حا الاحادیث اق > چشتم
7و مضہ ما زحضرت یم رج اخ رصاحب ےر الم ٹرۂ خلفہ مماز حطر بت حضرت مولانا رظ الرماں ال ہآبادی خلفہ میا زٗروب العلا ءحضرت مواا نا پورزوالنتاراتشنری
امام سوا نا حافظ رر زین اشرف نروی
جم لیتتوق مجن ناش تفوظط ہیں_ نا مکاب لات رس ججمہ جا الاحادیث القرس* جشتم ری ٹم ۹۷۱ |٢٣ رین وت ۹ حضرتہ انا مضتی نین اشرف تا ھی مالعا ی
اث ابرائڈیم لاک ربرکیء ماودعو اور سلطانپورہ بنا مکی ء بہار پاجمام ھافڈاجھررزین اشرف ندوی
ناشاعت اڑل ٠: رق الال ے٣٣۱( جوری ۳۰۱۹ء) تعراداشاعت ٭ہ٭ہ٭ا
صضفات : ۷× (جلمم)
بت
کپییٹرکپوزنگ دسرددقی ٠: مس رکگر اس لان 9595031666
یہ ہہ سے کے نے ٠ جح جیب اتشرف من عیاش نبین اشرف ای عینور بلڈنکء ردگی۔ 00971507157431 ,0097143550426 ٭ ہدارا لعارف الہآباد ُ یآباد
٠ ابا میم لان مکی مادعو پر سلطان لع سینا ھی (بہار) ٭ مو ن اشن اشرف کی مو پنل : 9934453995
دار٤ دنو الکن ءماومو ور سلطان پورہ پسٹ ھاہ رشع ینا ڑنحیء بہار ٭ حافظٹھررزین اشرف ندوی ٣ پل :09370187569
1ء زم اور نز دڈیی ای راغ یھگ رکون واء ہن- ۳۸
عیس نار
ى کم حر تمرم فی اح یقن مکی او علیہ یلم 2020وی ت واحوال اور تق مرکو عدبیث کے ہیں۔
اورتخرت لا جب الثژرتث العرت ےکن روایت جو ال تا ی آپے ےا کو بز ری ااہام یا خواب یا بوا سط“ جبرنل عطا فر مایا ءچھرا ےآ پ اپیے الفاظ ومعالیٰ یس جات صھا کرام ری الد تھا ی مہم این کے نی بین فرماٗیں فو وہ عدیٹ قری ات
آپ کے ہاتھوں جات قد کی جیوجلدوں جس سے بی نی او رآ خری جم ران ھی مارک وس حودعد یو ںکا ڈول بہا بھوھ ے۔ جارخ یں حریہٹ ا٢۹ ۱۵۰۲ بئخ بج وکشر ہمیں ہیں۔
الس لکتاب جا الاحادیت القدسی ین میم ہلدوں میں وار ار پان لراثء قاجرہ سے شائحع ہوئی ہے۔ ان جن جلدوں شسگیارہسو پا احاد بیقر سی یٹ یک گنی ہیں ۔کتاب کے مولف اپنے عحصر کے بڑے حرثہ عا مکی ر اود احادیت قدسیہ پہ وت ظ کے حائل علا مہاب ود الین مخصام الد صبالشی مصریی ہیں-
علا مکی ا لکنا بکو رتوصیت ماصل ےکہ ابی می ککی تما مطبو احاد یٹ نر سیہان جلدوں میس مع ہیں ۔ ار تھا لی جا کو جمزائۓ خی رعطا فرمائے ۔
۳٣
اعادبیثہ فرسی ہکا یہ ذترہ ا بتک ع ری زبان میس تھا أُردوکا داصن ام میم سرماۓے سے ناف تھا با براے نام میموٹی موی چن دک ڑیںگھیں جو اص خاص م وضو برع کی ہیں۔
براو رکم مت مو انا مفتی شرشنین اشرف ای حخظہ ارلر ٹنیس احاد ید قد سی سے یی رمک تشخف ےکی نظ انتاب علامہ صبالٹی کے اس ا اش پہ بی اورانھوں نے فجلیات فد سی کے نام سے السا شست لفن تر جم اور د یک یھو جانے والی بللرمو لن والی تر کی ےکہ پٹ نے والا ت ات ر بای می شنوط زان ہوتا چلا جا نا ے او راس پر اسرار از اط ا ہیں۔ یز براد یتر م کا اعادییثہ فرسیہ پر میہ پہلا کا مکیں سے بل موصو کی مک یکنا بح مل میدوکی بای کے نام سے ایرا میم لا رسکی ما ویو پور بشلحع تا ڑکھیء بہار سے شالم ہوکر مقبول اش و عام ہوچگی ہے 2 ےچ ”الاحافات السشییۃ فی الاحادیٹ القرسی گی مان ڑاے و ھ۶ ال رات ہن شس۸۷۴ حرشس ہیں۔ اعادجیث ٹدسیہ ردصدراجا ح کام لمات فد سے کے نام تپ کے سا نے موجودے۔
احادیث تر سیہ بر نضرتصفتی صاحب فظہ الد تر لاب انفحاتِ قدسیہٴ 72 تر ے'الاحادیث القدسیک2 لجنة المجلس الاعلی شون الامسلامیة مصر کی زیرکگرالی :ان مر بی متتعددعلما ۓگرا مک یکاؤش سے ےش ہود یلو وگر ہو تھی ماشاء اراس ماب پرکام بڑکی تی زکی سے جار ے۔ انشاء 7ب رز ےآرائوبل۔ کواندازہ ہوجات ےگ اکہصاح کاب نے ا کاب بپرکس فدددماغ سوزی او رحنتِ شما تی ہوگی ۔اس می کوٹ مبال کی کہ جوکا مآ کل ایک اکیڈری اور ادا ہکرتا ہے وہ کا صرف| ک9 الد کیل اودا سک فو شی سے بین ہوا۔
ك
بات فد سی کیکنمایتہ بروف ر ]نگ اور ا سکوظاہری وممنوی طور بایان شمان بنا کا کام اپڑنے یس بندة نا کے زم را چتمام ہوا ۔ گر چہ پا بتةرائی م رس ےکا ککام 7 میں ہہوا تھا کاب معیار یکا یز خوبصورت سرورق اورمخبو ما جللد کے سا ھجم پکر آپ کے ہانتھوں یں ہے۔ اشدتھالی اس خدم تکوقجو لف رماے۔
ملک و رو نکی نا مور د گیء مر اصلاق اور روعا ی تحفہات نے کاب اور صاح کاب پراپنے جاثرات سے جو ھا بے پ اندروٹی صصفحیات پر ا یکا مطالعہ کریں ۔ططوالت کےخوف سے ان م رات کو ہم 089 +0 نز بنلد وی قارین سےگز ایل ہ ےک رع متیجم جھ ہرجللد بش شائل 0ھ" بڑھھیں_
قارین سے یہ بات پوشید نیس ہوک یک عاشقی احاد رش سی ہکی کچھ یکئی مفیر کتاٹیں منظرعام بر ھی ہیں جن میں نوصایا اخمیاء و اولیاء انسائیکلوپیڑ یا کی جار جلدلء ”اجکام ومسا :”علا مات ایمالن اور قرآن وعد بیت یں جن براعن تک یگئی ہے ماس طور بر نقائل ذکر ہیں ضرورت ےک ال کاو ں کا مطالع ہکا جاۓ اور ال بددئی اور بے دٹی ما طور سے اباحیت کے ز مانے میں اصلاب عال کے لیے ا نکنمابو ںکی طرف متوجہ ہوا 7ئس 85ھ
یجان وتعا ی ے ودما ےک دو ححترت شمارح حفظہ اید تھا لی کی عمرممیں کر عاثزیت دو رحمت نازل فرمائے۔ تام معاومین ومہاءرن اف مولوںی سی رآ صف تار موں نے بڑےشوی وزول ےتا بک زین و ک میں ہناد ےک تاد ا کو جنزاۓ تج رع ط اکر ےآ مین !
+٢) 71 ۰ 0201021 روز پیر ےار اگست ۳۰۱۵ء ڑم لاناحافظ )شھررزین انرف دی ۳*۴ زعزم ٹاو کون واء ٹہ ماد قرآن وسنت دار العلوم ظا میس وفیہ نے
۵
۰
ہرسہت
تے۔ ۶ار عافنشھررز بین انشرف ند وی
2م مھت شھ ین اشرف ای کتاب الفضائل
آہے:؟ انی دای ول رفک شارت خات لی ےا رعول ال نکی خان اتیازی
صداقتک نار خا الین ےٹاک یآ رگم ہ وکیا
امت کے لیے رسول ارڈ اٹاک یکوابی وشبادرت
انا ہم اصلوۃ والسلام کے لیے شہادت وگواہی
مت کےاعمال رسول الل چے کے ساتے ہر وشام ٹیش ہوتے ہیں رسول ارد ےکی اص صفات
دای اورقو مکی شال
نات الین با کےساتح نتم امم پرالند تال یکانضل وکرم تضمور کی ز بان مارک اوردول مارک
حماتاففی ےا
ور ےکا نوراور جراخ کا رشن
می لحیات الٰی بلق نگ وکرن ےک طربقہ
قب رکامفپو ق رن وحد ی کی رہن میس
الم کت ہیں؟ ق رآ نکی ردکنی میں
جنوں ال مو ںکی موت وحیات می فری
لزا
مودت الد تھے
حیات الروں
جمدرالفی لاق حیات لی الروضت البارك<
بروالی حا کےخلف نام
۲۴۲۴۔۔ 0ے ۔ -_-۔ ۲۴۔ ۸۔-۔ --۲٢ ٢۲-۔- ١۔ روی.ے ۴۳۳.۔_ ۷ 2
۵۔ ٦-۔ ع۳۔ ۸۔ وت 6اک
۔١
ری. ۳۔ ۲)۔ 9۵۔ ٦-۔
۔٥ے
7
وٹ لیف دیے والے براعنت
لی ک1 جبھی تضور چ کونکیف دیے ہیں تموراکرم کی خوشبوم ارک
عمبرایڈر بن سلام لندکی صداقت وشہادت رسول للا سورٗ اخلائ شنمون ہن حیداورشر کک تر د یکا نے ایر رسول ال لاف جا عکمالات رتا ی کےمونہ ہیں باب :علامات وت
عاامات اوت و شوابیرساللت
در شی ےکی یی ںکوکئی مرف مرف دی ہوٹی
بی رححت اکا عندرارشدمقام دمرعہ
رسول اللد چا او رآ پکی مم تکا اتا ےک فو علیہ السلا مکی من رسال تکی
فرار رین می 2۹۰
اہ تک صراقت پر رسول اللہ چےناکی شہادت
کر وو
امت کے دن شہادت و کے لیے جب أم تآ تئے نو ور گا گے ام تکورسول اڈ پا کی مت حا 2
باب: انل درودوسلام
حش درودوسلام اورنزول مت ورشوان
گی س رہ رسول ال ول پردرودورجم ت تیج ر0
موم نکیا نتعای سے درخوامستتکر نا
ورودوص لوت علی ای واجب سے پا مس جب
آ شر قعدہ میں درود بڑھنا ایک دددد یں نی ء دس رححتء و خطا معاف دی درے بلند درووشرلی فک مشروکیت
ہک وس ۔_۔
ے۵ ۵۸ ا٦ ۳٣ ٦ ۸ ۹ ے اے ٢ے
ے٣
3
ے
۵ے ٦ے ٦ے ۹ے ۸۰ ۸۰ ۸ ۸۱ ۸۳۲۳ ۸۲۳ ۸۳ ۸۳ ۸۵
نیل وعجی بک فرق
درو داع موی نکو ے
جن تحاٹی نے رسول اللہ ہے کو سمان پہ جلاک رسلا مکیا
وس درجا تکی بلندکیء دس نیو ںکااکھھا جانا اور و گنا ہو کا مٹایا جانا رسول اللہ لن بر دروونز و سا ای ورم٥ت ے
درودشریف کے پارے میں نز انہکی اطلا
آ وم علیہ السلا مکا م چا کے وسیلہ سے دعاء ما کنا
صلوۃ لٰسی پا کا مطلب
الله لعل محمد مت
باب :آم الا سے جساغزشل ہوٹی نے مر پل کے وسیلہ سے دعا عزی ان کاو بلا إلله الا الله مُحمّد رَسُوُلُ اللہ
ال ےرت نے ححقرت موی الکو ایک روز کا رک کہا
شش کےسامہ یل جک جا تے ہہوفے یم پر ریم باپ اور ویو دکورتوں پر پان شوہرکی رح ہوجا
باب : اتکی ! مھ خلا برا یمان لاے
اےعنمی اھ چا برایمان لا ئے... عرش پالی تھا
اہاں عطافر ائیں متا ندرن جن وصداق تکوقبو لک نے وا ل ےکھیں رٹ الھا یجان سے رسول ال پچ کا سوال دز شیم کے سیننو مارک می شال یکاخ ہ1ل ر ہا تھا اہ ری و پاضفیخناء تسرینمت و وَجُدک عَايَلا فََضٰی ادن اپنے نام کےسا تد رسول الد لاف کے نا کو بلن دکیا تھا لی نے رسول الل ا کے نا مکو بلندفرمایا ۸
رقعت ذک رام ٹین چا
بلدریٗ کرک مطلب
باب:فضال خاتم اشمیین ا
ری امام الا نمیا ہم ااصلاج والسلام
اتی ںآ مان پرنو رکا ف رشن ور ےنت بر ٹیا تھا رسول الد ےچ کےصلبء کن ارري”ر دای دوز مغ ےے جات رسول اد پچ کے والممدین
اص ظا اڑل وآخراورشاح شنح ہیں
اول وخ یئ ا
رسول اللد یلا کا نسن دو جمال عرل کےٹور سے جیارے ش سک نام حم ہہوگا ا سکودوز رخ کیاعر اب شہہوگا
ہرکمت ونچات دالا نام
ا دش لا نا مکی برلت سے نا نم سےآنزادی شب مع راج میس رسول اللد ایض تا لی ےقریت خاقم تین عق ء فا اسلام اور خاتم ش لیعت
میڈ سب کی تیقت ۱
نت مل دریا
2ت7
نت کا پا لی
جنت کا دودءشثراب :ہر
نت کے نہروںکا ظام
ون ء نون ءفرات اورتحل
ای تزین جن کی دعا ماگو
رسول انلم چک وتضورتن سےگوناگوں الطاف وعنا بات ےلواز گیا اور
رب ط رب کے بشارات سے مس رو دک یاگیا پاب : حفرت ا برا تیم علیہ العلا مکی فضیلت ۹
۰۳
۳ ۵ ےا ےا ۸ ۸ ١۹ ١۹ ۳۴ ۳۴
ا
ے۹۔
سب سے پیلے رت ابر تیم علیہ السلا کو جن تکالباس عطا کیا جا ت کا
بجی عمش کے دا نی رف ھ جا ہوں کے
اأولبات ابرا تیم علیالسلام
ءء۶۷۷۶
کر کی ال کی طر ف بت
قیامت کے ین انسا نکی بی ےب یکا منظر
ححضرت ابر ڈیم علی السلا مکوچشتقی حلّہ
عرش رین کے دا نی طرف رسول الد جااہوں گے
ابراڈیم علیہ السلام نے سب سے چیم۲ ہما نکی ضیف تک ء خقندکیا اود با لکی
سفیریق و“
سفیید با لکا اترام تی کا ار نے سے اح راز یچ
سیاددکا نے خضا بکاعم
ححفرت ابر یم علیرالسلا مکی اود ان ےکی حکست
حرت ابرا ڈیم علیہ السلا ام۱ الپ یتیل یں مرعت وجلری یل کی یت ان رش لتت
باب :نخرت اسحاق علیہ السلا مکی فضیلت
اسحاقی علیرالسلا مکی فدراحیتء رٹ اعت کے لیے
ححضرت داد بلتاناگی بارگا دو رٹ انت شی دعا اورا سکا جواب آز مکش کے بعدنح تی ے
باب :ت۶ز مرعلیرالسلا مکی فضیلت
گناہ اننا ہہ یکرو جقننا ع اب سن ےکی سکت ہو
حفر تک ز علیہ السلا مکو یا رخ مور نٹ بحت
پاب : نخرت انس علیرالسلا مکی فضیلت
قا مایا و ل ہماسا کت مور ہیں
رت لس القلن؟ک یآ ز رائنشل
قرھانداز یکا م
۲۲
سر ہا ۵ ۵ ۵ ۲ ۲
2ر ع۲ ےل ےل ۳ ۳ ۳١ ۳١ ۳١ ض۳۳ ض۳۳ ۳۳٣ ك٦ ك۳ ۳
۲۸
انا شیہم السلا مکامقام
تج کی برکت
ھی کے پیٹ سے باہ رآ نا
شی کے نے شر تک رت
کیا انییاءک کسی لفن کا بیا نکرنا چانتے ے؟ انضلییت ا نمیا کا مل
تخر بین الا مالسلا مکی ھمالمعت اعلام لاسشنی چززوں ےش عکرتا سے
باب : متا رحم تک فخیلت
خر مت پراللہ یا ککافل سے مت چان دوسرکی اُمتوں کے ما لے میس
لت فر ا لت تن
مسلمانوں کے روج کے پاریچ وسال واض لی میں
پاب :اممت کے سلسلہ یں خموی ںآ متند بای رسول ال ےکن لکرس ےکا وعدہ
یل ادرک یککمانددعاء
یسا شر دعا ءکا سلیقہ
صلا ںولاب ک وو بزیادی اصول
اولا دی معاگی راحت
تن تھالی قا در طاابء اورگیم ہیں
جن تال یکی جااب سےأم تکااکرام واعمزاز اوسر شگر ستر ہنرا رخ رصاب اور ہر برار کے سات ستر ہنرارچکی خی رصاب
0 4 گچِھظ ",ھ2 ۱
۲۸ کت کت ۴ ۴ ۴ ۴۳۴ ۴۳۴( م۴۳( م۴۳( م۴۳۴( ۵ 2ر ے ۸ گا ۰ ۵ ۳" ۳" ۳" ٔ۳" ۳" ر۸7۸ ے۵
٥ًٛ۸
تک ل ھی ارڈدہ مشکدات سے نحبا تک کید سے
قرب الی الیکا لط ربق بددی ے
رسول الد یلا کا عی٤ طول اوردعا
بنرد سب عالتقول سے زیادہ1 دہ می ای دتحاکی سے نزدیک ہہوتا ے یرہ اورفو لیت دعاء
پاپ : تام تی کاٹ یگیس
خاتم ال رین ےتنام اخویاءاورا نکی تی ولا یکس ستر بنرار اقب رصاب جمنت میں جانے والو ں کا عق رہ لو حر اب :ا ےکی !شی سآپ کے بعد ایک امت لاے والا ہوں تم توق گل مجرداےعلم لم سے حطاکریں گے فقت پر ا ترانااورمصییبت پکھ رانا شیھوٗ اما ن یں
اب: اژدتھالی نے میرے لجے زڈ نک لپیٹ دیا
مت قیام تک کآ یں میں اڑ ےکی
ور یڈ کومشرقی ومضرب دکھطا ایا
دعاء خماتم لیبن لا
صرح وی فزا نکی جن گوئی
رعدل ال ےکی ایک دعا رک 7
تر کے و 2“ ور براہ
تکوار وا لپ نہ ہوگی
تہ ار ادکی بش لگولی
کا خلبہغیامت تک ر ےکا
تپھوئے وک اب نبو تکا دوگ یکر نے وا ل ےکی اطلا جع لیصفت وفضیلت
محر ماقم الرسل اور خاتم الین بی پ
قادبانو ںکائریفات اوران رد
۰ ,ر ٭٭ پے سس ۔ م نلم وت ے
آپ چک خاتم تین ہونا آخرزمانہمی سی یہ کے نزول کے مناٹی نہیں وت کےمطہو مک ین بی نکی اور بروزی نبو تک اییاد
آ نے والی ام تک ہدای تک اتظام
نمو نکی تام یفخم ہوگئیں
قادباٹی کے۷ نکزتکنوانات
مرش وت کا فر سے
۔ نخانہہتگی دق لک کوک
وسمتساعطن تکی یی ںکوئی
خاقم ٹین چاکی نبوت قطعیت کے ساتھثابت سے گھوئے مدعمیالن نبوت اوررکن دوک ومتا مظہور
فضیلت امت ھ ا اورٹمول شہادت با رگا ورٹ الحنت
ممیت کےق می تین پڑد یک یکوائی برمخفرت ہوچاٹی سے
می تکی خی یاں بی میا نکرو یتکور تج ےتک ری بسکردو 7 کر نک رات فو کرت ےج کی رت مات ین کل ہگ کی شہاد ت کا عندال دنت رر تک فیاضی وستاری نو دکھو اب : معدرین عد نا نکی تعداد جب ایس ہوئی مت حم ت کا مقام خاش نز مرولٹی کی مت مرور مت کےگنا وک ضلیردائیش می ہوجاٹی سے زاورمیں مرح تکا تارف اور ٹور ام تکڑٹھوڈ ےل پیٹ دکی رضاحاصل ہوگی تار انسانی تکا ا چھادور ام تکالہ پا ککا سلام اورعئر انرام
ك۳
68۔ َللهمَ انت السّلام ینک السلامْ کاحمت ۲
2ے ات ررقت پر نکی وت مکی رمتعام ۲۰ -۳٢ مت٠رحعت کےگمنا ہو ںکوخل ای سے چچھپایا جات گا 2 ٢۔ تام اخمیاء سے پییلے می جا اورقام امتوں سے لے مت حر ا جنت ۲۲ جا ۓگی ٣ رسول الد کے سا تسا تھا فکی فن رر وعقزات ۳ ٢۔ اللتھالی می چا کےساتھیو ںکیضل وشرف سےنواز ےگا ۳ ۵۔ بدرین صا رضوان اریہ اتی نکی فضلیت ٢ _-٦٢٦ ال کے وشن سے وق مخت دوک وی سے ےا٢ ےك۹- کاخروں ے وو تا لعلقات نہ و ۲۱۸ ۸ ۔ کافرایک دوسرے کے ودوست ہیں ۹ ۹٥۔ کا رو ںکا دوست اسلا مکا وشن ے ۹ ۶٣۔ منافقو ںکی د لکی بیاری ۲۲٤ 7 اسلا مک ابراورمنا فقو کی رسوائی قریب سے ۲٢ _-٢٣ الام قائم ر ےگا ۲٢ ٣٢٣٥۔-_ سب سے بے فتہ ارنرادکا انہراد ۲۲۲ ۳۔ آ نکی صورتال 1 ۵٥۵۔-۔ ت2۳1ا ین :کن او نان رن ۲۲۲۳ -۔ حخرتعباد نز کی فضیلت س1 ےا٢۔ تمالا تک تیر ۲۳ ۸۔ ابئل در یگموئی مخفرے "۲
۹۔ جنت کے ہردروازے سے فرش دائل ہوک رج نکوسلا مک یں گے وہ "۲۲ “22ھ702 ۳۹ ۔ تی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی ۲۲۵
٣۔ جمنت کے ہردروازے ےسلام ۲۲۵ ۲٣۔ نتقراءمہا جی نکی فخیلت 16
77 ۷۳۲۔ _-٥۵ _-٦ _-٣٤ے _-۸ _-٥۹ ۔۲٢ 7۳ -۳٣ -٣۳٣ -۳٣ -٥۵ 7 _-٢ك _-۸ _-۶٥6۹ -۔٣٣۴ ۔۲٢ا -٥٣ -۳ -۲۳ _-٥۵ 0 ۓ7۔ _-۸
اہین کااعزاز
من کا ا عزاز
بینکا نام الد تھا ی نے طاپ: رکھا
فضائل مد بیدمنذرہیلی صاجہا الف الف ےص لوق وسلام ٣ن وعال
مر سیر سطیوں کا اکالتۃ الشرکیسردارے ھ بینضیبردارالا مان ے
یھ شکلد سے مبھر سے
دارالا برا ر( نگیو ں کاگ٣ح م)
ایمان مم بینرمیں سے
رب ےتاناظ پت ظز
رین ال رعول ےچ کےشوی یس سوار یکو تی زفر ماد تے 0 لا وا ےکی تضور شا عت فرمانیس کے مر ثھش(ورہ کے ا ربیل شفاء سے
وع یینرمیں وفات با گا وہ خیامت کے دن الکن والوں سے ہہوگا بین ہگناہو ںکودڑھو ےکی لہ سے
ای مھ بینکوا یت د نے پرلمصنت اوراعما لکی عد م جو لیت ممیت الرسول ولا نی کرٹ ۱
بیطہ یا کک غبارکوڑھ سے شفا عو ے
فضائل سنوی شریف
مو نوک یس چچا شس نمازو کا اب
رسول ال چا کومقام ار تکاس نکا اغخزیارد بای تھا
نمیا ہم السلام اہ ش اعت کے پایفد ہو تے ہیں عال خی بک یکو بینات کےئیں
الہ پا ککی ہشیت ومرتض یکول از وی انیائچھینجیس جاتے ٹن ماد کے سفرکی فضیلت عہ رنہ شی مس نیو ا کی نوس
۲۲۴ ۲۶۸ گا ۲ ۲۴ ۲۳ ۲۳ ۲۳۲ ۲۳۲ 02 ۲۳۳ ۲۳۴۴ ۲۳۴ فک ۲۵ ۲۵ ۲۵ ۲۳ ۲۳ ۲۲۸ ۲۲۸ ۲
>٦
: م۲۳۳ ۲۲۵ ۲۲۸
۹۔_ ۵۰۔
اطان ٢-۔
مرا
نیدی پےا کیو اوران عحپاس دا عبات الو ن کا مکان تیم بیت امقدی کا قرار
ال عراقی کے لیے پدد اکر ن ےکی انت
شمام ایدنتعا یکا ند یدہ تخب شبرومقام ے
مک شام جہاں بتک ظا ہر دباطفی بیس ودج تک گی ہیں ایک شمام الیل کے نما بندو ں کا خز اضر ے
تنک شام حایس ابدا لکاشہرے
شب مح راج اسلا مکا نٹ اف شخوں نے ملک شام میں نص بکیا
مودالاسلامم ےکیا مرادے؟
قبیل اسلم وخفارکی نضلیت
عسقلا نکی فخیلت
شر بی بی لی کے بعد شفاف وسفیر
شھرٹی اورغر یسنرک فلیت
ازس تک کزے اتال یکی پندید نہیں مساجد ہیں مرو ںک یی رنیم رع ساور تن مسیدرو ںکی ان وشوکت اورز ہعت بد لو کے سا تج بر میں شہآئۓ بن بل مب کی عحب تکاراسنہ فضال مساجدر عورن ںکی مہ رین مساجد مساچر کے پررہآ داب انا ہم ااصل 2 والسلا مکی بنائی ہوی ری دوکام جومسماجدرمیش نا جات ہیں ٦
صھ/رتے ۵-۔ ٦ے۔ ےے٤۔ ۸-۔ ۹۔_ ۸۰۶۔
۸۔-
۸۲-_ ۳-۔_ - ۵-۔_ ٦ہ-_ ے٥۔ ۸۔_ ۹-۔_
۔٠۰۶
۲۹۱۔
۹۳۔ ۳٣۳-۔ ۲۳۲۴۔
۵۔ ٦۔_ ے۲۹۔ ۸۔
ینک وا اتک
گھرسے جب مود کے لیے پکئے ویو ںکہ یس
مقر ررش دعاءمخفر کر تے ہیں
0 0
رچال اورالشد کے بنڑرے
پازارٹیش ذکر الد او رما زکی فضلت
عہیرسمالت کے دکانداروتا یھ
پازاراورعامگز رگا ہوں کس ےکت ول وصرود
بی ترام ہے
برنظری خیطا نکا ز ہرآلودتیرے
عو ریش راستہ کےا یک طرف ہوک یں
سو لاک رعورن ںکا باہ رڈنا
گا ہدکی خنت وحصصت اور پای
آنکموں اور تھو کا زنا
عديیث ٹیل دوس را مکف الا یکا ے
رات کا یسرانی سے لا کا جواب دینا
رات کا چوتھاد یا نوا لتق ہے اھ پالمعروف او رٹ یمن اھر
ترالہقاع مساجد ہیں
ابی لہ مسا جد ہیں
صا آسمانع کے ستتارے
قیامت کے دن سب سے پبیے رسول الد پےگوگوانٹھایا جا گا پھر
پا تیب غانا جو راشمدینع ری الیل شہم ای٠ نکو
سب سے پی لے ز مین سےا ٹھایا جا کا
ور ےنم ےاگھی ہو خر
مظام درتبہ بلندا اوک رصدلل جلہ
حضرت ابو ردق طول اورا نکی شاان رضا یلیم ےا
_-٣۳
مین الوبکر وھریشی ال ہما ےعحبت ضات نا رکا سبب ہوا جع ک را یو و
حضر تی دی سید المرب ہیں
مرک عحب تک وجہ ےی ان سے محبت رکھو
تین جقت کے ان اقال
0 جت کے ہمان اجیئھے لوک ہوں گے
نین ری ارڈ ٹنم جن تکی ز بت ہوں گے حطر تسین ذ کا قصاص ستر ہنرار ےل مایا حضرت نکر یا علیالسلا مکا ا٢ش
رت معاوبہ لدکی فضلیت
ملائکة اللہ کی نضلیت وکشت
ادا یآ مکون تھا ٰی نے دوٰوں ما نک ممتوں ےواڑا
رت جنت لےگرکیاککریں گے ودون ای نآ دم کے لیے سے الاک نے بالو انا نکواپے دست قدرت سے پیاکیا رطق
نت ناک ےاولا وا ون سے
٠ کت کر
۳۰۶۰
علان ۓکرا مک مخجاب الد ارام علا مت شر ىہ لاک ینیم الشان فضیلت
ملا ءکی شائن انتا زی یجن بل مج وکی عطا
کو
اب علم دعلا رون بل مبر ہک یی انعام جن تھالیعلیم ہیںعلم وا نےکودوست رت ہیں
۸
۵ گس ٦ ے۸ ے۸ ۸ ۸۰۸ ۸۸ ۸۰۸ ۹ ۹ ۹ ۰" ۰ ۰" ۲ ۲۲ ۲۳ ۲۳ ۲)۳ ۲۰۲۴ ۲۰۲۴ ۵ ۲٦ ے۲۹ ے۲۹
۵٣۔ عوام جن می بھی عا ءکرا مکی تاج ہی _-٦۱ عالما ورام پہ نت بی الہام بارئی تا یٰ رسک 'ہہاجروعا لم کے لکی قد رومنزلت _-٣ علق کی بذیادرے ۹۔ علاءکی فضیلت خبت سے ے ٣٢۲٣۔ لماح پاش لکامقام ۳۳۱ ۔ علاءاخمیاء کےعلوم کے وارث ہیں ۳٣ ال یپ مکی شا ن نیت ۳-_ جس کے ول میں خی تکہیں وہ عال میں ۴٣۳٣_۔ حتضور چےااکوسب سے زیادہ الڈدتعا یکا ڈرتھا ۵- خشیت کے درجات بقہ ریلم ومحرفت ہوتے ہیں ٦۔ عال رکون ہےاو یل مکیا ہے ۴_٣۳۔ علا کی تق میں _-٣۸ عل رپا قصور _-۹٥۹ فقر مین جن یس عام وگوں سےستسال پیل دائل ہوں کے ۰٣-۔ قب رصاحبِ ایمان دایقا نکامقام ٣۔ نقراموخولی جنت میں سوقت نے جائمیں کے ۲۳۔ اب وکنا بکاشدت وف اد باب اقتزار رہوگ ۴۳_ فقماسلمین نت می مالمدار سے چا لیس سال یل جائیں ۴-_- ظاہہر کی اورتخیقت نت یکا دن ۵۔ جوالل پاک سے ملنا جا تا ے اڈ شی اس سے ملنا ین دکرتا سے ٤٥ _-٦ لئ" ٣۔ح بل مج ہک ملاقا کی استعراد ۷۸۔ ایک اشکال اور ا کا جو اب 9۹۔ نار خفاراورتفو رک یحلرت ۰۶۔ ال یا ککا پہہلا خطاب مومنو ںکوکیا ہوگا؟
٢۹
۵۱۔ ضے مق حتف کرتے کرت میس ے۳
۳۲ -۔ تن جم بد ہکا بندہ ےعحب تکمرن ےکا سبب ۳۸ _-٣۳ مب تکی تن ھییں ہیں ۳۹ ۳۴۔ کو نیع ت مع رے؟ ۳۴۹ ۵۔ خملاٛکی کے ول میں ایل ادیدکی بت ۹ ۵۷۔ شع تکافرق ۳ ے۵۔ محب تک علامت اورمعارب تکیاے ۳۲ ۸۔_ لوگو ںکی مت وعراو کا راز م۳٣۳ ۹۔ محبت دعداد تآسمان ے نازل ہوئی ے ۳ ۰۔_۔ آحضرت ےا کے دست مبار ککی ضر بکااڑ ۳۲ ۷۱۔ تصییرت افروزضرب ےقلبجبدت احمانع سے سعمور ہوگیا ۱۔۳ ورے رت عبدالع یز دباغ کا آحضور یلال سے ریت کا مغ وم لو کرنا ۳۲۰۸ ۳۔_ ماب جکراممت صاحبٹ رآ نکوعطا ہوگا ص٣۳م 7١ے صاح بت رآ نکو بارکاد رٹ المزت ے انعامات وعطیات کرک ۵۔ صاحبف رآ نکوآخرت میں خاح لن ۴٣۳م ٢۷۔ دی ںآیو ں کا و اب ایک قطار ۳٣۵ و کا سونے ےٹیل و ںآ با کاٹ سن وال الین ےنیس ہہوگا ۳۳۵ ۸۔-۔ عائل رآ ن کا حشرفشتوں کے ساتھ ۳٣ّ ۹9۹_ ری کے جوا ےکوق رآ نکی برکت سے تار نمکمراممت ل ےکا ۳٢۸ -۲٢ عاو تکتاب اللہ یا ڈگ رالٹر اکسا اك٢۔ اللہ وقرا نکی شخوایت بر تام مان والوں سے أضل عطاءالی ۳۳٣۳۵ ۴ے مین سوآیتوں برمخفرت "۳ اک کا مغفر تکوکم مت انوہ بڑیی سعادت ے ۳ .٣۴٣۳٣ الین ف رن فو نی بیس عایوین میں ۳ ۵٣۔ فضائل ق رآ نکی جیب روایت ۲"
