سے با تک ر پا ےل آ پکو امش بویا ٦ ٰ‏ چا ے رک “مرف ضے کے شحف لکوناہ نمو ںکرتا تج اورقول

۰ھ

عاوت ے؟ داب

رن ےکی ایک ا لکیفی تکا اظمارہج کا ے۔ اس کا مطلب ہہ ےک کوک بھی اع جھ اس برایت کے خلاف ‏ نکیا جائے : بس وقت قرآن پڑھا جا دہ کو ئی اور با تکرن' دوسر ےکا مکرتے ہوئۓ قرآن کے کیٹ بطور ہیں منظرموکتگی کے چلا نا سرکوشیا ںکر ناج بکسفرآن بڑ اجار پا ءٗ تقار یب کا آ ما زعطاودت قرآن ےکنا ج بک یکوگی اس طرف متوجہ نہ ہو او رکوگی کن شر با ہو۔ ین ففتہا تو اس وقت نماز پڑ نے سےگھ یئ کرت نیں ج بآ پ کے نز دیک تی فرآ نکی حلادت بلندآواز سک جاریی ہو۔ اس تاعدے سے ب یگ ماز مآ تا ےکہ جونٹس قرآن کی علاد تک راھد دہ اپٹی آواز مککرے یا خاسچھی سے بڑھھے ‏ 07 1 ند واز ال کے؟ سس پاس افراد پر اریے تا عائ در ےجنھیں پوداکرنا ان کے لیے کل پ اکن ہو۔ اپنے پڈوہی کے ساتھ سن سلو ک کا ہچ ایک پپلو ہے۔ عر ید یہک اگ لوگو ںکوخو اٹل نہ ہولو یں قرآن سے پر بور نکیا جاۓ۔ان لوگوں سے جو رآ نعجحت کے ساتجھ اورنن شثرات کے سا تجح جا وم تکر تے ہیں خاصص طور رفرائیل کر کے قرآئنع حا و تکروانا“ اورسننا بڑگی امچی بات ہے۔ بپ یک ریم صلی اللہ علیہ وسلم اب صحاڑسے فر ما لی کر سےقران ضنت تے۔آ پکوا ھی رع یاددکھنا جا بے کہ نی اکرمصلی العلیہ یلم نے اس بارے مم لکیا فرمایاے: جوقرآ نکی ای کا بی ت بھی سنا ہے اسے د ہر اج دیا جا ۓ گا اور جو ملاو تک/تا ے تا مت کے روز اس کے یور ہوکا (احمد)۔

شع فان

ج ب بھی ؟ پک قرآ نکیا حطاو ت ش خمکر بی اور یکتاعی پر پاکیوں دہ وقت خوگی منانے اور نماز ہڑ ھ ۓغکا ہے۔ امام کو وگی ناش بارے مل جآ و ہیں جن نکی بیاد وءمعمولات ہیں جوصمابہ وج لان اخقیارکرتے تے۔ يہ ما زٹ یکڑل م٢ں'‏ ۱ 0010

رآ نکا رامع

لین مطلوب ہیں یں چٹ یکشرت ےآ پ افحقیارکر سے ہو اخقیا رک میی-

اوٴل: پر ےک جح ہکی را ٹکو طاوت کا آ ا نکیا جاے اور مرا کی را کشخ م کیا جا ۔ پاھھلوگ پچ رکا ما زکرن کون نیع دتے کے دوسرے دوسرے اوقا تکا انتا بکرتے تھے۔ اس طر حک کی بھی وت ایا یں جو مرکت سے خمالی ہواور قیامت کے رو زگوای نے

دوم: 1 خربی حصہ نماز کے اندر پڑ ھی خصوص] اگ شخم تبائی یس کررسے ہیں۔ سسوم: شحم کے وق دوسرےلوگو ںکویش کرس اورسا تم کر عاجتز گی سے دھا فی ںکر یں۔

عطرت الس بن مال ککامممول تھا کہ جب ق ر7 ن شخمکرتے فو اپنے ال خخانہکو

گ حر اوردعا گل ىر ے (ابوداؤد)۔

عاھم این صصحیبہ سے دوایت ہے: ایک دفعہ جج مباہد اورعبادہ این الی میا ہہ نے

لایا اور بگھ سےکھا:نجھم نے یں اس لیے دکوت دی ےک ہم قرآ ننخمککرنے وا لے ٰ یں اور کے وق تک ما٠‏ میں تو لکی جانی ہیں“ اِک دوسریی روایت ‏ انھوں ٰ

۸۴۲۳

ےکھا: 2 فھرآانع ان ئخم ہونے کے وقت ا کی رنتیں نازل ہوئی ہیں“ :

ان بی ون؟ پ رآ نت مرن ےکا اراد کرد ہے ٹیل" 0707 ْ پنجم: آٹی سر ڑۓ ھی دوس رک خلاوت ٹرآ نکا ۱ آ ا کرد یی سی سورہ ٰ

سی روہ وەکی ابتا یآ یات۔

اک موم یش اس سےجخرت ال ئن مال کک اکن عد یک اقیل ہو جائے گ یکہ الف لعل یہ ےک قا مکیا جا اور رحست ہوا جاے ۔ جب الن ے پا چھا میا کہا کا کیا مطلب ہے تپ نے فرمایا 4 اور پھر شروںع اگرع؟“

ششم : شحم رن کے وقت دعا نمی کر ل اور ءاۃ زی ےرو میں اورک زگ ڑا" کات

حلاوت کے1 داب

اس وقت دعا قبول ہوئی ے اور ال دکی رحم ت کا نزول :وا ہے ىہ بات بہت زور ےگر تا یی ×سمسپسس ےو +٭م ہنرارفر مھ آ مین کے ہیں۔ دا تن کہے۔۔۔ خداے ڈرتے ہو ے امیروں کے س اج نربی اور اصصرار کے ات ھا جز کی کے ساتد--۔ اے ے دعا جیا ہرضردرت کے لیے اود ہرایگ کے لے تصوں] امت ہے اجتا می مسائل سے می ا سک ععزت و در کے لیے اس کے تھرانو کی بہتری کے لی شنوں سے ا سکی تفاظت کے لے صلاح وک کی کے امور ا ہا بھی تاون اوراتماد کے لیے راع پر ا نکی امتنقاعت کے نے ۔

حفظاٹرآن ِ قرآ ن کا جقنا حص حذ اکر کت ہیں ضرور جیا فرآن اس اط سے منفرد ‏ ےک بہ خودنقاض اآرنا ےکہ یادرگھا جاۓ اورحف کیا جائۓ ۔

۱ لفا حفضظ اب باوکر نے کے مد وومجنوں میں استعال ہوتا ےج بکییہم کل بھی اس کےمغمپوم میں شثائل ہے۔ دوسری زباوں می سکوئی ابی لفظکیں جو اس کے مغموم گنی ک لیک اداکرے۔

رص یع مشضیہیرب غا وی یڈنیں ہے بک اک ال روا !گل ہے۔حفظ عی کے ذر ےآ پ رآ نکونمازوں یش بڑھ کت ہیں اور ج بآ پ ان الفاظ کے ذر بیج اپے سے چ کلام ہونے وائے_ کے سان کھڑرے ہوں نے ان کے معانی نمو رکر سکتے ہیں 1 ےت ع نظ راس طرح ٰ رنآ پکا زا جار تا آپ سےقلب می جاگزی رتا الپ کے زجین نشی رچا ا اور آ پ کا ہر ووقت[ کا تل سائی ین جات ےآ پ جوں کہ ہم ےآ پ مو ںکریں ےک اا سک حلادوت ںآ پک

۸۳

ْ خ رآ نکارامع

اندرولی ذا تک رت ہوکی انی ہے اورپ کے ذ بن کے لیے ال ںکا مطالعہ اور٢ہوم‏ - کو مچھنا آ سان ت ہوتا جانا ہے۔ ٹچ یکرم صلی اود علیہ ویلم نے اس پر لف طرع زور . دیڑاے: ْ ۱ قرآن حف کرو اللہ تما یٰ اں د لکو عزا ب ہیں درے کا جس میں فھرآن ہوا (شرح السنە)۔ ْ 2 "0 مکا نکی طرح ے(ترمدی)۔ ‏ 7 تران کے لیے آآپ نے جو وق ت شف کیا ے اس کا بح تصہ حفظط یں لگا ہے“ اسےمفحم انداز سے کی ۔ اپنے ادا فکو مدت کے سا تدم بوط یی ۔آ ‏ پکی فرصت مل وہ سب جے شائل ہونے جا میں ہج نکی بی اکرم عم ] نمازوں یا دن اور رات کے خائس اوقات یں حا ور تر ے می ےشن کی لاد تک اپ سا کو دا تۂکرتے ے یا مین کے فضائل کا رت2 تے۔ جب آ پ ترآن با قاعدگی سے معن کے ق3 پچھھموں میں زاعا لکش سو ںکر میں گے اور پکو بھی حر چاہے۔

م۸۳۲

۵

مطالع وم

ابہت وتحرورت

آ پ نرآن کی خقی اورل برکات ال وف تک ک میں یٹ کت جب ہ کک پ اس کےممتی ھن میں اپنے 7 پکونہلگا یں اورمعلوم نہکر یک ہآ پکا پید اہر نے والاآپ سکیا کہہر ہا ہے۔ بلاشیہہ جولو کم نی ں کیہ سکتے ان کے صے می بھی بانہ نہ پھ بین ضرو ر1 تی ہیں اہر ےک ملافو ںکی ایک یم اریت ع کی جانقی اور بہت سے لوگو ںکی زبان یں زجربھی دسقیا بنییں ے ین اگر دہ اخلائل وحبت اوراتزام سے ق رآ نکی حلاو تک میں کے قے وہ ال کے فواکد یں سے بٹھ شہ پجھ نہ نے ےگھروم در یں ۶>- .2 رنافت می وق ت لزان 22 ےآ کفرت و زوا پ ال لک زبان : نہ یگنت ہوں'ٗ را رو ۴ ےلین اک ر1ب ھی ںبھ کرد وک اکھد با سے تلق مضویت بوگ اور رکا ےنظ یڑ ْ ہو ںگی۔

دوس بی طر مخ تی بکھنا بھی بے فاممدہ ہوسا ہے۔ ببت سے لوکوں نے نی اکم کیا پت ذبان سے قرآن سنا وہ ا س کا ہر لفن بکھتے تھے نچ ربھی ھزبی گرا ہوئے۔ داکھوں لوک ہیں جہ نکی زبان ع بی چے دہ رآ ن کا ہرلفظظ کھت ہیں ناس ۷ ا نکی

. ۸۵

ق-رآں‌کارتد -

زخدگیوں رکال اڑت٠یں‏ ہے۔ بے شارملدان اور غی رسلم اس کال قرآن کے مطاسے یں زرگیاں صر فک دہینے ہیں“ ان کے مطا للع می کو ٹفش مکل بی سے پکالا جا سک ے من دوقرآن کے یکس سے حردم رجے ہیں ۔

لن اس کے باوجود آپ کے لے قران یک ٹک یکوٹش میں پک جان ےکی انشد ضرورت ا رئی سے۔فرآن ایل بدامت کر تئیہ اور شفغا کے طور پا یاے۔ بیرف ٹا ب انے کے کین ہے۔ندصرف ہے ایک قائل اعتزام دم میں ریا کتاب ام ہے بکلہ یہت اس لیے آ یا ےکپ کے اندر الا لی تب ہی ےےا ے اور ایک خی ز مک یکی عطرف ؟ پک رجمائ یکرے۔قرآ نکوکھنا اس خی زخگ کو پان ےکی شی طما نہیں ے 0 کے فی قرآگن تی مقصدر کے حصول اور انسا خی کول ۲1 طرف دذگوت دی ےکا کام بے انچاشنکل رےگا۔

زا ی مطالعہ ۱ مم اۓ طور بر خودف رآ ن کا مطالم اور ! . ہے معالی رفمو ر ور کیوں کر یں ؟ کیا کائی فی ںک ہم سی عا لم ے١‏ سک حادت اورظی رن لی ؟- 0 ّي یا ےکائی گاں ہے گے ہج ضردری ہے۔ ایک تہایت ا ہم اور خائ وجہ ے

آ پک اہی پود ویش لکنا چا بےکقرآن جو پچھےکہتا سے و ہپ معلو مکرس اور ال ٹین جب و یا میں تر نگ معطو با کی یا٠‏ ور وہ نکر" کے اکا ما ت کا جھوے ٹیس ہے۔قرآ نآ پکوصرف بینئیں بتاتا کہخداہے اوردہ آپ بس ےکیا چاہتا ہے بگہ و سے چابتا ہ ےک ہآ پک تخصی تکو اپ یگرفت جس لے آ پکوئئی زندگی سے ؟ شیا کرے اور اللہ ے٢‏ پک ہن رگیتلق تا مکردے۔ اس لیے اسےآپ کے ایان شش ارارے شیل اورعم رٹل اضا رن جا ہے اور یں مضبو کرت جا ہے۔اےآ پک تڑکے ٣‏ کرنا چا سیر تک ای کر چابیے اود رک نک نکواپنے رنگ میں ڈھالنا جا ہے ۔آ پ ۱

۸٦

مطالد دنم

کو وم جذبدظر یک دینا جا جیے اور پکو ا لی سے ا بلند ہو لکک نے جانا چا بے۔

یسب ائی صورت میں ہوسکتا ےک ہآپ قرآن کے سات عطا لع نیم اور خورو رکا یک پالقل ذ اتی تعلق ا ھمکر میں ۔ ا سکی ہدایات پغوروگر کے اغی رآ پ کا دل' آپ کےخیالات اور پکائل اس را تے پنیں یل ےگا ان ہدایات ب رو رولگر اور نب یٹ ڈو بے لق رپ اسے جذ ب نیو کرت نہ مآ پک زئدگ پہ اثرانداز ہوککتا ے۔ ٰ ذ راس چے ! آپ پر ق رآ نکی حلاوت ترتیل کے ساتج کیوں لا ز مک کی ؟ سوائۓ اس کےکہ اس طرع ہآ پ بج گیل اور نہک رعی۔آپ س ےکیدں چا با یا ےہک دورا ‌طاوت وق ہیاک یں۔ اگ ر٢‏ پکومعلوم بی ند ہوک ہآ پکیا پڑھردے یں ووہ مناسب انددو لی“ جسالی اورز بای رڈ ل کے دے کت ہیں جن رن نے اتا زوردیا ے۔ مطالععہ کے خلاف استر لال

مگ رکیا اخ نیڈنیں ےک ای نف کی عا مکی رعنمائی اودمطا سے کے ضروری لوازم کے بی رخداک یکا بکوخود سے بن کے بہت بڑ ےکا مکو ہے صر نے فو وی کرٹیٹھے۔ وہگرا و بھی ہوسکتا ہے ہاں' اس کا امکان ہے تصوصا اس صورت ‏ کہ اسے اپنے اہراف اورعددداعلم نہ ہو ںان اگ رآ پ سرے سے پل ہک یکو نکر میا و ۱ آپ کے لے اور امت کے سے بڑا نمارہ سے خود سے مطالع کر نے کے خطرا تکو اقیالی تر ابی احقیا رک کے اور سی چفی ہ ناک رک آپ اپٹی عددد و اہراف سے آ گےکجیں امیس گے“ ک مکیا جا سکس ےکن مطالعہ رفک نے کے نقصا نک اکوئی حداداکیل ہے۔

کھلوکوں کا اتقدلاللی ےک کیا قرآن کے می خود سے ملھک یکو سک رن رسولی الل کے اس اع ارشماد کے خلا فی ہے: جوقرآ نک یی راپنی رائۓ سےکمرے

ے۸2

77 نکا راد

شھھم میں اپنامقام بنالے '(ترمذدی)۔ ٰ

ظاہر ےکہ بے عدےث اں مطال ےکی طرف اشارەکر ری سے مس سکوئی پا ذائی راۓ یا پیلہ سے سے شدونقصورا تکی تا حیر کے لے قرآ نکواستعا لکر ےط کہاگ رکوئی لے ذ جن سے ای ےکور نکی ہرامت کے ؟ کے ڈال دے۔ یا دہکوگی ایی لے رر نے 1 ۸1 و ر0 کے لے ورفروری 2 نر رکتا ہو۔