١خ٢۔ قررن یی ہکم مت ضعاتیس ۴۳ى
٢۲
ےے٣۔ سور ما نکیا سب نزول
۸۔ سور مان ق رآآن می رکاول ے
۹۔ عظیمة
۰-_ خظبرہ ,سور نان ےیئل
۸۔ مو تکیآسا ی
۷۲۔ عاجت پورگ ہوجات گی
۸۲۳-_ مخفرت ہوچالی سے
۲-_ یع وشام دای خوٹ یکلہ
۵-۔ شہاد ت کا رت لگا
_۷٦ سابق اورگزشن گناہو لک معائی کا یوانہ
ك-_ د لک یش اورد لوان پ نکاعلاب
۸۷۸-_ ش ران باک برآخرت میس لے وا یٹحقت
۹۵-۔_ قرآ نکی نورانیت وتقایت اوٹہم وف راس تکا تن
۳۶۔ صاحبف رآ نکوآخرت میں فرشتو ںی معیت
۳۹۱۔_ کلام باری ضوریتی می حامل ق رن کے لیے جنکڑ ےکا
۲۔ حا مآخرت می قرآن بجی کیک جوان مردگیشکل دی جات ۓگی
۳-_ قرآن پا ککب او کیوں اٹھایاجاۓگا؟
۳۴۔ قرآن ید شایت پرق رآ نکاننمت بن جا ےکی
۵۔_۔ عندالڈ فخلیت اسلام سے سے ہک ہآنساب سے
_-٦ انماٹی ج رو مال اورفضائل ومکار مکی ڈیا دطہارتقلب پر سے
ے۳۹۔_ تروع تکی نز درتقیقت ابمان ولنتق کی سے
۸۔ نی ناوت تارف کے لیے سے ڈ رک ہناخ کے لیے
۹_۔ ٹب پر !تا والو ں کا اتجام
4پ اسسلام بچھدت بجعات سے ہرار سے
ا ۔ اسلام الدتھا یکا پیند یر ودین ے
۴ ۔ تمامائھا لک یوبن می ںآ مراورمخباخب الل رخ رکی شہادت ۲
گن ۳۷ ع۴۸ ۳۳۰۸ گ۸ گ۸۳ گ۸۷ ۸م ۵۰ ۵۰ ۵۰“ ۳۵۱ ۳۵۲ ۳۵۳ انت ۵ ے۳۵ ے۳۵ ۸ ۹ ۳۰ ۳۰ ا ۳۳م ہتھ ہس
سے ۷ ۵ ۔ 7٦ ۔ ے٥-_ ۸۔ 9۹ ۔ ٭١۔ ا٢۔
۷۳ ۔ ۳٣۳۔ ۳ ۔ ۵ہ۔ ٦۔ ےا۔ ۸۔ 9۹ہ۔ ۲|-۔ ۱٢۲۔
0۲۴ ى|0۳۳۲ٔ-۔۔ ۷ز 0 ۔-۔_ 7٦ ۔ ضریرڈے ۸۔
الام ٹیش قمام اعمال تی رجی خر ہیں اب فققا د الام ہے کیک شا مکی فضیلت او رحس نکی نصرت وید شام اولیا اتا کامسکن ے ہب ددع اسلا مکوقیا مت کے دن جوان مردکی شحل میں ا ٹھایا جات ےکا عالمآخرت مال رتقییقت سے نلدو جب اتا کاحبوب بن جانا ے و کی دنیا ا کی خمادم ہوثی ے ریم تکا سا امت امت کے سا تج رضائنے الب یمج طالب'مولا اور طا لب یی کا فرقی الب ےآخرتکاولی“ممننن ہوا سے اور طا لب دتیا کا یر اگنر تو کی کی بت کیم ے لے الہ اک ے٥ل کائل ضامصن ہے خنا وکا لکا طیدارزندگ یکا بندوجب ہداییت مالکنا سے جن تعالی ا سکوگمراہی سے بچا لیت ہیں خزا نت خی بک میتی ہز ہداایت ے ری چا تن ہو نی بل مر ہکی طرف نوج رتا مکرلو نقروفاقہ میا تکالمز عممال طامحت پکمال حفاظطت کون وآ رام عبادت پاریی شیل ے ایٹروالو ںکوستانا مو جب پلاکت ے فرالخشل ے قرب الہ یکا عطہ عطا ہوتا ے 757 ےت لت و یک تحرریف ولابیت کےورجات ۲۲
۳۳م ۳۳ ۸۳۸۵ ھ ء۳۲ ء۳۲ ۳۸ و۸ ٣٢ ۶ 2 نے ۴2 وت ۴3۱۰۴ 7 ۵ ۵ تو ٦ ٣ ک2 ت2 ۸ ۸
ك۲
9 ۔
۲۴۶|۔ ١٢۔
رس سیت 5۷ ۵ ۔ ٦۔ ے۲/۔ ۸۔ 9۹م۔ +۰۔_
۔٥۹۱
ری ری مزیئ کت 0۵ ۔_ 7٦ ۔ ے-۔_ ۸۸ ۔_ 9 ۔_ ۰ ۔ ۱۔
۳ ۔_ ۳ ۔_
۲ی ۷ل رب
ولایت کے لیے ذکرالڈ رک یکرت اورائل ای کی حبت ضروریی ے اولیاءاشی علاصت و باچان
واابیت کے ل ےکششف وک را مت ضروریتجیلں
خوف او نہ ہو کا مطلب
صاحب تر جمائن انید تن
عدیث میں تر ڈدکا مت و ہوم
عدیث میں ڈد ےلیامرارے
اندوالوں سے دی سعاد تکی دییل ے
کان او رک کی بس تن تا کی طر فکب او ریوں؟ موت ناگز مر سے یلین تی بن موک نکنکیف د ینا نیل ف ماما کم واسرار رموز الات ءایان وف یی روھال صالہ یرہ مک نکی پچ اسرارزندگی
جن تھا یم خی ہیں بندو کی برح تفاظت فرماتے ہیں باب :ہم ہنوڑہی حاض ہیں
آوانوزخ نگ اطاضَت
عم اہی سےکا کات عال مک نظام
باب :الد تھا یکا جانب سے عاجج تکب لور یکی ای ے توق الللکی رعایت ام سے
ا رکا تی اش ر بک نک
اب: ہم لکہارارب ہوںل
دای کی عمزت جات دان ےکوعم زی کی اطاعحع تک کی جا بے اے کے ا مت
اپنے پڑ دی کے ال کے سا تج خیان ت ٹل مکا یل یم سے ئن بد یک یآخرت میں مزا
ك1
۲۸۰ ۲۸۱۰۶
۲۸
۲۸ ۲۸۳۸۳۲٣ ۸۳۸۲ ۸ٌ٦٘ ۲۸۷ ۲۸۳۰۸ ۲۸۳۸۸ ۸۹ ۰ ۰ ۰۰۳ ۲۳۴ ۰۳۰۴ ۰۳۰۴ ۰۸۵ ۲۵ ۴ ے۳۹ ے۳۹ ے۳۹ ۲۸ ۲۰۸
۴۳۔ جو انی خواہشا تکوقن تھا یک اطاعت پرز دا وہ مناجا تکی ۳۹
علاوت ےت نحرو مک دبا جا تا ے ۵0 ۔ ایام میق لکی یقت ۳*۹ ٦7ہ_۔_ و ے2 دمنو رہم وکیا ٭م ے۔ ال" پاک سے سب یح ہن ےکا اورخلوقی سے بیج نہ ہو نکیا لین ام ۸۔ ول کا مغ رٹ الع تک جاب ہو 27
۹9 ۔ لوق جب ٹخلوقی ے مدوطل بکرکی اذ خی نصرت ے روم ہوحائی سے رن ٭۰۔ تا ئ یھی کے لیبن تقنالی سے ربا وق ہہو 1
ا۷۔ عزتوعافیت جات ہو خالقی ے وابست رہو ۸۲م ۷۳۔ بندوج بگزاد وش حصیت می جرکی بن جانا ےو اللہ با کن کاعذاب رت ہیں ۰۳م ٣۳ خحلوت میں محصی ت کا عز اب ۸۰۳م ۶۴٣۔ اللرکی مرضیات پر خواہشا تک قر بای سےحیوب اما لک نیقی لیے ۴" 0_-۔ رہمت وقضب کےا ہاب ۰۳۴م ٦۔ مت وخنایت ےنب وعقا بک طرف ۵م ے1-_ سب اعمال تر وش رکا خزول ہہوتاے ۵ 0۸۔ ج مت کا درخت ۲م 9 جمنت می اولیاء الدگی سواری ے۸ ٭ے۔ جض تک تیب ونشو کا نرالا انداز ےم اےكے٤- آسا نی آگ نے دولڑگو ںکوچلادیا ۴۸ ٢۔_ عم ال یکا سا مناکو نکرسکتا سے ۸" ۳ے۔-_ شا ن عبد بی کی کتیل پتلیم درضا میس پشیددے ۹م
۴ خر کی طر جع مکومو کیا نو ان براعنت ای ۰ 28 ۳ ,0 ۰ ٦ ۔_ تی بی بے کے دلو نکود یجان ٦٦ ےے۔ بندہ اللہ اک کے عذاب وعقا بکو پر داش تکر تن ےکی صلاحی ت ہیں رکتا ۳ ۸۔_ تو ں کا شرب ےک رمحصیت سے چو ۴۳
ص.م.م+-++-فمفنہٌبيبهيئبئؤەئلٰ ہ, ہسبۓ_,7
ہز پان اورفرج (ش گا ) کی تفاظ تکا شی نظام بدڈگا بی سے توالت
اب نخلف مورک فضیلت
فو جوان عابدکا متا ممنض فرشتق ںکی طرح سے
فنا وی یلو جوا نکو شر ص زی نک اب
رضا وقراععت بک انت ے
۔ مقدرکی وجہ سےطویج تکوکمدر ت کنا ایمان ے
من بعد ےکا مقام
فرش خاق تین مقام ومرتبہ پہ پیدا ہو ہیں او رم نکی تی عیادت ے رو ڑ اڑول ہوئی پک
زاہدد عابرن جوان الله پا کو بہت پپنرے
سج دبے بند ےکی علامت
الین دجما لکاشاکروعامر ا رعباد گر ارنو جوان پیش کرتاے فرشتو کیج بت یراول وگبب ربیرے وندے کیم لکی طرف سے کت رہو لالب سے ہ یکل ورم تکا سار لیب ہوا ے صاح تق ٹ یکا نس ب تن بل مجدہ ہیں ا سلائی نب نامہ اللہ یا ٰ9 ,"07 اٹل ور ای راب جنت می دائل ہوں گے مقام قرب می ائل ور فوقیت نے گئ ور گیا اص٥ باہش مات سے بھنا ے ور وف و کی کے طقات وورارح ور کی ریف زمر
۰( ۰( مز 0٦ ےا ےا 0۸( 09( 9و0( ۳ۃ
۴۲م ۳۲ ۳۲ ۴۸۲۳ ۴۸۲۳
۳۲۳( ازارکز ۲۵( ۳۵( 60 60٦ م۲۴( ۲( ۳6۴9(
ور کی ابمیت اورا کا مخ
وررحع نے حاصل ہونے وا یقت
شس کا محاسبراور جولعا تگز ر گے اس برندامت ور کا تصمول بب تآ سان بل ے
ورع دا قاط کے فضائل
ال ور واعٌیاط کے واقعات
ارتا یک خوف وخقیت اورورغ ولتوىی
٣ > و , ی۹۹۶ "لو کم کے این انا نکیوں؟
یم کے این چھ کیوں؟
ہنم میں سب سکم عراب ولا
ٹپ مکی مھ بی تآھد
٢ 0 و
امت کے دن جا رطر حکیآنگھوں کےسوا تھا م۹نکھییں ری کی اصی لت جنت
ھی میں
بن تھا یکی چھڑ سے بے خو فکون ہوسکتا ے؟
نی بل مد ہک یی ادڈ کو جینتیں
ور واعیا طط6 مقام
مانب ایند دی نکی دکوت احب الاعمال ے
ا مترو فکومنیانب الٹ ےیل رای عطا ہوتا ے متروف سے الین واما نک قیام ہوگا
الدتھالی کےنزدیک رز بثدہ
درز راورمعا فکرد ینا ہی ہمت او رحوص لکا ام ے
کےا لے
بل بن عوان کی اہن نا مکل بحت اھ
۳9( ۳9( ۳ۃ سز ۲۳۱ ۲۴۳( ۳۵( ٦ك ٦ك ۲۳۴ ۲۳۴ ۳۴( ۲۸( ۲۸( ۲۸( ۳9( ۳9( اگنگ ارگزگا 06۳( م0( ۸۸۴۳۴( ۵ء0۸0( 0۸۵( 0۸01 60۸01
۹۔ علاعر اتی نکا ہے مال عبرم
۳۰٥-۔ علاء بن ز یا دک یگو ری رکڑش!بحت
۵۳۱۔ تی تک 2۵ علات طظطات ۳۲-_ حطر تی من یع کا داقعہ
٣۳٣_۔ لوگو ںکوموائ کر ۓ وا(
_-٥ ارام انف کا بے شال واقعہ
۵۔ فع پا مشقرکل اورد ل کان وایمان
۹۔ فضےکو یجان
7.- عیب کڑٹی
۸ہ صرپدٹر0
۹۔ اخترافی نت بی رے
۴۔ اللدتعا یکی فدرتکا مل کا شاہکار
ا۵۲۔
۳۲۳-_ تق تال کی رحمت رقم وم ول لوگوں میں مہ پالئی سے ۳ می تال یکا ہل صاح نل درم لوگوں کے پاس لا کرو ۳-_ نم دل خو بیو ں کا سرچنمرے
۵-_ چالیاس سےنڑےسال کےانسافوں پراالد یا ککاکرم ٦۔ نون ء بر٤ جام سے نجات وعافیت
ع۔ محر ےےمذلف میں می ںخلف انعامات پاری ۸-_ الس سے مت رسا لج ککی مخقرت
۹ٛ۔ تم مج نکو چا ہہوساتھ نےکر جشت میں دائل ہو جا ۰۔ بوڑ صے ےی تعا یکا معالہ
۵۵۱۔
۲ -_ بوڑ ےک یمناہہوں پر جرآت وشقاوت
۳۔ ل وڑینق نکوشہ بداو
۶۳۴۔ مفید ال و رق اظر
اپنی حا جن لکورقم دل لوگوں سے بیا نکمروان یس اید ا ککیصفت رححت سے
وو لوڈ ھیے :جن سے تی شرم دہ یاکرتا ےگا نکیقن تی سے شرم دح یا یں
کۓ
۸۵۸ .۔ ٦ ۔۔ ے۵۵۔ ۸۔ ۹ ۔ ٭٠۔ ۱٦ھ۔
۳٣۔ ٥٣۔ ۳۔ ٥۔ ٦۔ ک٦٦۵۔ ۸۔ ۹4۔ +١۵-۔- اےھ۵ھ۔
٣۵۔ ٣ھ۵۔ ٢ھ۵۔ ۵٥۵ ۵۔ ٦۵۔ ےے۵۔ ۵۶۸۔ ۹۔ ۸۰۹۔
سفیدرنل والوں 71 77 ٹر روما لع
مففرت لے کے بحدعر ا ب یں
پچجھ ری فریادددعاء با رگا ہ رٹ اعت یل
اعمال وافحال توشر کا ار زین برڑھی ڑا سے
رخ ماق تک ی شی اوران می توب اسماء لی
عق لکینحلیق اوراس ے او کا کلام
عق سکنل کے ماع :نک رمعرفنتبقن پیدا یی
قلعم رای لے ہیآ کے بڑھی اور ئی
عتقل وشحورکوخطاب رنا یکا شرف
لو
وش ندب یکی علامت ے
رت العنت بندہ ک ۓل وم کے اقتبار سے معاملکر تے ہیں
اسلائی ش بجعت می تی ننس سے مواغز یں
رب تپارک ونتا لی کےا مکی صفت
مو یلیم ایس ےکو ور پر خطاب بای
ال تا لی سے مکل یکی صورتیں
سارہ وصاب
اندوسور ج شوتی ہیں ءجمارگی زندگیو ںکا ہر اق کے کٹ
وانہ میں میں (گھن بنکم پر دروم بر ہولی او رج کی میا دک حست
ٹن بل مد ہی دححعت ۷ رق مکرنے ولوں پر
خالقک یلیک خلو قکوا تا بن بھی نہیں
7 5ٹ-
جب اورخود پندی
جن سک کھامیں ا سکیگاہیں
وولوک تال جب ہیں جو بل مر ہک ینلم تکونہ مانیں ۸
٦۱ ٦۱ با با (6۴۳ (6۴ (6۴ (69۵ 01٦ 61٦ 61٦ ے۹ (6۸ (6۸ اچ (69 ٥ےا بزھئ رھ 6۵ 6۵ ے٦ ے٦ ٥ےے ۴۸ ۴۸
ش رن ید مساجداورائل بیت کےتقو یکا جن زعنا لی خودحاسب ہوگا ھرآن ممسجداورائل بیت کےتوقی
رسول اللد پلےئنے جج رآ دمیوں براحنتفرمایا
جب کک بن مخفت مانکنا رر ےگا اش اک معافکرت رہیں ے
ال اک ہی معا فک رن ےکی فقدرت رھت ہیں
نسا ٹیم مک یکرتابی دی
مففرت وموائی کام ہوم
۔ بنرے میں ممرفتہ الہ یی علامت
دعاء کے ذر می لوج مطلب سے شمم وحیایش ری تیر سے وسم تقلب مین ءتگ کاو رت اعت یت نک اش باے چت لی ٹک پاؤول پر پا ول رکوکرسونا منا سب کیں سے نی بل مکی ذات جم یوب ونفالنش سے پاک یس ای ک حی زا تھا مرضتیر با لی کا آسان ول طریقہ اپنی تا تر جدو جہداو روش کو رضاجورب می لگ دوہ مال خودد یل نان کے ممائ لکاعلء وسائ لیس انابت واستغفارے جب کور مگ ےس ات اک ری کی عورق کا پا لکھو کرس راہ چلنا بن روکی بای ڈھال اخقیارکرا تم بات سے ا عراش لکنا زرل صائین کے سے پاح شی رت مس یبھی انسا نکوکناا خی ماگمدھ انی کہا جا ہے انماٹی شرافت وک رام تکا تن ں۲
-٦ ۔-٦ے ۸۔-۔ ۹-۔ ۔-۔ ١ ۔٦ا _-_-7٣۳ -٣ ۔-7٣۳ 0۵۔-۔
ےا1۔ ۸۔-۔
پاادامانت تو لکر کا داعیہ
تمول اماخ ت کا داعیہ نت سے کا نے جا ےکا سبب بتا
علم پان داسرار
صفت اخلاض واحمان
فراخی می تگراور بلاؤں بعر
موک نکی زنک یکا ہرفوٹھ ون ؟رسرے
سب جلما ںکیوں یں تاک جک کی
تن نعال یک فررت ومقید ت کا شاہکار
اد ا ک تکس تک پان نکوقجو لی ںکرت بلک فشاء وم راوکوقو لکرتا ے ول تو ولک پان ںکوقو لکرتا ہے ا شی د لکود با سے
ابرارکاشوق زا ری
ابرار کے شوق للقا و رشن سے زیاد ون تال یکوابرار سے ل ےکا شوقی سے یم کے1 نس وکا قطرہ اود تعاٹی کے پا تھ می سکرتا سے
جنت میں رسول الپ ےکا بڑدی
الدتحالی ان بنرو ںکود نیاوئی خوشمالی سرت سے دور چٹ اکر رکتنا ے تن تال یکی ٹا او بیس قبت اتا ش اعت وسض تکی سے
مس اپنے ٹن بندوں بج بکرتا نہوں
خقم سب سے جدا ہو سکتے ہوہگمررٹ ذو ال چلال سے ملنا تی سے صرف اج اک مکی مارک معاف ے
امم١ت کن بہت ر ئ0 ہنی یکین
ھ 8 ئھ۳۶8
انسال یکنرور یک عاج کو پین دکرتاءاورآخر تکوچھوڑتا ے ایدتعا یکوقرنش دہیے والا اورائس سے سر یکر نے والاکون ے؟
لوگو ں کا گناو مکوخفلت میں ٹہ ڈا لے
ات طعا مکی فضلیت
۲۳٣
ے۲۹
۵۱۱ ۵۱۱
ل22 َلْحَمُة لِلَهنحْمَدۂ وَنَسْعَعيَْه وَنسعَْهِرَه ونود بالله مِنْ شُرُورِألقينَا وین سَینَاتِ أَعُمَالَاء مَْيَهدہ الله لا مُضِلٌ لہ وَمَىْ بُسْللَهقل ماد لہ رَ اذ الاپ الا ادل خةۂلا فرنک لۂرَلَمْهَد أؤ عمَداَعْدۂ ز
رَبَ اشرَخ لِي صَذْرِي ء وَیَْرْ لي اَمْرِئ ء وَاخْلْل غُقَدَةمُنْ لَسَانيء يَفْقَھُوا قولی. يَا رَبَ زڈنی عِلما. سُبُخانک لا عِلم لَنا الا مَا عَلمِتا !نک انت الْعَلیْمُالحَكَيْمْ. اَللَهُمَ صَل عَلی سَیّدِنَا مُحَمّدٍ و عَلی آل سَیّدِنَا مُحَمدِ صَلوه تنَجَیتَا بهَا مِنْ جمِیٔع الخْوَالِ وَ الاقاتِء و تَفَضِي لَنا بهَا جَمِیْع الْحَاتجاتِء ز تطَهَرنَ با مِنْ جمیٔع السیَْاتِء و تَرقع آنا بِها تک اغلی التَرَجاتِ و تَلَْنا بھّا اَقصَی الْعَاياتِ مِنْ جو جَمیٔع الْحَيْرَاتٍ في الْحَيَاةِ و بَعْدَ الات ِنّک عَلی کل شی 0 08
تقر الله بی مِنْ كل دنٍْ وب اه
اڈ لہ کم الہ لوہ رب عارک وتھالی قادرمعکتق کی الا طلاق جھ جا تا ے 0 رر غاب عطاکرتا ہے ال الب خی مرو ےکا مات عا مکاذڑہذژڑدائسی سیئلقی وامرکی شہادت دےر ہا ے۔ ای لے ابنداء می بھی دو کا سعن سے اور ہرل کے ان وآخر
سس
بھی ا کیج ہے تک الْحمْ فی الاولی وَالآخرَة۔ای کے جا سے بندہکا میق م اتا ے اورودی خ رو چھلاگ یکی طرف اپنے بند ہو لے جاتاے,وَ مَا تَشَاءُ وُنَ ال ان يَشْاءَ ال ۂٴ۔درنہعابزدنانذال بندہجش کا اپنے وجودییس پلجدشھی ابنا نیل سب بپنھٹو انی کا عطہ ےہک کیا کا سے۔کم نا رانا نو بہت دورے سوج او راو ربھی جرو بھلاکی کائ۰ی ںکرسکتا ہت اک نی از ےک کر سے رشمد وہای تکی طرف طبیص تکو مال تکرے۔آخرخاتم الرل خاأفا نے ہرخماز کے بح رحضرت ا "و الم شی رشْدِی وَاجڈنی مِن شر قشیسی پڑ نک ہای تکیوں فر التی۔ رشمدد ہدام تکا الہام بی بالآخ بن ٥کوراشد بین وصادششن کے مقا مج ککشژا ںکشاں لے جاناے۔وہ ال لا بر ےت سکوکفروشرک ے ہیا لے کے لے بد پرکوذرلجہ بناتا سے۔گمرابی وضلاات سے با لکرداررحمت ومخفرت میں لانے کے لیے مد ہک ومن صنحا لیے دبا ہے۔سلیمان بن دا کرت میں بد ہد برند ہکا اور اڈ بھانہ وتعالٰ فیصلہ کرت ہیں جو کی ہرا تکا۔ سھاشہامبعاظہ! بندہ کے جاتے سکیا ہوتا سے ج بکک میرا مو کی شہ جا ہے کچھ رایک الیما عابجز دنا ذاں اور بے بضاععت جم کو نر رنک وڈ یک مسق وطر رہ کا وشوقیء نم وٹراست: زان ِء بھی بیز جن اصطلاع بل حد بی شی ق ری ےلت رکیاجا تاے ) کے تج کی بمت ہو س کیج سکیا بکھ تصیل ھی بل مر ,کی پاقیں میں ہنی ہیں_ ٹل زوافضل اعنظیم سے تی اوربچھر اک 2کاپ اسعاقف سر تل ظا لات برارں رر کم وین یپ مساجہد یں اور یکنا بکا علاء وابل درول نے در دیا-
فجزاء ھم الله خیراً و الحمد للّه اولاً وآخراً
ج بکماب جج پک اں ا کی مب سے لے حضرت موا ناشس اپریٰی خاندا نآ رو ےشن وکح پر ہد یہ یش ٹین لکی۔ بات تل بڑ یکن تال ی شرف وقبولیت
٣ب
سے وازے۔ حضرت وامت پرکاٹپھم نے اخلا کی نشحیحت فرماٹی اور کی رک یکل ہکام اخلائش سے ہولو بارگاد بے نیاز میں شرف قجو لی تکا متقام حاص لکرتا ہے۔ عاجنز دم راس کا بہت دک یگبرااثر ہوا خوب استغفاراور ب رات دبا وشر کک ادعیہ مانورہ کے ذر لینتقنی بل جرہ کے تضمور میں التجاء وابتالی کے ساتجھ وہ وا ستنخفا رر نے کا ءہکبومل ہآ نرہ اک یکتاب کے تر جم کا داعیروارادہم ناب اللہ ہو کا ھا۔ ای شش وی ٹیس ٹاک لگا خلائص شہ ہوا تو اپ جان ھی بنےگا را کا مکوکروں یا دگرویں اگ ین شاک ایگ رو غاب فن ضں سک رس اح ا سا ےاج ظز2 سح کاوفت ہے فشلن پ ہر پالپی سے اود خیرم رئیگھاس جو دنام نئیں دیچھی کی ہوک ےہ اور بارش یس بلللہ پان نما پچھوار ہے درخت ببت بی بلند وخواصصورت ہیں ۔ رکتقوں نے اورے ا کوسا کیا ہواسے۔ محر ٹآ گے1 کے ہیں اور یہ عاجز وآ تم ححضرٹںخ کے تی یچ بل راے۔حخرت نے پجفر مایا جو یا دیس ہا تب صا0ا حول ٹس ای کفکونسکون تھا۔ رد ھکد یکیقیت نم ہوچھ یت بھی اورتذ بز ب راد واشھینان ٹل بدل ڑکا کراب تج ہکا کا شرو حکرد ینا جا ہے ۔ لہذرااللتھای کے مپارک نام کےکھروس۱۲ لی ۱ کا شرو کردا تی بد نے خوب مدکی یی یرخغطرت فل رین علیہ ارح کوسنا ے عحد میٹ رسول لئ سےخوب شحف تھا او رق رآ نت ا نکی جان تھا۔ خوا بک ایر عاجنز وٹ م نے بل کراس خیال سک اخلاص ہہو نہ ہہ وکا مک وکچھوڑ دی شیطای وسوسہ ے۔ ال نیت زمر تک ےد ال تار رگ نے کی طل بکی جاے اورجکام ہوجاۓ اس کچل پرمفسو بکیاجاۓ - 2 وناطر یز گرین ٹبیست راہ ۱ ک گل ی - ض شاہ
پٹ شصھی رکا اعترا فکرتے ہوۓ رت العز تکی تید و تقر سکاکیمقلب سے
تو رنقی میں تذ می لکرتا جائے۔ ہرققدم پر ڈ متا جاۓ او رآ ےکاطرف ےتا جائے اس
۳۳٣
رح منز لکی طرف بڑعتا جاۓ اسی درمیان نطرت تو وک یج نرک ےر ری دباء کےخوف سے کام و لکو نہ بچھوڑنا جا بے اورادڈ دکی طرف متوحہ ہہوکرشل رو ںعکرد بنا جا ہیے۔ ال رح کام شرو عکردیا کہ درمان یں بڑی سخ تآز رائ لک یگھڑری آکی اور پنی طور برمفلوج پ گیا ازعداختظا رکا عملہ ہوا۔ زندگی بس یگئی ور و خیال میں یں رک تھاکہااس ط رع کےکم وپ ینا کی تا تر نف کا نام در ےکر اس عاجنز وٹ مک و ککی بھی می ں جم ویک سے ہیں گر ای تھالی نے دس تگرکی فرمالی اور اس حاد فا ہکڑگھی با اکر ن ےکا ذو لہا کاب کے تر جم یکو بنایا۔ شی طور بر چوکہ میس بہت گچھونے و لکا انان ہو ںگھ را سالگیا۔گرففقرم کون نڑیں ٹا ل سکم یں رض رفا رب رون :و اناگ یکا ضر راز و انس تحت تا کرت ا زررس 7 رفا کنا رٹ العزت میں عو شکیا: رنا! موت ےنٹل رڈائل و شیائحت سے دیدۃ با نکو پاک و صا فک ر کے ورورشدوہرایت سے وازکر رضاء کا متقام عطا فرمادے؟آ بین ۔ مات ال رین نے دعافرائی ے ال می ود بک مِنْ عَلِیْلِ مَاکر عَینَاۂ َرّعَانی اِنُْ رای حَسََنَةً دَفَتھَا و اِنْ رای سَيْتَة اَذَاعَفَا۔ 090 0
بیاں ہوں۔ عاججز نو علی الاعلان نمامیو ں کا مجموصہ ہے ا سجن بل مرو ستاری وخفاری 9 و2۰۰9 ایک موشح مرف مایا تھامسلمانو ںکار شا ہیا ےکہ برائیاں عقا بکی اکھد سے پچتا اور صا کی رقتار سے کپلڑتا ہے ۔ بھی بھی خییوں پ بھی ہگ ہکرل یکر ۔تہاری فطریں ای سے خوبصورت ہہولی بی جامی گی ۔ ابد الا مآزاد نے فرمایا دہ الفاطا جن پ> درا ین ۶ء اور مقصود یکی اباخت اتیک ہوان سے طیص تکی نغاست روح ہولی سے اورساح کا صن مغوم ہوتا سے تم مل مرو موت ےئل موب و نال سکویھاسن سے اور ذوب و سنا تکوح نات سے مبلزنلفرماۓ ؛آمین :شب میدن گج این نل سے
۳"
ٹن چلرو ںکا رجگ لکرادا یلم علماء و رین عرفاء جم م یقت مرشندکی حضرت مولا نا قرالزمال دامت باتہم اویحیوب العاماى واضّ حضرت مولانا پیر ذوالفتقاراجد ننشمنری سال الصسے بَا ہما کودھلا یا دوفوں حطرات نے تج کو پندفر مایا ان رات نے ہمت دلا ہی اور پینرفرمایا فے مز بر حوصلہ ہو اک ہکابت وطیاع تکا کا شرو کیاجاے۔
لع سکرم ف ما مول نا شاء ا ہدک ء ناب ناشم امارت شرع وکتاب سی ردکیاکدد ہب ری کاب پر اگ رفظ انی فر ماد میں نو تج کی حم تکا نی کگونجھروس ہو جا ت ےگا مو لا نان ےکننا دیکھا ین ا ناخ میٹ سآپ بپڑھیں کے مہم افھوں نے پور یکنا بک نظ رخالی کا ام صولانا راج الہددگی ندوگی از ریہ پرڑس دار العلو یل السلامء حیدررآبادکو پر دکردیا۔ مصوف نے نظ انی ہیی بک وتر تیب پکا مکیا ہے اورپ اعراب دپرو فکارنظر فا ئ رکا مکیا۔کتاب تکی ذمردارئ بھی ناخب ناشھم کےتذ سط سے نے ہوئی۔
اعترافیٹشمیجراور ناب کےسلملرش
ای ےکی نت یی کی نو ئا الات ال ل الاعادرت ال بک ترجہ نی بل دی بانج کے نام سے اتی نےش کرائی اواب ا وت جائخ الاحادیثٹ القرے کا گا بر بآ آپ کے اتھوں میں موجور ہے۔شروں 8۰ صرف تج کا ہی تد دارادہ تھاء پچ رالڈ یا اک ےکا ےج ے1 کن اون کر ات ۶ رک ای ای فا ت7 00ے خیسجمولی مددفرماگی۔ ج نکتابو ںکی احاد یت ہیں ا نکی شر حکہی نمی تی بک ص٥ ل تاب بھی تق کو وسقیاب ری بہت مشکزات کا سا منا ہوا نع لو نکی طرفگ رج کیا وہا ںبھی عدریم الفرص تی کا عزر با عراش کے سوا بی مانب تکا ساماانع شہ لا۔ اعادیث کے فو اد جوھآپ کے سا موجود ہیں دو عوابی وعموٹی ذا مد ہکی غض سے کے 7ئ و رت کو و 27ےے
۲۵
)۱۹۹ و و 0ت وو
اس وفقت جور یپ کے ساس جائ الاحادیث التقدس کا ت جم حجلیات قد سم کی شحل میں موجود ہے وو قما مکی تھا مکلام دی شنح یق سبعانہ قد وس کےکلا مکا مور ان ناب کےم ولف جناب عصام الین العبا بھی مصری ہیس (ارڈہ تا ی مولف اور متریم دوفو ںکو انی آ خوش رجحعت میں نے لے مین )کاب جین جلدوں ٹیں وارا یر بیث قاہرد گی ہوٹی سے تین جلدروں می لکل احاد بی کی تحراو* ۱۱۵ ے_
جلراڑل میں تن سو نلٰ۴س(ی۳۴)احاد یت قد سیہ ہإں۔
جمدخا بی ٹیس ۳۰۸ سے ۸۵ ےکک
جلرخااف یل ۸۹ے ے۵۰ اا تک
اس وف تآپ کے سان ۲۳۱ /اعاد بیث مر س کا تر جم اور بببت بی ضمرو ری حاشیہ و ناد تخحلیات 2ھ 9 سے مم و ود ےد لی مان مان 7 زہان استعال رن ےک یکوشت شک یکئی ہے۔ ما ہم مہ دٹوگی و الیل بی فلط اور کوٹ منہ بڑی بات کے متراوف ہوا کہ ہت بی ابچھا تر جم دشر ہے ایک نانواں و بے بضاعت بندہ جو بی کرسکتا تھاء و ہآپ کے سام سے یخس اس ارادے س ےک ہج رکا جوجھی فقطرد و بوند دالسن مم سینا جا سکا تھا سیٹ لیا جاے۔ شاب کی خحجات وصمففخر ت کا وسیلہ و زر لجہ من جا ۓ- اور اگ کن اکر شہییروں یل نام شار ہوجاے۔ باخر بدداران اوسف میں نا مآجائے۔قبول کمرنے والاء اپنے ایک عاجز و نا الہ بے مابہ و بے بضاعت 10“ رت پر لایا ےہ دو خوب دی ضائر وس رائ رکا واقف و باخمر ہے۔ ان یکی نیقی اس عاج کی طرلمتوج ہوثٰی اور سعاو ٹکا سا لکن ہوا و سہوح وٹروں کےکلاح فدسیکی رم تک شرف عیب می ںآیا۔اخوان ایسفٗ نع سکیا تھا عمز مر( وف علی الام ے :
جئنا ببضاعَة مُرّجَاة فو فِ لَنا الکَيْلَ وَ تَصَدَق عَلَینا ...الخ
تقبررٹ اشمی۲ن سے عم ضکرتاے جٹنا ببضاعَةٍ 3 مُزّجَاة فَاوْفِ لا الْکَیْل و
۳
تقَبْل نا !نک اَنْك السُمِیْعٌ الْعلْیْمَ
جا جم یکا ماگرکسی اب لعلم کےنکم سے ہوم زیادوخ بیو ںکاموصہوتا کاب میس ہرطر کی اعادی ٹچ یف بھی پیں, جوع رب من کے بح نف لبھ یکرد یگئی یںا۔ یر عدبی ٹکنفخ زم بھی اص٥ لکناب می ںکیاگئی ہے.۔أردومیں ا کن لکن ےکا لت ام می سکیا میا کیگواممکوائسں ےلزلز لم بت کی طرف رجور حکرییس۔اں ام رکنش ظا رکھا گیا ہے زین روابا ت ضیف ہگ رع بی فائدہ ےت بیگوکھا گیا سے ۹ 7+7+7+-- یں تخمام م رحین نے یف روایو ںکو ذک رکا سے۔ اگ اعمال یکا داعے و یسورخغ او اڈنا مر تی الطاحعا تک یکیاضبحت وترخیب سے پیدا ہوجا نے ٹ2 کوئی محیوب ٹیچ نیہ چہ جائکیصعیف عد بی ہرحال یں عامتۃ امناس کے اقوال ونصاک کے مقايلہ میں درجہ ورہہ کے انتبار سے "آ7۳ ہیں۔ ہاں اجکام وعتقانلد کے باب میں خوب ناپ و لکرروایو ںکا علماجو رائین نے التزا مکیا سے اسی مقصد کے یی اط رقام مرشین نے تضعیف سےتتیف 7 روای تکوشھ یں پچھوڑااوریلم ردابیت ودددابیت کے رسو 2 پاوجھداٹی انی کمابوں یں میں سے کی ہے٤ اور ال سے امت نک اتتقیدگی با براگی وخرا یکو پیدان لکیاگیا بلہرجو ا ی اللداوراناہت د اطاع تکا جذ ہرد شوقی جو مت میں تھا ا سکواورتیز سے تیزت ہک کیاکی قو تکو ا چھاراگمیاءف کو جھمایاگیا۔ کیب بات ےک ای کگرد٭ و جماعحت الئ روایات را ےن وشام ء رات وو نکو امن و سے پ اک رفضا لکیا احاد بی ثکوسا ئے رکوکرہ ولا یت وصد یقت کے منقام بہت گنی اوردوسرے بث وگراراو ول ولا یی حرکنوں میں “شقول ہوک مال ایما نکوکھوچھی تقر کہاکرتا ہے ضیف حدبیث بی لکرنے وانے مب وط وی این دانے بن گے اور و وی روابیت عون نے اور ہجو میں رت وا لے محیف الا یما : واعمال بن گ۰ئغ۔
امام مار کے تلق بہت بی مشہور ےکہاپٹی جائع ان میس ردابیت در کر نے کے ےس اوردورکعتت ا لکااتمامفرماتے تھے۔ جس کا حاصل ىہ ےکہاپٹی جائ یس
کے
جب گی یکوٹی روایت در کر تے طہارت جما ی اورطہارت روعا ی دوٹو کا التزام ١ فاۓے ضل نآ ےت نات 0۸( بای یش روایت در نکرتے تے ہن پولوگو ںکوز پان زد ےک ببددابیت بخارکی یل ہے؟ یس انی سے بے چچضنا ہو ںکہامام ار یکا بے کہ ہرعد بی ثکودر جکرنے سے سے .ت7 مہ ران کا التزا مس عم یس ہے کیا را کقزام مال یزمنیں؟ یا اس التزا مک یکو نمی حد یٹ اقھوں نے بای می اف لکی سے ۔ ہمارے نز د یک لو ہت بی آسائن جواب ےک لتقرب وتحبد بندجنس رر اخقیا رر ےکم ےگ رج نکو ہر بات یہ بارک کی حدبیث درکار سے می ان سے بہت بی ادب وات رام کے ساتھ لپ پچتنا ہو ںکہ امام بخارک یکا 00 ذیاد بر التزام مالا یم تھا ؟ کیا کارے ان با توں کے نز یک امام مار نے بدحع تکیایاکیادہ بڑقی تے؟ اَسْمَعْفْر اللَّة لا خوْل ول فو ال بل شیطا نگرا یکا راستہ بہت دی خوبصورت بنا پا ے_ میراذائی مشاہدہدگ رہ
ہمارے دکوت کے سانھیوں نے میا ند جام وہنا سےء بازارکی واو ہاش لوگوں پرقر وحشر موت ولگ یآخرت کے احوال سنا دو ںکوآبادکیا۔ رای نے شراب سے لو رک ء زالی نے بدکارہی سے جوا و قمار کے ر سے مسر میں صوم وصلوۃ کے پابند ہوگئے۔ داڑڑحی سنت کے مطا بی نورا لی شکل وصورتء اشراقی واواٹینء جیاشت دی کا یابند :نایا اب را رک سی تم لو کک سیف روایت کے پچ می نس گئ .انیس شی نکومو تع ملا۔ اب اتال یل خل لآباہ داع کی ء نہ چاشت نہ اواین نتیدہ پک رسطن م نکد ہ وٹ کہ بای فرش بی ری ہوجاے تو غیمتت_ برغم زفرن مو ۓپگی او ربچ راب ودی جم و بینا۔ ٹیل ای طور پا ےی لوگو ںکو جانا ہوں ۔گو ہاککہ دکوت کے جمارے سای باہر سے مسچب یس لاتے ہیں
۲۸
اور یہ لوگ مھ سے ماشہ نے جائے ہیں۔ الد تحالی ہی ہمارامحافظ ہے پرسادگ بدد یی عرز بث کے ات وتہات پیر اکر ےے ہورتی ہے۔ شیطان ببرت ھی عیارد مار ہے۔ اید تھالی جھا ری تفا خلت ف رما ۔آ بین !
اس کا ب مطلب پالئل بی نییی ںک ہف می روابی کون ل کا ار بٹایا چاے با دارومرار بمارا عرزےغین روا یں بر کی ہو متصر رصرف یر ےک شارت وف کشم ترفن کےا ین کا کی کے ا بی تی ضف حر ےکی 7 007 دم انھار ہا ہو ا ںکو رکا ۳ھهھ2۳"“"2۳۷ھ2 2ئ( کرناچاہیں شک میںگردوسروں کےکی یس مناع ملخیر شرئئیں راد اعتقدال پر میں اور شرت ولقرت ے دورر ہیں .رش اس طرح جن جل مہ ک ےل وکرم سے جو ہواوہ ہوا۔ می کن ےک اسلوب وت رات تر جم وت جھالی بن وخ رکا و جال کیم د سیل میس دہ بات پیدانہ ہو جو ہولی جا ہے ۔ا سکوائ تق لن ش مھا جاۓ اد راگ ہیں ترجہ ییںظی نظ ر1 ۓفذ خاش ولاریت کے جرب ےت تمظع کیاجاے۔
میں ان خمام احبا بکا نون مککورہوں ہجٹھوں ے اس کا رش رمی سک یبھی طرح ک تماو نکیا ۔ او را لک مولا ناس راج الپدیٰ نروی از ہر یکا جخھوں نے بر یکا بکی نظرغانی اوج میس میرک تقاو نکیا اور این تا ی سے دعا ےک مو لی ا لکنا بکی برکت ےکی او کی رون یش برکت ڈال دے او رکلام ری کے لیس وطہارت ے دی اش نکو کیہ اورطہارت قلب لحییب فرماۓ اور مع مکو ونیویی واشر وی نام رادث دعافیت عطا فرماۓ اورسہوں وفروں اپٹی جناب میں ا سکوشرف قبولیت سے واز تے ہو ے غلالتی کے ینف عام دتام بنائۓ اور ا ستقی ر کے لے صدقہ جار یہ کےطود بر ابی رضاء کے لیےقجول رما ۓآ می ن نم آئین۔
9
احادییے ف رسب سےتقیرکی مناسب تکا سبب
آ جع سےنق یبا ۸سا لن لکی بات ہے چیہ عاجز وآ عمان میس بخرتض ملا زمت مٹیم تاء ملائلی تظار یک ای کف کاب ارتشن احاد بیث قد سی ای ک کیہ بی ہی ۔کتاب ہگ ء اعادبی کا مطال ہکیاء نے یما ول ہواک ہآ ج کی بادہھم نے ایے ر بکوشمحوری ور بر ہے اوروجدان یں جن بل مج ہکی محب تک یکشش جاگ ھی ہے۔ پچ رن تال ی کی بنروں سےمحبت اور دو کات ای سے رپا لق اورحبت خال یکائنیم س مار یٹس سے بندگی کا لطف وسرورآجاے اور بندہ ا معبو تطیقی وو زضقی رقصو یق مطلو بتپبقی سے عحب تکمر کے تفویققت ابمان وایقا نکی شعوری ووجدا ی کیفی تکوعبادات دطاعات یش ع(اوت وشرج صدر یکیفیات کماظر ان طور شس ںکرتا ے دہ مابروعطاءر بای سے جم سک الفاظ و برویانییں جاسکزاء ال ڈول طور یو ںکیاجا سا ے۔ فخال کی عبادت محبت کے سا ھکر نے کا رہ ولطف ہی اور ہے۔ج یل مجرہ کےکلام قد کی علاوت وظراوٹثء ذوق ومٹھائس جمارے ونم کان نے بہت کی ور اھ وراءالوراء ے_۔ نا ہم جب می رے جیما سیرکاردخطا کر پڑ تا ہے یسا عغجاڈذی 2 حَرَمہتُ الظْلْمَ عیا َِادِیٰ کُلْكُمْ صال الا مَْ مَدَیٔث . یَاعَبْدِی أَذحْلْ عَلی یَمیٔیک الْجَنَة و عَیْر لک و اییائسوں ہوا ےآ ج کک مات میں خھاء ا بکوٹی می رارب ے جوشعور و 00 + + + ھ20082 روش نکر ہاہے۔ اوراپٹی ذات ریم وک رم سے ریب سے اقمرب تب نکر پاہے ال سے پل الاحافات السنیے فی الاحادیث السفسدسے کات جمتت ہج میدہکی با یں کے نام ےش ہوئی الم دڈیی جا پھر الاحادبیث القد سب کا تر جم شر ”نما ت درک نام سے ز مگ ہے ائمد ین اب انل وفت' فجابات فرب ت جم دشر عوائ یآپ تج نب اعادییث ٹر سیہ کے مطالعہ سے السا صسوں ہوتا ےک کم شمدو فور ہدابیت :ٹورک فان ءٹو رق کا اض لگیا۔ احادہث قرسیہ پڑ ھت بی ای جل میدہ سے با ہون ےق ہیں ہرہرکلام زی سےحضمو رق نکی
7
تموری من کا ہی کا اطف وسرور ءکپر وم وراوررپ ۳0ھ فو ونفورکی رت عام و تام کا سساب سو ہہونے لگا ف البانع الاحاد یث القدسب کات جم حجلیات فد سے کے نام سے ںی 'أردوداںعوا مک کن تال کے پا مکوعا مر ن ےکی ضرور سے نی میدہ کےکلام فی سے ہرس اپچنے پاش نکومنو رک نے اور اس ط رح ج تھی کا پخام مرفائن عام بوجاے۔ بی سبب بنا نشی ک ےنب ا 0 0902 من الله ء و الْحَمْة اِله و الصّهُوَ السلامٌ عَلی خاتم الین مَنْلَا َبيَ بَعَذَۂ
عد بیش فی محد تی نکی ایک خاضص اصطلاح ہے قدوس کےسعکی باکیٹزہ اور طاہر کے ہیں۔ ای می میس ار مقر اور یت ال مق بھی بولا جا تا ہے۔
قرآن یرش ے یيَاقوْم اُذُخُلوا اض الْمْفَدَسَة الِیْ تَتَبَ اللہ لمع بل مد ہی ذات تما معیوب سے پا اک اورتمام نقانش سے مرا اورمڑزہ ے۔ اس لیے اس کے نا موں میں سے ایک نام قد ول بھی سے اور احادبی ثکو قر ںکی طرف می کر کا مطل ب بھی می ےک بعد بیث الد تال کی طرف مفسوب ای لیے اعاديی ٹر یکواعاد بین الی او رآ ا راب یگ گہاجاتاے۔_
یکریم خلافقحعد میٹ قد یکو جب جیان فرماتے تن بھی پواسملہ جم بیان رماۓے تاور 72 0 ص2۰۰۰ ے٢ 2 گر ےآ ارت ۳ سے جم پیل مہ نے فرمایا اور * ارشاوفرماتے ےکہائد تھا لی فرماجا ے۔
عدیغنر یکا تجریف
ال لیے حد یش ند یکا لحریف ہہ ےکمعد یش فی دہ عديیث ہے ج سک اللہ توالی نے اپنے نہ یکواہام ما خواب کے ذر لہا طلاع دگی ہہو یا جب نل علیہ السلام کے واسلے سے اطلاع دی ہو اور جناب رسول الد شلأفغ نے ا سکو انی عبارت اور اپنے الفاظا مل با نکیا -
:
دمڈؤثری مر انم ملا یمارگ کے مز درک عدیثِ ٹری وہ ہے جج سکو راویوں کے سردار اور ڈثےہ لوگوں کے 27 2
ینا نی تعالی 20ەَکگ۲"ئ0 ١ئ0 رق ال ہام و وی زی پذ ری تواب۔اورااس کے پیا نکمرنے می ںآپ توم ار ہو لک رشنن الفاظ او رعبارت کےساتھ جاہیں جیا نکریں۔
0و
(۲)
(۳٣)
2
(ے)
حد بیشفْ دی اورش ران مجید یں فرتی رآئن ئجیداورعد بی دی مل بڈافرق ے۔ ش رن ید وف رفا نحی رکا زول صرف نیل علیہ اللام اط ےی 7+ ق رآن می رلوب تفوطط کے الطاظط کے ساتقھ مقید وین سے جک حد میٹ ققدری میں الیبانیں ے_ ش رآئن ید ہروقت ہرز مائے میں ہہ رطیقہ میں سو ات طنقات کے ساتر نول ہروا 7 ہے ج بعد یش ند یج رآعادے_ ق رآن می رکو بی ہار تکا مل کے بات لگا نا درس ت نیش جکہعد بیش قد یکا عم یں سے۔عد بیشی قد یکو خی ارت کا ات اتجھ لگا نااور پڑھنا جا تڑے۔ ق رن مدکی ای کآبی تکاانکا رکف رکو از مکردبتا سے مہ حد یت قدىی کا مگ رکافر یں ہہتا۔ ق رآ نعی سورں او رآیوں کگ ا ھے اوران نے ےت وا لیکو پر2 یں شیک یا لتق ہیں۔ ہم ےق وتہدرل تن جک مد نے تفاظ تک اعلا نکیا ہے جک عد بیش فی کے لے ال کوٹ یم اب ت یں سے۔
۲
عد یشا دی اودرعد یث یل خرتی عدرمڈِٹری اورحد بیمث شوکی مل ما بالا از بی ےکرح یٹ تد یکیاظبد ت کن 0+02 جاب ہو ی سے مین جس عد جی ٹکی سند ادل بل میدہ نتم ووہ:ءرمڈدِٹری
ہسے۔
ادرعد بش نبوی قلأف دہ سے جن سک سند جناب مج رسول ارد علق مرخ ہو۔
عدبیش ندری کے شروںع بی بی ہکہاجا نا ےک ہآ حضور لو طض ہل یرہ سے روابی تکرتے ہیں یا چھر برا راس کہا جانا ےکستقن بل مہ ارشادفر ما تا سے جن سکو رسول الد فا نے ردابی تکیاے_۔
احاد بیشن رسک انتریف میں منف مین اورمتاخری نکافرقی
اعادبیٹ فدسیہ ان احادی ٹک وکماجا تا سے جس سکون یکریم خااغ نے من تھا کی جاب مغسو بکیا اورشقن تعالی سے روایی تکیا ہو اس لے منففر ۲ن کے نز دیک احادبیث رسب کی تحدادم ہیں چیہ متاخ بین نے اس میں وسعمت سےکام لیاادر سخ کی ےک ہردہ ور ن2 ئ0 70ل رظزل وک ور 3ئ اس ے۔
تقارنین ے التاددعا
ہارے این علاء ءادباء ءخطبا ہشقن رفس رمین نت کی نون کے ان عاتز ونچی دام نکو اختراف شھیر ےکن تھا لی کےکلا مکی ت جمالی کان ادا نہ ہوا۔ خوبصور کیب رات بن الوب ء تر جم مل روا لی ورعنالّ پیدا نرک ر کا تا پھ صن نیت ورك عام کےسب بکپوشن لک یکئی ےک ہآسان اور عا جم زبان اتا کیا جائۓ اک ہر شف سی تعال کی با تکوآسما نی ےبجھ نے دجو علم تو بھی ےکم ما یہ کے لیے نیل ہی ہے۔اپنے تقارین سے درخواست ےک اگ رئیں تر جب وتر جال ی می فائ ٢ی ہوکئی ہو یا سو ونسان سے نیم وتا خر ہوئی ہوتذ خلو شبیت کے سات مت کرد میں انشاء ادا کی
۶۳
0ا آ رم رے سو وڈروں ے ا ستغفارونرامت 9 0 درخ واست ہے۔ می را رب جس نے عاجز وآٹ مکونو یق چپٹی انی جناب میں اپ کلام قد یکوقوول تر ان ند عاجش مکومرعوم ومففور بن اکر رحمت واسعہ کے سامیہ میں نے نے۔ و ھُو عَلی مَا یَشَاء قَدِیْر وإِنَه َرْحَم الرَاحمِینَ . سُبْحَان رَبُک رَبً الَعزَة عَما فو وَسَامٌ علی المرَمَِيَْ و اْعمۂ لِلَهرَبْ الم ُبَْانَ اللهرَ بحَمْیہ, سُبْحَانَ الله العظِیْم ء ء سُبْعَانَک اللْهْمَ و بحَمُدِکَ وَاَفْهَد انل نر ات زَ ندرک وَاَؤْ زآہہ رفا نک آنك الشبی الْعَلِیْمَء وَتَبْ عَلَیْنَا اک انت الاب الَّحِْمْ 'للّهُمٌ صَل علیٰ سَیِْنَ مُحَمَدٍ تی لا فی مِنْ صَاِک مَیء الله سم عَلی سَيّدِنَّ مُحَمٍِ تی َاَتْقٌی مِنْ مُلایک شَیْء اَللهُمٌ بَارِکٔ غلی مُحَمّدٍ ختی لاق مِنْ
الرثوم:یوم الاحدء اکیاے اولیا رلقشنر
قبل صلاة الظھر لعشم نین انشرف امن الا شر ابرا وی نی فی مصلی الحبتورء دبی کان الله لھماو غفر وَالِدَیْه
۱۹ |ھ-و نیشن ماوھو پور سلطان پور ۸ءء ضلع بنا نی ء بہار
عال تم دی
"۴
کتابٔ الَصَائِلِ
فی فضل البی ا باب : حدیث فی التبشیر بالنبی افی التوراۃ باب : فضال وخصال اور را تک ہثارتت مات لی لا (۹8) عن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنھما اُن هذہ الآیة التی فی القرآن: ظِلأیُھا انب إِنا نت شَاھهذًا و مُيیْرا وَنَِیْراگ رالاحراب ر٥ قال فی التوراة: ”لھا النیٗ إِنَا اَرْسلَاک سَاھدا ہوک تس کا َبْدِیوَرَسَزلِيْ سَمَیْتک الْمُتوَکُلَء لیس بففظ وَلا غَلِیظ ولا سَخاب بالأسُوَاق ء ولا تڈقع السيَة باسینَةء لکن يَعْفُووَيَسفَحْ و لن قبضۂ الله سی یُقیْم به لْملَة الَْوْجَاءَء با یَقُولُوْا الا إللة إِلَا اللہ فََفتَح بھا اع حُمَیّاء و آَذانا صْمًاء و قُلُوْبا علق“ [صحیح] (أآخرجه البخاری فی صحیحه ج ٦ ص۹٦۱) رعول ال ےکی شان اخمازی (۹۴۱)ت جم : حخرتعبدااد می نعمرد بن الحاض ری الد عشہ سے روابیت ے کک برآیت جوش رآن تید مل ے: يأیھَا ابی انا اَرَسَلنک شَاھهدا و مُبَضْرَا و نَِيْرَاہک ۷0<ب:ہہ) اے ھی ! ہم ن ےآ پکوگوابی دینے والاء بشارت دہیے والما اور ڈرانے والا بن اکر یا ے_
۵
فذرات بیل اس رح ہے:اے ھی ! ہم ن ےآ پکو (قیامت میں ) گواری دینے والا اور( جن کی )شارت د نے والا اور( نا رم ) ڈرانے والا بن اک ھا ے ارم 210 حر[ًا للامیین سن حصنا للامیین اُیوں اورآن پڑعول کے و طف حفط اور جائۓے یناہ اور ماشن رشع کے بناک جیا ت۔ و ہے آ ا ہر رسولء مین خال یکا پا فو تک بپپانے وانلے ہیں۔ میں ن ےآ پکا نام متوئل رکھا سے پچ ۰۶۷۰ تا و برخھ ہوگاء شہ بی فخاسی القلب اورجنت عزان ہوگاء ث وہ ازاروںل نشی کن والا ہہوگاء تہ برا یکا لہ براٹی سے دتۓ والا بہوگاء بلہہ اس بی ری مکی شمان ایا زی جہوگیء برا یکا پر تح کر مکی وی ےجس ن خوٹی سے دےگاء بلکنو وورگز رےکامم ل ےکک وہ روف ال تع مکا من راتم ہوگا۔
اورئ تھا ی ا ںک رم ن یکواس وف ت کک اس دارفا ی ےیل أُٹھا ت ےکا کے کہ( لاد بائن باطل ہکفردشرک اورحقا تد فاسدہ سے )مت اسسلا مکو(دلال دآیات بینات اورجحزات سے ) تقائم وراجغ ضر ےگااوزائ نک واج ول پہوگ یک تام عالم میں لوک لالہ الا اللہ کی صرنٴں بن رکرنےلگیں کے کہ نہ ایک اڈ دعز ول کے علاو ہکوٹی مجبود ہر ن میں سے اوراللد اس نب یکیآ یمسحودکی برکت سجن سی 0 ۳ت مت گا اورقن بات کے سے سے بب ہر ےکا فو کون کی ابدیی سر مدکی سمامعت عط اکر ےگا اور خلت ومحصیت کے غااف ہیں ڈ کے ولو ںکونو رم نکی رشن سے منو رک ر ےگا
صداقت کا بین ائم الین بک یآ یر ےکم ہ کیا
لَهُمٌ صَل لی بڈرِ الام و صَلٌ لی ُوْرِ الام و صَلِ عَلٰی ماج دَارِ السُلام و صَلٍ عَلی الشْفِیٔع فی جَمیٔع انام
چم صراف تک بینارخمائم ا مالین و تسین ےکی یر ےگل ہوکیا ۔ لا ال الا ا کی جا لی نے صرا تن مکی راہ پر اکھٹاکر دیا۔ باعل کے ستتانوں سے اٹ اکر رٹ
"6٦
ذو باا لکی پا رگا ہکا ق مآن ومناجات کے ذرر یج ملا مک دیا۔ وگی ای کے یئ الد نیعت کے ذرلچہنا بینا نمو ںکو ریت بار یکل ت دینحیب ہولءاڈا نکی صدا لیے تما ںآ رات ار ا فآ کل سے ا لکا تا رحکبوت مس ٹگیا۔ رسول اکرم لاک یآمد با رکت اورشرلعت کے ہرعھم سے و یکا یجاح لگیا۔ و لکاکھلناع کی آوا زک داٹل ہو جانا جس ول می تن داشل وکیا و ول مرو لکہلا ن کا معن ہوگا۔ بی رس بکباڑ خانہ ے۔ مت کے لیے رسول اللہ ناک یکوائی وشبادرت
این ایارک نے مسعید جن میق بکا قول با نکیا ےک کوٹی دن الیبا میں ہوتا کہ تع وشمام رسول اللہ چلاٹاگی امم تکوآپ کے سام نہ لابا جا تا ہو ہآ پ انی ام تکوان کے کرو سے (یا خی علامات 2 سے یئ ای لی ےآپ ان رکیاررٹ 7ھ یپ یکواتی دریں گ ےک ہمیرک امت ہے )یا شاہدہون ےکا مطلب یہ ےکہ جب امت شح بیشہادت د ےگ یک تام نہروں نے انی انی امو ںکوال کا ام اد ہا تھا رسول اللہ چا نی ام کی فص رگ یک ریں گے۔
نما مہم ااصلاۃ والسلام کے لے شہادت وگوای
بای ءت نخرییء نسا لی ء این ماجہ یش حضرت ااوسعید خدر کی ردایت میں ےکہ رسول الڈد چلےئا نے فر مایا قیامت کے دن مو کو باواکر بے چھا جات گا کیا آپ نے جارا ام پیادیا تھاء نوج عوت لک میں گ ےک با ہاں ء پچ را نکی امم تکوطلب فر اکر در یافت کیا جا گا ءکیا تخ م کو میرا پغام نو نے پپیادیا تھاء و ہیں کے ہہارے پان ت کوٹ ڈرانے والایش ہیا (ہمارے پا کوٹ یکیو ںآیا) اس پرلوح سس ےکہاجا ۓگ تمہاراشاہر کون ے؟ کو ن تار یگوای در ے سنا سے بنضرت وح عون سکرس گ ےئگ جاور ا نکی کر ےئ ردابات من کہ دہگوا تی یس اممت مہ چڈلاوکو ہیی ںکرمں گے۔
کے
برامت ان کےکن وید ےکی لمت و علبیرالعلام ان رن کرٹ آے ہہارے معا لے میں کی ےگوابی دے کت ہیں نے اس وفقت پیرا گج یں ہوۓ تھے ہعادرے ز مان سے ببہت طول ززمانے کے بحع پیدرا ہو ہیں ۔ اس بجر کا جواب اممت یہ ہلا سے پے بچھا جات ےگا دہ می جواب در ےگ یکہ ینگ ہم اس وقت موج دی ےہر پهم نے ال کی خمراپے رسول چا ےس نی جن پہ ہماراامان واعقاد ے ال وفت رسول اللد جانا ےآپ ےکی اممت کے اس تو لکی تد لبق کے لیے شبادت لی جائے گی۔لیرارسول ال جا نی شہادت کے ذر لیا بی اتکی تقحمد لق ون فر ر6 پیلک یں نے ا نک ہہاطلاغ د یھی ۔شاہ رکا ایک ملبوم بھی ہولکنا ے۔ مت کے اعمال رسول اللد لے کے سان ہر وشھام ٹیس بہوتے ہیں
رسول اللہ چا بٹی اممت کے سب افراد کے اجیچھے برے اعما يکی شیادت دیس کے اور یشارت اس بناء بر ہوگ کراصت کے اعمال رسول الد پاٹ کے سان ہررو زع دشام اون روایات میس ہغتہ می ل ایک روز ٹیل ہہوتے ہیں ء او رآپ جلاق مت کے ایک ایک فردکو اس کے اعمال کے ذرلیجہ بات ہیں اس لیے قیاممت کے رو زآپ چ لاق مت کے شا تد ین لے ات نا
رسدل اللہ کی خاضص صفات
قرآن ید نے رسول اللہ چےلاکی با صفا تکمال اور منا قب کا ذکر فرمایا ے۔ شا دیشر نذ یرہ دای الی الد سرا نع مشیر ارشادے :
لها الس ِا ارْمَلَک شَاهدا و مَُقْر وَنَِیْرَا و دَاعِی لی الله اه وَ سِرَاجا مُیْرٌاه (احزاب:٤٥)
-7- 96 ھ ھی ثارت دۓ والاءَْ آپ اٹ اف ےکک تک ات لے ہین رک نے
۸
والامراد بی ےک ہآپ امت کے لوگو ںکوخلاف ور زی اور ناف ما بی کے عذاب سے ڈرانے وا ل بھی ہیں داگی لی اید سے مراد یہ ےک ہآ پ ام تکوادتالیٰ کے وجوداورتذ حر اور اطا عح تک ضرف دظوت دنن وانے ہیں_
دای اورقو مکی شال
رت ربیجہ جرگ یکا بیاان ےک( خواب میں مکوٹی رسول اللہ ا کے پا ںآیا اور انس ن کہا تہاری میں سسییس (مر) مان سی اور و لی تھے ۔حضور چا نے فرمایا چنا خی میریآکھوسورجینھی _ دولو لک ان نع رج ے اورو ل پر ہا انی ےک ین سردار نے ایک ھرکان فان میس دنز خر نل اور( کرت 7 و وہک پان وا ےکوکھجا۔ پکارنے وا ےکی آواز پر جآ گیا انس نے مرکان کے اندر داشل ہوک دسنزخوان پر (کھانا )کھا میا اورگھ والا سردارگھی اس سے خول ہہیا اورچٹس نے دائ کی نثوت قبو لک ںکی وہ نرگھممی ںآ یا نہ دسترخوان سے پل کھا کا اورسردار اس سے نزاراٹش ہوکیا 2ا ںکنتیر بی ےک سردار ال ےگ م(جوسردار نے بنا سے ) اسلام ےر چا داگی یں اوروست رخ ان جنت ہے۔ (روادالداری مگلدست خ ۵۲۸/۵)
اجس نے داگی مر ےکی مان کی اسلام قبو لک رلیا جنت میں چا ےگا اور اللہ تا یچھی اس ے خوش ہیں اورنس نے دا گید ےکی کی اسلام قیو لی سکیا دہ اپ اضجام بدکی طرف رواں دوال ۓ۔ اَللهمٌ اشْرَخُ صَذَرِی لَلاسّلام_
ام این چا کے ساتھ ام الامم راڈ تھا یکانل وکرم
ان الی عاتم یں سے حفرت وہب ابین نف رماتے ہیں بی اسرائیلی کے ایک نی حضرت شعیا علیہ السلام پر اد تھا لی نے وقی نازل فا یکہ انی قوم بی اسراضنل میں گھڑے ہو چا 2ء می ستہاریی ز پان سے اپٹی پا تی ںکہو او ںگا-
ان ان نل نے اف تی ان نت والا ہوں نہ بنکفی ےہ نہ ہکوہ نہ