دوسرکی صورت میں جیما کہ امام غ زا بہ اصراررکچے ہیں رسولی اللہ نے اپیے صحھا یکو کید نکی ہولی کفرآ نکا مطلب بن میں خودکو لگا می اور نہ اکھوں نے الییا کیا ہوتا ( جیما کہ تنھوں ن کیا نہ اکھوں نے ان مطال بکو بیا نکیا ہوتا جھآپ سے کییں سے تھے( جی اک ہاکھوں نے بیان یے ) اور نہا نکی تام ریش دہ اختلاف ہوے ہد ئے کہ ہو ۓ

شفرات کے ان یٹے ےن نی نما عالمکی رمائی کے پل قرآن) ْ ھجم پڑ نے سےگھی ٹن کرت ہیں۔ یا دہ انفرادکی مطالے کے لے ایی خرائیا عاکد کرت ہیں جوجض چند افرادی غیرممو عحن تکر کے پور اکر ستے ہیں ۔ ال مشور ے نی یی کے پاو ہد آ پکوان تزاوں سے مھرومم ر کے 2 ہو تے ہیں جع رآن اہیے ہر طال بکودیتا ے۔ اگمر رشن صورقوں میں وو خطرا فی ہیں“ لیکن ھما نع یکو نیاد یا مت نکیں ے۔

را سوپچے :کیا آ پلی عر بکوقرآن کےلففی ممتی بن سے روک کت ہیں؟ چرخ ایک غی رعرب تج قرآ نکیوں نہ پڑھے۔ پل رکیا وہس یٹ کو جو یھ دہ بڑ ھ اس کےمصجی ومفہوم معلو مکرنے سے روک کت ہیں؟ پچلرقرآ نکیا مطا لع کر نے اور ا کا مفہوم می نہک یکوششو مو ںکی مخالش تکیو لک جائی ہے۔آ خرکی بات بک قرآن کے اولینن ما طبوں کے بارے ٹل وو کافر ہوں یا لان“ ک ہیں گے۔ وہ نا خوائدہ پدو او رجا ج تھے میں مطالے ‏ ک یکوکی سبولت مہیا نتھی؟ پچ ربھ یکئی ا رز حش قرآن س نکر مسلران

۸۸

مطالعہ دم

ہو ےی ضس رکا مطالعہ سے خی اورصرف کی وفعہ ضننے کے تنج میں۔

!اش تھیں بمنفرداور ایی تر بین اعزاز حاصل تھا کہ خی اکر صلی اللہ علیہ وسلم اور ٰ صحاب ہکرا کی زنرگیو ں کا ج ایان رات اور چمادک بیُوں ےکر رک رن 7 رہے تھے مشاہد ہک یں۔ گی یہ اعزاز نہ حاصل ہے نہ پھم ىہ حاصک لک ستے ہیں یکن اے ہماربی حوص ین یکا سیب نہ ما جا بے کی وج ہکا لکہ جب ہم شرا ئا پر یکر د یل او ریما کہ پار پارزوددیا جا رہ سے مبھی ا مان دگوت اور چمادگی زندگیگزار ںچھی ک رما ہکراغ ن ےگمز ارس و قرآن مارے لیے نے ورواڑے گھول دے۔ ف رآ نکو یک ےکی ہ روش سکیا یکر کے صر ف کی عالم کے قرموں میں ٹن ےکم راہ ہو چان سے ذف نیس ہوسکہا۔ اصل علارح ج٠‏ ریقہکاراخقیارکرنے یل ے۔ ْ

ال کا مطلب بیکیا سک رع پا زبان اود دوسرے علوم الق رن کے ضورع یا اٹل اور قائل اعد اساتذہ سے سیھنے یا معاصر انال علوم سے آ گاہ ہون ےکی لازی ضرورت سے انگ کیا جار ہا ہے۔ میا ہم ہیں نین اکا عد کک ہآ پ این مطالہقرآن سکیا عائ۷ لکنا چاے ہیں ۔آ پ کے پاش دہ اوزاد ہونے چائجیں جوھآ پ کے ہرف ا کر نے کے لے ضردری ہیں لیکن ؟ پ قرآ نکوپ کی سی بھ یکیشش ےب اس لیے اپ ےکو بینم کر کت کک ہآ پکو رسب اوزار مس ننیں ہیں" یا آ پکمی سکہ بند استاد کے پا لکیں جات - ٰ

ور یہک ہآ پ ایک جز مرے پہ ہیں ۔آ پ ع ‏ نیس جانے' ن سی ےکاکوئی مو ہے۔ 1 پکوایے استاد یااکھ یر جییے وسا بھی میس نیس ہیں ۔ نہ1 پ بی حاصل کر گگتے ہیں۔ بلاشبہ ان عالات یں آ ‏ پکوقرآن کا جج ف ہم حاص لک نے کے ے مناسب قابلیت پید اکر ن ےکی ضرورت لی مک نا جا ہے اور اس کے جے ہر کو کر چا ےکن اس کے باوج قرآ نآ پ کے لے ال کی جاب سے رہمائی ے۔

یں اسم سے ہم مس سےکوئی بھی ابیے جز مرے پننیں ر ہتا۔ اللے جن می ے

۹ہ

خرن کا رامع

مار ںیئت وکا بے نے بھی ےم اور ہارے اس لین می سک یکی وھ ے ہمارے تصورات میں وجود رکھتے ہیں۔ فرآ نک و بکھنہ کے لیے اس کے ساتھ ذ من وقل بک رفات جماری زندگی کے لیے اسی طرع ضروری سے جس طرحع جم کے لے خھذا۔ جھ ات یاد رن کے قائل ہے دہ ہے سے کوئ ینس قرآن کا ایک ضفہ پاتھ میں لی کسی جڑمرے پ واقظارچتا سے انی جس کسےافضف می وہ پھھ نہ پچ مھ لیتا ہے پک ینس نے ق رآ نی علوم میں مہارت حاص لک کی سے پافئیں--۔ بہرحال قرآن پر خوررگر کے لیے ذالی طور پرول وچان سے گنک جان ےکی ضرورت اور مطالہقائم ربتا ےت

رآ نک زور

قرآن رٹنس کے لے رہنما ‏ ال کا استاد اورمر پیا ہے۔ اس لیے اس ںکو یھ ہکی بڑگی ا میت سے ورمہ ال یت ایک مقدن دستاد یز سے زیادہ زہ گی دل دد مار کو قرآن کے پیام کے ل ےکھو لے میں ذائی کوششو ںکی مرکزی ایت خودقرآن نے وضاحت ے یا نگ دی ے۔

یں ران ےم کے یے نے رلوں 7 لان ےکی 000۰ تج د لات یگئی ے:

کیا ان لوگوں نے قرآن پر نمو رین ںکیا' یا ان ے ولوں نل بے ہو ے یں(محمدے٥:٥۲)-‏ ٰ ٰ

سی لے قرآن برغوروگر سے لے نز بر ولھک رکی وعوت قرآن کے ہرصفے برموجود ہے۔تم من کیو ںنہیں؟ تم دیھے کیو ںنہیں؟ تم سو پت کیو ںنہیں؟ تم مل سےکام کیو ںکییں لیت ؟ تم مھ ب کیو ںکھی ںکرتے ؟ گرب وقدت ہراس انان کے ل یں جو ضنن د یھن اورسو ین نکی صلاحیت رکھتا ہے ف2س کے لیے سے!

ہایت اصمرار کے ساتھ میراعلا نکیا کیا ےکفرآن ال لیے ناز لکیا کیا ےک

ٰ اعدم

ا ے ھا جاے۔ ۔ بی ایک بڑئی برکت دال یکتتاب سے جو اے نیا بھم نے تھا ری طرف نا لک سے ت کہ بی لوگ ا لک 1 یات برفحورکرمس اورمفل وگھر رکتے وانے اس سے سیق لیں(ص ۳۸)۔ اسی طربح' راع عباوالرش نکی بیصفت بیا نک تا ے: یں اگ ران کے ر بک آ یات سن اکرتشصحعح تک عائی سے و و اس پر ان ھے اور بہرے وک رکیل رہ جاتے (فرقان ۳:۲۵ء اس کے برخلاف ان لوگو ںکوحیدانات سےبھی بدت قراردیتا سے جو ایآ گھوں' ک نوں اورللو کو د سۓے سے اورنمو رہگ کر نے کے لے استعا لکیں زان ان ے ۹ دل ہی ں گر وہ ان ےس ہے ںان کے ا غ4 میں ہیں گر وو اع سے د یھت نیس ان کے پا ں کان می ںگکردہ ان سے سن نیل و جا ورو یکی رع ہیں بللہ ان ےزیادہ گل ۓےگلزرے ۔ بد ہ لوگ ہیں جو غفلت م ںکھوۓ یئ ہٴں (الاعراف ے ۹۰ا)۔ ج بک کآپ قرآن کےمعنی نہ جھییں' جب کک مہ نہ جا یکہ ا شآپ اکھد اے اود ج بکک اسے جا سم کے مجے انی طور برخو بکوشیش نرک یا آ قران کے شیقی نز انے اورنیم بریات حاص لی ںکر کت ۔

دور اؤ لک طر تہ دہ صرےثٹث نس میں تین دن میں قرآئنش کر ن ےکی حوص لین یک یگئی ہے دراصل قرآ نکو پلک کی ضرورت وا حکرکی سے لجنی اس صورت مین (جین دن میں ) مبھھگہیں ٠‏ ٍ و جوف می نہیں اھت یا جھ اس پ فو روک نی ںکرتا وہ اس برای تکی ضرور محسوں نی سکرتا۔ امام زی نے احیساۂغ السعسلموم میں متحددمٹایش دی ہی نکر مھا گرا اور ٠ ٰ‏

17 ن کا راستم

ای نک طرع اپتے آ پکو ا لکام کے لی وق فکرد نے تے۔ یگ دفعہحضرت ال جن مالک ن ےکہا: اک ایا ہوتا ےک ای ک فص قرآن پڑھتا ہے لین قرآن ای ےجنس براحن تکرح سے کیو یک دہ ا ےکھت یں ہے۔محمرت عمبدائلہ بن عم کے نز د نیک ق رآ نبھنا ا یما نکیا علاصت ہے ۔ بہت ز ما نہگز ر چا ے۔ ایا وت آ گیا ےک شش دبکنا ہو ںکہ ای کٹ کو ایمان لانے ےق لعمل قرآن دیا جا ٰ ہے۔ وہ تہ سے آ خ رک ترام صفیات ۲ پڑھ جات ہے۔ نہ اسے ال کے اجکاما تک خر ہوئی ہے ندڈراوو ںکی اور شہ ان مقاما تکی جہاں اسے توق فکرنا جا ہے۔ وہ ال > سے اس ط رع بچھلاگنا ہے“ جس طر حعکوئی جاوں میس بھا گن والا 7 ے۔حرت 2 "0" کو بڑھا' نرخاموش را ۔حخر تل کا قول ے: شس سگرن کے بٹڑ من بر حور نکیا جا ے' اس کے ڑم شکوئی ینس ۔ ابوسلمان دارالی کت ہیں : میس ایک آ بیت سا وت کرت بھوں اور پگ ر۵۴ راقیں ا کے ساتھ ی رکرتا ہوں؟ 1 آ یت پراں وت ٠ک‏ کیں ٦‏ ج بک کہ ز فو رآ یت پراپنا نی لی ںکر لیتا۔ ٰ ۱ خاہر ےک ہاگ رقرآن ہرنٹ کے لی ےکتاب ہدایت ہے تو جس طرع ایک سرتا ا عالم ناشل بدایت پانے کا اشختقاقی رکتا ہے ای رع ضجز مہ ے کا ایک باشندہ بھی ہرای تکا مع ہے۔اساتذہ یاکناڈیں نہ ہوں تب بھی اس کا مفہوم دانع طور رھ میں آ نا چا ہے۔ ابا گی عطور پٗ اور افرادکی ور پآ پکواس پر اپنا دفت لگانا جا بے تاکہ ا ںکا مم ال کر یں تھییں اورنو روگ رکر کے ای زندگی کے لے اس کےمتی بجھیں اور معلو مکی يک خدا آپ س ےکی اکنا ے۔

زا لی مطاےع میں ان لے ْ ضروری ہےکہ اس رح کےکام میں جوخطرات جن ںآ نا ا زی ہیں' ا نکوخوب

۰َ

مطالد دنم

ای رس مبجھلیاجاۓ اوران سے بچا کے لیے متاسب اق اما تک لیے جا میں ۔

اؤل: یاد رھک فرآن کا بجھنا ایک دیع اورکیر الاطراف ئل سے ج سکی میں میں درجات او رئی پپبلد ہیں ۔آ پکو ان سب سے داقفف ہونا جا بیے۔ ال لیے بچھنا کہ و لکوخذ ا فرا ہم ہواوراس لیے بچھناک نی لیا تکا انبا ط کسے ہوتا ہے ان رولوں ٹل از با ٹرثی ہوگا_

دوم: اۓ آ پ کو جاجے اورای صزاعبوں اور مامیو ںکو انی طررع پان یییے۔ شال کے طور ےر: ہریت کے رآ نی ضا ی ےکا شب ع ری پآ پکیگرفت' حعد یث اور بیرت پآ پک نظ مصاد رکآ پک مع --- ان سب کے بارے میس لیک تھیک ۱ قانر 2

سوم: پووسوٗپسبت اہراف لے کر لیے ۔ بھی بھی ایا کا مرن ےک یکوشش نہ کی جآ پک عطاعمتول اور عدود رے ماورا ہو۔ شال کے طور پٴ اگ رآ پ ۶ پا ز با نکیل جات فو صرف وو کے مسائل بی نہ ا بے اۓ ٢‏ پ٘ وصرف ودرسصت افش معوں یں رود رکھے_ اگ ر٢‏ پ کو اسیا پ ول ا مضسوغ اور قر یانفیروں سے وا تق تگال ہے آ پقرآن سے انی ذائی فقہ رک بی ای فاص موق فک تا تید ا اس پتحقید نک میں

چارم: آپ کے جو تار مطالعہأمت سےتلیم شد مفبوم ےمقفف ہوں' ا نکی نہ بجھییں' نہ ا لسکی انشاعت رو حکر و میں۔ ا کا مطلب مکی لک ہآ پکو ای راۓ رکٹ سے کیا جار ہا ہے نہ ا کا انا رکیا جار ہا ےک علا کی راۓ فطط ہوگقی ہے۔ بلکمہ م کہا جا دا ےکہ ال لکومستزدکرنے یا اس می ت رم مر نے کے ےآ پکو زیادہنیل نو ان کے برابرقابلی تکا الک ہونا جا ہیے۔ یآ پکو ال ذمد داد سے گا 721 ےک ۔آپ ج پھھقرآن ے اغلا گی طور ردرست اتے ہیں اس رن لکر یں" اور جے اغلالی لور پرغلط بات ہیں اس سے اتا زکر یی۔

۹۳

7 نکا رام

ٰ پنجم: اپ حعد ود مک وجرےآپ اکٹ اپنے تا کے بارے میس شیے یس ہوں گے ۔السی صورت ‏ ج بک کک ہ1 پعمل نقابکی مطالحہ ہکر لی یا قرآن ےکی خداترس عالم پاکل سے اس پ فو نہک رفیل' اپنے خیالا کو شکل ند یں ٹیم کے ددیات ‏ ٰ ھم فرآن کے مطا لے کو قرآن 1 درز لآ عبت کے مطائئی رو رروں --ہ- کر اورتھ می یی مک سکتے ہیں: ۱ ْ تاکہ بر لوگ ا لکیہ یات بر و رکرمس اورمعقل وفکر رک وانے اس سے سجقں لیں(ص ۲۹:۳۸)۔ کر سذکر قرآن م شکثرت ے استعا لکیاگمیا ہے اس کا ملف رح سے تر جمہ کیا گیا ے: متتبہ ہوع' ششیحعت بانٴ یا کر سیق حاص لکرنٴ دل پ اٹ لینا۔ ال ے دہ گل مرادیا اکا سے جس م سآ پ فرآن کے پغنام اور ال کی تقاما تکوگرت میں گن ۃکیکوشت لکرتے ہیں جاک ہآ پ یہ جائ لک ہآپ کے لے ا ن کا مطل بکیا ے وہ آپ سےکیا فا ض اک رتا ہے؟ اسے د لکک جانے دیا جاۓ جاک سقلب وذ من اورشل کے ٠‏ جو انے سے مناسب تبد بی ہو۔ جو پھیعلم می سآ مے اس کے مطاب نع٥‏ لکن ےکا عمزم ہو۔ اور خ ری بات ےک تع نکیا جال ۓےکردوسرے اناو ںکوکیا پغام ماکان ہے۔ ند کر مکی الی اکم ہے صے اپنی اص٥‏ لوعیت کے موانے سن ےتمو یعلم کے اع در ےکی محاوا تک عاج ت کیل ۓ۔ا پکو ہرلفظے معن معلوم نہ ہہوں' تام اہم اور کلیدری الفاط کےعمل مفجو مکو جا ض ےکی قابلیت شر رکتت بنول' آپ ہرآیت نہ مگ ہوں ۱ جن بموی پغام' صوصادہ یغام جھآپ کے لیے ےب زدگی کی ےگزاری جاۓ؟ -