(9
پاذاروں غ ور کے والاء ا یر رکۓ والا ےک ہاگ برا کے 7 ےر جا و وہ نہ کھے اوراگر پانسوں برکھی پچ رک یآہٹ واپ معلوم ہو۔ میں اسے خمنش خجریاں سنانے والاء اورڈرانے والا ناک کو ںکاء اور کہ ر ےکا و ںکوشنواکردو لںگاء اوز ڑگ الو راو ںلوصا ےگروو لگاء ہر چھلا یکی طرف ا سی رہبر کرو ںکاء ہ رنیک خلت اس بی موجودرکھوںگاء ول جتی انس کا مباس ہوگیء نکی انس کا وطبرہ ہوا نی ان کت کی تحت کس یں 2ن نک جات بک ران کا لق ہوگا جن ا سکی ش رلیعت ہ وگی ء عدل ال کی سیرت ہو ء ہدایت ال کی امام ہوگی ء اسلام اس کا دین ہوگاء ام یلاس کا نام ہوا ءمگھراہو کو یں ال کی وجہ سے ہرابہت دو ںگاء چاہلو ںکو ا کی بدوات علاء بنادو گا ء ڑل والو ںکوت یی ایدو ںگاء اض موں کونشہورومحرو فکردو ںکاءقل کو ال سکی وجہ سےکشزت سے نقی ری یکوالمی ری ے مفرفقت کو الشت ے اختا فک انفاقی سے بدرل دوںگا, خلف ز رنیازولؤ نکر او رر کردوںگاء چداگما زوا ہشو ںکو مس وکردوںگاء دن اکوال ںکی وجرے بلاکت سے بپیالوںگاء تام امتوں 0ھ ,ٰ9 9 0۶۲و" دیاش ,و ص۳ 9""0*۲ت0م موحد ہہوں گے مین ہہوں گے اخغلاض والے ہوں گے رسولوں پر جھ بیج نازل ہوا ے سبکو بے مات دانے ہہوں گےء وہ ای مسیروں گول اور بستروں پر لے پپھرتے بلتے اش مب ری جھ داز گی ادد بڑائی بیا نکھرتے ر ہیں گے ءکھڑے اور یھ نماز سس اد اکر تے ر ہیں گے شا نان تن سے میں با دہ ھکر ت ےکرک کے چہادکرمس کےء ان میس سے ہٹرار با لونک مبری رضا مندرب کی تو میں اپنا گیا رکچھو کرنگ لکھڑرے ہوں کے منہ باقع وضومیں عو یکر یں گےہ: ین ہآ ڑھی نیڈ یک با نیس گے میرک راہ میں تقر بانیاں دی گے می ری تس ےت ےت راڈ ںکو عابداور دنو ںکو مجابد ہہوں گےء میس اس نی کی اٹل سراف اھ ار کم ڈھہاریا "نو او نان
٭+ن
کی لمت اس کے بعدد مایق کی ٦ی 733 کے ات ضرن را فا گے 09 تم کان کےبمخائیشن اوران کے بای اور اع کے پرشواہوں بیس ببرے دن لا٤ٗ لگا بس انھیں ان کے کی کا وار ٹکردو لگاء جو اچیۓ ر بکی طرف لوگو ںکو وکوت دمیسں گےء وںکی این برامّوں ۲ئ زاداکمر سس گے ڑکا دیس گے وعدرے لور ےکر میں گےء اس خی رکو بیس ان کے ہاتھوں راکرد گا جوالنع سے شرو ہوا اہ ریدے میراتفلء ے ہیاہوں دوں اورش بہت بڑ نل وکر مکا مالک ہوں۔ (گم رت ع۵۲۹/۵) مور ےکی زان مارک اوردل مارک
تیوقت حضرت اقاضی شا ء اون صاحب نے فی رمظہری می فر ما اک ہآپ چےکی صفت دا گی الی الد خھاہراورز بان کے اتا رسے سے اورس راج مضی رآ پکی صف ت1ب خلا ف07 کے انار سے ےک جم رح سماراعا مآ قب ےرک نان یآ ہے ای رح تام مونین کےفلو بآ پ جا کے و رقلب سے منور ہو تے ہیں ای لیے عحابکراغمہچفصوں نے اس عالم می لپ چڈلائکی صحبت پاگی ووساری امت سے أضل وایٰ ترار جا ۓےکیوقکہ ان کےقلوب نے ققلب سی چان سے بلا وا طہعیا نا ٹیش اورنور حاص لکیاء اٹ مم تک پیل رسحا برک را کے واسٹے سے واسطردرواسطہہوکم بیا۔ (اٹ یکام)
اور بیگھ گکہا جاسلا ےک تمام انا خصوص] رسو لکریم چا اس دنیا سےگمز رنے کے بحدیچھی اتی قبروں میس زندہ ہیں ء ا نکی برحیات ہرز عا ملوگو لکی حیات بر زی سے بررچھازیادہفالنی ولنتاز ہوٹی سے سکی حقیقت اللدتھا لی بی جات ہیں ۔ بہرحال اس حیا تک یج سے قیام ت کک موجن کےفلو بآ پ جقاہ کےققلب مبارک ے استقاضۃ ورکرۓ ر یں کے اور تح یخت رت لی کا زیادہ اجتقما مر ےکا ان ورک حصہزیادہ پا ۓگا-
۵۱
حرات انی ظا
حیات کے یجن چچزریں ضروری ہیںہ جو بج اتم دائل رسول ارل چاو حاضصل
اد اقناعن انخریبء جسداطب چا ہکم کےنقیرسےمفوطط ہے۔
٢۔ اقناغع عن التزوعء امبات امو من نکی حرمت مکاح الی ابد الآبادہ بعد وصال ای ڈےاانی لقی سے خابت ے۔
٣ اتظنا معن التذربیثء ہہ نوں با ٹیس ھا ر ےآ نا ومولا ام اٹمن چے کی مارک ذات اف نکی ش رات میں جایت سکم ےتال کےطور بر ان جلت یکو بچھا دو کائی دم تک خیش گرم رہتا ہے۔ یرام مک نکی حیات ے۔ تی ہوئی شی نکی لوم کرددہ پیشھدامءکی حیات ے۔ اور لاشن رشن ہی رے اورخوب ریشن ہو صرف ری و شارغ اورلووں کے ورمیاں دہ وقا بکردیا جائےء برحیات ال لال سے۔ک نو تک راع مض ردوشن ہے ۔تیاب لوگوں کے درمیان ہے ۔ٹعخ وت ہ سان مضیراسی رح رشن ہے جس کر ھی یس جماری طرف غلاف ے۔
تخحبیل کے لی ےب حیات حنضرت موم نا اسم نا فو کی طرف راج تکر میں۔
انث باللهہ و رَسُولہ و صَلّی اللهُوَمَلَمعَلّی الیْرَاج الْميبْر وَالله الم راامرن)
مور ےکا وراورج ا کی 7
رسول اللد پل کے فو رکو راغ تبیہ د یگئی۔ حالامل ہآپ لے کا نو ر بالن آ ناب کور ےکمیں زیادد ہے ۔آقاب سےصرف دتیاکا ما ہررششن ہوتا ےا نآپ لا کے کاب مبارک سے سارے جما نکا پاعن اورم مین ک ےلوب ریشن ہو تے ہیں ء وجہ 1س ریمعلوم ہومی ےکم تچ ا یا رو سے استتفادہ اختیاربی سے ہروقق تکر سکت ہیں۔ ا کک دسا یھ یآسان ےا س کا حاص لکنا جج ی اسان ے خلا فآ و اب کے
۵۳
دہاں رسا یھی متیزر سے اوراس سے استفادہ ہروق تک ںکیاجا سا (لر-ت ۵۳۰/۵ معارف اق آن ے/ ۱۸) نو پیش حیات ا لی لا پہکریں۔ ا کا کہ بھی ےکلہ بات عام مردوں کےسماع کر کے اورکہیں کے ابا حضور بھی وفات پا کے ہیں فذ و بھی اس برٹن شال ہیں یادرنس بی مستلراجھماگی اوروداخائٰ ے- قب رکا مفبو مق رن وحد بی شک روک یل ”مقر الَجسْم فَهُوَ قِبْرْهُ 8دت القرآن اڑ آباء راقت اضفقانی باب ماد کیر: مرفات از ملا علی قاریٌ باب اثبات عذاب القیر) وا عم اس مہ بھالہ ظر ار بکڑے پا پالاجتزاء۔ اوراجمزاء عام ہیں انس لی شحل میں ہوں یا رھ ویر کی شحل میں ہہوںء اذا کات می ںکوٹی انمان الا یں جن سکوقب رنہ ے۔ ہرای ککوقیملقی ہے کی کے لیے وشن قیہرے اورسی کے لے مق ال جمزا تیر سے۔ وا تم لی قْر)ہ رمَرُجَع الضْحیْرِاَلانْسَان) فوَمَا ات بِمُسیع مَنْ فی الْقبُوْر ان اللهيَيعَثٌ مَنْ فی الْقورِک تم مات فَاقبْر ۂچہ رمَرْجَعٌ الضمیْرِ الانسَان) ڈإاِذَا بُعْيْرَمَا فی الْقبُورک چون قیامت کے ون ضتش راج زا انی ابی جہوں سے یں کےلیفراو مق الا جزا ٹیر ہے بی ےحضرت ابرائی علیہ السلام نےف ریا رب ارِنیٗ كیْفَ تخْیی المَوٴتی یچ اب یہاںسوال میں“ موق “سا َجواب می ف ریا جار ہے قد أَزیَعَة َال فصن الیک ٹم ال علی کل بل من ُء اہم اك نہ معلوم مواکہ نمولی مضقیظ ال جزاکھی ہونا ے اوران ضتش راجتزاء سے روح اتل بھی ہوتا ےہ وک رنہ طصہٰ نہ ادر اك یہ کیا ی؟ ”اذا وُضع الْمَيَث فی قَبْرہ َو ال
رنہ
لیهُود و النْصَاری اِنَحَذُوْا فور اَنبيَاِهمْ مَسَاجد راو كُمَا قَال عَلَيْ الصّلوةوَ 090 و بوَجُهو فَقال : اَلِسلامْ عَليْكُمْیا اَل القبُوْر. رمشکوۃ:۱۲۹. مَر اللبیٔ 8 بِقَبْرَی يْعَلَان (سخاری ج:۱ء۰ص:۱۸۲) مر النبی بغبُوْر الْمَدِيد فَقبَل عَلَيْهُمْ بوَجُھدِ فَقَال اَلسّلام عَلَيْكمْ یا مل الْقبُور. رمشکرۃ:۹٥۱)
ود الا ام چو قیرے مرادز یرہ پآ پق رس مرن ان لیے نہیں اس کے لیے صرف ای کفآ یت با حد بی یڑ لکرہیں ۔قی رکا مین کنب میں تی نکوٹوالے کے لی کوک ان می وم وف مل قکیضت ہے, یزاس می مراد یہ ےک نکوجل اک ا نکی راک ڑا دکیا جاۓ ال نکی قی رعالم رز یں سے او رجش کو ا جاے وی عالم ذزخش ہے۔ یں ملشن عالم برزغ کا حصہ ہے عال مز سے باہڑویں۔ ۱
عالھم سکتے ہیں ؟ ق رآ نکی روکی یں
نال مج نگم کے ہیں:() عا لم دنا (۴) عال مزع (۳) عالمآغزت
0و عالم دنیا:ولادت سے ورووصو تکک۔
)۲( عالم زغ: ای اِذا جَ]ءَ اََدَھُمُ المَوْث قَالَ رَبَ ارْجمُوُن َعلَیاَعْمَلُ صَالِکا فِيْمَا تَرَكُتُ کل اِنهھا كلِمَة هُو قَابِلهھا و مِنْ وَرَائهم بَرْرَحَ لی یَ یوم َعَلونَ) (پ:۱۸ءمومنون ۰ا می موت سے بوممم بت ثکتک عالم رز سے۔ (بمزغ تن چو ں کا نام ہے : مکانء زمانہ حال۔ مکان : قیر سے ن ےک رخنیین بین تک ز مان : مو١ت سے ک ےکر قیامم ت کک ۔حال : میت راحت ماعذا بکی حالت یل بب (الادکیء :۳ ب ۳۲٣:۰ ازعلا بی )
2 عم خرت :وق تم مو ث جا حنت وروزں
۵۳ ۱
ان تنوں عالموں کے اجکام و احوال ملف ہیں۔ ای کو دوسرے پر قیا نہیں کر سے جیے موی علیہالسلام نے عالم دناشل فراياطازبیٔ آرنیٰ اَظر الیک ہگ تابد ینہ لا کے عا لالہ ججنت (عال مآ خرت )بیس سب موم نکودیرار ہوگا_
تڑوں امو ںکی موت وحیات میں فرق عالم دنا یش موت وحیات دوٹوں ہیں ۔ عا حم برزغ میس موت وحیات دوثول ہیں۔ الر عال مآ خرت می فظ حیات ہےہ مو تکیںی ہے۔ وہاں مو تکوموتآ جائۓے ٌ عالم دنیاٹ حیات :إِفحالُ الرُوٌح فی الْجَِسَدِ _۔ لم دنیائیل موت اخحوَاج الرُوٌح عَنِ الحَسَدِ۔ ۱ عالم مز حات:تَعَلَٰیْ الرُوُْح بِالْجَسَدِ او بأَجْزَاءِ الْعَسَدِ ئیے رجھوٹ سے پم 3 کہ مو پائل لاٹ سیارے دظبرہ- ا اوھ سو را :(ا) سوال وجواب کے ووزنق شدیدہوتا ےہ بعد میں اتا رجا ےک یٹواب وعا بکااجساس ہک ےکا 27 بت ٹفل یف ہوتا ے _ کی ضصعف وہا ںکی موت سے ۔(٢) دوس را ول سے ے : ور نم فی السُزر فَصَعق مَْ فی السملوتِ ومن فی الَارض إِلّ من مَاء الله تم فخ فی آخری فَاِداہمْ قیام یرون پچ صعقی ای اتک ۔(جلالین سور٤ٗزم:۸٥) ل اع ار زس جدا جدا ہیں ہج نکوف لو اکر کے دموکہ دیا جانا سے )١( موت الد نو یہ ( ۴ حیات الروں (۳) جمرالفی چےٹڑکذوظا نی الروعضیۃ البارک تہ (۳) جمد انی حیات نی اروعضت البارکن ۔کجوگی تن بانوں ٹیل انفاقی ہے۔ چڑھی بات مں اخلاف ے۔
۵ھ
مدوت الد بے دی مہوت و نار کر وه الاقای آپ 2 ہوئیء اکر چہ عام مردوں اوراخمیا ہم العلام کے قو رع مموت میں فرقی ےک انی یم السلا مکواختار دیا جانا ہے تہ عام مر دو ںکواختیا نیس دیا جاتا۔ لا ددع ذی لآ بات نٹ یڑ جائی کی کپوئگلہہ ان میں دییوکی مو کا وکرے: إوَمَا مُحَمَذ الا رَسُوْلَ قد عَلث مِن قبله الزّسُل .... نک مَیّت و
- .- او لو سن کے ے هہرھ ھ و٥ .۴ 2 و0 مٹ--.
انْهُمْ مَيْتَوْنَ ... کل نفس ذَائِقة الْمَوّتِ ... کل شَيْء فان ... کل ث
ام میتون ... ہکےہ 1 تج شیء قان ... شیء ہ 2 2
2۶ و
قَالِک الا وَجهَ ... اَيْسَمَا تَکوْنُوا بر كُكُمْ الْمَوث ... َمُوَات عَيْرُاَخْیاءِ .. الله یَتوفی الأنفس حِیْنَ مَوْتِهَا وَ لی لَمْ تَمُت فی مَنَامھَا فَیْمٍُک اتی قعلی عَليْهَا المَوت وَيْمل الانحری لی أَجَلٍ مم یک رمْریل الأخریا ىہ لف ق رآنی آ بات اس با تک یبھی دحل می ہی ںکرروں ار ]عم سے باہ ےجیک نم کےساتم رمق ہوتا ہے۔) حیات الروں رو ںکی زندگی برکھی انفاقی ےکآ پ کی رو ال لن میں ے۔ چر ال یکفوتا ٹ الروصضۃ ا لہا رك“
یکا صیاطبرالآن کما کان تفوظط ےکیوک ہآ پ پ ےکا مرمان ”ان الله
خر عَلَي الازٌض ان تاکل اجَسَاد بَا .“(رواءاإودار) جم انی للا حیات نل الروطۃ الیا رك
ایل السقت واججماعع ت کا عقیدہ ےک تمام اخمیاء کے اجساوطیبہ اتی قجو مرا رضیہ مٹں
زندہ ہیں ء چیہ غیرمقلد بین اورفرۃ عما یہ کے نزدریک بےص٠ بے جانء بے شوہ ہی یم
۵٦
اور خھا مکمالات حیاة ا وھ یڈ (مماز ال ش)۔ تم 7 ا بات 4> یں گ ےکی اک چا اپ روضت اقویس میں اپ اص لی دیپ و یمم کے ساتھ زندہ ہیں تل خر مقلد بن او ریما ی ال پاٹ پردانل یں گ ےک روضت انی م سآ پ اکا تر مارک عحفت حیات نے نا نان وہ دیوبی موت وا ی آ بات پڑ ھکر ف فکرتے ہیں وفات فی القمر پر سی بہت مڑاووکہ ے۔(فو راگمرضتکریں-) مب رداکی حیاۃ کےخلف نام
(ا) حاة برزٹی (کیونکہ ممزغ کاصعئی سے بردہ اور وہ زندگ بھی بردے میں ہے۔) (۴) دنیوی زندگی (کیوکہ دنو یتم زندہ ہے۔)(۳) حا روعا می ( کیو تر جس اڈ احوال وکیفیا تکا ورودروں پر ہہوتا ےء خا ئا عم پر ہ چیہ عالیم دنا یش اس کے ہنکس ہوتا ے۔ (۴) میا ضی :(کیوککہ بچی دنا والا نیعم زندہ ہے۔) (۵) حاۃ موہ( کیوکردہ جیا عو اش ظاہرہ ےکی ہے اس کےہنی ہھون ےکی وجہ سے ا سکومتنو رہ کہاجاجاے۔)
دای
خی رمقلدین اورعماتوں کے پاس اپنے اس پرکورہ دکوئی س تلق یں بھی مل نر1 آاوے نات سے ن ہآ خا سا ری الڈ ٹم سے اور یہ بی اکا پر عماء دلاو ہنر رہم ال سے۔ا نک علر یق امتنر لال یہ ےکہ دگوگی اح صکرتے ہیں اور لوط ریت ہیں لا کرد نیوی موت داٹ یآ یات بڑھ پٹ ھکر ن ٹکریں کے وفات ٹ القر کے الیک بہت بڑا دعوکہ ے۔ لہا لکل فزاغ خوب 20 21 پر ان تع ات آگییں۔ لا اڑی ویل پیٹ یکریں جتس میں ا سض مککاممون ہ وک عدم حیات الٹی خلا ٹی ال روضد السا رکی ۔ مرا ننکا دوکی خابہت ہوگا-
لوٹ : ئل السقت وا لماعت کے داائل ق رکی زندگی مصنفہمولا نا نورام دنو نس وی
ے۵
صاحبدامت برکام سے دیھیں۔ اگ رزیاد خی نکرکی ہو ےک بھی دیھیں:
() کین ااصدورہمصتفہموڑا ن ایر بیث مر فرازصخررصاحب
)۲( سا الموقی مصنف موا نا جن الید یش فرازصاحب
(۳) مقام جیا تکلاں ؛مصنفہعلام مال رمودصاحب بر لہ
(۴) رت کا نات مصطفہموڑا نا تقاضصی زاب را می
(ھ) جزحیات الاخیاء مص نل اما ققل۰م۲۵۸۰ھ
(٦) میا الاخمیاءہمصتف اما نظ ی الد نک م۵۵۷۰ھ
(ے) اناءالاذکیاءی حیات الاخمیاء معن علام ہلوگ م:۱۹ااھ
(۸) آ بحات مصنفحضرت موا نا تام نا و ىٗ
(خوشبو الا عقیدہ رخقیرٗ حیات انی اص )۱٥۵: ای مھ بینگواذیت ڈلیف دی وانے مرلعنت
بای سکم میں حضر تک یکرم الڈدوچہہ سے روابیت ے :
ا) فَمَنْاَخْدَت فِْهَا عَِدَنا او آویٰ مُخْدًِ فَعَليْه لَعُنَةً الله و الْمَلائِک و لاس اَجْمَعیْیَ ءا يَقبلٍ اللَهمِنَه َومَالَْيامَة صَرْقَ ولا عَڈلا. ر فُظ البْحَارِیٔ : لا يُقبَلَ مِنَهُ صَرْفٌ ولا عَدل. (بخاری تحریم المدینةہ و کتاب فضائل المدینة. و فی الاعتصام بالکتاب و السنة و ایضا فی المسلم)
جو یینمنودہ یی نی بات پیدارے ب اکا بلق کے پائس جائے ائس پر اتال کی فرشتو ںکی اورقمام لوگو ںکی لحعنت۔ اس سے تقیامت کے دو نکو ٹیچ زقبو لکہی ںکی جال ۓےگی۔ (ہفاری بسلم)
)٢ مَىْ اَحَاف اَشْل الُمَدِبْنَة شُلْمً اَعَاقَه الله و عَليه لَعتَة الله رَ الْمَلايْكة و الس َجْمَعیْنَ لا َقَْلٌ اللهمنةُصَرْفَ ولَّ عََلا زین نجن
جوائل مد یکو نان و ےتصورخوف زد وکرتا اور ڈ راتا دھ رکا نا ے اد تھی ا کو
۵۸
ڈرا ۓگ اور الس پر اود فرشتوں اورخمام لوگو ںکی انت ء ال تھا لی اس سے ت ےکوی معاوضہ تو لف ما ےگا او ضتی ان سے زا وضحات ہئگی۔ ٣ مَنْآذیٰافل ھن تاشسشفھ ال نکر الناس اَجْمَعِیْنَء ولا بقَبَلَ مِنْهُ صَرْف ولا عَذل. ۱ ( مع النردانند واطبرالی۔وفاءالوفاءہض:۳ھا۔الباب الا یٰ) جوائل مھ یکو اذیت ذٴلکلیف د ےگا ای دنا لی ا سکواذ یت لیف د ےگا اور اس راڈ فرشتوں اورقماملوکو ںکیالصنت ۔اس سے پیج قیول نہ ہوگا نحجات ل ےکی ۔ رسول الد ےچ نے شرمایا: )٣ مَيْاَحَاف اَمْلَ الْمَدِيَة ظَالِم لَهُمْاَحَاة الله ء وَ انت عَليِْ لعنة اللٰ. (نسائی ء ابن حبان) جوائل ھ بیندکوڈراۓ با خوف زدہکرے ناف و بے وجہائ کو اڈ را ت ےگا اس بر ایلدنتا یقکیلعت ہو_ ۵( سعیدر بن مبیب سے رواب تک تضور علیہ ااصلاج والسلام ظر وا ریف ا ے و بات ٹاک دعا اگی۔ ہا ںک ککآ بپ کے لق لکی سفیدری نظ نےگی۔ اه مَنْ اَرَادَِیٰ وَاَمْلبَلَیٔبسُوْ فََجْل مَلاکۂ. (امن زپالۃ -وفاءالوفاء) اے الد !ا و مہرے سا تجھ با میرے ش رھ ینہ کے ساتھ ہرائی کا اراد ٥کمرے ال یکو جلد یل پلاک وب پادگردرے- ٦ عبادہ جن صامت لہ سے دوایت سے رسول الیل نے دعا اگ : الم مَنْ صُلَم اَل المَدِیْنة و ََاهُمفََِفۂ و علیہ لعَة اللرَ الْمَلایْكة و الناس اَجُمَعِیْنَ. لا يْقبَل مِنة صَرْف ولا عَڈل. ۱ (الطبرانی برجال الصحیح۔وفاءالوفاءءگ:٭ءا۔ا پاب اتا یٰ) ۵۹
اے اللراجھائل مد یھ ں7 ینان خرف کر 1ا ےظ ول ار اس پرار تا لی مفرشتوں اورقمام لوگوں یلت ے۔ ال کا ھی قیو لکہیں ہوکا زمنی نز فرش قیول ہو رقل )۔ ایک عد یی بی رسول انیصلی ایل علیہ یلم نے فرمیا: ے) مَن أَرَاد اَضْلَ ھٰذِہ الْبَلَدَة بِسُوو - یَقبی المَىبَْة - َذّبَة ال تعَالٰی کَمَا يَذُوْبُ الْهلّحُ فی المَاء (صحیح مسلمء کتاب الحج۔ باب من اراد باھل المدینة بسوء) جوائل مد بین کے ساتجھ بدخواہ یکا اراد ٥ر ےگا ادا ںکواس طرح ماد ےگا جس مر نم ککاوجود پالی می مٹ چا تا ہے۔(صسل تاب ان) 4۸ لم جَبًار اَرَادَ الَمَديَة بِسُوٌءِ اَذَمبَة اللّهُ ما 2 الَمِلَحُ فی الّمَاءٍ. (فضائل مرن سور مہ ٤س 6۹" وھ یلم وز یاد یکر نے والا یکل مد بین کے سا ھ برااراد ٥ک ےکا ال ای ا ںکو ماد ےگا جج اک یمک پالی یش مٹ جاتا ے۔ ارک شریف میس رواایت ےء رسول ا٥ی ال علیہ و۸۳ ۹) لَایَكِیْذ اَل الْمَدِیْنَة أَحَة الا إِنْماغ کَمَا یتما غٌ الْملخ فی الّمَاءِ, (بخاریء کتاب فضائل المدینة. باب اثم من کاد اھل المدینةء ك۱۸2) جوائل مر ےم ورہ کے سا تجھ دتوکہ دی ور کا معاب لک گار وومٹ جات گا یی ایک پای یں مٹ جاتا ے- طبرالی یل رواایت ےسا تب من خلاد دلادے : ۰ء مَيْاَحَاف اَغْلَ المَدِيَة اَحَاف الله َو الْييامَة وَ عَضِبَ عَلَيْه رَ لم يَقبْلَ مِنْه صَرْفا ولا عَذلا (طبرانی فی الکبریء ج:۸ء ص:١١۱ء رقم : ۷٦٦٦٦۔ مجمع الزوائدء ج:۳ء ص:٣۰٥)
٦٭
جو اٹل مرین ہکوخوف زدہکر ےگا الد تی ا سکو قیامت کے دن خوف زژدہ کرس گے اوراس پر نارائش ہہوں گے اوراس سے بلوھی قیول ترک میں گے (طرانی)
الخش اس سمل مس روائییں بت ہیں ج نکا احصا ءفقصووکہیں لمت رسول چا کے ارادے سے بی رداق نف لک یئ ہیں۔ شر مد بین کا ریہ و مرتبہ جمارے نصورات و یلا تکی دنا سے بہت بی بلنر سے ا سرز ش۴ نکی میں ومطرتز ب تکو ام نین اس وصل ہے جونش الم سے أضل دای ے۔(صلی الله علی نور الھدیئٰ و سلََ تسليمَاکٹیرا)
بہرعال جوائل مد بین اورشپررسول ال کے سامتین موی نکوسی بھی ط رع اذیت د ےگا الیل دنا لی ال سکود تیائجیل بھی عراب د میس ک ےکم ہلا کفک۷رد مس کے او رآ خرت میں گی عطداب ناردیل گے مد یاشیس چپ ےگا نہ ای آخرت میں عراب سے پ گا الد تعالی نہیں صاحب عو ینہ چاڈادرش رو بین کی حرمت وتظم تکوفھوط رک کرلعنت و پلکار اور لات وعذاب سے ہیائے۔آ بین ۔
وَرَویٰ اَحَمَد بِرِجَالِ الصَِْیٔج عَنْ جَابر بن عَبّد الله رَضِی الله عَنهمَ اَييْرٌا مِنْ أَمَرَاءِ الْمْتْنَة قَدِمَ الْمَدِیَْةء وَ کان قَڈ ذَُبَ بَضرَجَابرء فَقِیْل لِجَابر : لو تحیت غتۂه فَحَرَج يَمِیٌ یم اِبنَيْه ء کب ء فَقَال تجس مَنْ 7400۳0" 002 سی ء یا بت ۔..َ
فل امب قد اف مَا بین لی “ (المسندء ج:۳ء ص۰:٣٥٥۔ مع قصة و بدونھا۔ ج:٥ء ص:۳۹۳۔ و اخرجه ابن ابی شیبةء ج:٢۱ء
ص:۱۸۰۔ و قال الھیثمی فی المجمع 0 ص:٣٦۳۰۔ رواہ احمد و رجالە رجال الصحیح۔ وفاء الوفاء۔ الباب الثانیء ص:۱۷۱)
٦
امام ام نے جج سد کے ساتھ جابر بن عبد الد ری ای دشا سے ردای تکیا ےک رع کرت اق 0 7 717 ت ےک و کال تا ا کل ات ےک رت جابر وا کے؟ کھدکی رش جاچھ یپ ححضرت ابر خند کہاگ اک گر آ پ شدہ یر ہیں نذا بچھا ہو( می ایس حالات مم آ پ الل کتھلک بی ہیں یل ہآ پ کی 1 کدکی رش بھی جا گی ے) و حخرت جار خطاداے دوبیٹوں کے سہارے ہ ینہ منورہ سے پیل پڑے نو ا نعکوراتۓ می ںکوئی لیف ہوئی (لینی رات می سکوئی ٹوک گی یا وت ت۷س 27 ای ارت رد سی سے اصلے والسلا مکوخوف زد ہکرتا ہے ۔ میک نک اع کے دوول یٹول نے با ایک ن ےگئجب کہ اکہابا چان اکوٹی رسول ان یل کو ا ب مس ط رح ”نیف پاپیا سکما ہے کہ دہ دمیا سے رخضت ہ وگۓ؟ برک نیک رنضرت ما مر ضنہ کو جس نے رسول ار ڈچڈناکوفر ما ہودئے سناے: جوا بل مد بینہکوخوف زدوکرتا کر ےد لیکوخوف ڑد ہکرت ہے
(ا کو مر اج ( ج۰ بش:۳۵۳۴) میں پیرے واتے یی کی ے وس22
( :۳ بص:۳۹۳۰) نف ل کیا سے اور این ای شیبہ نے (رج:٣ابص:۱۸۰) می لف ل کیا سے اور الرواکد +٦: ٣ ۰6۷( ٭) رن لکیاے ۔اورامام ام دکی ند ےترام رای نہ ہں۔
تفصبیل کے لے وفاءالوفاء ا شیاردار ا صطف یکا باب الثای مطالیکریں۔ پرسالہ اس م وضو کا نہیں سے ۔یگ س7 ا ومولاصکی ای علیہ ول مکی محبت اورش بد یہک قرع تکی اط رب حدیشی ںآ ا کیا لک یگئی ہیں ۔ہچیجلہ باب می نپ نے بڑھا تھاکہ جو تضورعلیہ الو والسلا مکوازیت د ےگا اس پرل صن تھی ۔ا بآ پ نے بی پڑ ہل یاک مض شپ رش آ وص اول علی دس م٢ رام فرما میں اس شہرکے باشند ےلوگھی ازیت دمکریف د بنا معن تکا سبب سے اوراسی پر با ت تق م نیس بہولی بل روگی فداہالی وائی کے لب اطبروانورکوخوفزدہ کرنااوزنکایف بٹیانا ہے متلہ بہت ناک ہے ۔ جولوک حیات ال ی مکی او علیہ یل مکا 00ٗییی۷۹ٰ۷ٰ۷۷ی۷۷ًٔٔی 0 2 کک ےک اذییت و نیف کا ہوا حا ت کیا 0 ہے تظررت جار لہ کے
٣
صاتزادو ںکوحیا تک بات معلوم نی نو واللد سے وصا بط کی با تک ۔حظرت جار اہ نے لیکو ںک مھا د اک تضورعلیہااصلےۃ والسلا مکی حیات باقی سے اور وہ ات یق بی وم کل دنر نے ہن کی ےا نک نال ال علیہ لم کے لب کے دکھ در وکا پا حعث نے اگر اص مرنگی حیات ہوی اٹل بعر کے سماتجھ رلطا 2 اورخ ریہ والوں کے ورد وا م سے تی ہکیوں ہوئی۔ جم اجماع مت کے ساتھ حیات نی علیہ ااصلۃ و السا کا عقیدرہ رکتے ہیں اور ا یکو ایمان اد پل رسو لکی حتقیققت جات اور مات ہیں
الم صَلٌ تالی سَیِّنَ مُحَمدٍ بذر الام و صَلٌ لی نُوْرِالظّلام َ صَلٌعَلی مِفتاح ڈار السُلام وَ صَلٌ عَلی فِیٗ ججمیٔع انام بعد مَعلومَاتٍ لک وَبَارک وَسَلم.
ِا يَشْمُ مَدی الَّمَان عَوَالیْ
تج :کوئی حر نہیں ا ٹس کے ےک جس نے احیص فی الا کی تیر بر ککی شب اوس ون لیا ہے۔ اس بات می سک اگمر دہز ما ےکی پہ رین خوشمبواو نہ سوہ کا۔
ہوۓ عمق بسر برک صدق عکیدو خی دیں بدستارکل شرع انی کرت بوت و رسماات برعہیب اورگزارکردار بداماں حر تج :نس جن نکی مکی 1ک کا خمزہ جعدر نفش و ز مظان ء جن نکی زلف ےکی ری نکا صدرقہ مکی وکلاب؛جشن سے مارت ش ق رآ نکاخکس اور میں ا سجن وخوشبو پرم رن ےکا ائنٹ استمارہء وہ ذات اف اما مکعپہہ ببیت ال می ںکیرج نکی شمعم جا نکوخرا تین من کر نے 2" ".02 شٹھنیوں پر پچھول ا ٹھا ۓکھڑرے ہیں اورار با پیل وع رفان ا نکی مستا نر خوشمبو کے استتقبال میں علوم ومعار فکوگوڈر وسیعم سے وضموکروار سے ہیں
۳٣
خر تکحب اجار بی الڈدعنفرماتے ہی ںکہ جب الد تھا لی ن ےآ پکو پیر اکرنا
جا قح بحم حفرت ج نل علیہ السلا قراط روالی تہ سے سغیٹی لان پک نیک نے ے خ زا یا او نی خروں میں ڈلو یا گیا ۔آپ چ ےکی والدہ ماچرہ نے جو ما مات دھے ان :و یی دیھ اک ولادت کے رو ڑآ پ ڈو جا نی 2 ہین میں یآ یت ما تیر کر کے من ناک جس ا ملک اذظر کے دھاگے سے حفرت انس رشی ایل رع ہے ہیں میں ن ےکوگی من ککبر اور کوئی خوشبودار جن ہآپ جا سے زیادہخونبودارنیں دشچھی ۔ لوک چا ندی کے موتو ںکی رع یکن وانلے پیینہ مار ککوئع کرل ارت تے۔ ایک جار دوران استزاح تع تی وت کے موی سراپاۓ رسالت سے ڈحلک ر سے تے او رحضرت أم یم شی ال دعتہا ٹیش می فو ووکرردیٹھھیں فآ پ چا نے او چا نویس چم ا سکوحط میں ملایں ک ےکیوکہ برای درجہکی خوش بد ہے۔ مد بی طیبہ یس ای کگھرانے کے پا پییینہمبارک تھا۔ وہ جب بھی استعا لکرتے شب رم خوشبوییل جائی و مکمربیت مین سمش جو ہوک تھا۔ جب شراب عرام ہوٹی نو جح ن ےس لبھ یکیااورحضرت ام لیم شی ادلرعنہا ےآ پ پا کے پیینہمپارک سے معحطر لن ےکر لگاکی ۔آآب ننس 0, تس ںا معطرر جتا۔ نس ے کےس ربپردست ادس ہگ ہرد نت دہ حطر بیز رکی جس دوسرے بچوں سے منتاز ہوچا ا حظرت چابر بن رہ رشی الد عنہ کے منہ پر پ لا نے بات ھی راف یں یسوی ہو اک ہآ پ لان کے بات مبارک عطا ری خطردان سے کے ہیں ایک با رآاپ ےا نے زم زم کے برن بیس لعاب مبارک ڈالا فو پودا بر نکستوری کی طرح میلنے لگا۔ حطخرت جابر یی الڈدعنہ نے ایک دفع مر نو تکو منہ می نلیا و اس ے خوشسدو بپیموٹ ری تی۔1ب چے نے عق ری اللہ عنہک یکم رپ ات ھ مبارک و مر کے کچھ را ان ے اتی خوشب و یت یکا نکی ار زیبیاں خمایت تےزخط لگا ی تھی ںگرحفرت عق نکی ہک النا بر اب رہق یھی ۔حفرت اس رشی ادع ہک وآ پ لاف نے برک تکیا دعادی۔ ا نکا ایگ با
٦ك
سال بیس دوم رت پیل دبا تھا۔ اور اس مشیل ر ببھالن نائی ایک این سےکستور یکی خوش ی تھی شب مع اع مآ پ الاک خوشبودینوں سے جیز تی ۔آ پ لا نے ضر کوثر میں تی ہوٹی مک اذف میس دست ارس ڈاا تھا ء عم خونشبو ہونے کے پا وچ ومکشرت عط اتال فرماتے ء اس لی ےک ہآپ چا کی جھجن ھی یزمسلرانوں اورفرشتوں سے لمات اورخزو لق رآ نکی نا عطر ما یج یمفقصودتھا ۔آ پ ےک فر مان تھاک جس کور ببھان دی جائے فو وایں شکرےء انل لکیہ ائ لکی اصل جنت سےلنی ہے اس باب میس ذوقی مبارک جیب تھا۔ف رما ےکمردو ںکی عطرارسی ہوٹی جا ہ ےک خوشددییلہ اور رک نظر نہ ے اورورنو ںکی اب یک خوشبو ن بی اور رن ک نظ رآ ے ہے و اسوں ححضرت جسن نر کی ا تن کی فور کت ا کے ےک کت کے پچھویں ہیں ؤکر سے عو ںکی بدت ارشادت اکہ جن تک یکیار ہوں ےتک یاککرو۔آ پ ےکی والدہ ماچرہ ری ایل عنم فرمای :یش نےآپ ا کوخہایت یاک و صاف جنا۔ ڈعون نے وا نے ول سے جان لیت ےک ہآ پ لان اس جا بتشریف نے گے ہیں۔ جب عالم بالا کا سفرشروں ہوا تو خوش بوئوں کے نواس تا گے کہخشت بررسی سس کے کک ر1 خر تک یکونپلوں سے بقاۓ مولی کے شنے ےشن کے اورمیارک لہوں سے زفاقت ال گے پازی پپھول تھٹرنے گے وصال شریف کے وقت اور إعر ازاں غشبووں کے ان چےکاروال احماس ام کی تح زم ت۷ر تے ر سے ۔آ پ چ انور نظ رلنی تک رحفرت سیل ہ فاعم ال ہرارشی ارڈ رعنما نے تر تی میالر کفکی می سو دک خر مایا تھا : شس نے مھ چڈلاندکی ناک (مزار) سوھ کی سے اسے جیا ےک ع گب رکوگی خوشبو نس وکھے۔ تی ہآ پ ےکا ارشادتھ ھک جو حصہ مر ےمنبمراورق ر(نشریف ) کے درمیان ہے وہ جمممت کے پائیچوں میس سے ایک پاضیہ ہے یقت بی ےکہ تام جو جیوں اورخونم وو ںکا پہلا اور خری م رکز یی ے۔ اہم صدّ و بلّم عليه)
(زخوشبو وا خقید وقیر٤ حیات ال یی اوڈرعلیہ وم:ضص۱۵۵)
19۵
بدا جن سسلام یل دکی صداقت وشہادت رسدل جا )۹٢( و لابن عساکر عن عبدالله بن سلام: ہپ مم نسشتر سس ضوت وت ہس ہو مس یت ”نت ابْنْ الم أُفْل َقْربُ؟ قَال: نَعَمْ. فَال: : فَناشْدڈنک باللِ الّذِیْ نل الَوْرَةَ لی طُوْرِ سِيَةَء مل تَجد صِفَیی فی الْکتَاب الَذِیْ اَل الله لی مُوملی؟ قَال عَب الله بن سلام: اسب لن رَبک يَا مُحَمَدافَارَْجٌ اللبیٔ
٥إ فَقَال لَهُ جِبْرِیْل: ظفل هُوَاللَ اَعَد ہ اَللَهُ الصُْمَدُ لم یڈہ و لم یلد ہ و لم یکن لَ کَفُوَا أَحَدک
فَقَال ابْیْ سَلام: اَنْهَد اک رَسُزْل اللہ وَأنُ الله مُظھرُک رَمُظْھرُ دِپٔیک عَلَی فان ۱ اي لج صِفتک فِیٴ کتاب الله: ھا النبیٔ إِنا تنک تسا رت “الَكَ عَبدِیٌ و رَمُوْلِیْ مَعَیْتَک لْمُمَوَلَ لیس بِفَظء وَلا غَلِیْظ ولا سَخَابِ فی اْسُوَاقِء وَلا يُجَري یں لہ ا ولک یق وَيَسْفَمْء وَلنبَقيصَۂ الله تی یم بہ لملَةالْعَوْجاۃ, می یَقولو لا الہ ِا الله ء وَیَفممَ به اع میا و فان صِمًّاء و قُلرُب غُلَقَا,“ [صحیح لغیرہ] (کما فی کنزالعمال ج ۱۳/۱۲ ۳۵۲)
(۹۰۳)تھ بج مہ : ححضرت عبدالل بین سلام دیلنہ نے جب رسول اللہ چےک یآ مدکی یت رس رف لے ارات ا ا داظات ای سز ال لا نے ان سے ف رما اکم بیٹرب کے عالھم کے بٹنا ہو؟ انھوں نے جواب دیا :ال ! آپ ےل نے فر مایا: می ت مکواڈدتھال یکیاعم دبا ہوں جنس نے فورا تکوطورسییفاء یر ناز لکیا۔ موی عفت ا سناب میقم نےنیں دیھی جو می بر نازل ہوگی ؟ عبدالل جن سلام نے
٦
واب میں خر مایا: ا ےھ ا ا ان ربکا نسب نام ہلحم سے پیا نکمروہ میک نکر بی ایندلا گرا گئے.۔ ہکیفیت ہوتے بی جق رش نشیف لاے ادرف ماا:
طقُلْ هُو الله اَحَڈء الله الصُمَذء لَموَلڈ ول بُوْلَدء وَلَمْ يَكنْ لَهُ كفُوَا اعد
آپ ان لوگوں س کہ دت یچک دہ مجن اللہ تھا لی ا ےکمال ذات وصفات مل ایک ےے٤ الد ایک سے الدالیما بے یا سے وک اتا میس اوران اس ات 7ات۳ الاک ارد کی اولاد ے اور وی اس کے پرابرکا ے۔
برک نک بدا جن سلام لن ےکہا :می سگوابھی دبتا ہو لک ہآپ الد کے رسول ہیں اور تھا یآ پکوخابرد ےگا اورآپ کے دی نکوخمام ادیان رغابرد ےکا اورییں نے کی صفت دشھی سے ب تاب لیس :
طإيأیھا الْبى انا ازمُلنک فَاھهدا و مَُيْرَا وَنَدِيْرًا4
اے نی !ہم ن ےآ پکوگوابی دنن والاءبشارت دہیے والما اور ڈرانے والا بن اکر بھیجاے۔
آے یرے بنرے اوریرے رسول ہیں ۔ میں ےت تا نام متول ںی تھا ی 7 روس کر نے والا رکھا ے۔ تہ آپ بنعکی و بدخو ہیں ء نہب یپ خت دل وخت ماج !ںہ نہ پااروں میں شورؤ لکرنے وانے اور نہ بی برائ یکا بدلہ برائی سے دیے وا نےء نپ خان اغیازی ےء معاف رای والا اور الد تھا ٹی اس ھی (آپ ےو کواس وف تک ک نی اٹھا ۓگ یہا ںک کک دو( آپ چا ) اون ال یکوھلا مقائم و را کر کےگررادی کے راستو ںکوص ا ط ٹیم میں شہ بدل دہیں۔ بیہا یک کک لو کفکہرد می لا اللہ الا الله اورا تال اس نیع مک یآمد سے ہدایت سے انواعو ںکوور ہرایت دے در ےکا او تق کی صدراکو سن 5(سٰ277 د ےکا اورول کے تال کودو کر کے
بدا ی تکا درواز ہ لگا درے۔ (کنز الما ل۱۴ء۱۳م۳۵)
٦ے
سور اغلائ شنھون نو حیداورشر کک تر دی کان ایر
خی وحاکم میس ےک ہش رین نے رسول اللد لا سے الد تال یکا سب لی سچھاء ین روایات ٹیس ےک بھی لو بچھاکہ اد تھا یس جک بنا ہوا ے سوا جا ندیی یا اور نو اس روابیت بی سوا لکر نے دا لے عبداڈد بن سلام ج ائ لکتماب کے م یی مل بڑے عالم تہ اا نکی رف سے تھا۔ بہرعال اڈ تھالی نے اس سوال کے جواب میں سور اخلاص نازل فرمائی ۔ اورصاف طور بب وا حکرد بالگ اک الد تھا یکی ذات چ واجب الوجود ے اورتما مکمالا تکا جام اور تام ناش سے پاک سے پچھر یی صورت میں صذا تکایان ہے فسسسل سے نبوت ور سال تکا خبوت ہوا پھر آحسسد سے ان تمام اعت اضات بش گول و شبہا تکا جواب سے چھشرکین وبہودکی طرف سے کے گے سے وہ ششس طرع ذات کے اظتبار سے ایک سے ابٹی صفات مس بھی ایک سے ا کا ت۸ ومشثال ہونا را لکاشمان بے ٹیازک سے ند یکانا نع ند جج کا اع سے اورسب اپے دجودد با یش ای کعختاع ہیں ء ا سک یکو کی او ویو ںکب وہ دہ گی وجوم سے وو س بکو مارتا سے اورخودوگی لا بھوت سے اور شرد شک کی اولاد ےکس بکا تھا خالقی سے سب ال سک لوق ہیں خرام جال مکا رشننر اس ےمثخلوقی ہو نے ےک ہے اور وہ قام عا مکا خالقی ےاورے شی وعمائل ہے اس کے برابرکوک یں
کے نک وک یتر ےس کی تا اف امام ہہوٹی ہیں ۔سورة اغلائص نے ہرطرح و ۱ سے ک۸ یق دیا ےءکیوفکمکرین نوحید یں ای کگرد نے خوداولدتوالی سے وچو ود یکا مر ےش وجود کے و ال ہیں گر وجوب وجوو کے مر ہین جج وولوں کے مال ہیں گ رکال ہیں ان سب کے خیالات پاطل کا تس ۰ 21-9 کو ری کی ںکرےگمرحاجت روا اورکارسماز اید کے سوا دوسرو ںکوجھی بے ہیں ان کے
1۸
ضیا یکا ابطال لفظاصم یش وکیا یتخس اللمد کے لے اولا د کے قائل میں ال کا رد لمیلد یس ہولیا۔ وارلہا]کمء (معارف اق رآن ۸۲۴/۸) رعول الہ اق جا ئکمالات رنا ٹی کےنونہ ہیں
جا کھالات رای مھ چا ہیں ۔آ پکی جا معی تکا غلفل ہق رآن مجیر یش وی رای نکر نازل ہوا ۔جخرت عطا ء یلد شاہ ارک فا کرت تےکر اشن نے مھ ےا کی سیر ت جس سال میں جیا نکی ے ء نے بچل رک سک ما لکہ ال ںکا احاطہکر نےء ابھی آپ بڑھ گے ہی ںکہ ایک ہی آیت مم سفن تعالی نے پا صفا تکما لکا ذکرفرمایاے۔ عدبیث قدی لا رعی ےک الڈدتھالی ن ےآ پکوعبد ورسول متوئل وغیرہ نام سے تارف کرایاء پان ےبھ یکاپ چا سےصسن سلوک بلق ٹریم فو وت سا ہ مرو چھلاکی دادودکش کا ادا موح برموح مشامد ءکر کے ہیں بازارجی نحفل تکی م" جج یآ پ کا متا نہ ہونا اور کلام می نمونۃ انساحی تآ پک جا می کی ول سے جہاں قم مکا سٹھالنا آسا ن نہیں اس خو یکوعلامتنبوت ورسالت بنا گیا۔ عحبادات وطاعاتء کر ومنا جات ٹگوش تل کی نز ہہ جہاں ہف صکی رسائی زامکن ننس عحال ہے کم بازاد جہاں دوست ددیشن اپنے بگانے ء خمام ادیان 0 ۶ ۳۲۶ ۷۲و" زیادہ اجوم ہوتا سے ایے مظقام پر اس ات م الک لکی رسالت ونبوت کے اخلاق فاض کو رت پناک ہی ںکیا میا بے او(۸ نے خو بآزمایا سے دیھا اور رکا ے۔ رٹ لت نے یف ریا ط(انک لَعَلی عُلَق عَظِیٔم
تنا خرافات و بدعات >کفر ور اوہام رق یکا خا تم شج کی آمد سے ہوا۔ اب تھا یکادین صاف وشفاف ہے کسی گنک وش بک یکنیانگ ہیں الْحَنۂ لو غَلی ِیٔن اَاسُّلام و الصّلا و السّلامٌ عَلی سَيّدِ انام وَنُوْرِ الظُلام۔
19
باب : حدیث فی علامات النبوۃ
ب
)۹٤۳( عن عدي بن حاتم قال: بینما انا عند النبی ظٌ إذاناہ رجل فشکا إليه الفاقَةً ء ثم أُناۂ آخرُ فشکا إليه
قطع السبیلِ فقال: یي0 پ7 7 7 ہے ً2 ۔_ ٹدھ 7 ہے
”با عَدِیٗ! مَلُ رَابْتَ الْحیْرَة؟ فلت : لُمْ ارَهَاء و قَذ انبنُتُ عَنْهَاء فَال:
1 دو کے ھ ور ا نر و 2 و ےج تو“ یَ 72ے ۳ھ 0+0" ہے دہ فان طالتٌ بک خَیاة لَتَرَیَن الظعیّنة ترتجل من الَحيْرَةِ حتی تطوٴف بالكعبَة
72 َ 7 22 ہب ۔ھ و ےؤےےہد۔ ۹ھ 7 ٭ >ہدہ۔ ئَ ا إلا الله ۔ قلثُے۔ فِيَْمَا بَْبٍی و بَیْن نفسِی۔ فایْن ذُغَار
جہ
لا تخاف أ طیىءٍ الَِّیْنَ قُذ سَکَرُوا الْبااۃ؟!
و لین طَالَث بک حَیا لَفْتَحَنٌ کُنَوْرٌ کشری. قُلتُ: کسٗری بُنُْ همُرْمُزَ؟!! قال: کشری بُن مَُمُز
و لَيِنْ طَالَث بک حَیَاة لین الوَجْلَ بُحْرِجج مل ءَ كفه مِنْ ذَهَب او
2 وھ وھ دے ہ۔ 2 وھ ں۔ہ ھ ا ء٤ 5 ۔ ۰ 2 اي ےمسرد قم ۸ ت.۔ ے ۸ سی جئار آڑی ۸ 1 اق اللة اخ وہ۔ھ فضہ بی بَطلبْ مُن یقبله مِنة فلا یٰجذ احذا یقبله من و لیلقین ا احد کم یوم 2 ہ۔ ھر ھ5
یْلفَکَ؛ فَيَقُوْلَ: بَلی. فَيقُرَ: اَم اک مَلا و وَلَدَء و أَفْضَل عَلَیْک؟ يقوَلَ: بَلی. قينظرعَنْ مه فلا ری إِلّا جهَتمء وَيَنظرعَنْيَسَارِہ قَلا ری لا جَهَتمْ.“
قال عدی: سمعث البی صلی الله عليه وسلم یقول: ” اتقوا النار ولو بشِْق تمرفہ فمنْ لم یجد شِقَة تمرۃ فبکلمة طیبة. “
قال عدی : فرأیث الظعینة ترتحل مِنَ الحیرۃِ حتی تطوف بالکعبة لاتخاف إلا ال وکنثُ فیمنْ افتعخ کنوٌ کسری بن ھرمزء ولٹنْ طالت بکم حیاةٗ لترونٌ ماقال النبی أبوالقاسم صلی الله عليه وسلم یخرجّ مل ءَ کفه.