۔۔

مطالع دنم انج اورریشن ہوکرساۓے1ٴجاے۔ - تک رآ نکوسب سے پ لہ نے والوں نے ا سکوسب سے زیادہ ھا اور ال سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ دوش رکے ماج کیاش٦‏ ت کا ر گلہ با ن" شرسوار اور برو گے۔ ا نکی بخلوں میں تھاسیزلففت اورصرف نکی موی مو ٰی کتائیں نہیں _ نہ یں فس جار“ جفرا ےآ مارف یم نشریات اورعرایٰ اورفطریی علوم پہ وت رس عاص٥‏ لج گر اں ے پاوجود وہ قرآن بح ٹیش سب س ( یاد ہکا میاب تے۔ اکھوں نے گن کے پا مکوول سے قو لکیااود اس کے مطابق زنک یگز ادن شرو عکر دی۔ اس لی مکیا یہ تم ہر نی کے ظا ے اور ہوتا چا ہے جو اس کے سکم ےکم ضردری شرائا پود کنا ہے۔د وکیا پانا ہے ا سک شدرت اور درجہ ا لک صلاحیت او روش لپ تحص ہوگا۔ یقین تو لم مکی معاون چچیزوں سے ال ئل شس مۓ پھلوو ںکا اضافہ ہوگا' ٰ زیادورسوخع عاصل ہوگ' خی لعیرت -0‏ 0 قرآن داش طور پر اعلا نکرتا ‏ ےکہ ا ےچھنا 1 سان ے ہملس ملائی کے لیے بوجو ےاگر ووصرف ھکر پڑ ھھے اورائں رفورکرے۔ ۔وەتذ کر ےک١‏ 1 طرف قرآن ہرد کے وا لے ضنے وا لے سو جے وا کو وگثوت دیاڑے۔ ہآیات ای ہوم مج ہیں: یم نے اس رآ نکوخشیحعت کے لیے ؟ سان ڈر نیہ منادیا ہے۔ ٹہ رکیا ےکوی تحت قو لک ے والا۔(القمر ۵۴۳( بھم نے ال لِمتا بک ونھھاری زپان شٹ ئل تا دیا سے کہ لک شیحت اص٥‏ لکرس (الدخان ۵۸:۲۴)- ہم نے اس قرآ آن می لوگو ںکوطرح رم کی مشائیس دیی ہیں اک ہش ا 1 شی (الزم ر۳۹ "))0 ۱ اںتار میں عہر تکاس ہل ہی

۵

تق رآ نکارامع لۓے(ق 6۴۴۰)۔ تلذ کٹ مک یکوئی گی می نیس ہے۔ بیقرآ ن کا اصل بنیادی مقصد ہے ذ کر ہے ذرے رات ور اور شفا حائگ لک رنے چ ۓے۔؟ پکو ای لہ وری ز نگ یکوش نی ہوگی اورائ مل کے ذرمیی ےآ پ خودذاثی طور پر ایےے زر وجواہ رق کرت ر ہیں گے جو

بھی نتم ضہہوں گے۔

للا گر

ما ایک دوصرادج سدبر ہے۔ا کا مطلب ےکآ پ برفط رآ یت اود سورہ کےعمل متی معلو مکر نے ک یکوش شک میں ۔ ام الفاظ شبات اور مثالوں یں نا مل ممتی در یا تک میں۔؟ پ مق نکانقم اور اس یں جاری وودت معلو مکر میی-۔ پ م رکز ی موضو وا کا تی نکر شان زول' جارنی ایل منظراورلف تک پاریکیوں جا نیں .ہآ پ لف ناس رکا تقا یگ مطال ہکم بکی۔ گر یک ہآپ بندے کے اپ خدا' دوسرے ازالول' خردايۓۓے آپ اور اروگردگی دی ا کے قھا ممصیھرات دریاقت کرریں۔آآپ افراد اور معاشرے کے کے قوائین اور اخلاثی اصول سح اکر میں۔ ریاست ومحیشت کے لے قواعد وضوا پ جارمق اور لے کے اصول اور ازمانی مع مکی موجود ریغ کے ل ےمم رات معلو مکر میں اط رع کے مطالعہ کے یآ پ کے اہراف دمقاصد کے فاظط ےقرآن کےمللف علو مکا ویج او رگپراعلم درکار ہوگا۔ ْ ٰ کرو رز مکی دوایی شید وی ںی ج ن کا ایک دوسرے ےکعلتی نہ مو ایک دوسرے مس شال ہولی ہیں۔ ٰ

آپ کے مقاصد

“٠

مطالد دم

ظاہر ےکہ پرفرد ے مقاص رلف ہوں گے۔ میرے نقتطننظر کے مطا لق" تر ہرملمان کے لیے فرش سے جو قرآ نج کا ائل ہے یا ہوسکم ہے۔ اس لیے ایک اوسط اعم 0-1 سے جو انی صلاگٹتول او رر بدا تکی زی گل ار سے ابے ععہ دکو پیود اکر ن ےک یکوشت کرد با ہے تک رآ پکا اون اور ا ہمت بن مقر ہونا جا ے۔

اد رد جھیےےک ہن کر می سآ پ وراصل اہ ذ جن وقل بکوجلا بش ایمان مل اضافہ و رن ۶۶ پغامآ پکودے/ہ ےاتے معلو کر نے اںطر فک و یکومتوج کر نے اور اسے یا دکر نے کے سے فلت ہیں ۔ اتی سار یگننقوں کے نیج می ںآ پکو مد اک یآ واز سن کے ئل ہونا جا ہے : د ٥کیا‏ عابتا ےک ہآ پکیا نیل او کیا یا۔

ٌ مم کی میں او میں آپ کےہم ق رآ نکی مل ف میں تی ہیں: ول : پ اس کا ساوءافقی مفپوم اس طرغ بجھییں ہی ےک ہآ پکوگی ال کاب بڑھیں ج‌ سکی زبا نآ پکو انی ہے جی ےکوئی ع پا جات دالا قرآن پڑ کر 90ہ ۱ دوم پمعلو مکر می یک ا لعلم نے اس س ےکی مھا ہے : الن کے بیا نک نک ْ یا ان کی تھاصبراوردوسرے ماخ سے استتفادہکر کے ۔ سسوم: آپ مطاےۓع اورتحوروگکر کے ور یج | لک ملپوم معلو مکر ل اوراے جز بکر بی تک ہآ پ تذک رکی ما جک بچنچہیں۔ اگ رآ پ کے اندر صطاحیت اور اض اي ضرورت ۓے و رکیغ حاص لک بیی۔ چھارم: ای کے اجکاما تک اطاعح تکر کے اور جوف ال اوریشن 2 ٗر سوا ہے آیں پود اک کے اس کے یی معتی در یاف تک یی۔

مآ نکا رات یاد ش ران اپ یکزششو ںکومفید اورنخچہ شر بنانے کے لیے بتھ بزیادکی را کا ودرا کیا جانا صروری سے

عرل

اول : ات خر لی مین ےک یکوش شک ری ک یی ت تک مدہ کے بی رآ پ قرآن کے ص بھی ۔ ہی ہلا دم ے اور سب سے ضمروریاش١رط-‏

یت مکل کم معلوم ہوتا سے .گر میں نے دریکھا ےک ایک وف دی اور کن سے شرو عکر دیا جاے فو جم خواندہ افراومھیئحض چندماہ جس ىہ ہہارت عاص۷ل کر لیے ہیں ۔کی استاد یا صر ف گی مناس ب تما بک حدد سے مطالعہ کے ۱۲۰ نٹ ("' کن روز کے اب سے ایک اہ) سے اد ال کے لیے درکار نہ ہوں مگ ےک ہپ حا ن کی کے ری اپ ےکا سے۔ یکن قرآن کے مطا لے ےکی ١‏ کیشٹو ںکو ۱ عرلی جات کک ملتو کی نہ یج ۔کولی ابچھا تر جم یا جو مترنین دستیاب سے سے اور اپنا کام ۱ رو کر دتیجیے۔ بی بے خی رفرآن پڑ نے سے بہرعال بجر ہے۔

ہے

اور ان ڑھنا ْ

دوم: سب سے پیل صرفافنط می کھت ہو روخ ےآ خرکک موا قرآن بڑھڈڑالیے۔اگرع لی گھیںآ لی ےکی ردے۔---- ْ اچھا نے یہ ےکآ پ قرگن پا کک ایک می می سمل حواو کا خصمضی منصو رر ٰ .ہٹاکھیں۔ انس مل روزائ٢‏ کیہ سے زیادہ نئال گے ۔ اس کے بح دآ پ انی سجوات کے مطا نی رفا رآ ہت کر سکتے ہی گر اس رع کا طاترانہ مطالع ہآ پکوسارکی زندگی جار

۹۸

مطالعہ دم

رکھنا جا ےننس رفمار سے بھی آپ کے لیے مناسب ہو9( یہ اک مطالعہ کے؟ داب کے ۱ حوالے ےآ پ بڑھ جے یں

شرآن کےگہرے مطا سے ۓ پرے فرآ نکی اک ابترا ی پا بھ,ظاوت بہت اہکیت ریھئی ہے۔ ال ےآ پکوقران کے مھوگی پاع ا لک ز بان اورطرز بیان' ول استدر لال اورتحلیمات اور احکاما تکا ہل انداز ہ ہو جا ےگا با تقاعدہ مطا لع سے پ ترآن سے مافول ہو جاتے ہیں' ا لکی مربوط وعد تکوگسو کرت ہیں اور ا ںکو ایک اکائی کے طور پر دبکھنہ گگتے ہیں ۔ اس طرع کے مطا لے سے اس با ت کا ان ای ہکم ہوجاتا ےکآ کی زی اڑ یتح کر اس جولوک قرآن کے جھموی مفہوم کے مطا بی نہ ہو۔ جوقرآ نکک اس کے مضا ین اور سیاقی سے ابی واققیت کے بجا ےج اشار وں کے ذرہیے بنا چا ہے ہیں وہ اپ یی می شض یکر سے ہیں ۔قرآن کے سن سے با قاعدہ ربا مج ر ہنا اس کے مجموگی شہھم کے لیے ضرور یکلید ہے۔ مآ یات اور الفاظ کے مد و ید موصعم ہکن شل بہت زیادہ عددگار ہہوگا لس اور وی پاتتلقی کے ٹج میس اکر اییا ہوگاک ہآ پ رآ نکی عہار تکواجا تک اینے سے با تی لکرتا ہوا اور اپیے سوالو ںکا جواب دنت ہوائھسویںکر سس گے_

زرت ری کی این بی وت می فان ان ۶ نے کے بے آپ مطا قرآن کے لے مطلف طر یق اخقیارکر رے ہوں گے۔۔ ۔کسی مین ووقت میس شتم کر نے کے لیے پ تی جیز پڑ ھن یس مصروف ہو کت ہوں کے اتی ایک لفظ یا تی ایآ یت کا مفہوم معلو ممکر نے کے لیکھفٹوں صر فکر رس ہوں گے ایک بی ضے بی کر کے کے ےکا ا ا کی وت کن گے ھی یی آ ہت یا ایک دفعہ پورے میران 70ھ "ھ0 ایک موضوع سر رہنمالی ای ےی ےت رر کن نات ا بت ہو ات خورخو روگ رکرر سے ہوں ٹن کم وقت گ ےگا کان طول او رشقر تاس رکا تھا بی مطال کرد سے

۹

قرٴنک راس ہوں تقر صے کے مطا للع بھی ببت زیادہ وت نک سکم ے_

ناب رکا مطالہ

ٰ سسوم: آپ پارے رآ نکو ایک دفع ہچ ےکر بڑھ ہے ہیں اور اب لت اکم رفار سے وآ پکومناس گی سے با تقاعدہ مطالح ہک رے ہیں۔ ام جع پروی ففقر یل اغ‌ارلظیر یا حواشی نے اور ا ںکا مطالع کر یی ۔ عم لی" اُررو اور دوری زہالوں شی متعر رظ رفا سرموجوریں-

جھ جحھھآ پ نے ا بتک خوو حاص لکیا سے من رجوا شی کا مطالعہ ا يکی ہت زرل نظ رقرآن کے بارے مآ پکو دے گا۔ ہنس ایےے اہم مییرافوں جک پیا ۓ گا میں آپ خود ابنے فغموروگگر سے وریاف ت نمی کر کت تے: زبان' طرز ءیان' ارول جاریتی ہیں من نمی مفیوم . اس نے ےک پکی لض غلطیو ںکی الا بھی پک ہے۔ ٰ

کون کر یں کم فقرآن کے زا ینف لی مطاے یش جب آ پکو رد ضرورٹٰ ہو2 1 پکشھم تاس رتک جی محدودر ہیں ۔کم ےکم غاز میں طو ہل اورمفصسل تفاسی ریس شہ ابھھیں_ ا نکی طو ہل یں اکر غدا کے کلام سے کاپ کے براہ راست زم وت دیوار بین جائی ہیں .اگ رگم لیر دتیاب نہ ہوتھ جزدی نامز پٹ ھیے۔ اسلائیالٹ رر کے مطا نے کے دوران' مپاحرف او رت یس جو چےزھرآن رم رکوزہو ا ےتصوصسی طور 7 قجہ سے دیکھیے ۔آ ‏ پکواس طرع کے ٹر سے بہت نتشرہونے کے باوجوۂ نم قرآن و فی و اگی۔

ادرئل اگہ امان اولقو یت و لیے اور ز مدکی اگمزارۓے کے ۓیے ضروری

ہریت طو ہل تاس رکے مطاىع کے ای عی ؟ پکویل مکتی ہے۔صر فک أ جو نکو ڈور رن کی جادیک گے کینحتقی نکر نے یا می کو ڈو رکرنے کے لے پکوکفییرے .