[صحیح] (أخرجه البخاری فی صحیحه جلد ٤ ص۲۳۹)
٭ہ+ے
عاا مات ثبوت و شوابیرساللت
(۹۳۲۳) تبحم : عدی من حائ نف رماتے ہیں: ایک روز ہم رسول الد چا سے پا موجود ت ےک ہیک شس حاض ہوا اور ال نے نفرد فاق کی شکا بی تکیاء پیر ایک دوسرا ت٠س حاضرہوانٹس نے راستہ ٹیس لوٹ ما رکی شکابی تکی ۔چ سکوی نکر نی اللہ لا نے ارنشادفر مایا:اے عدیی !تم تن کیا تجرہ( ایک مقا مک نام سے مصکن میں دیکھا ہے میس نے عون شکیا نیش دیکھا ے ؛لیان جیں نے سنا ہے ۔آآپ پل نے ارشادظرماا: اگ تریح یھی ہوئی دج ےگ اک ایک (بوڑھیتصعیف ) عورت سوارکی پت رہن سے سف رک ر ےکی او رآ کر یت لن لوا یکر ےکی اود ا کی سو اتکی ےنارت رتا ال میں ایامک خطرہ وخ دش سو نہیں 7ھ 9ص" مور گی رت خطرہ نہ ہوگا) دی کئے ہیں : یکین کر میل نے ول ہی ول شسکہا: بچھراس وفت راستنہ کے ٹٹیرے ای ےکہاں لے جائیں کے جودتیا می ںآنگ لات ہوۓ ہیں (لقی لوٹ مار اور غار تگمرکی کا باذارگرم بیے ہو ہیں و ہکہاں لے جائیں گے؟ رہ جواب تھا ا لآ دی سے جس نے راست کی بدام یک شکای تک یھی ) اور گر اے عدی ! تی عمرگی ہہوئی کس رک کےنزان تم رکرو گےء میں ن ےک اک ہکس رکی بن ہر ؟ نچب یں آ پ چلال نے جواب دیا: پا ںکس رکا بکن برز۔
اوراگ کی ع ربھی ہوئی فے دیپ ن ےا کہ ای ک1 دٹی تھی کی رکرسوناا جا خدگی نےکر لکل گا اور ایا آدٹی ملا گا گر ای اکوئی ا سکونییں لگا جو اس سے تو لکر نے (ہ واب ہے ا سآ دٹیکاجس ن ےن روف قہ کی ونک کی خی کی )۔
ارم ہیں سے ایک خی سے ااژدتتالکیٰ ےکا قیامت کے دن او را کے اور الد تعاکی کے درمیا نکوکی ت جما نکی ہوگا ء جو ا سکی ترما یکر ےکی ایڈ ودب مکلام ہوگا ۔ ضردرااس کہا جات گا ۔کیا تی رے پا رسو ینمی ںآ یا تھا ؟ جس ن عم لی پیاا ام کو؟ وو عم ضکر ےگا :ہا لآیا تھا تق تا لی فرما ت ےگا :کیا مکو مال واولا دیس دیاگیا تھا اورتم
اۓ
ال کا شا رنفل نہ ہوا تھا ددع ت کر ےگا:ہاں ا غوب ہوا تمہ وہ اب اہین دانی طرف د ےگا تو سوا۔ژ نم کے اور بج وظرتہآ ےگا اور پامیں طرف د ےکا جم عدکی کے ہیں:
ین نے رسول المد جا سے سیا ت0 ےا تے 1 2.2 سے پیا اکر چہ کیو رکا ا کگڑابی ۶ ء۶ کسی کے پا س مجور6 نگڑاۓ ہوٹو| ھ0 ان .ص۰ -- ء۰ دےوو_
عدکی راوئی کے ہی ںکہ :یس نے اٹ یآنگھموں سے دکلیاکہ ای کعورت تر سے فرکر کےآکی اور ہبیت الال رکا طوا فک او راید تھی کے سوا ا کو ابی جان و مال رکون توف وخطرہ نہ تھا اورکس کی بن ہرز کےنزان کون لوکوں نے ایی خودکھی ای تھا اورلوگو را تھی تم لوکو ںکوزندگ یھی دےذ ضرور دلو کے جو نی ابو تسم ےل نے فرمایا ےک شیک رکرسونا ؛ جا ندکی ای جح نےکر پھر ےٹاک کوگی نے لے ہر لیے والا نہ ٹ گی... (اخرجرابفاری۲۳۹۴)
اس حدریث یش نچ یکریم لے کی نبوت ورسالل تکی نت کی ےک د ریم نے بے سروسا می اور یش شی ما ہیی قوت وشوکتے کے بی تمردے دگ یک کس ری جن بر اسلائی فو جوں اور بی ائی خلا برایمان لانے وا نے مسلمانوں کے ہار ہوگا اور ووخمزاشہ جوساللوں سے سا لک خیہروں نے رکھا تھامسلمانوں کے لے یی تھا ایمالن لاے رٹ ذوالپال پر اوراس کے نی محصوم پر کے غیروں نے فقا سلمین سے لیے اموا لکوکف وط رکھاء برا نکا خمزانہ اور ا کی تفاظت این لیے نہ تھا بللہ نی آخرالماں چا کے خااموں 2 لیے تھا ۔ جح سی ارت لممان رسالت بآ او رر فاروثی ×2 بتفزانہجونبو تک ہی کوکی ھی ری ہوئی الحمد ِله علی دین الاسلام والصلاۃ والسلام علی سید الشفیع فی جمیع الا نام۔
۲ے
دوس رکی بشارت الکن داما نکیا یک جن سے ایک عورتسوار ہوک رمک عم لی بیس ٍپپ ھ70 لوا فکر ےگ اور کون جا کیا ء شہ ما ںاور شعمرت ٹا ول کا خدشہ ہوگا اورفرافت کے ساتھ طول سفر ٹ ےکر ےگیا۔ تق پان چا ے الا مکی صداقت دابات اورشرافت وشچامعت پرکہ چہاں لو ٹحسوٹ بل وغار تگرکی اورعفت مس تک پاالی و بے نی عا ای ء چندسالوں میس اس قو مکی خو خی کسر بدل دیااور کابا لٹ دی۔ راع میں خوف ون 7 بلنر معیار اتا ان دکیا کہ ایک عورت من سے عبت ایآ کی ے اورطوا فکرپی ے اور ا ںکوذ ھی خحدشہ دا نکی یں ۔کہاں میں دہ مو دگڑے دار چ دن اکواسلا مکی طرف سے بدما نکر نے میں نرک ومشخول ہیں۔ سور تو ہین والوش مک وک سور کی نر تہارے نا اک ہل سے پاک ے اور ینا پا کی تہارک طرف لوٹ جات گی اور ىیرنظام الکن ہنی کی طہہارت مق بکی نقاست و نطان تک بیاد بر تھا شعورکی کی زی اور ذو کی سلاپئٹتی پرتھا۔ٛ سکی نیادنیآخرالماں ےا نے رکھ یھی کل کا ڈا کا پاسپان ون پان ہی نکیا تھا نک وت را تکی تار بی میس لوگوں نلم تم تماء اب ودی را تکی کی میس فوبہ و استتغفا رکا مظہ رتھا۔ جو٘ لیک لوگو ںکوژ اتا تھا جرونشرد ےج ووخوداجۓ معاتی وزلوبے رادم او رآ٥ و رکا ہی ںعفوو مففر کا طل گار بل نکر پارگاو رٹ العطنت میں حاضرتھا۔ نیف الف ماں چڈلے کی نوت و رسماات نے انساثی تکاعمزت گشفی اور ہرطرف دعحمت بی رحمت م نک چھاگئی ۔ فالحمد اِلَه ربّ العلمین والصلاة والسلام علی خائم المرسلین رحمة للعلمین
و من فضلە للٗ ان یشھد هو و أٌمته لنوح عليه السلام
باب : حدیث یدعی نوح یوم القیامه شیارحمت اکا عندائدمقام دمرتہ )۹٤٤( عن أبی سعیدالخدری طہ قال: قال رسول الله ٭:
۳ے
9 ص ص۰ و 7 ےھ ھ2 ”يَدُعی نوخ یَوْم الْقَِامَة فیقول: لیک و سَعْدیْک یا رب ء فیقوّل: ےھ وھ رز کر 2 وھ و ہے ےق و دو ےھ وو اق ہس ی۔ قُلببلغت ؟فیقول: نعم. فیْقال لامّی: مَل بُلغکم؟ فیقوْلَوْنَ: مَا اتانا من کےمھو عو و2 ر ور لے و کے“ 120 سب7 ظا ۔ لق 4۸و ا و ھا ھا نذِیٔر. فیقوّل : مَنْ يَشْهَدُ لک؟ فیقوٴل: مُحَمَد و امُتهء فِيَشهَدُوْنَ انه قد بلغ وَيَگوْنْ الَسُوْلَ عَلَیْكُم هَهِيْذاء فڈلک فَولَه جَلَ ذِكرَة: ہے ےھ ہےزد ط وٹ ےر بح حا صڑوھو ھر ےر ےر لَ ۶ کذدلک جعَلنکم امّة وَسطا للتکًونوا شُهَذَاءَ عَلی الناس و یکوْنَ 2 7ے وھ و ک> دے الرسُول عَلَيْكمَ شهِیّْدا (البقر ہ:٤١٤٥) [صحیح] (أخرجه البخاری فی صحیحه ج ٦ ص٢٦٦)
رسول اللہ اور پکی امت کا اتیاز ےک نو علیہ العلا مکی اتکی حارت ےکن ےن فو ین
( ۹۲۳) تر جم : حضرت الوسحید خمدری داد فرماتے ہی سک رسول الد چے نے ارشادفر مایا :وب علیہالسلا مکوقیامت کے دن بارکگاد رٹ العفت میں بلایا جا گا ءووعرٹش کمریں گے :میک و سعدیک ۔حاضرہول مارب تعن تھالی ارشادفر ما گا :کیا آپ نے بات اد یش ؟ وا کرمیں گے: ہاں پچیاد یی قوم سے عن کیا جات ےگا :کہ یں نے جن تال یکا ام ید مکو مایا تھا؟ قوم نو جواب د ےگی: چم لوگوں کے پا نکوئ بھی الد تھا یکا ام لن ےک نمی ںآیا تن تالی نوع سے فرمایں گے :آ پکامگواہ کون ے؟ ( ہشن قوم من رساات سے انکا کر دی ہ ےآ پک جاب سےکو نگوای دےگا) دہع صکریں گے: مھ( یا او را نکی امت ۔ پچ ر امت رحمت ان کےجن شسکوابی در ےک یک افخھوں نے رسسال کا فریضہاداکیا تھا اور امت رجح تک شبادت پہ صداق تکی مپررسول ال ےکی ہوگی۔ ٛ سکا ذک رق رآآن پا ککی ا ںآیت میس ہے:
ظو کذالک جَعليكُم اَم وَسَطا لنَکوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَی الا رَيَگُوْنَ از عَليکمْمَنة)
"ا
اور ہم نت مکو ایک ای جماعکٹ بنادیا سے ج9( ہر پہلوے ) نہایت اخترال > ہے تک تم( فخالف ) لوگوں کے متقابلہ می سگواہ ہو اورتہارے لیے رسول ارگوا ہ ہوں۔_( ا رج الفاری )۲٦۸٢
اتکی صراتع پر رسول ال کی شہادت
آھم ن ےت مکوسب امتوں سے الضل او تار بش رکوسب پمروں ےکاٴل اور رگید ہکیاء کہ ال فلت او رما لکی وجہ تم تام امتوں کے مق بل می سکواومقبول الضشهسادة خراردے جا اوریررسول اللہ ےا تمہاری عدالت وصدراش تک یگوابی دیںء -- اعادیث یں وارد ےکہ جب کی ُمتوںل کےکافرا بے تیٹروں کے کو ےکی تی ب کین کے وین ےکپ ری نےکبھی دٹیا بی بدائی تو ںکیء انس وشت آپ چے نکی امت اخمیاء کے کو ےکی صداقت پگواہی در ےکی اوررسول اللہ چ جوا اشوں کے پورے عالات سے واقف ہیں ا نکی صدافت وعدالت پرگواہ ہہوں گےء ال وت ودای ںکہی ک یکہ:اخھوں نے نے نہ ججاراز ماشہ پاباء نہپ مکود یکھاء پھر ابی کیےمتبول ہڑکتی ے؟ ال وق تآ پک اممت جواب د ےگ یک ہہ مکوالد تھا یک کاب اورااسں کے رسول کے جلانے سے اس ام راعلم نی ہوا ءال کی وجہ سے مگوای دتے ہیں ۔
(فواترحخنی) ۰+ ++ رھ و 7مھ امک ىی اک ای دای با مین ای )۹٤٥( عن أبی سعیدظلہ قال: قال رسول الله ہل: ”يَجِيَی النبي و مَعَةُ الرّجُلان و یَجیّے النبي وَ مَعَة الشْلانَةء وَ اكُنْر مِنْ ےۃ کے غۓ ہ,۔ ھے۔ دو ےو ے و سے :- :- 5 ڈلک و اقل ء فَیْقَال لہ : مَل بَلَغْتَ ومک ؟ فیقوْل: نَعَم. فَيْذعی قَوَمُةُء کو ہیں کا ےت فو 20ط و ار رو مور کے عو لا رق ہت ار ضا کرو ہے تو ہے قیقال: مَل بَلَغَکم؟ فِيقَوْلَوْنَ: لاء فیٔقال: مَنْ شھد لک؟ فیفوْل: مُحَمد و - بھی - سس تہ و بھی تج 7 7 مه ء فشْذعلی اَمّة مُحَمَّدِ فَیْقالُ: هَلُ بَلُعْ هٰذا؟ فَقُوْلْوِنَ: َعَمْ. فَيقُوْلَ: وَمَا
۵ے
رو 0 کے م72 قال: فَذلِكم فَرلهُتعالی:
و الک جَعَلْنكُم اَم وَسَطَا لَکوْنُوْا مُهَدَاءَ عَلی الَاسِ وَیَگُوْنَ الال َلَيْكُمْ شْهِیْدٌاک (البقر ہ:٤٤٥) [صحیح] (آخرجہ ابن ماجہ ج ۲ )٣۲۸۲
(7)۹۵ جم : ححضرت ا وسعیدر دیلدہ سے روادیت ہے رسول الیلد لا نے فرمایا: قیامت کے دن ایک نی نیس کے اوران کے بمراوصرف ایک انی ہہوگا اور دوصرے کے 0 اب ۱ے و رن زیادہہ اع کہا جات ےگاکہ :کیا آپ نے اٹ یق مکونن ایا ؟ وہ ہیں کے :ہا ں کنیا ء یووم عو ضکر ےکی :یں ء اٹھوں ن کوک ینغ خی ںک ین اس می س کہا جات گا: آ پکاگواوکون بے دوخ شصکمریں گے: ہار ےکواد مر اور ا نکی اممت ےپ ھ ےئ اورا نکی ام تکو بلایا جا ۓگا اوران سے ارشاد ہوگا :کیافلاں نی نے اہن قو مکو کیاھی؟ عق لکرس کے ,ہا لک یی ء اب پلاقاادرا نکی امت سےسوال ہہوگالہ: اس ارے می ںت مکللمکیسے ہوا؟ (ج بکتم بعد سآ اور یلو کتم سے پی یگ ر چیے ہیں ) امت یی صاجہا الف ال فتحی عم قکر ےگ : ہمارے پا نمی ال علیہ ااصلۃ و السلا مآ ۓ اور الھھوں نے تردک یک رسولوں نے ای انی فو کو یی ءفو پم نے ا نکی پا ںکی تد ب قکی ء جن سکوالش رت اعت نے اچ قول ہاو کلک جَعَلْكُم أمَة سط لَمَکُوْنُوْا هْهَدَاءَ غَلَی الَاسِ وَيَکُونَ الرّسُولَ عَلَیْكُمْ شَهِیْداب میں با نکیا سے :اور ای طرں چم نت مکواممت وسط بنایا اکم لوگو ںک یگوابی دداورتہارگی شہادرت رسول دیں۔(بخاری ٹریف)
مامت کے دع شماذت فوع کے لے جب آع ت ےکی
٤۔۹( حدثنی عبداللّه بن عباس ظلہ کلھم رفعوا الحدیث إلی رسول الله ٭ّۃ:
ے٦
ٰ اه يدُغُوبُوعَا وَقرمَةيَوَ الَيامَة َو الاِء فَيقَوْلَ: مَاذا مم َوْحا؟ فَيقولوْْ : ما فَكَانَا ومَا يلع ولا نَصَعَنا ولا أمََنَا ولا نَهَانَاء فَيقوْلَ نو : دَكَوْنهُمْ بَا رب دا٤ فَاشِیًا فی الولِيَ وَالَاخِرِينَأمَةبَعْد اتی لھلی إلی خَاتم اي اَنمَد فَالَسَخَۂ و قرَأَه و آمَْ به و صَتقَة فَيَقُوْل الله للملائکة: افو أَحمَد وَائتةء فیا رَسُول اللہ فلا وه َسْعی تُورْهمَیَْ َيَدِيْهِمْ ء فَقُزْل وخ ِمُعَمّو و آئیہ: مل تَعْلمُوْنَ اَی بَلعْت قوْمی الرِسَلَةً؟ سی سو ید رم شس .7س وفهُمْ دای إِلَافرَارا؟ فَيقوْلَ رَسُوْل الله ة گا زامنة: نا ذشْهَدُ بمَا نشُڈُتتا به نک فی جَمِیٔع مَا قُلكَ مِن الصَادِقِیْنَ: فوقوم نوٌح: این عَلِمْتَ هذا أَحَمَۂ انت وَتنکَ وَنَحئ ول امم وَأَنكَ وائُنک آجز الاَم؟ فیقُوْل رَسْزل الله 8ڈ بشم الله امن الَّحیْمہ فإإنّ ارسلنَا تَا إِلی قُوْمِه ان اَنذِر قَومَک مِنْقَبْلِ انب أٰيِيَهُمْ عَدَاب الیم قَرا السُورَةَ ختی عَسَمَهَاقَإٍذَا حَمَمهَا قالَث امنَة: َفْهَد َ هذَا لَهُوَ القَصَص الحَقْ وَمَامِنْإِلِ لا الله وَإِوٌ الله لَھُو الْعَرِبْز الْعَيْم فَيقُْلَ اللَهُعَزَوَجَلَ عِنْدَ ذڈلک: ِمناؤوا الیوْمَ ھا المَجْرِمُوْنَ .كَهُمْأَوَلَ مَنْيُممَازُ فی التَار“ [اضعیف] (أخرجه الحاکم فی المستدرك ج ٢ ص٤٥٠) ( ۹۳۷) تم جم : حطر تعبدراشد جن عمائس یندم ما رعول اڈ جا سے روابیہت گرتے ہی ں کمن بل مہ وخ اوران کی قو مک و قامت کے دن تام لوگکوں میں سب سے پیل طل بکرمیں کے اورجق بل مرو توم وں "ئ0 نے لو کک وکیا جواب دیا تھ:(جب افھوں نے تم لوگو ںکونحید ورساا کا دحوت دب یھی ) توم جواب رت مت سح ےت تن کے ےآ یا نی کسی نے ہم لوگو ںکونی یح تکی ء نرجی ہم لوکو ںکوسی نے چھاا کی اعم
ۓےۓے
تا شرب کی نے چم لوگ ںک وف روشرک سے روکااور ہر جکیا۔ یىی نکر وں علیہ السلام پارکاو رٹ العت یی یی کن کے وین نے ان لوگو ںکوع تھا *عام دنام دکوت دی گور زان وآخرینء ہر مت دوسرکی أ مت کے بعد میری دگوت ون کو جانقی ے۔ یہا لک کک یھ واج خاتم المرین وفاتم بین ےکک میریی دگوت و پغام رسای خر مشہورہہوگی او را سخ ولک ےک فو ظا رکھااور ا کی لاد کیا ادر اس پرا یمان لائ ۔اوراں تصدی قکی ہکرت بل میرف ختو ںکوگم دیس کہ امھ چا اور ا نکی ام تکو پلا و
یں رسول الللد بلاق بارگاہ رٹ العطیت می لت ریف لاشیں گے اور ا نکی ام بھی جہ ان کے سان ور چکتا ہوا آ گےآ کے ہہوگا_ اس وفت نو علیہ السا شر علیہ ااصلے والساا مکو اورا نکی امت سےکئیں گے :کیا آپ لوگو یکو اس با تکا اطلاع ےکہ یش یت قو مکونوحید ورساات پیا دا تھا؟ اور بی نے پور یکول کے سا خی رخواب یکی مجح تکی ھی اور ری طاقت کے سات رکشت لک یھ یک ا نکونا جم سے کال لوں بای او رش یتین کے کر جج گی می کے ا وید :کی ان کی رف پاا با دو ھا گے ھی گئے؟ اس وفت رسول ادڈد چلااورا نکی امت بیک ز پان ہوک رع لک میں گے: چم لونک گوابی دپنے نی سکہ ہوجگیآپ نے بارگاہ رت الھڑت بل بیا نکیا ےآ پ اس میل ہے کے ہیں۔ بے سفن بی قوم نو بول ا گی : آ پک کی معلوم ہوا اے امھ جاور ات رمعت؟ کہم لہ ائنئی ہیں اورک پآخریی امت ہیں( جمارے اورآپ کے درمیان زماض لویل ےآ پکو اہ ںکا ٣لم کییے ہوا؟ )یی نکر رسول اللہ اق ہآن با کک حلادت ری تے۔
ہم الله الرّحَمٰنِ الرّجیٔم طإإَِا ارمَلنَا تُوْحَا إِلٰی قَوْمه أَئ أَندِزْقَوْمَک مِنْ قَبْل ان يَنِيَهُمْ عَذَابْ الیم
پھم نے وع (علیہالسلام کوا نکی قوم کے پاس ( مہ اکر ) کیا تھا کرت ابی قومکو(وپا لکفرسے )ڈرا وشن ائس کےکمرالن پردددناک عزا بآ ۓ-
۸ے
اش آے ری سورة وخغ خر جک بن گے چپ سور 1 ول اف اص جا بول اٹ گی : جھ مگواہی دی ہی کہ یہ جج دا تحعات ہیں اور الد تھی کے سواکوئی صمتبوونیس اور ینک ایز بروستتکست والا ےہ اس وق تج ہل مجر ہفرما ۓےگا: یرہ ہوجا وآ نج کے دانع ء اے مچجرمو!۔
توم فوج سب سے پل دوقوم ہوگیء جوینم 2 0
(اخر را اکٹ السعر ركک۲ع۵۲۳) ام تکورسول الہ ہےاناکی ممیت عا 0
ای عدیث میں ججہاں اس با تکا تدکرہ ےکہ امت چلافا نمی مت چڈے کی محیت میں پارگاد رٹ العنت میں رسالت وج علیہ السلام کے ہوک یق کی صراق ت کی شہادت د ےکی ء و میں اس با تک یھی بشار تلق ےکہ بوقت شارت امت رحمت عا م رسدل اللہ لاو معیت ب یھی ہوگی-
یز بل مجر ہکا أؤمت رم تکو نی رححت کے ساتجعھشہادت کے لیے طل بک رنا قیامت کے ون ایک خی موی اعمزاز واکرا مکا اعلان ہہوگا او رکیول نہ لیتق تعا لی نے ق رآن مر یں می اعلا نگ دیاے:أمّةَ وَمطا لَمَکُوْنْوا شُهَدَاءَ عَلَی الَاسِ وَيَگُوْنَ ارول خَلیکُم شیا جس کا عاصل بہہوگاکمصرف بیہامت می الل تما یک جناب 9 و
ال اکب کی رآ ء یف ینیقی تقیقت وفضیلت ےکہلو علیہ السلام کے ڈٹوگ کی رات ایت کرت ارت ات ان پا کاو ا یک جا تی
را با تگا ار تکھی ےک امت جب پارگاہ رب اعت ین ا ا ا ا ا ا ا و و وم ا ا ہوا اورسا مۓ دوڑتا ہہوگا_ مت سکی طر فف رن ہے از یا کان ۳ 8 میں گ: رَبنَا انم لا ُوَْنَا و اغفْز لن الک عَلی کُلٍ شَىْءِقَيبْر_
۹ے
اےقمارے یلب امارے لیے اس و رکو اش جک رکئے اور ہماری مخقرت فرما
دتجیے باشبہآپ ہرز بقادریں۔ باب : فی فضل الصلاة علی النبی ہلا ي ي7 پاب: فضائ درودضسلام
(۹۷) عن عبدالله بن أبی طلحة لہ عن ابیہ: أن رسول الله ہل جاء ذات یوم والبشر یری فی وجھہ فقلنا :إنا لدری البشر فی وجھک ؟ فقال:
ِنه ابی لک فَقَالَ: یا مُحَمۂا إِ رک و انا زسیک ان لا یُصَلِیْ عَلَبُک اعد مِن ایک إِلَا صَلَیْثُ عَليهِ عَشْرٌاء ولا يُسَلَمْ عَلَبَک
2-۰۸ 2 ٠
لا سَلمْتُ عَليْهِ عَشْرَا.“ [صحیح لغیرہ] (أخرجہ اأحمد فی المسند ج٢ ص ۲۹) حش دروروسلام اورز:ولٍ مت ورغوان
270962 7 والر سے روابی تکرتے ہی ںکہ رسول الل ایک دن اس عال می لتشریف لات ےک ہآپ کے چر٤ انور سےخوڑی ومصسرت کے خارنمایاں تے۔ ہم لوگوں نے عون سکیا: یا رسول اللد چا اب مآ جع آپ کے روے ا ور پرغی سجمولی بناشت و بثارت اور شادما لی شس و ںکرر سے ہیں ۔کیا بات ے؟ آپ لا نے ارشادفرمایا: مھیرے پاس اٹھی فرش ھآیا تھا اور اس نے اطلاع دک کہ ا ےم چپ کے رب نے فرمایا ہ ےک :کیا آپ اس بات سے خون لیس ہولج ےکہ جوگھ یآ پکا امت یآپ پرایک پارددود یی ےگا یس( اش اس پر یں دحمت ناز لکرو لگا اور ج بآ پک ات یآپ کوسلا مک ےکا کی بی پر وس یی ان ارول 1 ۔ (اخرج ام رق الو ر۲۹:۲)
2 مل رہ رسول الد جا پردرودورہمت تج 90
رسول اللہ چا بر الد تھالی دددورحم تکییجتے ہیں بت تعال یکا رسول اللہ چا رصلوۃ
چیچناء مجن رحمت وشذقتت کے سا ھآ پکی شجاء اوراعزاز واکرا مکرتا ہے اورف رت بھی ۸۰
کین ہیں گر ہرایگ کی صلو 2 اوررحمت وگ ریم١ یاشان ومرتبہ کےموافی 7"
علماء ن لھا کہ ارڈ دکی صلوق رحمت ینا اور فرشتو ں کی صلوج اسنخا رکرنا اور موی نکی صلو ۃ د اکرنا ہے ابا اوڈر نے م می نکویعم دی ےبرتم بھی لوت رجم ت کمچ ای ہا ال وَ مَليْكَتَه بُصَلوَْ عَلی الَبيْ اھ الِیْنَ امَنوْا صَلَوْا عَليه رَ سَلَموْا تسِْیْما4(سور 7ا7 اب )اوراشراوراس کےفر ششت رحم ت کے ہیں رعول پہ اےاپمان والورسمت ٹوا پر او رسلا کو سلا مکی کر
کین کات ت۳خ ا کن
جن تعالی نے موم نکوعھم د ہا کرت بھی نی برصلوۃ (رحمت )کمھجھہ نی چا نے بتلا ا کیتھہماراچھینا یہ ےک الد سے درخواس تک وکردہ اتی ٹیش از یش رکنتیں ابدلآ اوک پرنازل فرما تا ہے کیوکہ ا سکی رقتو لک یکوئی عدونہا یت کیل بجی نکی رعمت سے اس درخواست پر جوم بیدرکیں نازل فرماۓ دہ ہم عاجز دنا بندو کی طرفے سوب کردی جائیں کو یا م نےگجھگی ہیں حا لاکمہ ہرحال یش رحم تکینے والا دہ بی اکیلا ےی ند ہک یکیاطاقتتش یک سیدالاخمیاءکی بارگاہ ٹس ان کے رجہ کے لال ن تن بی سک رسک ے۔
حضرت شاہ صاح بلکتت ہیں۔الل سے مت ماگنی اپنے نبرا وران کے ساتجھ ان کےگھرانے پر ہلڑی قیولیت لصتی جے اق پران کے ان جع اڑژں ف2 کت 2 بب 0 یں 7ھ پراب کا بنا کی جا ےاتا 7س کر نے (فواترعخانی)
امام مار نے ابوالعالیہ سے دوای تک ےک الیکا اپنے نی پر دردوکمیینا ایۓ فرشٹوں کے سان ےآ پک شفاء جصف تکا بیا نکر نا ے۔ اورفرشقو کا درودآپ کے لیے دعاکرنا ہے۔ شی برک تک دع اکرنا ہے۔ ابن عپا او کشر الع مکا ول ےک ہ ال کا
درودرٴ۹ت ےفرشتوں کا درود اس خفار سے ۔حخخرت عوطا رھ الد علیف رما ہیں ء الیْر
ا۸
)نل روط از مت رس ا نے درودوصلو ۃعلی انی واججب ے پا مس خجب
عم رٹیل ایک مرتبہآپ پر درود واجب ہےء پھر جب ہے ۔ قاصحی عوائش نے وجوب کےقو لک تا مدکی ہے اورااس پر اجما اف لکیا ہے۔ امام الوی درا مام ما لک کا بی قول ہے۔اما مھا و نے ا یکواخیارکیاے۔
آخری قععدہ میں درود بڑھنا
ہرمز کےآخریی قعدرہ می سنشہد کے بعددردد پڑھناواجب ہے۔امام شا َء امام ابوعزیفادرامام مالک کے نز دیک سنت ہے۔ اور امام شا شی کے نز !یک فرش ہے۔ اور مٹبورت بین روایت ٹیل امام اکا قو لآ اکرددددکوتر کک نے ےنم یں ہوٹی۔
)۷ تر مدکی میں حفرت الوہررہ نی اللدع نکی عدمٹ ےک رعول الد اتا نے فر مایا اش کی ناک خا کآلودہوینس کے سائے می رات کر ہآ یا ہواورانس نے بجھ بر درودشہ گی ہو۔(تزی)
)۲( جاب بن سسھرہ طول کیا روایت ےک رحول الد ےچ نے فرمایا جس 2 ساتے مبراذک رکیاجاۓ اوردہ جھ بر درودنہ پڑ ھ دہ دوز رخ یل چچلا چا ے ء ادا ںکودور برتھے۔(طرای)
(۳) رسول الل ہے نے فر مایا میرے پاس ربیل علیہ السلا مآ اور انھوں ےکماءجھ ضس کے سان ےآب چپلےاکا من کرہ ہہواوردوآپ لاف بر درود نہ پڑت اوراس فیرےث :وشن ججاااے لن اللاا نلز ود ر گے رن
مث( تحمور جا نے فمرماما جس کے سا مبرا ذکر ہو اور ال نے جگھ پر درود یں بھی دہ بدحجیب ہوگیا۔ (اینکق)
(۵)( رسول اد لئ نے فرمایا جس کے سا نے ممبرا ذک رآ اوردہ مھ بر درودتہ
۸۲۳
بڑھےء ودکیل ے۔(رڑی)
(۹) جس کے ساس مرا ت دک ہآیا اورااس سے جھ پر درود شعن ی یھو گئی اشن سے جم تکا راس بچھو ٹ گیا (طرانی) ایک درودیٹیںجتیںء دس رعحتء و خطا معافء ول در ہے بر
0و جظرت الس لہ سے رواایت ےک رسحول الد لاق نے فرماباء جو جھ پر ایک درود پڑ ےگا اللداس پر دس دنن نازل فرما ےگا اور وس خطانشیں ساق اکر ےگا اور یں در ے بلنا گر ےگا (اجہ والنا ری فی الا دب المفردءنسائی حا ام )
(۳) حضرت الد ہریرہ یل دکی ردایت ےک رسول الد چےگن نے فرمابا جو ایک پار ھ پردرود پڑ ےگا ادذل باررححمت الس پ ناز لف رما ت گا (روا لم )
درودش لی فک مشروکیت
تخل مہ نے می انل : نام ال رن چا پر درودش ری فکی مش ردعی تکونتقرب الی الل کا ذریعہ نایا کچھ سشل میق جل مد وکی ذات شریک سے بندہبھی شریک ہوچاۓ اور اگ فی اور زلم دنا کا گل صا علی لی لم علوی اور ع لم فیس سے مناسبت پیدراگمر نے اور بارگاو فرش سے اک ہیں لنےکرانے بھی کے لو ورجمت کے ٹیل سے طہارتقلب اور 2 یجان ٹیل الیمااسترادو رورغ ایمان وایقا نکا پیر اکر لے کقلب بالن میس شرح صدراور جملہ جا بات لی جس رشح ہوکر فا بی الرسول کا مقام حاص لکر نے ش رلعت وسنت تبوکی بیس ذرانخس سے نےکر واب وسخقبا کیک می ںگکر و نظ رکا خزاتم بین چا سے اتواولعییب ہوجاۓ اور دوست کیوں نہ بہوہ ہمارے والن میں ء اسم کےہن میں چٹ ینتیں ہ اوامرہوں پا نواھی ہف رانک ہوں یا واجبات من ہوں یا آداب کاب الل یں عدددہوں پالتتزمرات ہتقرب ال الل رکا راسنہ ہو اتکی منٗیں عدنو یہ ےک ہف حید ارک کا تار ف بھی تم رسول الد ئا ن ےکرایا۔ اڈ دکی محبتء ال یکا