٭ہ)

مطالدأم دد لی ےکی ضرورت بڑ ےگی۔

تس تو ں کا مطالعہ چھسارم: شال صورت و بی ےک ہآ پ بالئ لآ از سےقرآ نکا مطالدشروں کر مس او رآ خ کک جا یں۔ ان شاء الد آپ یل سے بح وضرور ایک دن ال کا آ از بر سے من شای ھآپ میں سے میس تر کے لیے بر دن اگھی ۳ئ ہو سک س ےکلہ بے دن آ تے تی گہیں۔ اں لیے آ پک اپنا مطالعہ شی جلد ہو کے شرو کرد چا ہے۔ اس مقصد کے لے بپھ تق رتصوں' مخصوس سورنوں یا ایک آ یت ىی کا اعجاب ا اور ان ا تفحیل سے مطال ہک می ۔ اگ آآپ لات اور ایی ز یت کےکام - مصروف ہیں تے عخ تو ں کا مطالع ہآ پ کے لے ضروری ہوگا۔لتض اومات باتقاعدہ مطاے کے دوران المے صے سان ؟ جامیں گے جن کا آ پتفحیبل ے مطالعہ کر نا چاہیں گے لین آ پکی ایک مرکزی موضوع کی مناسبت سے بنائے ہوتئے اقاعدہ نصاب کے مطاب بھی بر مطال کر سے ہیں ۔ اصسل ایت اس با تا ےکآ غاز کر میں اور پکومعلوم ہک مطالع کی ےکر نا ہے ا کی ںک ہکس مہ سے مطا لے کا ؟ زا زکریں۔ سکاب کے اعم رجش نے مجو یز کے سے ہیں۷ مط سے کے آ نز سے ہے نپ خعموں سے ؟ پکو بہت سے نا ون لان خے الف۔آن کے سا تھا مغ ر کے ! مت ین صرعلوں 7 پا کا ہا یت ضرور تلق قاظ مک کےآ پ یف رف تک سکتے ہیں ججاۓ اس کے کہ نین حر تکک کے لے اتظاہکر یں۔ ْ ب- پک اریے اہم طریے ‏ کلید یی اور سرارغ اھ آ ای کے ھپ کوقرآن کے ان تو ںک بین میں بددد میں کے تن ن کا مطال ہآ ب فور تفصییل

٠١

12 نک راس

ےکی ںکر کت ایا لے قرآن اپے پا ملف شلوں می میا نکر ہے (الزمر ۲۳:۳۹)۔ 0 ران ےجو ام کا روا لکری ےج آپ سم قرآ نکوچ راتتے پر رن کے لے ضروری ے۔ ٰ آپ دوسرے انسافو ںکوقرآن کا ہیام پچپانے کے لاجر ایت حاصل ٰ خین تو ں کٹخ کی مطالعہ عام مطال کا بد ل نی ہوسک جس کے فو ا ندعیت اورابمیت کے لا ظا سے لف ہیں ۔اکں لے ران کے طو مل تسو لکی حطاو تکویھی ترک نل کی ۔ جیما کہ یه گھی زور در ےکر با یا گیا ے تعیلات پرقجہ دی او ویک لکو ْ ا ند زکرنے ےآ آ پکالمادیودات تاژ ہو کے یہ

اد پار پڑھنا

پنجم: جوحص ہآ پ نے مطالعہ کے لیم بکیا ےآ پکواے پار پار بڑھنا چا ہیے۔ ا لکواییامممول بنالیل ج لکی بیشہ پابند کر ہے۔ ہنی دیلکن ہویس کے اتہر میں' اس کے ساق در ہیں' اس می سکونت اخقیا رکم اور اہپینے دل ود ما کواس اع فا ون _ اس طرع کا طو ہل کحلق تضیقی مان جن کے سلے (ازی یکلید ہے۔ تیسے جیس ےق رآ نی الفاظطآپ کے ول پٹ ہوں او رآ پکا زبان پر ہیں ات ان بر ور مگ رکرب' کل ت میں ہی تصرف انس وفت پہ کیل جو پ نے مطا للع کے لی مخحصوی س کر رکھا سے بلمہ روز مرہ زمدگی -0 یل پھرتے بھی قرآن انا مفہوم 1 7 پآ شکارر ے گاٗ اس ل ےکسفرآن کے الفاظ اد رآ اتآ پ کے ذ من میں بلٹ بی فک

کون ما

ا١٣‎

مطالہ جم متلاگی ذ ہن ششے: حا لکرنے والے نی علاش شلکر نے والی روج اورمعاٹٰی کے لے بے تاب د لکونٹو وفما دجیجیے۔جی اک ہآپ جات ہیں قرآن اند ھے اختنقا کا مطال یں رتا وہ تا ےک اے بثر ڈہٹوں او رکانوں اورفُل گے دبانحوں سے مطالعہ کیا جائے۔ نموروگ رکی لوت رآ کا سب سے زیادہ زور اور مارے ٹرآن پھھیزڑا ہوا موضوخع ے۔ اد کی سوا لکر' می نے او ر 100000 بھی ضروری سوال ہیں ضرور اٹھا ے--۔ مثال کے طور ر: ال لفظ یا ١‏ ر22 مع کی ہیں ؟ ای ےکی دوسرے معالی عراد لیے جا کت ہیں؟ جا ری یں منظراورشان ٰ نزول اگ رمعلوم ہے کیا ہے؟ ہرلفظ کے یا آ ی تکا سیاقی دسبا قکیا ے؟ ہر1 ی تکا بل ٰ اور بعدکی آ یات کے مفپوم سےکیا را ے؟کس دانٴ یم اورموقسوعائی وہر کوملاش کیا جا سا سے؟ کیا کہا گیا یا ہے؟ کیو ںکہا گیا کےے؟ اس کے عام وم۴ ںممرا تکیا ٹیں؟ ۲ بڑے موضو غکیا ہیں؟ م رکز یی موضسو کیا ہے؟ میرے لے ہمارے لیے آٴ رن ال کا کیا پنام ے؟ ان سوالا تکووٹ ری اوریے یس مطال جار ری ان کے جواب ٣‏ زونہ سالات اتھااے سے ڈر ‏ ےکیں۔آ پکو ان 2 جوایات ٹور رلیں شر خور آپ حاص لک رکیل نہ یک حدد سے ال سےکوگی فرتینمیس پڑتا۔ جواب حاصص لک نے گی شش مس آپ جھ بھی پامیں' اس سے فدہ ہی ہوگا 77 اپ جنضض اصولوں کا خیال ریش نآ پکوکوئی نقصائن نہ ہوگا۔ الف۔ ایےےسوالات نہ بجی جن کے جواب انسائی فھم سے بالا ہیں یا یش نکا تحلق تظاببات (آل عمران ۳ے ) سے ہے ملا عش لس طر کا ہے۔

۳

خر نکا راع

ب۔ با لک یکھال نہ ثکایل' اور نہ ایٰےسوالات پوہچجیں جن کا ز مرمطالعہ ضے کے جو انے سے؟ ‏ پکی زندگی ےکوئ یل بھی نہ ہو۔ رع ایےیے جواب نہ دی جومناسب یا روریی عم یا مضبوط اتد لال پرجنی نہ ل۔ و- ا سے سوالات گی ےآپ جواب ےہ اع کی نپ ٤1‏ ہت رین کیشش کے پاوجو کچھ نہگیں' نہیں ہکتھ دم کے لے مچھوڑ دی اورق رآ نکی دوسری اڈ ںکی رف وج دں۔ وقت ؟ 0 و پک ی کاب یا اتاد سے رہنماگی گی یا خود ہی جوا بل انی کے خووفرآن کے اندرکائی مث لی موجور ہی کہ اون ا مان لا نے وا ےس طرح سوالا ت کر تھے اسی رع ہم تک ام اور راہ نما ای ہ سکرس طرح تفور ھی کی صلی ادذد علیہ ویلم اوران کے صا بہسوالات اورنمو ولک کی حوصلہ افزائ یکرتے تے۔

مطالع کی معاونات

ھفتم: ماس مس حدددیے کے لے پکو یھ نزو کی ضرورت ‏ گی ۔ کوشش ییچج ےک چشنی 7 پکوفرام ہوکتی ہیں و جا ہیں۔ ٰ

اٹ آ پ کے پا ایک اددوت جم قرآان ہوناجا ہیے۔ یکم سکم سے جس

کی آ پکو ضرورت ہوگی۔ برططاوت کے لے اور مطالعہ کے تۓے

استعال تیے۔ اکر بر ھناسب سائے کا سے و مفلف ضے اکر نے کے

لی ےبھی استعال ہوسکما ہے۔ بوخیال رد ےکہ یادکر نے کے لے میشہ

بچی ایک كسنہ استعال کے ورنہ دہرانا بہت مکل ہوجاۓ گا۔ ہے یاد

رج ےک ۔کوکی بھی تر جم نال ہوسلکما ہے اہ 30 ہو سلتما ےس

تھے میں مت ری مکی جاب ےضیر ول رکا خص رضرور شال ہہوتا ہے۔

مطالع یٹم

فآ ن کا مھ جم نہ ے نہ ہوسکتا ے۔

۴ بی نے ماق رتثرع ہوا اس مقصد کے لےکوتی دوس را قرآکن حاصل کیج ۔ لن ایک آپ کے پا ہونا ضرود چا ہے ۔ ایک تر جمہ اود ایک قائل اع ونفی ر1 آپ کے ابتائی بیادی مقاصد کے لے کائی ہونا چائیں۔

٢۰١۔‏ پیمرودی فو نیں ہے میا نآ پکومفیدمسوں ہوگا کک ہپ کے بس‫ ایک سے زائدتھ تے اورتفی میں ہوں ت اک ہآ پ الفاظ کے و تل میتی

علاش کریں جوخقلف مفس رین نے تھے ہیں۔ ۲- ذیادہگہرے مطال ے کے لیے؟ پ کے پاس ای ک فص لیر ہونا جا ہے۔ ۵ مرن یکی ایک ابچھی افت' تجھا قرآ لی لفت' آپ کے پاس ب و کہ

آپ الفاظ کے معنو ںکیمگہرائی یں جا بیں۔ -٦‏ ایک اشار یہاش مبھی رھے۔ (مطاسے کے لے بیتھ دوسرکی مواونا تکا

مطالع کی ےکر ں؟

ھی وی ایل ہے انکر ےک ا طز طز رط رب مات زی شی ںوی نکیا جاجا ہے اس کے لم ےکوٹی مشتین تو اعد وضمواریانئیں ظا پر گ ےک اپٹی صلامیتوں او رجہ یدات کے مطال خود ابنا/ لوتی طر رق بش حعکر رس آپ کے لیے زیادہ مفید ہو۔ ائل ایت اس با تکی ےک ہآ پ ایک مضفح طر طرتے سے کم سس اور ذ گل یل درںخ تر تیب کے مط بت لن ےک یکو نکی

او آپ زبرمطالعہ صھے کا خود مطا لع کر یں۔ مانیا جو جتھ آ پ بجھ کت میں' اس یکن کے لیے معاونات مطالعہ سے بدد لی ناعسی ائل استاد کے پا جانمیں۔

ید

و۸ نک راسے

ا “رونوں زرالم سے اپنے مطال ےکوز یادہ سے ز یا ول مطال ےتک نس رگن ہے نے چان ےک یکوش شک بیی۔ پہلا مرحلة: ا نےکو مانول تیچ اور اینے مسا لکو ین یی ۔

ے۔-

نیا دی حجرائط اور دائلی شش کرت کے جوا نے سے جو جآ پکویاد ہو اے جلدکی جلدکی ذ من یل د ہرا یج حول تج کہ اللدآآپ کے ساتھھ ہے ال ے دما تیج ھک ہآپ جو بت مطال کر نے والے میں" ا مل وہ آ پک رای

مطل ب بکھتے ہو ۓےکم ےکم من دفعہ ا لک حلاودت تھی یا اکا دف کہ یرد ےآ پ اس کے بفیادی مضامی نکوذ جن یس لاکن ۔ اب ؟ پ ےی اصع و کر ناوات چاہیں ان برغوررگ رکر ست یں ۔ قاعدرہ بی ےکہ الفا طکیانتی کی حلاشش شر و ں کر نے سے پچ ان کے معالی خوب ابچھی ط رع ذ جن شی نک ٹیش ۔

م نکو پٹ سے اغیر تام اہم ثیات جآ پبجھ کت ہیں ھی ںککھھ می پچ را نکامن سے تم لکر کےنظرعالی تھیے۔

اک رکوگی مرکز ی موضوع نظ رآ ۓ نو ا ےھ یج _

عبار کو اہ معن رجموں می تی مکر یہ جآ پ کے خیال یش ایک رایت یا ہدایات کے ایک جھو سے کے عال ہیں ۔

بن الف ظا جملو ںکو 1 پ می ینہ بیس مرک ز بی ایی تکا عائل بلھتے ہیں" اانٰ سب پر نان رگا کی

سوالا ت تقاع مک بک تجمی سا کہ بھم نے او پہ میا نکیا ے اور ای ںکلھ یچ _

دوسسرا صرحلہ : آ پ نے ج پڑھا سے اس پ رو رکر کے ابی سوالات کے جواب خودو ےک یکوشش تھے ۔ ا گے صے میس جو رندا خطوط د لے لئ ہیں ا نکی 70

مہ

مطالعہ و۸

اس کا مفہوم اور پنام ین ہکی کون یییث۔ ۸۔ معلومإکر ی سک اہم الفا کا کیا مطلب ے؟ ۹ رآ یت یا یت کےککڑ ےکا مفپوم صن یی ١۔-‏ ان کے پاتھی رط برخور یی کوگی بات ےکیوں کی سے یا بععد می کیو ںآ لی سے ۔کیا م اوروعدت پان جا ے۔ اا-ہ عبار تکا مطلب فوری ساقی میں عوالات کے جج تسیاقی شل اور قرآن کے جھوگی سیا میں معلوم یی اور بگھئے_ ۳ متتین کی کہ اس سکیا کیا خنلف ہدایات اورتخلہمات اخ ذکی جا مق یں۔ ْ ۳۳ سوال کی ہہ ھ سےکیا کتا ہے؟ اس کا تقاضا ہمارے زمانے سےکیا سے؟ ۳۴ سو ےک ہآپ سے مہ ملہ سےا رانید ےکا ٰ کا نقاضا گیاجاراے۔ تیسسرا صرحلہ : جو پچجھنھی مطالعدکی معادئن چچی یی یآپ کے پا ہیں ا نکی ررے ارات ےمم معلوم یہ اورم رعلہدوم (۱۴۳-۸) ےگ رجا ے--- آپ نے جو پجھخود ‏ ےمچھ تھا اس پر نظ مان یکر یش کر لچ تب لکر می اضافہ کر بجی وم لکر یہ مات دکر دہیجیے۔ جدونھاسرحلہ: ج پآ پ ال طرع بج ںا ےھ ا قلب وذئن ہی ںکفوناکر بے جوسوالات رہ گے ہیں یں فو فکر بے کسی مفہو مکی او مل نہ جگھتے۔ آپ مطالہ جاری رگیس کے تو مز یمعنی معلوم ہوتے سی 1 ضروررینسوں ہوئی رےگی۔

٥٠ے‎

3 نک راس

مکح کی کھیں؟

قرآن کےسممی یکن مس جو اصول اور رہنما خطوط ٹپ ینظرر ہے جا میں وم مجرر بل اور ان سب نیل ےکنفشلو کے نی ےن ما بکی ضردرت ہوگیا۔ یہاں نم نراایت اختقار سے صرف چند اہم اصولو ںکی طرف نوجہ دلانیں کے جوقرآن کےمت بکھن یر ےج 4“ ۓ | آ پ کے یل رد نے جا میں ۔

وٹ اصول

زند و تفیقت کے ور پر سے ٰ

اول: قرآن کے ہرافک اس رع جک ےک یسے مآ ب ناز لکیا جار ہاہے۔ ال کو جع کے جد ید دور کے لیے انی بی علق اور زند ٥کتاب‏ کھت کی ىہ چودوصدی پل اس وقتگی جب نا لک یگئیتھی۔ ایک فاظط ے اگر ىہ غیرمتبدل اور ابدرکک کے لے سے و ا بکوگی منلف پا نہیں رےکتی ۔ اس لیے تر نک یک 1 ی تکولجنس تہ ماضی نہ بگگئے 7 تب ہیی آپ اس بیشہ زندہ رئے وانے اور ہرنہ ابی حلوقات | ی جات کا ٰ کے تفارش

727 پ نے دیج سے کے مطالعہ مل ؟ پ کے لب پی رت درا ہے۔آپ کے ذمن اورعش لکوبھی قرآن کے بارے میں سو نے ہوئے اس تخحیق تکو پیش پیل نظ ررکنا جا ہیے۔اسل کےمھرات بے بناہ ہیں رش یزار بی ۶ با تکا اطلاق کنل گے اوراپٹی دنا کو ا سکی رہتی میں یں ے مج براطلاقی ای زندگی سے اس کامتلقی اس رڑشنی میں تقا مک کے ہو۔ مو جودہ پر ایٹاغیاں اور سان اود ؟ پ کے اىی زمانے کے ملم اورمنالوگی' ہر بات او رسعھییں--۔ سب ک

۸

مطائعہ جم

جواب ش رآ ن یں علنا جا ہے ۔

دوم :اکم پات یہ ےک مہ یکن کہ فرآن کے ہر پا مکا خطا بآ پ ے اور آ پک برادریا سے ے۔ ایل دفم ج بآ پ ہا 1 کے بڑھ جا میں نو نہ بن ہک یکوٹش کی کہ ہرقرنی آ یتآ پک ذاتی صورت عال ہ کیا پغام دے ری ہے آ پ نے پیل دیکھا ہےکہ اپکی داش شرکت بڑھانے کے لیےکس طر شی رف تک جائٰ چا ہے۔ اب آپ دلگھیں گ ےکہ مم قرآن کے لی کپ کے ذہ نکوکس طر ح کول وج ہے۔ ای نیس رسول اڈم٥کی‏ الل علیہ وسلم سے ران گیکن ےآ یا ۔آ پ نے ال لکوسور؟ لال لم دی۔ جب ؟آ با فا فک صن بعمل مطال ذر--۔ لو ا آ دن ےکہا: یرمیرے لی ےکاٹی ہے۔ ادد چلاگیا۔؟ پ نے فرمایا: یٹس ایک فقہ ہکی حیقفیت ے وا ئک ںیگیا ے۔(ابوداؤد)