۸۳
تارف رٹ انت کی ثردرت وثو کا کمالء ال رکا بٹروں ے رلط ھن ہثرو ں کا زات تن سےکبود بی کا مضبویط رشندء سان لکی نا مونل زہا کا سوال جو ذات بدیج ام جانقی سے اور بن لونے سان لکی مرادکو برلاپی ے۔ رسول الد لے نے فرمایا وی تہارا رب متبودوچجودہ اور الد ہے۔ائی ے شون : استوا رکرو اورتھہارا 7٣" عحبدیت کے شاہ راہ سے مکو لگاء جار ےآ تا دمواا جر چا نے میں رانتوں رہ مکو اک ہمارا تجح تھا لی کے ہاتھ میں کپھڑا دیا۔ اب اسان انفمم جلاف کا تی آپ ب کیا ہے۔اگ رآ پک یی وفطر کیم وٹ سذ ا کا جواب بببت بک یکول وآسان ےک ہم سے بین ادا نہ ہوتانہ یکن تھ کیب نکی اداگی کے لیے ہما رے پائس الاک کوتاہ دنا یں ا سآ من کےےتل وہ رکے لی ےکا نات عالم کے درشنیم کے لیے قاع مود کےاام کے ےکس اورکن اسالیب ش لشگراداکیاجاۓے۔ الله لک الْحمّد عَمٰذا کيا طَیمًا مُبَارَكافیه ہمارےمتبود ود نے اچ رسول امھ ور مود ا کے لیے خودسکھلا اہ اے میرے بنلدوء شس نت مکوعبادت وکبود بی کی را وسکصلا کی می را تار فکرایا۔ تم ا عکو ۵8 ت ہ+وء ا نک متا مکیا ےت ہار یکاہ ہمد ود ڈگاد نا امہ پدرتما مکاانرازہ یں گا تی اور نہپ یتم ا نکی شان صفاء اورٹین و اکونز ران ٹین لکر سے ہو۔ ای سم فو یہ کوک ران معبود سے مقا مود کے امام کے لیے ۔ جوریحت الی اتکی رتی سے ء لیس تم اش بی شک تکرلو۔ اوررب سے درخواس تک دکہدہ انی یش از ٹیش کی ابدالآ اک رسو يکسود اتا یب نازل فرماتا رے کیوکلہ ا سکی رختو ںک یکوٹی حد ونہای ت یں ۔ ہیشھی ال گی رجمت ےک اس درخواست پر جوم بدرکنتیں نازل فرما ےگا دہ ہم عاجتز دناچنز بندوں کی طرفمضسو بکردبی جا نی کی ہگو یا ھم نے گی ہیں ۔ حا لالہ ہرحال یش رجح تکیجے دالا دو بی اکیلا سے ۔کسی بند ہک کیا طیاق تع یک سید الاخیاء ےکی بارگاہ یش ان کے رجہ کے لی تن یی لکرسکنا ہے۔ بیکھی رحم تک فاضی ےک رت العیت نے رسول ضحم ےکی شایاان شائن جمارکی درخواس تکوقبو لک کے رجمت ناز لکرد تا ے اور پچ را کو ہماری طرف
۸۲
مو بکردیا جا ۓےکہام نے کھیچاہے۔ بای ا سکیا رت تک فیاضی ے۔اَللَهُمٌ صَلٍ غَلی محمد و اَحْمَدِ و مَحْمُوِو بَا رک و سَلِمْ تَسْلِْمَا کِْرًا كییْرّا مَا دَامَتِ الُمٰواث و الاَزّض رہم نے یک پارادل دای سے سوا لکیاصلو لی ال یکا ء اور الد تھا لی شی ازی رکتیں رسول الل چےٹا بر ناز لکرتا سے اور سان لکو ہر بارسوای بر یں ٹییاں د یاے کسی صلوةعلی الھی پٹ ھن وانے کے ول ٹیل یہ بات نم ےکم نے رسول برصلو ۃ کا تفہ ی نکیا سے ۔کیوککمہ انس نے اسیک یی ںکمرن ےکی درخواست اید تی س ےکی اور الگ تھا لی نے رسولل رحمت چڈےلاکی جانب سے دں د بلدکی نو اس نے بلجکیں دیاء یھی ,909 پ00 2۰۰ تصوصیتمقاع کل اچ
)١( ضر تآ وم علیرالسلا مکو ال ای نے ودا الہ بنایا۔ اورفرشتوں سے سرہ کراپانگرال می خودشریک نتھا۔
وی یں رہ جو دو جا شریک ہوگی پچ مامح لکواجازت ہی پھر عام موی نکو کو پا صلو ۃ علی النی میں او تعالیٰ زات مقدم ہوئی ۔کمام لاہ وغلالتی . ھی کر حر لم کیا جلاک وغلاک کوا جات دیی-
)۲( الیل تھالی نے مان کو جب عم دیا تفر ایا اسجدولآدمءم سب ست- آ و کو دکرو۔آ و م کا نام لیا۔ ظا آدم اکن اَنتَ و زَوْمْک الْجَنَةہ دوسرے ایاءکا نام لیا_ یا نوم اهبط بسّلام مّناء یا بْرَاهیْمقُذ صَلَقتَ الرٌریَء یا او و انا جَعَلَنک خَلِْقَة فی الإرُضء یا عِیْسلی اِنٔیٗ مُتَوَفَْک وَرَافِمُکء یا َكَرِیًا انا نیرک بغُلامء یا يَخیلی خُذ الَتاب بِقو48 وَعَيْرَ الک اور .0غ > تک وکیا تفر مایا ان الله و مَلَاِكَتَه يُصَلُوْنَ عَلَی ابی ء ھا البیٔ.. پچ نام یس لیا تحفت ولتقب سے خطا بکیاء جو متام “شف کا پندد یتاے۔
۸۵
یل عجی بکا ٹرتی
ان اللہ ! ایک موئح پر جب الل تا ی 70 زار وب طیب اللر کے ات کیا شیل اوک نام لااو رحببیب ال کا نب ال تا لی نے ریا لان اَزلی لاس بِانْرَاهیْمَ لَلَاِین اتبعْوْهوَ ہا ابی ء و ہذا النبی پیارےکہاء اتب وحن تکو یا نکیا کرس بکومعلوم ہوجا ےکہ مہ نی عندارجھی سب می “یوب مود ہیں اہنرا ٹل ال کا نا ملیا ادرحبیب ال دکانتب و ہذا النبی سے خطا ب ثرمایا۔
درو اح م می٠ نکو سے
یلد تتعایٰ نے ف رآ نک ریم بیس ائل ابیما نک خاط بفکیا گے رسول الد یر درود موہ ارشاوفایا:یایھا الذین امنوا صلوا عليه ءاے امان والوغم درود شوہ ا سآ بیت یس ال دتاٹی نے ابل ایما نکوخاط بک یاکیتم درو دجو نی پر کہ درودذر یقرب ےج فک نکی کل سکم سے خیرم نکویی سمل سا اور ورود ےک 1 ال اما نکواس لے د اگ اک نترب الی الل کا مقبول ذر اج ےء جورویل ہہوتا ہرحال یل مقبول ہے۔ اس لیے 27 بر ہواکہغیمرابل ایان اگ بھی نام مارک لتا بھی سذ درددکی نو بیس ہوٹی - درودکا عم باربی تا لی نے اٹل اما نکودہا سے ۔ معلوم ہوا کہ درو دکا نو شی منزابھی علامت ایما نکی دفُل ے۔ الحمد للّه علی نعمة الاسلام و علی نعمة الصلوۃ و السلام علی خیر الانام۔
می تقالی نے رسول الد پک وآ مان بر جلاک رسلا مکیا
ہمارے رسول ارڈ لاوق بل مجر ہن ےآسمان پر بلاگر السسلام علیک ایھا النبی کہاءاورہرآنے وا نے اش یکونماز مل السلام علیک ایھا ابی کن کا ریتہ سھصلایاء اور شب مم راج میس رسول الد :لگا نے بارگاد بے یز میس فرماا تھاالصحیّات للّہ و الصلوات و الطیباتء و ارگ و رٹ الدزّت ے السلام علیک ایھا النبی ے
٦
اب دیاگمیاءاوررسول ال ےا نے والصسل وچ یکہا تھا نے پارکاد رٹ ال بت سے وااصلأ کے جواب میں ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النب یکا مضمارغ کےصیشہ کے سا تق اسنا ری صلو و علی ال یکا شف رٹ العیت نے رسول رم تکوعطاف مایا جھارے ہہ یکو صلی :کا تھی ملا اورسا مکا تھی ملاء دوڈول بی ہما رے ن یکو متاجب ارڈ رعطا ہوا ے۔ وس درجا تکی بلدییء دس نیو ںکالکھا جانا اور ز گنا ہو ںکا مٹایا جانا
)۹٤۸( عن أبی طلحة الأنصاریظلہقال:
اصبح رسول الله ٭ه ومًا طیب النفس بُرّی فی وجھه البشر قالوا: یا رسو ل الله لا : أصبحت الوم طیبَ النفس يُرّی فی وجھک البشرُ؟! قال: ”مل ََابیٔ آبٍ مِن رََیٗ عَرَجَلفَقَالَ: مَنْ صَلی عَلَیْکَ مِنْ اتیک صَلاةُ کب اللَهُلَهُ ھا عَشْرَ حَسَناتٍِء و مَخا عَنَه عَشرَسَینَاتٍ ء و َفع لَه غَشْرَ دَرَجَاتٍِ ء و رد عَلَيْه مِلَهَا.“
[صحیح لغیرہ] (أخرجه أحمد فی المسند ج ٤ ص۲۹)
(۹۸)تھ جم : ابوظلح المصصاری خلاہ سے رواییت ےک رسول اللہ چیک روز اوت جع بہت بی خی ومسر تکی عالت میں ےک ہآپ کے چمرة انور سے بثارت و بفاشت کے آخار نمایاں تھے کم وا انا ۶)0 آپ پ شاشت و بغارت اورمعرت دشادماٹیٰ کےآ خارخو ب مایا ں تھے ءکیا بات ے؟ آ7 آب ظا ۵ ۹ 9 ایک فرشزرٹ می نکی طرف ےہ آ2 اس نے فر مایا :آپ چ ےکی مت بیس سے جوگچھی آپ پر ایک پاردرود پڑ ےکا 7 لیے اید تی دوس ٹیا ں لیت میں اورد گنا مڑا دتنے ہیں اوردل درجہ بل دکرتے ہیں اتنا بھی الیل تھا لی انگود تا ہے۔(اخرج ام نی ر۳ر۲۹)
ے۸
رسول الند جاگاا پروروونزولسلا ای ورم٥ت ے
(۹۹) عن عبدالرحمن بن عوف ظلہ قال:
حرج رسول الله يلٍ فاتبعتہ حتی دخل نخلا فسجة فأطال السجود حتی خفث أومحشیث ان یکو الله قد توفاہ أوقبضہ قال: فجنث أنظر فرفع رأسە فقال:
”ا لک يَا عَبْدَ الرَّحَمٰی؟ قال: ِکرت ذلک لَُ فقَال: جبیل عَلَیْه السَلام فَالَ لِیٔ: الا أَبقْرُکَ إِنَ الله عَرَوَجَليَُوْل لَک: مَنْ صَلّی عَلَییک صَلَيْثُ عَليهء وَمَنْ سَلَمَ غَلَییک سَلمْثٗ عَليْه“
[صحیح لغیرہ] (أخرجه أحمد ج ۳ء )٥٦٦١
(۹۴۹)ت ججھمہ: عبدائرن می نکوف حیلدہ سے دوایت ےک رسول ال خلاایک رو زئیں باہر لے ء می ںآپ چا کے جیے کیہ ہولیا ھ0۵911 اٹل ہہوے اودد ہا جب کیا اورشوب لب وطوی لی حجدءکیائت کرش ڈرکیاکہالہتقالی نے آپ خالاکددفات شددے دی ہو ما ہک ہآپ چا کی روح ٹب ہوکئی ہو۔ می نب چا کے قری بآیا نود یھ اک ہآپ ہلا نے دہ سےسرمبارک اٹھایااورفرمایا: ےبد ان ! کو کیا ہواکرتم گے ہو؟ عبدالریشن ذلیہ نے عون شک دی کہ: ےآ پ کے وصال لپن کا خطرم ہوگیا تھاء ذ آپ چا نے فرمایاکہ: جب ریل علیہ العلام نے جچھھ سے نما کہ آپ چک بثارت شددیدوں؟ کب یل مد ہن ےآ پکوفرمایاے جومگ یآپ چا پر درد دی ےگا مس ( ای )اس پر حم تگمھبوںگا اور جھآپ جلاک و سلا مر ےگا الد تھی انس پر سای نازل فرماا ہے ۔ (اخر را )۱٦۷۷۳۶
درودششریف کے پارے میں نز انہکی اطلاع
)۹٥۰( عن آم ُنیس بنت الحسن بن علی رضی الله عنھما عن أبیھا قال:
قالوا: یارسول الله أرأیت قول الله عروجل:
طإیَ الله و مَلايْكمةيُصَلَوْنَ عَلَی اي فَالَ:
۸۸
و0 صِذَا لن الْمَکوْم و لو لا اکم سَالْمُوٌنِیْ عَنهمَا اخَبرُنكُمْ إنَ ال عَرَجَل ول بی کین اکر عنة عبْد میم فبصَلی علیإلا َال دنک المَلکان :مین وا بُصَلَی عَلَیأَحَد إِلّاقَالَ دانک الْمَلگان : غَفرَ اللّهلُک, وَقَال الله و مَلايِكتَه جَوَاب لِدَیک الْمَلکیْن : آمین.“
[ضعیف جدآ] (آخرجه الطبرانی فی الکبیر ج ۳ ء )۲۷٥٢
(7)۹۵۰ ما : ام ایوس بنت صن جن لی ری ای دکنہما سے روابیت ےک آصوں نے فر مایا :یارسول اللہ !ان الله وَ مَلاَیْکَمَه يُصَلونَ عَلَی ابی آبیتکاکیا مفبوم ہے؟ نو نی چا نے فرما کہ گی ہہوکی بانوں میں سے سے ۔اگرتم لوک سوال نہ کرت و می س یں ہرک نہ لا تا لیم جل مجر نے دوفرشتو ںکوجھ پر می نکیا ہے جب می رانا شر یلاسی مسلران ارد گے پا لیا جاتا سے اوردہ مھ پرصلا ڈ ودرو جیا ےل وہ دوٹوں فمر شنے کت ہیں: اللدتتحاہی ت بی مففرت فر ما نس کے جواب میں ایند بل مچدہ اوراسں کےفر ھت کے ہیں :آئین۔
اورجحے٠* ق وی ھ پردرود میا ےو دولوں تن رہ و کی تین تی تی مغفرت فرماے ء بچھرائلد تی اوراس کے فر جت کتے ہیں جواب میں ان وولوں رشتوں ےا مین۔ ( خر الطبرا لی ئی الکك۵۳۳٢)
آوم علیہ السلا مکا م چا کے وسیاہ سے دعاء اکنا
ج بآ وم علیہ السلام سےگنا ہکا صدور ہوگیا نو انھوں نے عو سکیا :اے ای میں مھ بے کے مفام ورتبہ کے وسیلہ سے سوا يکرتا نہو ںک مب ری مففرت فرمادرےء ارشاد ہوا نر ےن کون نے کیسے جانا پیا نا ؟ جک ہالٹچھی بیس نے اا نکو پیدر امھ کی خر مایا وم نے عت ضکیا: رب الھاان اج بآپ نے کو اپنے دست قدرت سے پیدافرمایا او رم ر تیم مس ااثدرت سے رو ڈالیء جب میں نے مرا اکم دبیکھا عیش نشم کے ستونوں کیم ہواپایاءلا الله الا اافسشست یرت الله ؛جنس سے میں جا نگ اک ہآپ نے اپنے نام
۸۹
کے ات س نیس کے نا مکا اضاف کیا سے یق دہ تا مخلوقات م ںآ پکا حیوب ہوگاء ارشادہوا: ا ےآ دم نو نے ٌ کہا جر چلاقما مفحلوقات میس بج وکوسب سے زبادہٛحروب ہیں ء برا جب ے ان کے واسطہ سے سوا لکیا و ہیں نے می مخفرتکمردیی اور ا ےآ وم ! اگ رش جا با ح تک نات نہ ہو تے فو می ف مکوشھی پہدراتہکرتا۔ صلوۃ اٰننی چا کا مطلب
لو انی ےکا مطلب سے ہ یکی نا ونیم ورحمت دحطوفت _ پچ رج سکی طرف یلو ة' یر کیاکی اع دن رن کے ای شا رض اوررم١ت وکطوهت مرار ا
ای نیکریم چا رصلو ق جھینا ےںانتی رحمت وشخقت کے سا تج ھآپ چپ کی شحاء اوراعمزاز واکرا مکرتا ے اورفرشی جج ی کیج ہیں ہگر ہ رای ککی صلو اورررحمت وجک رم ابی شمان ومریہ سے مواشن ہوگی۔ کے موی نکوم ےکر تم بھی صلو ۃ ورجم تکتیچو۔ ا کی یت ان دونوں سےئلیحدہ ہوٹی جیا جئ ۔علماء ن ےکہا ےک : ال دکی صلےق حم تکمیچنا اور رتو ںکی صلوۃ استتغفا رکرن اورموئی نکی صلوۃ وا نا ےے حرف جن ےروب آیت نازل ہوئی فو صا پرریشی الڈنٹھم نے عو کیا :یا رسول اللہ چلااسلا مک ربق نے یں معلوم ہو چا مجن نر زشہ ری جو پڑھا جات ے السلام علیک ایھا النبی ورحمة الله و بر کاته صلوۃک یھی ارشادفرمادہیجیے۔ جونماز ٹس پڑھ اک یآپ نے یہ روش کن نکی۔
اَم صَلٍ لی مُعمدٍ و لی آلِ مُحَمَدِ کُما صَلَیْتَ لی ِْراهیْم و لی آلِ إِتْرَاهیمَ إِلُک حَمِیْڈ مُجِيْڈ اللّهُم برک عَلی مُحَمَد و عَلٰی آلِ محمد کَمَا بَارَحُتَ عَلٰی ابراھیٔم و عَلی آلِ اِيْرَاھیٔم لُک حَمِيّد مَجِيْد.
رت تواٹی نے موی نکوعم د یرت بھی نی برصلوۃ (رمت )کنیجو۔ نی لا نے نا د اک تھہاراچھینا می ےک اد سے درخواس تک دکدوہ انی ٹیش از یل ریتیں
۹۰
ابدالآ اتک نی پر نازل فر اتا ر ہے ؛کیوکہ ا سکی رتتو ںک یکوٹی عددخہای تگیں۔ بھی ا دکی ررقت ہ ےک درخواست پر جوع یں نازل فرماۓ دہ ہم عابجز دنا یز بندو ںکی طر ف مو بکردیے جائیں گیا ہم نے موی ہیں ۔حالاکمہ ہرحالل یل رحم ت کیج والا وو ہی اکیلا ے سی بفد ہک کیا طاق تن یکہسیدالاخمیاء ےکی بارگاہ ٹیش ان کے ریہ کے لان زی کر کا۔
جخرت شا صاح ب کت ہیں :اللدتالی سے رحمت ماگنی اپے نہر لا پر اوران کے سات راع کےگھرانے بر بٹی قولیت صن ے۔ائن براان کے ا رمت اتی ے اورایک وفعہ ما گنے سے جس ریس ان بی ہیں۔ ما گے وانے بر اب جم سکا جتنا کی جا سے اننا حا لکر نے۔(نو انی ۵۹۶)
سیدنجی اورصاف وا بات ہے ؟م لوک خی وب و ماب کےعسہ ہیں اور جمارے آ قا و مو لاخ چلاقاطاہرواطہ ہیں ازکی وانور ہیں چم مجھوہ نقالحش ومیاب سےمکن بی ٹیس ق اکہاڑکی واطلہ ررسو لگرم پرددددکاتحذہ پاک وصاف یٹ کیل ءاس لیے ہم بارگاہ رٹ اللعزت میں درخواست جیی لک تے یں ء اے رت طا ہرذ بھی ممبرکی جاب سے نی طاہر مطبر پر درودکا تج کے ۔اس می دونتیس ہیں ایک و کب یرم ملا کے مقام 21 بھمکنہکارو ںکوکیاع مکیوککہ جھا رانا و تاب سے منقام مصعفی ےکی محرفت ے اور ارتا بگناہ نہ ہو بھی وو طہارتقل بکڑیں جو متام صلی ا کوسؤ ںکر کے ال انکر کر ۔ا ن کارب بلند و ھجت تعالی نے خودان بردرود بڑ ھا او رم مصشفی چا پر چا اور 7 ۳ لی فرماااوداہ ایا نکوگم دبا کرٹ اشلمین نیم ہا ردرو ہمت یں تہ بھی ا کل می شریک ہو جا کہ مقام نی ےت ناواقف ہو رت این تہاری درخواس تکوقبو لک کے ای رعمت کے لفرر نی رححمت پررتتو ںکوناز کر ےگا۔
اَلّهُمٌ صَلٍ لی سی نَا مُحَمَدٍ وٗآیہ عَدَ عَلََک و مَداد ما تک
۹
وَزِنَةَعَرشِک وَعَذَد مَا تجبًٔ و ترضی و عَدد مَاتجبٔ وَترضی. باب : حدیث لما اقترف آدم الخطیئة..
باب :آوم انا سے جساخزنل ہوٹی نو مم لگا کے وسیلہ سے دعا
(۹۰۱) عن عمر بن الخطاب ظلہ قال: قال رسول الله ے:
الا قرف آَم الْحَطِیْنَة فَال: یا رَبَ! مالک بحَق مُحَمَدِلِمَ غَفْرّتَ لِیٗء فَقَالَ الله :یا آ٥م وَ كَیْفَ عَرِفْكَ مُحَمَذا وَلَم اعْلقه؟ قال: یا باتک لم عَلَقُعِیْ یدک وَنَفَحْتَ فی مِنْ رُُجک رََفْث رَاہیٔ ریت لی قوَائم الْرْشِ مَکُموَّ: ا إِٰهإِلَا للهمْحَمَد رَسُوُْ اللہ فَعَلِمُتُ الک لم تق إِلی امک إِل اب الْحلَي بک ء فَقَالَ اللَهُ: صَدَقُكَ پا آ٥م إِنهلَحَسُ حَبٌ الْخَلَيٍ إِلَی ء اَذْغَيیٗ بحَقّہِ فَقَذ غَفْرْتُ لک وَلَوْلَامْحَمَدُمَا خلفتک. “ [موضوع] (أخرجه الحاکم فی المستدرک ج ۲ ص۱۵٦) ۱
عرش ان مکاحتو بل إِله الا اللهُمُحَمّد رَسُزْلُ اللہ
(۹۵۱)ن جم : رت خمرمن النطاب الہ سے روابیت ےک رسول اللہ لا نے فرمابا:ج بآوم علبیرالسلام سےگنا ہکا صدورہہوگیا نے اکموں نے ع سکیا : اے الد میس مج یلال کے مقام ورتبہ کے وسیلہ سے سوا لکرتا ہو ںکہ ری مخفرت فرمادےء ارشاد ہوا: شج چا کونّنے کیسے جانا انا ؟ ج بک اھی یں نے ا نکو پیداچھ یی فر مایا ہآ ونم نے عت کیا رٹ الھا لن جج بآپ نے ہوک اپنے دست رت سے پیدا فر مایا او میرے ھ اپ قدرت سے دو ڈالیہ جب ٹیل نے مرا ٹم اکر دیھا تو عو انم کے سنتونوں پلھا ہواپایا ٠ لا إله إلا ال محمد رسول الله 1- ء07 آپ نے اب نام کے ساقدجھ فیس کے نا مکا اضافہکیا سے نی وہ تما م لوقات میں آ پکاحبوب ہوگاء ارشاد ہوا: ا ےآ ومن نے بج کہاءجر انم محلوفرات میس جج وکو سب
۹۳
سے زبادہروب ہیں ابر اجب و نے ان کے واسطہ سے سوا لکیا و میں نے تی ری مخفرت کردی اوراےآوشم !اکرش جا با ع ثکا نات نہ ہوتے فو می ت مکوھی پیدراتہکرتا۔ باب : حدیث ان موسٰی بن عمران عليه السلام کان یمشی ذات یوم فناداہ الجبار اب :رٹ العزّت نے ححقرت موی ال اکوایک روز کا رک رکا
(۹۰۲) قال بن أبی عاصم من حدیث انس ظہ:
”ان مُوْسلی بْنَ عمْرَانَ عَلَيْه السّلام کان يَمُضِی ذّاتَ يَوم فی طریْق فَسَادَاه الْجَبَارُ تَبَارک و تعالی: یا مُوسلی فَالْتفْتَ یَمیْنا و شْمَا ِمَالافَلَميَرَأَحَذَ, تُمْنَادَاۂ الْائیة: ا مُوملی بُنَ عِمْرَانَ ا اك یَمِينَا وحِمَالاقَلميَرَأَحَذا, فَارعَدَث فَرَاِصۂء تم ودِی الال :یا مُوسلی بُيَ عِمْرَائٌ! تیآ اللَهَُ اه لا اُنا. فَقَال: لبییک. وَ حر لِله سَاجذء فَقَال: اف رامک یا مُوُملی بُنَ عِمْرَان. فَرَفَم رَمَةُ ء فَقَالَ:
ا مُوُملی إِنَیْاَحَْيْت ان تَسْکُنَ فی ظلِ عَرشِی يَوَْ لا للا ظِلَى. یا ُوملیافَكُْ عم "۳ لحم زكزلرة رز پت یسل أنَ من تَقیٰ وَهُرَعَاجة بنُعمدِأفْعلة للززَلز گان خَلیْلِیْإِْرَِهیْم وَمُوملی کَلیْمیء فَقَال: إِهیٗ!وَمَنْأَحمَذ؟ فَقَال: یا مُوُملی! وَعوتِی و جَلَالِیْ مَا خَلقّت علق اَكرم عَلَیٗ من كت اسْمَة مع اِسَمی فی الْعَرْشِ قَبْلَ ان أَحْلَقَ السمَاوَاتِ وَ اَْرُض و الشْمُس وَ الْفمر بالفَیْالي َنَة و عرتیٗ وَجَلاِیإٌِالْجنةَلْكرَمَةعَلی جمیٔع عَلَفیٰ عتی بَدحُلَه
متا ا ۔ قَال مُوسٰی: وَمَنْ اَم مُحَمَْ؟ قَال : امَتهُ الْحَمَاذُوْنَ يَحْمَدُوْنَ
۹۳
صُعُوَٰا وَمُبُوْطا وَعَلی کل عَالِ یَشْدُوْنَ امَاطهُم وَبُھ-َرُونَ أطَرَالهْمٍ صَاِمُوَ بالسّارِرمبَان باللَیِْ اَل نم الیْہ : رو اعِلهُم الع بکَهَادَوأن ا إلٰه إِلا ال . قَال: ٹھی! ِجُعلیْ نی ِلک الأمَة. قَال: نبيّھا ِنهُم. قَال: 7 99۷۷۷۹ ٰ9 0 ا مُوملی! سَأَجُمَع بک وَبَيْنَةُ فی ار الْجَلالِ.“
[موضوع] (أخرجه ابن أبی عاصم فی کتاب السنة ج )٥۹٦ ١
عی کےسا می شیس جلہ جات ہو یم پر د عم باپ ا
بیو دگورلوںل پمپ ریا ان شوہ ری طر وچجاو
(7)۹۵۲ مہ حقرت الس خلد سے روایت ہے موی بن ان علیالسلام+ ایک رو زکئیں جارے تھے نو ا نکو رٹ العت نے آواز دگی: اے موی ! دو دائیں پاییں سے ےا نکوکوگی ھا رنآ ا۔ تچ رآوا ہآ کی : اے موی جن عمران ( یسا کہا نکوکوئی پاررہا 4 دہ پچ راپنے دامیں پنمیں دبکھنہ گے ا نکوکوئی نظر:ہآ یا و ان ک ےس کا 03 ان ک کا نے لگاء پل رتیسریی با رآوا زآلی: اے موی بین عمرا امیس اد بہوں مر سواکوئی متبو وی گر میںء بہ سفن بی افھوں نع سکیا: لیک حاض ہہوں اور رٹ العزن تک پا رگاہ میس وریز ہوگئ من تال نے فرماا: اے موی بی نعمرائ اپنا سراٹھا ےآ انکھوں نے سیرہ سے سا ٹھایاء پچ رای دتاٹی نے فرمایا: اے موی یس جاجتابہولء بین کرت ہو یکن مہرے اع کے سا رٹیل تھرادد پنادحاص لکمر ےینس دنع میہرے سام کے سو اگوی سسا یش ہوگا۔
اے موی ا( امرف بحاص لکنا چا بت ے2 )شی کے لیے ریم و ہمددد باپ بن جا اور بیوہعورں فلس وہگمرستکا عہربان شوہ رکی طر ترخواہ رین جا
اے موا تو لوگوں ررقم وکرمکر تھ برقم وک مکیا جات ۓگا۔ اے موی ! جیما کر ےگاء ولا کھرےگا۔
۹۳
اے مویق !بی اسرائ لکو پا ٘ کرد کہ جوم (چقاق کی خبوت ورسرالت ) کا منگرہوگا وہ جم رسید ہوگاء اگر دہ میا شٹیل ابرائہیم او رم کیم موی بی کیوں لہ و (یے بات 70 ۹" را و ہے اورایرا ٹیم علیہ السلا مکی داش یآ بش وامر چلا کے لیے )
موی علیہ السلام نے عون کیا:الپی اتد چون ہیں؟ تن ہل میرہ نے فر مایا : اے موی جج کوععزرتٹ وجلا یک یکم میں نے انی خما محلوقات مان سے زیادہکت رم مہ معز منور ئگ رملب لس یکو پیدا دج ینیی سکیا 0٤ 6 سے رو زین وآسمان اورجا ندوسور کی پیدانشی سے دی لاکوسال پیلےککددیا تھا۔
ارہ ڑکومیرىی عمزت وجلا لکیاسم مت تام سے می ری تھا مفحلوقات پر ج بک کک اذ اورا نکی امت داشحل نہ ہو جا ۓ-_
می علیہ السلام نے پو جچلیا: ُ مت مب چےلاکون ہے؟ ( ہنی ا نکی صفا تکیا ہیںگی؟ وہ کے صفات ۶9ھ و یل رہ ا 070۳ ال تعا یی نے اشنا کرت نے ایآ جنون لے ہرحال شین مکی ےہ شا :انی پر جارے ہہوں پا خی میں اضر رے ہہوں۔ بلندی سے ھراد مرکا نبھی ہوسلما ےک بلندی مکان رر ہے پہاڑ وغیبرہ ہا بندیی سے مرادمتقام داحوال فرائی ا ہوسکنا سے ای طرح می سے مراد مکانء وادی اور متقام واحوال ؛شگ رق 7 ہے۔أمت نم یہ چا دووں حال یجن بل مدکی ج کر ٰ ے۔ الحمد للّہ علی نعمة الاسلام وعلی نبینامحمد عليه الصلاة والسلام اورتصف وی پچڑ یک٠ ک ڑا پاننیں کے اور (وضوء میں ) اعضا یش مکودعویں کے (جیے باکھ پالء چر ےکو گیا جات فو و نو کس او اھ لغارت ین من نان گے ین )نع لکن ےکھوڑے بی می کو لی کرو ن کاو نت ٹین 0لا کی شہادت پر داق لکروںگا۔ موی علیہ السلام نے عت کیا :ای بے ای مت کا نی ہناد سے ا
۹۵
ٹن تھالی نے فرمایا: دہ نی انی میں کا ہہوگا۔ موی نے عو سکیا: پچ راس نی یکا مت پی بنا دہ ے! ال تھا ی نے جو اب ویا: ترک یآ ید وظ ہو رکا وقت پیلہ سے اوروہ تیرے بحدنھیں کے اےمذی :یکن اے موی ا نکواورم کو یں دارجلال واکرام میں اکٹ اکر دو لگا (ابن الی عاصم ٹی تاب التتۃ ا۱۹۷۸ زی ال شیع ام۲۳۳) باب :یا عیسیٰ أَمِنٌ بمحمّد باب : اۓےعئی ا لاگ برا یمان لا )۹٥۰۳( عن ابن عباس رضی الله عنھما قال: ٣ُوْحَی اللَۂ إلی عِیٔملی عَليْه السُلام: یا عِیٔملی! امن بِمُحمّیہ وَأَمُر َن أذْرَکه من أُئیک أن بُؤْمنُوْا بب فَلَوا مُحَمّد مَا عَلَقّثُ آمء وَلَوْلا محمد مَاعَلَفےُ الّْجَِن ولا السَارَ ء و لَقَذ علق الْعَر٘ش عَلَی الْمَاءِ فاضطرْب, فَکتَبّےُ عَلَيْه: لا لہ را الو تو اگ“ [موضوع] (آخرجه الحاکم فی المستدرك ج ١٢ ص٦٦٦) ایی انج چا بایان لا ئے... عرش بای تھا ( ۹۵۳) ن حم : این ععپاس ری ار کہا سے روابیت ہے: اید تھالی ن مکی علیرالسلام پروی گی : ا ےق اھ چان بایان لایے اورآپ انی أُم تکوگ مکرد ہیی کہ جوکی مد کو پاۓ ان پرایمان لاۓ بک اگرم پےاوک کین نہ ہونا ذ آ وش کوجھی پیرانہ کرتا اوراگرر ےکا وجود نہ ہوتاءن نت ومن مکوگھی پیدا نہکرتا اور یل نے عرش کو بای بہ پیر اکیا فو اس ٹیش اضطراب تھا فو بیس نےعرر پر لا لہ إلا 7 .اسنا وو گیا (اخرجرا لاک نامع رک۶۷:۷٠۷)