بلاشمبہ شش ہہ لین رکھتا ہو ںک تق رآ نکاکوئی ایک حص یھی اییا ہیں ہے جس میں آپ کے لم کوک ذائی پا ضہ ہو۔ ریش ؟آپ کے اندد سے جلا کر ن ےکی کگکر اورنظر ہولی چا ہبیے۔غدا کی پرصف ت کا تقاضا سےکہ الین کے مطابقی اس سےتحلق استوا ریا جائۓے۔ زندکی بعدصو ت کا ہر مان عابتا ےکہ اس کے لے تیا رکا جائے۔ اس کے انعاما تکی تنا کی جاے ۔ ا کی تکلیفوں سے دیچے کی خوائش او رکون کی جائے۔ ہرمکال ہآ پکو اپینے انددشری ککرتا ہے اود ہرکردا رآ پ کے سام ایک نمونہ لاتا ہے کچ سک آپ چچردگ یک مس یا پیر و برنے سے کہیں۔ چ رم قرآ لی چاہ ےآ پک موجودو صورت حعال میں ظاہر ناتقائل اطلاقی ہو پچ ربھی آپ کے کے متھ پخام رکتا ہے ۔عمویی جیانا تپ کے لے خص می معالی رک ہیں ۔خصوی بیانات' داقعات اور عالاات یش ای ےےگموئی اصولو کک نے جاتے ہیں جج نکا آآپ اپٹی زندگیوں یں اطلاتی گر سکتے ہیں۔

رآ نکارامۓ

ضس کے ایک جزو کے طور پر بے ۱

ص بل قرآن خود اپے اندد ایک اکائی ہے۔ ایک د٥‏ ہے۔ اگ چہ پام تفرق اور بہت ز یادوشکلوں می ںآ یا ےلان فی التقیقت ایک می پغام ہے۔ ا کا ایک عائھی نظریہ ہے۔ ہدای تکا ایک موی ف رم ورک ہے۔ تمام صے ایک دوسرے ہے ساتھ مل مطاببقت رھت ہیں۔ اس کے نول جن اللہ ہون ےک ایک علاصت ے۔

کیا بی لوک ق رآ ن پر و ری ںکرتے ؟ 1گر اللہ کے سوائی اورکی طرف سے

ہوتا و ال مل وہ اخلاف پاۓ (النساء ‏ :۸۳)۔

و ےرا 7ر2 ور کعمل طور پآ پک گرفت مآ جائے۔ پل رآ پکو ہچ ہک اس پغام نی ای ک تاب بل قرآن کا ایک تز کنا چا ہے خواہ می ایک لفظظ ہ ایک ا یت ہو بی اگراف جو یا ایک سورت ہو۔ پورے ق رآ فریم درک ےکوئی حصہ الک نہ یی ورش رخ شدومف و مج ککاچیں گے۔آ پ جن معنوں مج ںبھ یجئچیں نہیں مطابقت کے ل جم دی سیاقی دسباقی یں رککر جا جا

خخب مو ں کا مطال ہک تے ہو ئآ پکو ا نککا جز یہہ کے ایک ال٣‏ فک کے ہرلفظ اور ہر ہت ےکو بعد بعد ہککھنا ہہوگا گر ا نکو والپیل ساتھ جوڑ نا نہ بھو لی اسی سے آپ کے سام کیک جا تھوی؟ م گی . پچ راس سو ےکوقرآن کے مجھوئی پنامم کے سیاتی ۱

مس ریے۔ اس کے خی رآ پکا مخ تو ں کا مطال ہآ پکوتتضارکتوں میں نے جا سکتا ہ. ھ7 پ تب حصوں سےقرآن ےی نہ نکی طرف رہنمائی پانے کے ہجاۓ اھیں اپنے نعل نظ رکی جا یمیس اسقعا لکرن ےکینلشی می پڑت ہیں۔ - جس وق تپ ان معاٹ یکو جلاش شک ر ہے ہوں جوآپ کے ز مانے اور عا لات

منطبق ہیں پکوپہرےقر نکگی اپے مطا م لا چا ہے اصورت دگر آپ قرآ نک زی میں اس کا حضیدی جائہ لیے کے بھائے قرآ نکوخصری گھر سے

٢١

مطالد دم مطابق ڈھا ل ےک یعمینٹصطلی کے مرٗکب ہھو سکتے ہیں ۔

در بالا کی رشن یش یہ مناس بنییں سےکہقرآن کے مطالح کا آ از جم کے ذ ری ےکیا جاۓ ۔ جب ت٠‏ ؟ پ نے قرآ نکوکئی دث وو ڑھ یا ہواوراش کے جموگی فرمم ور ککول طور پر :ہبہ یئ ہوں ۔کسی موضو عکوجھم کے ذر بیج ےآ یات ج کر کے کسی موضسو عکوز بر مطالعہ نہ لا ہے ۔ اسےجب بی استعال کی ج بآ پ ابی مطالع دکی اد برہوالو ںکی ضرورر تنسو ںکر میں

چھسارم : رن یآ پ ظا ہرکی طور پر ایک ط رع کا عدم دبا د یھت ہیں اس کے پاوجووقرآن میں ا لی پان ہام اور ربا موجود ے۔ ہرحصہدوسرے جھے سے ہ رآ مت دوسرکی آ یت سے اور ہرسورت دوسریی سورت ے مراوط ہے۔ موضصوعا تکی طاہرکی ْ ٰ تبد بی کے کے یں جوڑ نے والا ایک دھاگا موجود ہے بی وجہ س ےک رسول انڈص٥لی‏ ال علیہ یلم تین وگ کو ہدایت دیے تکس و کوک ما پہ رکھا جائۓ - آ پکو ہہ انددوثی رباجلاش لکن ےک یکوش لکنا جا بے خواہ بک یمکوشش می ںآ پ

اک نی کہ ہوسما ےکہ یپ پ اہب ےکوظاہرکرنے مم طوییی وت نے۔ رانا دا ان ےھ جا کاحب برحص ‏ ام ۃ سا آپ ے ھ4 ْ اہ رکرےگا۔ ٰ

پل ہے

پنجم : 27ھ وہ اور ا ساس و دافیش نے م لک رآ پ عخمیت بنائی ہے قرآ نکوئی اییا بارس لکیں ے صے ذم نکی یدرو ےکھولا جا سے نج لکوگی ایا ٹمو وصن ہےکہ بای لف افایا ٰ

سے

2 ا نکارامعۓ

جائۓ۔قرآ نکی طرف ای تلع سکی طرع نہ جا تیں/ جج بآ پ ال کا مطال کر من انی نفل یا جذ با تس یکوھی ےن جچھوڑیں' دونوںکوس ات ھآ نےدگں۔

رن جو بات ے اس کے

ششم : جوٹرآن] پکو پتاتا سے اسے گت نک دہ جوآ پ ترآ نکو بزاتے ہیں۔ بھی بھی قرآ نکی طرف اس لے نہ جائی کہ اپئی دا ۓے کی تاعی اپ نقطہ نظ کی دق یا اپنے مقر ےکا وت عاص لک یں ۔آپ بیشہکھلہ زین سے جامیں اورخدا- 1 داز لئ اورال کے٤‏ گے م سی خ مر نے کے لیے تیار ہوں۔

من علی.آ ر ٤‏ رصن کے

متم: تر نکا مطالع دکر نے او رن وا نے پ پپیلآ د کیل ہیں ۔آ عیفر سیت ۔ اےنظراندا زی ںکر سیت اس لیے پکوق رآ ن کےقریب اس ور نہ جانا جا -- ٰ کوئی اس سے چیہ اس کے قریب ن گیا ہو اور نہ ابنا راستہ سابقنٴیروں سے با پا بنا چا ہے اییاملوومبھی درس ت کی ہو کتا جورسول اول سی الہ علیہ وم کے فرمان یا آپ کی سنت کے خلاف ہو پا جو أامت کے خلاف ہو۔ اض نل بعن ل کآنے دانے تی ور ے پالک لف ہو یا پیک ال نی اسمال' ھی طور بر “بویا ہونا جاے۔

77 لٰ معیارات سے جک

ہشعم : قرآن پاک دوسر یکمابو ںکی طر نی ہے یہ ہ رفحاظ سے اپ مثال آپ ے۔ ا لگ اپنی ز بان اورمھاورہ سے رز ملق اور استرلال ے اور سب سے بد ےک رمنفردمققید اور ابرور ہے۔ الکو الےے انسالی معیارات سے ککھن لا حاصل بوگا جھ

ا

الو ٠ھ‏

قرآئی ۓ ہوں۔ ا ںکا مقصد ہہ ےک ہرانما نکی ایۓے زا قکی طرف رہنما ‏ یکی جاے اور دا کے ساتھ ایک پالنل سال ما عم کر کے اس مس انتقا لی تبد بی پیلد اکم دگی جاۓ ۔ ہر بات ای متھیرے واہع ے اور ای متلصید ک ےگ ر وھ وی ے۔

اس کے ھا بھممعمرات ہیں :

اس کے معاٹی کےسمندرکی نہکوکی تہہ سے نو یکنارا۔سحماکی کے ایک عام متلائشی کے ل کہ وہ زندگی کی ےگمز ار ے جو معا نی کاٹی ہیں وہ جب ئک جذ نے سے اوریجح طرتتے سے ا لک طرف ؟ ےی نہ تی در ہے میس میں آ سائی سے بج سکم سے۔ ۱

ا لک ز بان ای ےکہ ایک عا مک دی بد سکم ے۔ اس نے وہ الا ظا استعال سے ہیں جو روز مرہ زندگی یش استعال ہوتے ہیں اور عام ہیں۔ بین نا تقایل ہم اصطاحات وش ع کی ںک رت نہ فی ننس ضطن با ا دوصرے علو مکی فی ازع زمان اتعال یکر یت تہ رات حا الما کو ہالئل نئۓ معا ی دا ے۔

نہ تار گی کتاب سے نر سان سکی۔ تد فظفہکی 7 گیا۔ ران

س بکواستعا لکرپی ےئن انما نکوراستت دکھانے کے لیے اس سے

کی عالیہ اضسانی معلوما نکی تقمد لی قرآن ےک رن ےک یکوشش نہ

ھے۔ رمعلومات یں کا مض فہوم انے کے لے رود ینجییں' گ وٹ مک وی کر نے کے لے ان سے بیشہ عدد لی جانتقی ہے۔

قرآ ن کا رز اسندلال انمان کے فطرت' جار ادرخوداپی ات کے جج بات ہنی ہے۔ براپے ضنے دالوں کے لیے ای دنیا سے بک شک رتا ہے ج سکووہ پیا تے یں اور ان مقر مات سے کام لھا سے جی کو وه لی مکرتے ہیں۔ اس می بر متفرد ہے۔ اس رع دہ ان کے ول

سا

لآ نکاراعۃ ددما کور کرتا ہے اورا نکویتد ٹ لکر دیتا ے۔

ران کوٹ رہن سے رگ

ھك9(ُم : رآ نکی مرن اف رخووقرآن ے۔ بظاہر ىا بہت ے الفاظ اور مباص فکیگگرا رکرتا ہے'لیان ب گرا خوائنو انیس ہوئی ۔کصی خاص مفظ یا ب ٹکیگھرار مو سی نے من ہوم پر رشن لق بے ىا سی نے پیلد پر لوجہ مرکوز ری ہے۔ بی معالی یک کی آ پکوگ وشن لکنا جا ہے۔

کسی لف آیت ا کے متائی بے کے لے خودۃ دقرآن کے اندردنکیے _ مشثالی کے مور پر رب الدب عباد ت'کفزاان ذکر جی ےکلیدری الفا کو پ اکر ان مخنلف سیاقی ٹش مطال کر یں جن یں ق ران نے آنھیں اسقعا لکیا ےو ا نکیا مفپوم پہت طور ب رجہ سکتے ہیں۔

حعریث اور سرت سے کے

دم : رسول انڈیص٥لی‏ ال علیہ یلم کےا ہم فرائض مجیں سے ایک قرآ نکی شرع تھا۔ یہااتھوں نے این قول ول سےکیا ۔ ال لے عد یث ویر تکا راس رما یق را نی ک تی زرل رے۔ نر حرف وہ ود ےث کک می فی نات ہیں بللہ تام اعادیٹ مفید ہیں ۔ شال کے طور پر ایمان' جباداور نیہ جیے ضوعات پر اعادیٹ' آرآ نکی ان با کو یکن یں پک ہت ند یں جہاں یم وضوعات مان گے یں۔

ع ری ز مان ےب

یازدھم : قرآن کے لے؟ ‏ پک می کید ز بان ے۔ ا- یٹ رآن کے جم کے لیے یرت پاگک کے ساتھ بنیادیی اہمیت رمصتی ہے۔فھرآن زان سے اپ کو وا 2 زئرہ اور ام ل ٹم بنا سے۔ فعرآن یس جج عمری اتال 1 11

مٌَ‌'

مطالعہ دم

ے۔ ا کی پچ تحصوصیا تآ پ کیم می ہوکی جا میں ۔

اوّل: قرآ نک انداز خطاب تکا ہے خ رکا کی ۔ ایک خطاب جم ببہ تک با تل اس مفرو تھے پ۰ بیان نی لک جا تی کہ براو رات ضنے وانے آھیں خی رک ے بھی بکھنہ ٹم سکوگی وقت سو ںی ںکر یسل گے اس سے ا لک جا خیراور طاقت مل اضافہ وت ے۔ اس یہہ ضنے والے مقر کے الفاظ اور ابے ماحول سے سس راليط یس ہوتے ہیں۔ بہت زیاد و تخصیا تک تق رےکو بے اٹ ہناد چا ہیں ۔جحض ووقت مین بھی اچ اتک تجد یل ہوجاتے ہیں اس ےبھی عبار تک تا شی اضافہ ہوتا ہے۔آ ‏ پکو ان تبدییوں کے لیے کنا ہونا جا بے اورنشی نکر نا چا ےک کو نس سے خاطب ہے۔ سلسلے کظام اک تفع بھی ہو جا جا ہے۔آ ‏ پکوان مق ما کو پپچاننا ہوگا۔

دوم : ینکش سکعرب ذبان اپنے بیان یں بڑئی مغ ہے اکٹ اس میس جوڑنے وانے الفاظط اورگڑ ےنیل ہو تے ۔ اس لیے ابہام ہوتا ہے حرف ہوتا سے اور اسی طرح کی دوسری خصوصیات جن کے بارے مج ںآ پک عقاط در ہنا ہوگا۔ سے آپ انے اساتڑہ - سے پیر یکتابوں سے سیک ستے ہیں ۔

سوم : الفاظہ اورجمملوں کے برا راست لغفوبی می ان الفاظا یا جو ںکو الک سے کن کے لیے کائی کی ہوتے۔آ ‏ پکوقرآن کے مھاور ے اد لی انداز اود اس کے جھوگی مک اضاس اورشعور حا لک رن ہیا نزول وگی ہے وشت کےعرلی ادب ے والثفت بہت زیادہ عددگار ہوک ہے جا ہم ایک مبندی ہون ےکی وھ ےآ پپ کی ا ں تک ,رسای

نہ ہوگی۔ رب قیکار کے لیے بدایات

زرکورہ پالا موی اصصولوں کے فرم ورک میس طر یق کار کے ہوا نے سے جتھ

٥۵

رآ نک رامع الا کا مطالع

ال : سب سے پیل ان الفا ظا کا مفپوم تی نکر ن ےک یکوشش تی نی ںآ پ من کےشھم کے لی ضروری بے ہیں ۔آ پ کے پاس جوت جم اورتشق فی ر ہے ابتا یس آ پکو اس سے رجنمائی ل ےگی۔ وکشنری بھی دنھے لین فوکشری کے معانٰی کناٹ نہ سیگئے ۔ لفتا کا خا0 وسباق بھیشت مجمسوگی قرآن اور ال ں کا نصور بم|اں )۷۸۷۱١۲۱۱۱١ ۷۱۵٢۴۷۷(‏ آ پکا پت رین رہم ہوگا۔

می نکاسیاتی دوم : الفاظط اور ان کے راست لفوی معا لی بھنہ کے بعد قرآلی ج ےکو اس کے من کے سیاق میس پٹ سے اور یہ می ک کیل یی کہ ا کا کیا مطلب سے۔ سائبقہ اور

00 مالعد تے پڑ جھیے اور یکھٹے میں دفقت ہیل آ ربی بہولو بورکی سورت پڑ ے_

جاربی یں نر

سوم: مس فد رضروری اورمتعلقہ جا رکنی معلو مات ماص لکر کت ہوں' جع کر یمان ین طور برممتند ہوں۔ ال جوانے سے آ ‏ پکواڑی اعاد یٹ می ل گی جن اسباب نزو ل کا بیان ہے۔ یآ پکونحتی معلومات وب یگنر ذبن میں تین باتیں ریے: ممکی بیکہ ىہ احادیث ول وگی کے وقت ہے وا کو بھیش نک نرک بیا نکیں ری بللہ ان عالا تکو بیا نکرکی ہیں تن میں ا سکومتلق اور تال اطلا مھا میا بے رفرے ب کہ زول وگی کے حا لے رو زیادہ قتع رف ے جا ری معلوماتے قبول سرتے ہو اسے نظرانداز ندکرنا جا ہے ۔ تیسرے میک ہم نک اہۓ مو دہ عالات جا ا ہوۓ جا رن ی ملوما کو پ ک ےلپ یں ریا وٹ ۱ ہیں نا جا ہے ۔

ا

ٹم مہطالج و ۸

اگل معائی

چہارم: وی معا لی نے کے بعد جا ںکک ہو کے ہہ ھن ہک یکوشش تیج ہراس کے پیلہ ساتین نے ا کا کیا مطل ب مھا تھا۔ لخوبی معانی جاننا ایک آ سا نکام ہوسا نے مین تودہ صربوں نعر دو ے تجلمبی میں منظر ٹس اک ما ی مو مکرنا اک شتل اور ود ہکام ے۔ ان مشاات پہ بن کا ہہ متا مکی نل صر فآ پ کو تاطکرر ہا ہوں۔

۱ یصورت عال سر انطپای

پنجم: آ پکا دوس را کام ىہ ےکن نکواپنی صورت عال کے جوانے سے پڑھییں او ربھییں۔ بھی اتا ہی بڑا ککام سے تنا اصل موا لی کالشتین' خصوص] اگ رآ پ قرآن کے در ہے مطنب کے مھاٹی حلا کر نے کے پچکر می نیس پڑنا چا تج ۔ میلک نکیل س ےک اس جوانے ےنمیر کے مویہ سال پر یہاں بج کی جا نہ یش ا نکو خی را ہم چھتا ہوں۔ ىہ ایک ایا کام سے ےآ پنظراندازنجی ںکر ھت اور نہ بے سے ہیں۔ اگ رآ پ صرف ایک نیدی اصو لکا خالی ریس اور ا کی پا بند کم یی ]شی میہک رفآ نکی طرف ھلے ذ جن سے گنس اوراسل سے وو ہرگز نہ لوا میں جآ پ کے خیال میس درست ہے آپ ا بے پچنروں سے یی وت سان .رھ یگمکن نے تی اوراخلاٹی مال کے جا اٹی زمدکی سے ہے تح رو پےھ کت بس وقت بسن ہوم سے ہہ نس وفت ضرورکی ہو جا سے نے عازاات می قرآن کےت فی مقصید ٠ور‏ اجمیت و کن سے لے؟ ‏ جک لکی اصطلاحات استتعال ىی جاکیں لیکن ہہ ای عدک ک میا جاے سنہ براوراست واشع امصل ما ی برقرارر ہیں اور ائل اصطا عا تم 027-20

ےا

2 نکا راس

ٰ ڈور ازکار اور خلقی موا لی

ششم : : اییے در ازکارمعالی ڈعو نے مس نہپ ئے جو ایک عام؟ دی بھی نہ جھ کے نہ ایے معانی کی طرف جاہیئ جن کا آ پک زندگی سے اور قرآن پہ اشن ائیمائن لان دالو لکی زم گول ےک لی واسیلہ ت ہو-

علم اور ذ پان ت کیا

ہفعم : آپ ک ےلم اود ا ت کا جو ہے ای پر معال یکو جھییں لن اس کے پل اضمی نکی جوعھ یٹ نی ا سکوفظظرانداز نہ یچ ت اک ہآ پکگراہ نہ ہوں۔ ایم نہ ہوک پاقرآکن مم اپنے مفموم پڑ ھن شرو کرد بی۔

موجورہ انال ء2 ہعشسم : اس تقیقت سےمف ری کہ پرٹنص قرآ نب می ا ےعل مکواستال کر ےگا ۔تقیقت مہ ےک ہآپ کے پاس میم ہو نا چابیے تک ہآ پت رآ نی معیارات ے ان مسا لکا تقیدری جائزہ ل ےمم جو مراٹھاا ہے ان پرقہآن سے رہنمائی حاص لکرکیں اورثآ نکواۓ زمائے کے باورے مل پھوگییں۔ میس پچ رکہوں گا 0 علم سے ہرطرئح سے قرآ نکھت میس پرویشس ین ہدعم کی خرن سے اد گنی ہکراتیں۔ ھوجودہ ز مانے سے ھا سائسی التحافا تک ظر ان سے ٹن ںگوئی نک را میں ۔ سائسی نظریات کے بارے میس تصوصا اط رہیں' ا ےک۷ ہ بی رٹیم کا طر بد لے ہیں۔1 ئن سٹائی کو پپنلس'نھے یا برگمما ںکوق رآ ن یں پڑھھنا اتتاىی خلط سے جنتنا ارسطلو' قراط اور افزاطون کو بڑھیا۔

۸

مطالعہ جم

جو1 پ یں سکت

نھسم : بہت سے ابے الفاظ اور بات ہو ںی جو ہرط رع کیکوشش کے پاوچود نپ ئن سکبھگیں گے۔ ایا یی ہوگا کک ہآ پکاع مکاٹی غجیں سے یا مہ زیادہ مل ہیں اڑسی صورتےں شی اپٹی مشکلا تکو ایک تیگ ہلکھ یس اور کے بڑھ جامیں۔ ای پانوں یں این ٹس وفقت نصرف کچ جوی خمائ مر سے پآ پک صلاحیت ے پالا ہوں-

:

سرت ا

قرآ نکو یکن اور جز بک نے کے لیے ؟ ‏ پکو رسول اکرم کے اتا قریب ؟ نا جا بے جقنا آ پآ کت ہیں ۔آ پک حیات طی ہق رآ نکی بر ین تھصوبہ ہے اور ائس کے مفہوم اور پغام کے ےس نز عق رهاے۔ ہے زندہ ٹرآن ہے۔ اگ رآپ فآ نکود بکمنا جات ہیں صرف پڑھنا نیں' تق رسوی الکو دنکھیے جیما کہ سیدہ عا کڈ صدی_یڑنے فرمایا: کسان خلقہ القرآن- آ پ کا لق قرآن تھا۔آ پ قرآ نی میں ابن جریر ٴابن کشیر'کشاف اور راز یک یم نا می رکے مقا بے یس سیرت پا کو زیادہ معاون میں گے۔ رسول سے فرب آ نے کے سے پ کے اقوال ہیی عد مث پڑ ھھیے اور پکی زندگی لف سیر ت کا جقنا مطالعدکر کھت ہوں' میییے۔ دکھمیں م ےک شرآن اگ جوا یتفعیلا ت نل ہیں مین سیر تکا پہتفر ین مان سے ۔ دوسرے ب کہ نت رصو کی چیرو یک یکوشش یی ۔ اس طرح ہپ انی ]شی قرآ نک و بھییں کے _

مر یلم ہک : ْ

”حم اش سےعحب تکرو کے اور انڈم سے محب تک ےگاٴ'(آل عمران -)۳۰٣:٣۳‏

٦

اتا گی مطالدہ

ابمیت اورصحرورت

مقر نکی بج می ضردری ےک ہآ بپعن کے مت دای ووسرے افراو کے مرا ش کیک سفربن جا میں۔ یذ ضرورکی ےک ہآ پ انفرادٹی طرییے پق رآن مجی رکا مطالعہ کرت رہیں' لین جب ؟ پ ق رآ ن کے مفہوم اورمطال بک حلائش اور ہوک نے وا لے دوسرے ال ایماان کے سا تم لک اجا گی مطا لع کر تے ہیں وپ کے استفادے کے رات دگے ہو جاے ہیں۔ اتھا گی مطاسے میں دل ود ما کی توت اغز بڑھ ما ی 31 اور وہ زیادہ 5 طرتے سے موم اور مطال بکو اٹ یگرفت ےک ہے تی جن طرع جابھی رفافت شش آپ قرآن کے زم سامہ زئدگی ھکر تے ہیں اسی طرع با بھی رفات میں ق رآ ن کے تقا نے پور ےۓکرنے کا مرل .بھی آ سا ی سے سے ہو جاتا ے۔ اس طرع عل چا ہونے اور تا تھے پور ےک نے سے ؟ پآ نکی رکتوں سے موی طرح مستفید ہو کت ہیں اورھم ق رن کے ورواز ےبھی زیاد گل جات ہیں

ٹرآ ن کا قعحاطب تصوصیت کے ساتھ اجتا عحیت یا جماعت سے ہے۔ ن ھی ارم 7 اللہ علیہ ولم نے نول وگی کے ساتھ ہی اک ایی اعت اخ مر ن ےک یکوگش رو غکر و یھی جس کا رکز اورجورق رآن ہو ابی حیات طو ہکا ہ رح ہآ ب نے اس مقصید

٣۱

ہے سے ۱

نکا رامع

کے لیے صر فک دیا۔اقراء کےمعم کےساتھ میم فانِْر (اٹھواورڈرا2) کاع مکی ُ نازل ہوا۔اسی رع جہاں بیع نازل ہوا: اے نیا ءنکھارے در بکیکتاب شی سے جو ٰ پجھھھم پر وگ کیا گیا ےا لک حلاد کرو( پڑحواور پھیلا5)(الکھف ۸) و اس

سے اگگی آ یت میں ب عم نازل ہوا: اور اب و لکو ان لوگو ںکی معیت رمضم نکرو جو . ر بک رضا کے طل ب گار کر وشمام ا سے پکارتے ہیں اوران سے ہرگ جا نہ چر(الکھف ۲۱۸:۱۸)۔ ْ

شر نکی ایت 7 اور مو انداز شآ نکی حلاوت اور ایک مد وم رم لوط گروہ(محاشجر٥)‏ قان مر نے کے درمیان دب یا قاظ مک دجی ہیں

کوئی نزماز رق رآ ن بد عم ل نہیں ہوثی' او رکوئی نماز بلاعذ رشریی اخیر بماعت کے ادا نک رن ےک کید یگئی ے۔نماز یف رن یرے ھن ےکا کیا ناتدہ جب ا کو نرسنا جائۓے نہ ھا جاۓ اور نہ ال پور کیا جائے؟ ظا ہر ہ ےکم باجماحت نماز یش حلاوت ق ران اجا یلیم ق رآ ن کا موںع ہے اور اس طرح ق رآ نٹٹھی کا مقصد ون می پا مرحہاہتا شی طربیقہ سے حا لکیا جا تا ہے۔

قرٴنکی کو تکوسارے انسا فو تک پان کا تقا ضا بھی یی مطال ہکرت سے کہق رآ نکو اجشما گی طور پر پڑھا جاۓ او ر ھا جا ے۔ لفظظ ”او ت'' جب ٣”‏ کے ساتھ بولا جا تا سے نو اس کا مطلب ہوتا ہے: سنانا چا نا نن رکرنا اشماعع تکرنا۔ رن می رکی حلاو تکرنا وت ہے بیادیی متقاصہد ییں شال ے اور ای لے امت مہ ہے متقاصد یس تھی شال ےب 7

ای رع ٹرآن یر پالواسط ہے براعت دتا ےکہ ا ںکوگھروں اور مُائراؤوںل ٹ پڑھاجاۓ سفر مایا گیا: نکی بیو لوا ادرک ان کی آ بات اورحکس تکی ان بات ںکو جو تھار ےگھروں می سالی جا ی ہیں (الاحزاب ۰:۳۳٤۳)۔‏

جولوک اس نے جع ہو تے ہی ںکق رآ نکی حلاد تک می اور ال ںکا مطال کر ل' را

اج گی مطالد

" دہ مبارک ہیں ان پہ ائل کے فر نے ال کی رعمت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔ ئی صلی ائلد علیہ یلم نے فرمایاے: جب مھ لوک اللد کےگھروں میس جع ہوتے ہیں' ق رآ ن می کی حلا و تکر نے ۱ اور ا لکو ایک دوسرے کے ساتحبم لک پڑ نے اور بڑھانے کے لیے ان پر . مرکت نازل ہوئی ے رت ا نکوگجیرے میں نے لیقی سے فرجتے ان پرسایہ کرت ہیں اور الد اپ یتفل میں ا نکا ڈک رک رتا ے۔(مسلم )- ا لیے رآ کو تھا ہوک رملمشن ہونا جا ہے بللہ دصرے ملا شیان تق یکو کر کے اجھا گی طور برسعاد تکا بیکام ا نجامد یما چا ہے۔

ایشا گی مطاے سے رت اجشا گی مطاے کے دوطر یئ ہہو سک ہیں :

-١‏ جب ایک شتھمر اگ روہ ایک جرح ہوکر اس طرح نک مطال ہکرت ےک ۷ر شریک اس مطاىے یں سرگری سے حصہ نے۔ اس میں لیت لف ے زیادو صاحس یمم ہوتے ہیں او رگوئی ایک زیادہعلم والا فردا نکی رہنما یرتا ہے۔ اس یکو علقہ یا علق مطال ہیں گے_ ٰ

نچ جب ایک ٹوٹ یا ہڈاگردہ ایک مجع ہوتا سے اوری صاح بممکا درس سنا ہے۔ اس میش سائین صرف سوالا کر سکتے ہیں ا کو م در ق رآ نکہیں گے _

پکومعلوم ہونا چاہیےکہ علق کس طرح چلایا جات ے اور ور ںگی یا یک طر ح کی ما یٰ ے۔ یہاں ہم صر فگموئی بدایات پ رکنش وکر می گے بجھی داع رہ ےکہ اس کام کے لیے نہکوگیممیشن معیار ہوسا سے اور کول یمن ط ریت ہکار ۔محذلف افراد اپنا

اض انداز اور نمائصل طر یقہکار اتارک سیت ہیں_

درخ ذیل ہدایات دراصل اشارات ہیں ج کو سو حالات اور اپ استعراد

۲۳۴

حر نکا رات

کے مطابق افقیا کیا جا کنا ے۔

چار نیادی ضا بط

-۳۲

ایج گی مطا سے کے لیے عیار بذیادی ضا بیط ضروری ہیں : علقہ یں خشرکت یا در لک ذمہ دارگی کا حن اداککر نے کے لیے پپوری طرح تیارکی کنا جا ہے۔ سرسریی نظر ڈال لین سے تیر ی یں ہولی۔ تیار کھرن کو1 خی لیے کک مو کر تے لے جانا بھی درس ت نکی ۔ یہ غل نک ینیل بہوٹی جا ےہ نیت نظ ڈالے سے سب بچھھ یادآ جا ۓ گا ۔ق رآ ن کےمتال یکوکی بات ور ور سے بغیر زبان سے کیل الف جا ہے۔زیادہ مناسب طر یقہ بی ےکہ اس سے میں آپ نے جو مطالح ہکیا ہے او رآ پ جو یئ ھکہنا چا تے ہیں ا سے نو فک نیل ۔

آپ خواہ مدکی ہوں یا صاح بمعم آپ در دے ر سے ہوں ی عفقہ یس ش کرت گر رے ہوں' بر رلی فآ پ اج طور را نتحو لک مطائد ضرو رک لی توعلقہ ‏ در لک موضور ہوں _

پییشہ اپپی یت الع رھ مین ب ےک مقصدقرآ نک ما سے اور اس کے مطاب مل کنا ہے اور بر سب اس لی کہ اد تا لی رائصی و جاۓ۔

اما گی مطال تفع کے لج یا ھی جات جیا نکر نے کے لے یا بجنٹ وکگھرار کے لی ےکیں ہونا جا ہے ۔ مطال رآ نکا نیہ اتباغ ق رآ نکی ۴ل یس ام بہونا ص ہے اور اش دو تکو پچھیاا ن ےک یگ ن بش پدرا نا سے جوٹ رآ ن .یئ قارل ے کے :

۔ 7 _ے۔

علق مطائح

انز

دررج زل رجنما خطوط اب گی مطا لے حکوموٹر بزا سک یں :

انا گی موائد ۔

شرکا کی تعدا۱٣‏ جا ۰ا ہون چا ہیے۔ ا نکی علھی و ڈان یس یش بہت زیادہ قاوت ٹہ ہو ۔کوئی بھی کم ہوت یہ مکالمہ بن جا ےگا کول بھی نز ز یادہ ہولی و ہرش ری ککی سرک رم شرکت متا ہوگی۔

زور پھیشہ پغاعم سیاقی وسباقی اور جو چھے یق اود رہنمائی حاص لکی جا ححتی سے اس 4رر جن جا ہے ۔ ان باریک لات مس پرگز نہ اک جن کاضنبقی زندگی سےکوق تل 29

سب ش کو ایے مقاصد عدوداورطر بی کار ےگل طور پرآ گا و ہونا جا بے۔ سب ش رک اکو ان کام سے ضصروری والگی ہوا چا اور ے۔اضصای ہونا چا ےکلہ اس کے لے وقت تہ اورحنت مطلوب وی _

سب رکا کومعلوم ہونا ا ہیک قرآن کے ذربیے ابا راستنٴس ضر حا - کک میں۔(ائ کا بکا مطالہ اس کے لے مفید ہوسکتا سے )

ش مک اکو ایک دوسرے کے لے اٹ یکی طرع نییں بل ہق رآ ن پر ایمان کے مشترک رش میس بند ھے ہوئے بھائیو ںکی رح ہونا چا ہے جو اس کا ہم وص لکرنے اوران کی یروگ یکر نے کا پقت زم رکھتے ہیں۔ ٰ

علق مطال ہکس ط رع چلایا جاۓے

سب سے پیل ایک ہش کیک ابنا حاصل مطالعہ جن لک ے۔

اس کے بعد دوصرے جج رکا کو شال ہوکر مز یت رح مج ت رن مک ریا سوالا ت انٹھانا اور جواب فرا ہ مکر نا جا ہیے۔

اکر سب شش رکاکو مطا لع کر نا سے نو آ پ بے و 7 و اس ےی یکٹ کا معیار ہت ہوگا۔ دوس رىی صورت ہہ ہ وت ےک مین وقت بی

۵

هو

ان ّاراہ۔ّے

علقہ سے مطالہ ٹیش مر نے کے ےکہیں' اس صورت میں نیس وکنا ٰ ر ےگا او رمحن تک ےگا

28-۰ بات پیش مفید ہو یک ش۷ یل سے ایک زیادہ الم اور ماخ کک ر گے والا ا ٹس جوکی یاخخامی رہگئی ے دہ اے دورائنع پھث ڈو رک رکا کے گنو کے انداز اود ر غکویشی نک رسک ے۔

۵- اگ رکوئی شش ریک ق رآ ن کا اچھاعم رکتا ہے نو دہ آغاز یں براخلت ندکرے اسے چاہ کش رکا جو پل ےکہنا چاے ہیں آھھیں کینے دے اور پھر اگر و ملظ یکر میں تو ش اض ے ال نک املار کر دے یا ان کلم ٹس اضاذہکرے۔ اکا رو لوج دلاانے وا لے او رسای انھا نے دا لے فردکا ہونا چا ہے ن کہ بج ٹک نے وا لک ۔

-٦‏ اخظام پٗکاشرک رہ ر ےک گگران ما استاد )کو بییشہ ز رمطالعہ حص ہکا گھوئی ام سمارے موضوعات اور لکی دقو تکواختقمار ے میا نک نا جا ہے۔

در سک تاری اما عی در کے لے مندرجہ ذ ہل ہدایات معاون ثابت ہو ںگی:

ا۔ سب سے پیل انی نکی نوعیت اور استتعداد کےتحلق جع اندازہ لگا نا چاہیے۔ ان کاعل ا نکیںم وفراست' ا نکا درج ایھان' ان کے کرات اور پر یٹایاں اوران کی خواہشات وضروریا تگیا ہیں؟

۰٢۔‏ پھر سای نکوساسے رک ھکرموزو ںآ یا تکا اتا بکر نا جیا ہے ۔ الما نہ ؛ ھک ہآآپ

ْ کے پاس چندآ یا تک تیاری موجود ے اس ا سکو ٹچ یکر ویا' سھم7 این کے عالات اور تا قوںل سے ہو یا شہ ہو-

۳- ای طرم زبان' طرز با نا نار بیان مج بھی سای نکالا ظاضروررکنا چا ہے ۔

۴۔ اللہ تا ٰیٰ سے دھا بھی کک کہ وہ آ پکوق فی بن ےک قرہژن کاچ مفبوم ٰ

اجا گی مطالم

پیش اودا سے سانمیکن کے سان بیا نک رکمں۔ پل آیات کا مطالعہ یہ اورفوشش تار یھی ۔ یسپ ےک ہآ پکرنا کیا جات ہیل" پورامضھو نکس ترحیب سے پٹ یکرنا جات ہیں' آغا زس طر کر سں ے اور اخ ام کے ہوگا؟ ْ

وشت کا را فاظ رکیے۔ لے شرہ وشت ے زیادہ ہرز گے نہ بڑ یے ترا,آپ کے مین یس کت تی قائل نر لات موجود ہوں او رآ پکو یں ٹپ کر نا شو بھی ہو۔آپ کے ذن مل ىہ بات فا جاہب کہ سان“تون کے یاد رن ےکی

۱ صلاحِت رود ہوٹی ے۔ دہآپ کےعلم وفل کے بدا تو ین جاکمیں گر

آپ سے زیادہ میں گ یں طول ص ےاتقرے وقت میس یھی یا نکیا ماس ے او رشتھمرۓے ےکوطو یل

وت یش بھی ىہ سب ا بات حر ےک آپ زے درل آیات سے درقفیقت سام نکوسنا نکیا جات ہیں۔ ے- آ یں درک کا پا دا الفاظ یش سجن کے سان یی کر د تی جاک وہ

ان کے ذہنوں می سفوظط رہۓے اور وہ ال پرفورکرتے رہیں۔ ال نام کاتعلقی آ ات ز بر درس کے م رکز می ممون سے ہن چا ہے۔

دریسں دی ےکا ظر لقہ

در دے ہو نے صرف دو مقاصد نل نظ رہونۓے انیل :

الف۔ انل کا کلام انل کے بندو کو سنا نے سے عصرف انل دکی رضا فصو ہو_

ب۔ ٹرآ نکا پخام وا اناز شش اورمٗڑ زبان یس یں ہونا جا ہے۔

بات پبیشہ پیل نظ رر ےک بےصرف الا ی ے ہات٠ھ‏ ٹل ےکہ دہ ت رآ ن کا پغامآ پک زیان ۵9ھ کے ول ددمارأٹش اجاردے من الد تھاٹی کے

۲

رآ نکارامۃع

ٰ سات ھت یکی اس مبرت ےآ پک اپنی می ذمہ دار گنیس ہو جا ی ک ہآ پ

کاحقہ جیا ری کر میں اور بہت رین ریگ ے داکں ود ےک یکوش کر میں ۔ق رہن کے پیا مکوزخدہ اورک پا م کے طور پجی یکر سس اور خا مکاتلق وقت کے 00ئ0" می جاک ا سک ابھیت واج ہو۔

رز ادا کی جا شی رکا انتھمار اس پ رکیل ےک ہآ پ کا بیان فصاحت و بااغت کے

7 معیا رکا حال ٭ ۔ سدرھے سادے انراز سو مان سے و زیادہ م79 ہوگا۔ ال امت آ پک خیت اور پک تار یی ے۔

ن۵-

۸

2 این کے سا سئے سا رگ آ یا تکی حلا و تکر میی' رت جم سنا نمی رتش رح د تیر انکر ۔ یا تکو دوبارہ بڑ کرت رم کبس یا ری یا لہ ایک تر ید بیا نکر دمیں'چلر ایک ای کآ ی تک اترم کرت جامیں--۔ جقنا وق تآ پ

سے با ای کے پیش نظ رپ اہے ل ےکوئی طریقہ افقیارکر کت ہیں۔ اکر

وق ححنظمر ہو تام آ یات کا آاز یل یس جا و تکرن بھی ضروری نہیں _ ہے وقت اض نکی نوج مب و لکرانے اور ا نکوڈپنی طور بر تیارکر نے بی صر فک ی یک کیا چنزان کے سا ےی ںکی جانے دای ے۔

ارک ایک آ یت لی یا چنآ بات الٹھی' یسے اہیں تر جم او رتش رت بیا نک ی- ص٥‏ جز ہہ ہ ےک ہآ پ کے بیان سے سان پر ہہ بات وا ہو جالی ا ےک بے مرلوط مان ے اور ای کآ یت سے دوسرکی آ ی تکامضھون پیا ہد با ہے ۔ اظام بر خلاصہ اور منج ضرور ج یکر نا جا ہیے۔ اگر وققت ال ہو لو م۲ یا تک دوبارہ پڑ ھکر ا نکا ترجہ سنانا بھی مفید ہوسکتا ہے۔ اس طرع ق رآ نکی آیات کے تر تے سے دری ں کا رىط سانعیان کے ذ بین میں ماز ہ ہو جات ےگا۔

آپ انا بیان : نہ ٹپ یکر ق ر1 نکی آ یا خود بولیس ۔اقیر سے مغ ربھی ق ہآ ن بڑ یت شی ررکھتا کے نمائصس طور پ ائل ز بان کے لیے یی یی میس ا پٹ یآ را وضرورت

ا)ا گی مطالد

سے (یادہ وا ل کرت درال خر نکو ہو لے ے روک دے کے مترارف ہسے۔ بھی بھی تشربوں کا فقصان نیہ ہےکہسائع ا زج رع مم لکم ہو جاجا ہے اور

آیات کے مطلب پر ا لک نوج کیل رہتی اس لے تش رع مق رہو۔ جہاں ضروری

بھ جاۓ دہال اکر بیان طو ہلل ہب گگی باد بادآ یت دہراکر اس سے رپا قائ رکھنا ضروری ے۔کوفش یہ یک ہق رآن اور امن کے ذبنوں ے ورمیان فاصلذد پراو۔ رن کےتھونے اور انواز > اپچا درس ٹپ یکر ن ےک یکونش یی ۔کامیالی کا 7 سب سے کہم رطربقہ ےا از ٹس بتھ دشوار یعحسوں ہوگی گر نو راہآ سان ہو جات ےکیا۔ اس کے لے ضرددرگا ‏ ےکبق رآ نکو باد بار بڑھاجاے'اسل کے ضے از ب بے جا میں اوراں کے اسلوب میا نکوجذ ‏ بکیا جا ۓ -

قر لی اسلوب کے در ذ ہیل تال 4 پکومعلوم ہونے ہیا تی : (الف)پدل وداً 'ععفل اور جن بات لان یکل انسا نعکوخطا بکرتا ے- ) اس کا تقاط بتخی ہے براہ راست ے“ تر ے اور ال می ککری ایل اور وگو ٹل ال الّڑے۔ (ج) ا لکی زبان اور با ن بھی اتتا ھی زور دار ے تنا ا ںکا پا زوردار ے۔ ۔دعادل ا7ا نراز ہوا ے۔ (ر) ا لے رزنل دا سے جو سا نشین 1 سالی ےکچ ویگیں۔ یدلال روز مکی ۱ زمدگی اور مشارے سے فرا مم بے جاتے ہیں۔ ہے زود4شٹم گت 8یں۔ مر تر یدی پامضعنی نیس ہوتے۔ تج بدکی انداز نہ اخقیار یئ نہ فلفہ بن اکر پیٹ کے بک ہق رآ نکی دقو تکو زنر ود مرک بنا کر یی یچ ۔ قرآن کا پغام پان یئم اورکسی قد رتصورات کا مال بی ضردری ہے۔ اس کے لیے عا ہم زبان استوال یچ کہ بش بے

۲

ق رآ نکاراع

ے۔ لکی دقوت د بنا تججد ید عپ دکرانا“عمز م فو پید اکم نا آپ کے در کا لا زی حصہ

۲ ہونا جا ہے تار کا ذکر ہو یا مظاہرفطر تکا ت کر ؛کوئی امرونی ہو یاکوگی بیان

اود مکا یہ ہر عالی یش درس پیش کر نے“ اطاعح تکرنے او رگ لکرنے پر

ابھارنے ا سان ران

قرآن سے اپ ےن رات نہ بآ دک میں بکگہ اہ ےنظریات قرآن کے تائن بنا میں ۔

میان ایا پک نت ئن کے ول میں آ7 جائے۔ ت رآ نکی رر وت اور

عبت دلوں شڈل پیرا ۶× جاۓ ۔ اجنان منری اورشکرگزاری کے بات دل ٹش

موجن ہوں۔ درس میں ان متا صدکا تصمول جن لنظرر ہنا جا ہے۔

سائین کے رہل پربھی توجہ د نے رجنا چا ہے ۔ ان کے ری لک رین جس اپپی

ان ضر پاش اکوگی نمی بات[ سک ضرورت ہٗ جیا عالا ت کا نقاضا ہووہ_

کرنا جا ہے۔ 81111+ صاحب در سکواپنا نفروطر یکر طرز بیان اور الوب بیان پید ا /: چا ہیے۔

قر نکی پروی ٰ

اگ رپ پپیلہ ہی لے سے اس خدا کے ؟ کے کال پر دی یش اپنے اندرتبد لی لا اور اپٹی زندگ یکی تی رف کنا شور ن کروی نٹ نے ؟ پکوفرآن دیا ہے فو قرآن بڑھے ےا پکو بس تکھوڑ | ارہ ہرگ“ پ‌ کے حصے میں لقصان اور پر یٹانی گآ علق ےت مل 2 لے فقوت ارادی او رپ ث ہولو قق بک لیفیات' رو ں گی وصر 1 فر بی اویلم میں اضانے ےآ پکوکوگی فاندہ نہ ہوگا۔ اگ رقرآ نآ پ کے اعمال پ ےکوی اٹ نہ ڈانے اور پ اس کے اہکاما تک اطاعت شہکر بس اور جو ووٰشعٌکرتا ہے اس سے رز و پچ رب ےآ پافرآن کے قری بکیل ہور ے۔

قرن کے پر مفے بر رلیرٹ مر نے اطاع تکر نع لک نے اورتبد بی مانے کی وکوت ے۔ جوا ےلیم تک میں ھی فر نلم اور فاس کہا گیا ے(المائدہ ۰۰۵ ۴۴)۔ من لوگو ںکوادش دک یمکتیاب دب یگئی سے کین دہ ہا ںکو بت یں ندال >4 لکرتے ہیں اآحھیں ال ےگد ھے قر ار دیامگیاجھ بو چھ لاادے ہو ہی ںگکر جو اھ لادرے ہو ہیں ند ا ںکو جا تن ہیں ناس سے فائمدہ اٹھاتے میں (الجمعہ ۵:۹۰۳۷)۔

۳١

را نکاراعۃ

ید دہ لگ ہیں جن کے خلاف اللد کے رسولی قیامت کے روز فیا کر مس گے: اے میرے رب میرک اٹوم نے اس ق رآ نکو نو اندا زکردہ نز بنالیا تھا(الفرقان _)٦۰:٢۵‏ شر نکوتر کر د ینا ایک طرف رکود ینا ا کا مطلب ے ا سکونہ پڑھن در ھن نہ اس کے مطابی زندکی از ارا۔ ا ںکو ایک قصہ پار ین چھنا ج٢‏ کا ا بکولی کام میں راے۔ رسول الڑص٥‏ ی انل علیہ وم نے رآ نکیا پیردئ پ زوردۓ سکولی 7 کی جچھوڑھی۔آ پ نے ھزمایا: می ری امت سے بہت سے منافی قرآن ڑم والوں مُل ے ہوں گے_

(احمد) ووٹفص قررآن کا مان دالاگییں ہے جھ اس کےت7ام سے ہو ےکوعطا لبھتا ے۔(ترمذی)

رآ نکی عطاد کرو کت جھ پھ ووٹز مک رح ے اس سے رگ صگو۔ اکر سے ھی اس قائل نہ ہا ےک تم رک جا ق تم نے ا سک جفققی معنوں میں لاو تک لک ے۔(طبرانی)

“حا ہکرام کے لیےقرآن سی ےکا مطلب' اس سکو پڑ ھن اس وروگ رکرنا اور اس

مل کر "تا تھا۔-روایت ےک

جولوک ران رح میں مشفول جے جاتے ہی لک اع اہین عفان او رکپ ال بن مسعود بیس لول جب ایک دفعہ رسولی سے ویں 1 یات سک لیت ےو جب تک انآ یات می یلم اور٠ل‏ کے جوانے سے جو کھ ہوتا تھا 'اسے واقق نہیں سیل لیے تھے 1 گے نہیں بڑھے تے۔دہکہاکرتے ےک انھوں نے ق رن اور علم ایک ساتھسیکھا ہے ۔ اس طرع لن وفت دو صرف ایک سورت یھ یش فی بریس صر فکرتے تے(سیو طی: الاتقان فی علوم القرآن

نین بر کچ ہیں: ”نم نے را تکو اون ف کچھ لیا سے جس برتم قرآن سے

ار

قرآن کے مطائق زن

فلف مراصل ےگمزرنے کے لے سوا ری یکمرتے ہو تم سے پیل وانے لوک اسے ایے الک کے پغامات کھت تھے ۔را تکو اس ب نوروگ رکرتے تے اوردن ال کے مطا لی گمزارتۓ ت'_(احیاءُ العلوم)

قرآن کے مطاسے ےآ پ کے دل بی ایمان پیدرا ہونا چا پیے ۔ اس ایمان کے مطا ق1 پکی زند یکوڈھلتا چا ہیے۔ بیکوئی جھ رسکی مرعد دارم ل کیل ہے جس مج ںآ پ پل کن میس قرآن پڑ ھن ملا پھر اے مکننہ میں پھر ایمان مضبو کر نے میں صرف کک میں۔ اور پچھ راس کے بعد اس پیش لکر یں ج بآ پکظام لی خلت ہیں یا حلاوت کرت ہیں آپ کے اندرایمان 1 چنگاری رشن ہو جالی ہے۔ جب اندر ایمان داٹل ہو جانا ہے آ پک زندگی برفی شرورغ و جانیٰ ے۔ جھ بات آ پکو یادرصی جا ہے وہ نے ےک ران کے مطانی زندگ یگمز ار کا سب سے ز(یادہ بنیادی نقاضا ےآ آ پ ایل ڑا فیصلہکر یں۔ دوصرے جو رجگ یکر رے ہوںل' معانشرے کے مطالیات رھ بھی ہوں' ؟پ کے1 س پا کوئی بھی افکار ذااب ہو پکو ابی زن گی کا راس تل لور پرتبدی لکن ہوتا ہے۔ مہ فیصل یق بانیاں چا بنا ہے ۔ مان اگ رآ پ رآ نکو خدا کا کلام لی مر کے اس پر ایمان لاک چچھلانگ لگا لن ےکو تار نہ ہوں فآ پ جو وقت قرآن کے ساتوصر فکررے ہیں' ا سک اکوکی ابچھا خی سما ےکی ں؟ٴ نے گا۔

پیل قدم پز پیل ہی سے ىہ پالصئل وا حکر دیا میا ےک ہق رآن صرف ان لوگوں کے لے ہدایت سے جو دا کی عرصی کے خلاف زن دک یگ ارنے کے نمقصانا تاور ا کی ٰ ناراصی مول لیے سے نین کے ل ہم لکن ےکوتیار ہیں اور جو ضا رکھتے ہیں سی ضتی ٢ں‏ (البقرہ۵-۱:۲)۔

رن علم اورل حیسوعییسسشست زاصلشلی می ںکرتا۔ ٰ

سس

قرآئی مش نک یتیل 37 کے مطا لی زمدگ یگمز ار نے کا ایک ضروری اور ام تضے ہے ےک اج اردکرد کے لوگو ںککک ا کا پغام پنیا نہیں ۔ الد کے رسول پر یسے ہی بی دی نازل ہوئی

آپ نے اسےگوا مک بایان کے شلی ما مکا ا سا سک رلیا۔ دوس رکا وگی ُمْفائیر) .۰.

۶ لیے ہو کی بل رمتحددمقامات پر رسولی پر ہوا کیالگیا ہق نکو پہچیان' اے سنا نا اور ال سک یتنشرج جک ربا 1 پ کا او لین فر یش اور پک زندگ یکائشن ے (الانعام ۹۲ االفرقان 1۱:۲۵ الانعام ۱۰۵:٦‏ المائدہ ٦2:۵‏ ٴمریم۹ا:ے۹ٴالاعراف 2 رر). اب آپ کے چچردکاد ہونے اور ال دک کاب کے عائل ون ےکی حیثیت بی نس ہادے کرد ہے۔ ہمارے پا حرآن ہونے کا تقاضا ےک بھم اسے این اور دوسروں تک پا میں قرران سے کم مطلب ےک اسے سنا تھی ۔ بی اسے ری انا یت پہ وا کر چا بے اود جانا چا بے اور چھ اکڑل رکھنا چا بی ۔ ان اہ ليِکما بکو دہ عب دی یاددلاٗ جو الللد نے ان سے لیا تھا ک ھی ںکراب گی نلیا کو لوگوں یس پھیلا نا ہوگا' آنھیں پشیدہ رکھنانییں ہوگا گگر اکھوں ن ےکا بکو میں پشت ڈال دیا اورکھوڑی تشجت پر اسے ٹچ ڈالا ۔کتا برا کادو ہار ہے جو پہکررسے ہیں (آل عمران ۳:ك۱۸)۔- اکپ کے ققلب ٹیش اور پاتھ می لکوگی جچ اغ ہے نے ا لکی رش یکین ی جا بے یب ۴رپ کے ائدرکوئی آ گ گی سے ا سک تچ شپھیلقی جا ہے۔ جو عارشی در نیاوی ۱ متقاصد کے نے اییای لکرتے وہ درتقیاقت اپنے پیٹ آ گ سےگھرر ہے سے ہیں۔ تق بے ےک جولگ ان اکا مک چھپاتے ہیں جوال نے انکتاب می نازل کے یں او رتھوڑے ے دیاوی ناآروں پر ایس بجینٹ ٹ ہاے ہیں وہ و راگ اچا

اد

رن کے طالق زندل

پت سے گج رر سے ہیں۔ قیامت کے رو ال مل ان ے بات نے گان یس پاکیز وتھہرا ۓگا۔ وہ ا کی لت کے سمخ ہوں کے:

جو لوک جماری ناز لکی وی ریشن خلا تکو چھپاتے ہیں درآں عا لےکہ

م آھھیں سب انسافو ںکی رہتمائی کے لیے اپ یکتاب جس بیا نک ہچ ہیں

لن جان کہ اش رت ان براعن کرت سے اور تما گنت کر نے وا گی ان 7

لعن کے ہٍں (البقرہ ۹:۳۲٦۱)۔‏ ٰ

اہتہ جو اس روش سے با ز1 جاتمیں اور اہۓ طرزگ لکی اصلا کر لی اور جو

بپچھ چھیاتے تھے اسے بیا نکر نکیا ا نکو مل محا فکر دو لگا (القرہ

۹۴)۔ ٰ

من گر دواسی عاللت م ریف ان رسب کے سب لعضت کر سس کے۔

جن لوگوں تن ےکف رکا روہ اخقیا رکیا او رکف ری عالت یں بی جان دک ان > ال

فزشتوں اورسب انا نو ںکی لعنت ے (الیقرہ -)۱٦۱:١‏

ایشا نکی طر ف نظ یں ڈا لی ےگا:

رے دولوک جواشد کے جب اور اپ ی نمو ںکوکھوڑی قبجت پر یچ ڈالے ہیں تو ان

کے لیے رت میسکولی ت یں ے۔ الشد قیامت کے روز ان سے با تکردے

گا نا نکی طرف دیج ےگا اور نہ ایل پا کک ےگا (آل عمران ۳:ےے

اب اپنے آپ پرلظرڈالیے 1 ج کل کےمسلمانو ںکو دنھے ۔ ال حقیقت کے

باوج دکہدن رات لاکھوں افراوش رآ نکی حلاد تک تے ہیں اس سے جمارے عالات یل کوئی فریکمیں بڑتا۔ یا فو اسے ہم پڑت ہیں اور یھت کیں ہیں ما اکر ھت ہیں نو اسے تتلی ریہ کرت پا دس برض لی ںکرتے یا اگر ہم اس پہلم لکرتے ہیں فو ہم ا کا ایک صلی کرت ہیں اور ایک مستردکرتے میں یا ٹس ودقت ہم اسے پٹ نے بی اور ال 75 ایک حص مم لکر نے یس مصروف ہیں و ہم اسے ھا ن ےکا اور اس 71 ری نا

۳٢

7 ن کا راع

تک نہ ماپچانے کے بدت ین جم مکا اکا بک د سے ہیں- ان مس ینس ان پڑھ ہیں ج کاب ال یمکوصرف اپکیآ رز وو کا جوم خیال کزتے ہیں اوریس دہم وممان پر گے جار ہے ہیں ۔ نچ بلاکت اورتجای ے ان لوگوں کے لیے جو اپنے پاتھوں سے ش ربج تی فکرتے ہیں۔ پھرلوکوں سے کت یی یک ہہ الد کے بای سےآ یا ے تاکمہ انس کے ورے ےٹھوڑی کی قبت عح اص لکرلل (الیقرہ ۸:۲ء۔۹ء)۔

۱ وکیا م کاب کے ایک صے پ۰ ایمان لاتے و اور دوصرے جصے کے سرا تم ھکر کرت ہو۔ پھرتم یں سے چولوک ال اک بس ا نکیا زا اس کے سوا کیا ےک دناکی زندگی می مل وخوار ہوکرر پل اور رت مس شد ید تر مین عذ ا بک رف پچھیبردہے جا ٠ں‏ (البقرہ ۸۵:۳)۔

ہمارے ذبنوں یس ذذہ برارشپ کیل ہونا چا ےک ج ب کک ۴م قرآن کےگواہ

ہون ےکی سب سے اہم ذ مہ دارگی ادائنی لکر میں گے جم پر ا کا عائل ہہونے اور ا سے پڑ ھن ےکی وجرے؟ لی ے“ ھم رآ ن کا عق پرگز ادانی بر سکتے۔ بے عزمی ‏ ذلت دخحقیر اور یں ماندگی ج ہمارے صے مممںآکی سے صرف اس دو ےکی وج ےآ لی سے مم ران کے ساتھ اود جومشین الس نے ہما رے سپ ردکیا ہے اس کے سا ر کے ہو ئے ہیں ۔ الل تھا ی اس خرآن ےینس تقو مو ںکوز وال عطا کرجا ے او رینف ضکوعرورع_ کاش اتھوں نے رات اور اك اور ان دوسری اہو ںکو ما مکیا ۶ ج ران( کے ر بک طرف سے ان کے پا ںگمب یگئی میں ۔ ایہاکرتے فو ان کے لیے ادوپ سے رز برستا اور یت ے اب (المائدہ -)٦٦:۵‏ ہم قرآن کے بارے می ںکتما ىی اع ٰعلی معیار حاص لکری' ہم قرآن سےعمل و معا ی یگھے اور در یا شتتکر نے میں اں وفقت کت ککا میا بکیں ہو سے کا بھم رآ نکی اطاعت تک بکی۔

٦

قرآن کے مطائق زمگی

رسولی نے اپنے صحاڑے فر مایا:”'خم لوکوں میس اہیے لوک ہوں گ ےکہ ج ب تم

ای نمازو کا ا نک نمازوں سے اپینے روزو لکا ان کے روزوںل سے اچئئے اچے ا عمال

کا ان کے ائیٹھے اعمای سے متقا ہل کرو سسھیں اہ اعمال پہ تک تروس ہوں گے ۔ وہ شرآن پٹ تج ہوں گےئمن ران ےکک سے سی ےکی اضر ےگا (بخحار گ)۔-

ہت تتلی واطاعت قرآن کے تی مش نک یتیل کے لیے ہیا سکامغیو م یکن کی

بھی ٹن یکلید ہے۔ چچرفۃئ یبر نے سے اےے معاٹی سان ےک1 تے ہی ںچتھیں کل تو رر

تھے نون ا -ص7ء7 70 نک مشا کر نے 7 ہیں ۔سیدمودودی کے بادگار

00 -1م)

کی نگم رآ نکی ان ساریی ‏ سدمیدںل کچ یاو ود ا 1 یی تر نکی ژُوں‌ ے

پرکی ط رع آشناکیش ہو نے پا تاج بک کک ملا وہ کام نکرے جس کے لیے

قرآن آیاے۔ رگ لنظریات اور خالا تک اکا بل ےکآ پآرام

کسی پر بی ےھکر اسے پڑھیسں اود ا لک ساد بات لبتھ جا نہیں مہ ڈنیا کے

عا مود نم ہب کے مطابی یک برک فا کاب جگ کیل ہ ےکہ حدر سے اور

خانقاہ یش اس کے سارے رممو زع لکر لیے جاخیں--۔ یہ ایک وکوت اور

ری کک کاب ے۔ اس نے تی اک امش طؿ اود کیک تباداننان

کوگوشہءعمزلت سے کا لکر دا سے پکھرىی ہو گی دنیا کے مقا لے میں لاکھٹرا

کیا۔ ال کے خلاف ال ے؟ واز ا ٹوا ی اور وقت ےم ردارا نکفر شی

وضلاات سے ال سکولڑا دیا ٤ح‏ مگھ سے ایک ایک سعید روج اور پاکینز ہل سکو

صیخ کن کر ماکی اود دای جن کے جن ے ے ان س بکو اکٹھا کیا گو نے

وھ سے ایک ایک فقنہ جو اور فباد برو کوک کا کر اُٹھایا اور عامیا ین گے

ا نکی جن کک رای ۔ ایک فرد واح دکی پکار سے انا کام شرو کر کے خلافت

الہ کے قیا مک پور ےنیس سال بجی تاب ا ل نیم الا ن تھی ککی

مہ

مرا نکارامۃ

۳۸

رہنمائ یک رک ی ری' اورئخ وم اط کی اس طول و جاںگس لمقشل کے وورانی یش ایک ایک منزل او رایک ایک مر سے پ ای نے تیب کے ڈنک اورھیر س5سج

اب بھلا ےکی ےلکن ہ ےک ہآ پ صرے سے فز ا کرد دن او رم رکہ ۶ اسلام د ایت کے میدران میل فدمىی تر“ اور ا "فک شک کسی منزل نے گز رن ےکا پکوانفاقی بی نُا ہواور لن قرآن کے الفاظ بڑھ بڑ ےکر ا نکی سار نمچ ؟پ کے سان بے نقاب ہو جایں۔ اسے ذ کور طرعآپ أی وش تبجھ کھت ہیں جب اسے ل ےکر یں اور دگوت لی اللہ کا کا ممشرو کر رس اودچن پش طط ری ےکتاب بدایت دیق جاۓ اس طرح تدم أٹھاتے لے جا یں ۔خب دہ سار ےگ بات پکو پیٹ 1 تیں کے جو نزول فھرآن کے وفقت یآ ۓ تے۔ لہ اورعیش اور طا کی فکی منزلی س بھی

آپ دگھیں ے اور پرر و أُُد خے لےکرشتین او رو تک کے ممراعل بھی آپ کے ساست آ میں گے۔ اہویجہل اور الوب سےبھ یآ پکوواسطہ پڑے

1 مزانقن اور یہو دبھی آ ‏ پکومیل ھے اور سا ین ان سے نے ہو آف اناو بک بھی طرع کے انساٹی ضھونے ہب دک بھی لیس کے اور بر ت بھی یس گے۔ مر ایک اود ان مک سوک ہے ج سکو میں ع لوک قرآنی “تا وں۔ ا سو کک ان بیہ ہ کال کیا جس جس منزل سے آ7 پگ رتے جا ہیں گے قرآ نکی یتآ یں اورسورس خود سای کک رآ پک بتائی لی اہی ںک یکمدہ ای منزگل میس أت تھی اور یہ ہدایت نےکر آئیتھیں ۔ ال

وت پیا معن ےک ہلت اورخو اور معالٰی اور یان حر ۶ مہ سے کیہ رہ جا تی لین بین ننیں ےک قرآن