۹٦
باب: لما عیر المشرکون رسول الله َلٌّ بالفاقة مشرکی نکا فقررسول ولا رطعن
)۹٥٤( عن ابن عباس لہ قال:
اَم عَیْر الْمُٹْرکُوْنَ رَشَوَلَ اللہ بالْفاقَة قَالوْا: مَا لِھذًا الرّسُولِ َال الام وَيَمُشِیْ فی الأَسُوَاقِء عَرِبَ رَسُوُل الله لا فَزَلَ جبیْل عَليه السّلامَ مِنْ عِنْد رَبَه مَعُرِي لهفقان: اسامٌعلَيَکَ يَ رَسُوْلَ اللہا رَبُ العزَة یُفُردک السَّلامَ وَيَقُولُ لک: وَمَا أَرْسَلا بلک من الْمْرْسَلِیْنَإِلّا انهُم ون الطَعَامَوَيَمُضُوْنَ فی الّسُوَاقی __ اَی يَيْمَعُوْنَ المَعَاش فی اڈنا __ ال فبیْنا جبْرِیْلْ عَليْہ السّلام و اَی یلان إِ داب جِبْرِیْلَ عَلَيه لام عَتَی صَارَمِخْلُ الْهِذرَۂِقِیْلَ: رَسُوْلَ الا َمَا اليِثرَة؟ قَال: 7٤۶۶۶ ۶۰ "ه"“" مَا لُک وَبْتَ حَتّی صزث مِئْلَ الهذرَ؟ قَالَ ا مُحَمّذا مم بَابٌ مِن أَبُوَاب السُمَاء و لَميَکُنْ فتَح قَبْلَ ڈلک الیوُم وَ إِنَیْ أحَاف أَن يُعَذُبَ قوک عِنْد تَغیِْهمْ إَِاک باْاقةہ اق ابی وَ جبْریْل عَلَيهمَا السا مُ یکین إِذ غاد جِبْریْلُ عَليه السّلامُإلی حَاللء فَقَالَ: اَبشِري مُحَمَّد ھذا رِصٰوَانٌ حَازي الْجَنَة قد اَُاک بالرْضَا مِنْ رََک فَاقبلَ رِصَوَان 7 مال مہ ری ہس سوہ ہس 0 یه کشر ووڑے جس تق جنر علیہ سام محر یه فرب جيرْل دہ لی رض فقال: تَوَاضِع لِلهہ فَقَالَ: یا رِضَوَان لا حَاجَة لِيْ فِيْقَا 7 قراَحبٌ إِلَي وَأَنْ اَكُوْنَ َبّذًا صَابرٌا شَکُوْرا. فقَالَ رِضَوَانُ عَليْ السلامٌ: اصَبْتَ اَصَابَ الله بک وَ جاءَ يِهَاء من السمَاءِ فَرَفُعَ جيْریْلُ عَلَيْه امام رََمَة قَإذًا اسُمَاوَاث قَذ
ے۹
حَث اَبْوَابهإِلی ار وَاُوَی اللهَُعَالی إِلی جَتَّةعَدنِ ان تُذلِیَ غُصَنا ہے سو سال ا7 رت کے نک و و یا موتات
+كم ھ ۔ مے
و ۔ ئۓُى ھ
"ھ۹ أَرَحِيْكب معمْۂہ ققال ال ۳ مت فَاجُعَلْ مَا اَرَذك اَی تُعْطِيَبِیْ فی الدنَيا ذَحِيْرَةَ عِنْدک فی الیْفَاعَة وم الْقَِامَة “
قال الواحدی: ویرون ان هذہ الایة أنزلھا رضوان:
ارک لی إِن فا جَعلَ لک عَيْرَا می ڈلک جَتَتِ تَجرِی مِنْ تَحْيھَا ااَنْھر وَيَجَْعل لک فُصُوْرَاک (الفرقان:۰٠١)
[موضوع](آخرجه الواحدی فی أُسباب النزولء الفرقان١٥) مین کے حطعنہ پررٹ الھزّت نے رسول اللہ لااو دنیا نز ان ےکی میاہیاں عطاف میں
(7)۹۵۳ مہ : ابع اس ریی اایٹ کنا سے دوایت سے ۔جب مھ رین نے رسول اللہ ےکور وفات پر طعنہ دیا او رکہا: یکسا رسول ے؟ کھا نا کھا تا ے اور پاز ارول مسکھومتا برا ےآ رسول او ا کوکم ہوا۔
ربیل علیہ السلام رت الع کی طرف سےتشریف لاۓ دلاسا وسلی د نے کے لیے اور ت شکیا: السلام علیک یا رسول اوڈ ا رٹ الھعنت ن ےپ چلاکوسلا مکہلا جیا سے اور کھلا جیا ےکم بے تب سر ک نے ہر کیج س بکھ نا بھ یکھاتے جے اور اذاروں بس بھی -َ تفرنےے جے نمی وت میں اورکھاا پیا کھا نے ہے ان اور 71, سس "0 "0" کر نے کے لیے طلب معائشش ضروری ہے۔ ای رسول اللہ اور تب رمل اشین مصروف
۹۹۸
گنگ جےکہ جب مل علیہ السلام ایک دم خوف سے پگھ لکرمسور کے داش کے برا بر ہو گے ۔ رسول اللہ ہلان متلو مکیا: جج رع کیا بات یی ”گت یک جع لکر ال ہدرۃ ( الد مسور کے ) دانہ برابر ہو گے تے۔ بج ربیل علیہ السلام نے ع سکیا :یا م یمان کے درواز وں میں ایک درواز درا جوآرج سے پیل بھی نکھو گیا تھا ق بج ےکوخطرہ ہیا ہی ںآ پکی قو مکوعزاب و جا نے جب انیھوں ن ےآ پکونقرو فا ق ہکا طعزما۔ بہ لت کی رولوں جحقرات رونے گے نے ج یل علیہ السلا ما تی اصسلی حاات می لو ٹ؟ نے اورفر ایا: با مر گا یر روان جنت (جنت کا ددبان فرشحتہ ےہ جوآپ کے پاس رت الع تک رضا کے مات ھآیا ے۔ میں رضوان جن تآ کے بڑ ح او رآ پکوسلا مکیا اورفر مایا :یا مر خلا !رٹ لحزت نےآپ پ الاک سلا مکہا ہے اوران کے ساتج ایک ٹوکر یھی جس میں سے ورہی پور کنا تھا اور آپ سے رٹ اعت نے فرمایا ےکہ: میرد ٹیا کے نز افو لک ابیاں ہیں ءساتھ بیغرت یں جو بٹھھ ےآپ کے لیے اس می کوک یھی شوگ اور یہد نیاوی نخزانو ںکی چا بیاں آخزت کے مقاملہ بیس ایک بجع ر کے پر کے باب سے۔ ل(م]نی بیتمزانہجھی دنیا دی قمول یھ اوراں کے جس آخرت ک ےمان سکوک یکی 2 ا ےن اق مز افو ںکی چابیاں آخر تک نتوں کے مقابلہ ٹس ایک پھر کے چه کے باب ہے )نیہ سلت ہی رسول اللہ چا نے ج ربیل علیہ السلا مکو دی ھا گویاک ہآپ چلافا تب ربیل سے مشورہ نے ربہوں و جب یل علیہ السلام نے اپنا بات ز مین پر مارا ادرف مایاکہ: آپ ال عز یل کے لیے واشع اخیارجییے_ (مشمی دنیادی خزانو ںکوقبول نہ جیییے اور ذا تج نی کی طرف موجہ رہجے)رسول اللد چےئے نے فرمایا: اے رضوان ! جج کو ان نز انو ںکی ضرور تکیل ہ جج کوٹ رت ہی زیادہ پنر ےاورییں پن اکا ہو ں۲ ال کا پرہ رکمرنے والا 092 والا رہہوں ( شی ہرحال ٹیس الد تال یکی رقتقو ںکا بندہ ب نکر طالب رہوں ۔فتروفاقہ ٹش بنلو می نکر رکروں اورنمتوں میں بندہ بی نک شک رکروں ۔عبد یت و بندگی یل جوعردے وہ فذروتی یش یں )ہی جوا بک نکر رضوان علیہ السلام نے فرمایا: آپ لات نے دورست راہ ۹۹
اخقیاکی۔ الد تھا یآ پکوراوٹ اب پر بی ر کے او رای کآوا زآسان ےآ7کی فوجی مل علیہ ااعلام نے سراھایاء نود یکھا ک ہآ سما ن کا درواز مکھول گیا ے عرش انم میک اوران تھا لی ہے جنت عدا کو و یمک یکہ ای ا٦ک بپھلوں سے بجر او رخوشہ و مھا دارشاغ ولپٹی اٹی شماخوں وہنیوں یں سے ان پر چک ددہ ینس پرنزز بر جدکا تجرہ وخرفہ دہ ٹس ٹیل ستہرار سر ماقات کے دردازے ہوں سا ےکرددہ میں چ یل علیہ العلام نے عو سکیا :یا مہ ےل انی لاہ اٹھا ئے ۔ذ آپ چا نے سرا ٹھایا ق انمیا عم السلام کے منقامات ومنازل ودا نک یآ رام و ہاش گا ود ھا جس می سب سے بندو لداع قام انا ء سے اوپہ آپ جا کی ر ہک گا ہی۔1 پکو فص وی فضلی تک مقام عطا کیا گیا سے او رای کآواز دینے والا بکارر پا :کیا آپ خویش ہوے یا مھ پا ؟ رسدل اللہ چان نے فرمایا: میس راصی ہوں خوش ہوکیا۔ یا الڈد جج ھآپ ہجھوکددٹیائٹش دینا جات ہیں ا سکوذ خر وش کرد یی اپے پاس قیامت کے د نکی شفاعت کے لے۔ اللّهُمٌ صَلٍ عَلٰی محمدِ وَآلہ وسلم ٠ 0۳
واعدکی ن کہ اک :آبیت اسی سلسلہ میس نازل ہوئی ے_
و تََارک الّذِی إِنْ ضَاءَ جَغل لک خیرٌا مِنْ لک جَنَتِ تَجْریٔ مِن تَْتھَا الأنْهرْوَيَجَْعَلَ لک فُصُوْرَاب (الفرقان: )٠۰
دوذات بڑکی عالیشان ے اگردہ جا سے آپ چےلکو(کغارکی )اس (فرمائش) ےگبھی اٹھی چزدے دے م]شنی بہت ےکی باطات مجن کے نے سے نہ ری تی ہیں اورآ پکو بہت ےم دے د ہے (اخررالواعدگ نی اسباب الٹزولءالفرقان۷١)
معانرنءکل ۹۹۳ 4 لس
الد تھالی کےنخزانے می سک یھی ے؟ دہ جا ہے لے ایک ہا کیا ء یہت سے با اس
سے ہن رعزابیت رما ے مہم س کا بلک مطال۔کر تے ہیں ء بللہائ وٹزرٹ ےا حر
٭+ہا
ٹش جھ باغ اور ٹمس اورحوروشصور لے وانے ہیں وہ س بآ پکو اکھی دنیا ٹل عطا گروے؛ یک کر البی پاشل ا سکوٹٹنفن ی نویس اور میا نین 7 ف کن بھی گر ری مر دئی جانیں جب گھی ین اورصدراق کو تو لرنے وا نل کہیں ہیں۔ بای تیٹرعلیہ السلا مکی صدافت خاہ تک نے کے لیے جوولائل وجحزات یی سے جا گے دہکائی سےزیادہ میں( فو اترتا لٰ۸۱٥) رٹ العاین سے رسول اید جےا کا سوال
)۹٥۰( عن ابن عباس رضی الله عنھما أن النبی هَ قال:
َال اللّۂ مَسْألَة وَدَذُث ابی لَ اکن سالتة ؛ ؛ کرٹ رُسُل رَبَیٔ فَقَلےُ: یا رَب٘! سَعْزْث لِسُلْمَانَ الإٍبْخء وَ كَلَمُتَ مُوْسلی فَقَال تبارک وَ . ۱ پےے ےش نوس
۔(۹۵۵) تع خر تعبداند جن ععباسل فا سے دودایت ےک بی لان نے رین ےرت الا ل نت ایک حا لیک ت مین می کی نا وو یک رای ال ون کا رت ناک رت الوا فان سے وو ن جنروا نے کیارت لت سلیمان(علیہالسلام) کے لے ےآپ سے بواکوسحخر وتا عکردیا تھا۔اورم وی ( علیہ السلام )کو ب مکلائ یکا شرف تھا جن بل مبرہ نے ارشمادفر مایاکیا اڈ تھا لی ن ےآ پکو شی یس پایا قذ آ پکو پناد وھوکاندد یا( کم داداادر چا ےآ پکو پر ون لکرایا) اور ال تھا ی ن ےآ پکوش رات سے بن رجران ویر یجان پایا نذ آ پکوش بجعت ود رین حفی کا راست بتلاباء اورالد تھی ن ےآ پک نادار بایان مالدار بنایا ( کہ ریچ اکب ری نشی اڈ رعنہا کے ماک ےآ پکوفٹعخ ہوا)۔ مٹس لت ےکھا کہو کی ری الا لین )لیس ری تن وشوائیٹل ہوک کی اود اک سےسوال ب یی سکرتا۔
١۱
زیم جا
رن ےکی ولادِث پاسعادث رے فک بی آپ تا کے والر وفات ماگ ل۔_۔ سا لکی ع رع یک دالدہمجحتزمہ نے رعل تکی پھر مھ سا لی کی عح جک اگۓ واوا عمہدالمطلب ک یکفالت میس ر سے ۔آخ اس دز یم اور نالبضہء روزگا رکی خاہرکی تر یت و پر ور شک سعاد تآپ کے بے عطق چیا وط لب کے حصہ می ںآ کی ۔افھوں نے نی مل رآپ چ ےکی نصرت وحابیت او رگ رم وتبسجیل می کوٹی دیق اٹھا ضہررکھاءافجثرت سے بلجھ پھلے دوگھی دنا یا سے رخصت ہوئئےء چندروز بعد یاماخت ال اللہ ےم ے قاے 2) 7 :0م رو فاخلت اس طر کیج سکانھیرغم لیک نے بھی نیکھی ہوکی۔ بنتی دا کم یجنک تَيْمَا فاویٰ )ا کی بی نحت ال ی۔
ینہ مارک میں شال یکا چنش أبل ر ہاتھا
دوسرکی مت وا وَجداُک ضَال فَھَدیٰ پچ جب حضرت اف جوان ہو ےٹوم کےمش رکا نہ اطوار اور بیبودہ ریم وراہ سے خت بزرار تے او رقلب ٹیل ایند واح کی عپاد تکا ہہ پپرے زور کےساتح موجتزن تھا رکش ال یک یآنگ مین مارک میں بڑی ری نت 1 رک رج یتیء وصول ال الڈداور بای تل نکی ال ال تم استتدا را چشم جوقمام عا لم سے بر وکرنٹس فی میس ود لع تکراگیا تھا اندددی اندر جن مارتا تواءمن نکوئی صا فکھا راس او فصمل راستہ اویل دستور ال بظاہردکھائی شدد یا تھاء ضس سے ا عرش وکری سے زیادہ و قل بکوسکیشن ہوئی ءاسی جوشل طلب اورفرماحبت ب لآپ چلا بےقراراور سگرداں ×ت اورمارول اور پہاژوں مل جاک مال کفکو بادکرتے و 7 ارت آخ اللد تما ی نے فا رطاء میں فرش کووگی د ےکر بمچا اور وصول ال اللہ اور صلاخ قک یی راہی ںآپ پبھول دی ء شی دنن نازل فرایامَ ا كُنَْ قَذریٰ
۳
ا الکتٰبٔ ولا یمان و لکن جَعَلَنَاه نَورَا نَهُدِیُ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادٍنا.
ترجمہ : اور نہ پخ رش یک ایمان (کا انال ی کال کیا سےکیان ہاں جھم نے اس ق رآ نکو ایک فور بنایاءجٹس کے ذربعہ سے جم اپنے بندوں میں سے جس سکو جات ہیں ہدامیتکٗرتے ہیں۔ (شورکی روغ -۵)
اہی د اض خناء تسرینقت و وَجَدک عَايَلا فَأَعنٰی
ا ہرکی دبافی خزاء اس طر کرت فدہ رشی الد عنما یبارت مم ںآپ پا مضارب ہوگئ اس می سکع ملا .رد ری الد عنہانےآپ لا سے یا ںکریا اوراپنا تام مال حانض رکردیاء مین ہرک خناء تھا باقی تی آپ کئی اور ہنی خزا ا رت شی ھن الْعلیمیْن اے جانا کوٹ بش را سک اکیاانداز ہک ر کے مطلب بر ےک ابتداء سے موردانعام ر سے ہی ںآ تنددگھی ر ہیں گے جس پر وددگار نے اس نشان ےآپ ا کی تر یت فر مال یکیادہخفا ہوک رآ پکو ا ونچی درمیان میں چھوڑ د ےگا ۔ (اسفض ار )
(قیرخی)
رسول الل اد یدک مال وستا کی وج ےکن نہ تے بل آپ چے کا ول گی تاء اور سکی غن بی اصل غن سے ۔ یچین میں ےک حول الد پلاف نے ف رما اک ہن گریء مال واسبا بکی زیادٹی ےہ پل ٹتقی نوگھری دہ ےج سکا دی بے پرواہ ہو۔
کلم میں ےک ہائس نے فلا پالی رصے اسلام تعیب ہوا ء او رای و جائے اتا رزشی شی طاءاورای کے د جے ہو پرقناح تکی شی لی ۔ (تضی رای نکش رت ۳۰۸ھ)
باب: أتانی جبریل فقال : اِنٌّ ربیٗ و ریك... )۹٥٦( لأبی یعلی وابن حبان والضیاء ۔۔- فی المختارۃ ۔-- عن ابی سعید: ”انی جیْرِیْلُ فَقَال: إِن رب وَرَبُکَ بَقُوْل له: َذرِیٔ کَیْفَ رَفَعَْ
۳
لُک ذِکرک؟ قُلّتُ: اَللهُاُعْلَمْ فالَ: لا کر الا ڈکزٹ مَعی.“ [ضعیف] (کما فی کنزالعمعال ج ۸۱۱ ۳۱۸۹۱)
ادن اپیے نام کے سام رسول اد ان کے نا مکو بلن دکیا
(7)۹۵۱م: رت ااوسعید حا سے روایت ہے ھیرے پا بت رٹیل علیہ الا مآ او کہا کمہ: مبرا او رآ کا ر بآپ ے الشاد ربارہا ےک گیا آ پ وائف کی ن ےآ پکا نام طرح طرح کی بلندکیا ؟ء میس نے عون سکیا :الپلم الد پک ا ںکو؟ہتر جات ہیں ۔ پچ راید پاک نے ارشادفمایا: می را نام انیس لیا جات گار اے رسو لآ پکا نا مھ یا بھی ضرورسا تج لیا جا تگا۔
اش تھا لی نے رسول اللد پا کے نا مرکو بلندفرمایا
ال محدہ نے پیارے رسول ال لا کے نا مکو بلندفرما اک من اذ ان مل اشصد ان لا اللہ الا اللہ کے بعد اشصد ان محمد رسول اللہ بھی ضرو رتا ے اگر تہ سذ اذان نہ ہوہ بلہاسلا مکاکم جن سکو پڑت بھی ہنرارسا لکا کاف رجنعم سےضجات پاکھہ جن کا شی ہوجاتا ہے دوک بھی افرشجد رسول اوہ کے ناسل رہتا ہے ۔ الخیش ہر ہر متام پرااشدتحا یکا قانون جناب رسول ال چا کے واسطہ بی سے امم ت کک چا سے اور اللہ اک نے مم رسول اللہ چلاوعز کی اور پکا ذکریم٥ل طود بر بلندوبمترفرمایا۔
اللھم صل علی محمد کما ینبغی لعظمتہ صلی الله عليه وسلم۔
رقحت ذک رخائم ان چا
ٹن نوالی نے ران می ریس بی فرمادیا:
او رَلَعنا لُک ذِ کرک ٤ہ (سورة الشرم:٤)
نی تیمہروں اورفرشتوں می ںآپ چلےٹاکا نام بلند ہے دنیا یش قمام بعدرار انمان ایت عزت ووقحعت سےآپ چے کا ذک کر تے ہیں ء اذائنء اقامت, خط کم بب اور
با
اقیات وغیرہ می اللدتھالی کے نام کے بح دآپ ےکا نام لیا جانا سے اورارلہ تا لی نے جہاں ہنرو ںکواپٹی اطاعع تکاعم دیا سے و ہیں ساتھ کے سا ھآ پک فرماں برداریکی کیاکی سے۔ (تفیرعن) در ہک رک مطلبے
رت سعید خدرریی وززلن دک رارف کہ رسول اید لات نے حضرت 07 الام ےامتوَرَفََعَتا لک کرک کےسعی و یھن رت ج نیل ان علیہ العلام ن ےکہا کال تھا ی فرما ا ےکہ جب مرا ذک کیا جا ےگا نو مییرے سا تق تی را ھی ذک کیا جا نگا۔(بخار)
آیت وعدریثِ بخاری کا تقاضا کہ (علاء ایل ) آسمالی ملائنکہ جب الل رکا ذکر کرت ہیں اس کے سات رتضور ےڈا بھی ذک کر تے ہیں اورامام وی نے اپتی اسٹادے حضرت ان عیاش جط کا قو لاخ لکیا ےک لو بح حفوظط کے وسطا می سکھھا ہوا ےکا الہ ال الله وَحَدَه دِینة الاسّلام وَمَُحَمَدعَبَدهُ َرَسولہ ایک الد کےسواکوٹی مع وڑگیںء اعلام ا کا دین ہے٤ اور لاق اس کے بنرے اور رسول ہیں الغرش مر جلے کا ذکر الد تال یک شہادت کے سا تج رسال کی شہادت کا اعلان ۔اتقامت میں نہد وامقیات میں ء خلہ بر خطبی نا ا کہاگ روگ ی ختص اد کی عبات اور تد نکرے اور خاتم امن لے کی شہادت ضتخم نو تک شہادت کے ساتجھ شرد ےو اس کے لیے الیل سڑے۔ و کاٹرہی رےگا۔ اللدتعالی نے اگھوں پچلوں میں نماتم الین پا کے ذکرکو بلن ہکیاء تام انمیاءجیہم السلام سے روز یفاقی ہد لیامگمیاء شب محراع رت العزت نے عون کے تریپ بلاکر المسلام علیسکم ایهسا النبی کاتھندیا۔ یت ال می میں تام ایا ہم السلا مکی امام تکا شرف نا تمام ادیان وش رتو کی تحد لی کے ساتق سج کیا اعلان کا کے د بین اسسلا مکوقیا مم ت کک کے لیے ال رکا ابدکیا نی دی نکااعلا نگرایا ان الین لے ال الاصسلام :مرکا جنراعطاکیا۔حمادون امت دی۔ اتی نے بات خوش
۸۵
نا بردرودوسلا مکا خی ںکیا پر فرشتوں ےدرود ۶ایا پچ رم ہین وو رود وسماا مکا ۶م دا شا گر ہنا ۔کوٹر عطا کی ۔ منقا مود پر فات دکیا۔ ائگنت و لا درا قصوصیات وم زات سے سرفرا کیا اورآپ کے زع ہکوز ین وآسمان بی بلن دکیا۔ خاتم الین کی بلندی ورفع کوسبود تی بی ہت جا ضا سے بعد از خدا زا رک فو ایس فص ضر حمائن بن خابت لہ نے خو بکیا:
وَاَحسَیْمِنْک أَعْتَرَقَطغَیبی وَاَمْمَرْمِنک أَعتَدِدِاليِسَۂ الیک ن ےآپ سے ززیادوشیی نکی دیکھاء ضرتی اورآپ سے زیادہشنل مواویعوزت نے پیدا خالقی نآ پ چان سے زیاد ہس نکوکو پیداکیا۔ می ںکیا۔
ےہ ۔ل ا ےہ
جن تھای ن ےآ پکوقمام طیب سے باک پداکیا۔ گوی اک ہآ پکون تعالی نے الما ءنایا جیما آپ نے مو دا ان یلا ایک مو پر حضرت حمان جن خابت دواد ن ےکہا:
انح عَلَیْلِللُبُوَةِعام مِرَاللَومِن وربوخ وَیَنْهَةُ الدنے مہرم نبو تکواپنے پاش سے ایک ور آ پ پہ ہچکادکی جآ پک رسال تک یگواے۔ پناک ر_ وضع الال اِسُم النبیٌ الٰی اسم ١اِا فال فی الْحَمْسِ الْمُوٌوِنْ اَفْهَدُ
نے نام کےساتھاپینے ٹچ یکا نام لا لیا تج پانچوں وقت مو ذن اشچد .را تا ے 9 فُذوا العرش المحمود وھذا محمد آ پک عزت وجلال کے اظہار کے لیے این دیموووعرش وا اود ے اورآپ افج ہیں۔ نام ےآ پ پل کا نام کالا۔
وہب : فضال خائم این لا
(۷) للبیھقی عن أبی ھریرۃ علہ: نکد ال ِنْرَامیْم عَليدہ وٌَمُوّسٰی نَجِيًاء و اتحَلَيْیْ عَبیباء تُمَٴقَال: وَعزِّیْ وَجَلَالِیلَأوثِرَنَ حَبیٔہیٔ عَلی عَليْلِی وَتَجيّي “
(کما فی کنزالعمال ج ۱۱ر۳۱۸۹۳)
رتپ امام الاخمیا شیہم اصلوج والسلام (ڑے۹۵) 7 بحم : حضرت ابو ہ رر نیلنہ سے روایت ہے الد اک نے نضرت ابرائیم علیہ السلا مکواپنا ضل بنایاء اور موی علیہ السلا مکوس رگڑٹی کے لیے ختجب فرمیا اور جو( مر پا کوا بنا عیب ہنا بجر بل میرہ نے فر مایا :جج کومیری عمزت وجلاات شا
کیم می سآپ ےلاک اٹ ےنیل وی پرفوقیت دو ںگا۔ سا ںآ سمان برلو رکا فرشننور کےحت پر ٹٹھا تھا
(۹۰۸) وللخطیب_ فی تاریخہ _ےعن ابن عباس طلہ:
شیع ہیی لک من لژر علی شرف من ُژر: فسلٹ علل فر عل السلامَ فَأَوْحَی الله إليِْ : يُسَلَم عَلَیُک صَفِیّیْ و بَيَیْ فَلَم تم لاو عرّبیٔ
و جَلالِی لَنظُوْمَن فلا تَفْعَدَنَ إِلی يَوم الّقََامَة. “ (کمافی السلسلة الضعیفة للألبانی ج )۸٤٠٤ ٢
(7)۵۸م: محعضرت امن عہا ناد سے روایہت ہے ب یف کن یل رہ نے مین پر مرلی نکوفضلیت دی ہے۔ جب میں ( مھ یق ) سا تی ںآسان پر چیا نے ایک نورے بنا ہوا ف رشن ملا جونور کےحنت پر ٹیٹھا ہوا تتھا۔ یس ( مم چا )نے ال سکوسلا مکیا
ے٭ا
اس نے میرےسلا مکا جواب دیا۔ اید تاٹی نے اس فرشند پر وکینسگی ان مکومیر ےئ یو ھی نے سلا مکیا اور اس کے اترام می سکھٹرا نہ ہوا۔ جج ےکوعزت وجلا لک ام میں ت کو ضرو رک اکرو گا پر مکوقیا مت تک نہ ٹین دو لگا ۱ (السلسلة الضعیفە للالبانی ۲ )۸٤٤ رسول الد ا کےصلبء بن اورتچ (گو کی ووز ہے حارت
(۹۰۹) وفی الفوائد المجموعة للش وکانی:
۶)۷ " ََ عتلک, زمر گنلک ما صلَب بد اللہ و ما لن قامنَة بنْتَ وَقبء وم الحَجْرقَعبديَغبی عَبْة لّمطَلبٍ وَ فَاطِمَةُ بنْتُ أُصٍَ.“ رکم فی الفوائد المجموعة ص ۳۲۱)
(۹۹) جم : ضرت جج رین مرے پا سآ اورف مایا ء الد تھا ٹی ن ےآپ کوسلا مکہا اور ات یئ نے ٹن مکوترا مک دیا سے انس صلب رس ےآ پک یآھ ہوٹی سے اوراس بین پرجس ن ےآ پکواینے اعطن ٹیس حالتکمل بی أُٹھایا سے اور ںگود پر شس ن ےآ پک پالا ہے ۔آپ کے صل بعبدااژد ہیں اور ہشن سے مراد ٹیپ آمنہ بت وہب ہیں او رگود سے مرادعپرالمطلب اور فاعلہ یشت اس ہیں .. (الفوا راو یلٹوک ي۱٣٣+)
رسول الد پچ کے والم رین
رو لی ہو و یسوں سی "بل رج ہی أُوجیإِلی ما اوج فَقَالَ وَاسْألَ مَنْ أرسلنا. لقث : يَا رَبَ!أَيْنَأبَوَایَ؟ قَال: نا ابْعَفهُمَا إِلَْک فَأنْشَرَمُمَ لی فَدَعَوُتَهْمَ إِلَى لاسلام َأَسْلَمَا فَْقلا مِنْ خُفَر انار إلی اض الْجَنْة. “ (کمافی تنزیه الشریعةء ج ١ص۲۳۱) (۹۹۰) تر جم : شب مرا الد تھی نے جو جا جھ پر وئینھگی اورفر مایا آپ ۸
سوال یچ میس نے عی سکیا : میہرے والمیی نکہاں ہیں ؟ تن تھاٹی نے فرمایا: یس ان دووں کو پکی طر ف کھت ہوں ؛ ان دوفو ںکومیرکی خاطردوبارہ پیداککیاگیاءنو بیس نے دونوں کو اسلا مکی بکوت دی و وم دونوں بی مسلران ہوگئ و ان دوو ںکوجم دج سے اض الجن دکی طرفھعٹف لکردیاگیا۔ (خ زی الشریۃ:۷۳۷)
اص لان اڑل دآخراورحائحع وفع جس
)۹٦١( ولابن عساکر عن أبی ھریرۃ ظہ:
لم عَلق اللهالی ام حَْرهْيَه َجََلبَری فطَاب بضع لی َء قرای نُورا سَاطًِا فی اَسْفَلهِمَ َقَال: یا رَب! مَنْ هذًا؟ قال: ھٰذا ابَک مد ء مُوَالوَل ء وَهُوَ لاجر وَھُوَ اَل هَافع رَأوَلَ مَُفع “
[ضعیف] (کما فی کنزالعمال ج ۱۱ء )٥۲٣۰٣٢٣
(۹۹۱) 7 جم : حضرت ابو ہ رر ضللہ سے روایت ہے ء اللہ پاک ن ےآ دم علیہ السلا مکو پیدرافر ران سے پپیدرا ہونے والی ذ ریت کے پارے میس ا نک وآ گا ٥کیا ءآ وم علیہ الملام نے اپنی ینس اولا داوج دوسریی اولاد پر صاحب حثیت وفضیلت والا بااءنشٹںس یں ایک ٹور نے سے کا ہوا دوک رع ت کیا :رٹ الھا من !یرکون ہے؟ ارشاد بارئی تعالٰ ہوا: بآ پ کا بنا ”اعم ےء جوھ(عا لم مال میس وجود کے اظتبار سے )) ال اور( بعشت ونبوت کے اقتبار ےر سے ) میا نجش رکا پہلاسفاتی سے اور سب سے بجی اک کی سغارنل قو لکی جات گی۔
ححخر تآ وم علیہ السا مکی اواا دیس تن انی ہم السلا مآ ہ رای کک انی ایک نرالی شان انقیاز سے اور تانب الشدرس بکا ایک مقام اور رجہ ہے۔ تعا لی 9 می پرفوق بھی دی ے ان میں او کوٹ یبھ یم بھی اعلی بی ای میں او ربھی مقریس ونقرب بارگاد رٹ العنت ہیں الہن دہف سکوٹن پرفضیلت ہے ۔آپ عدیت میں پل
۹
بڑھ گے ہی ںکگردہ انا شیہم السلام ہیں حضرت داوٗوعل السلا مکا او رٹ ارم لپ الا مکو پچکتا نظ رآ یا اھوں نے ا نکواپٹی عم رسے جا لیٹس سال عطاکردیا تھا۔ بہاں پہ زکرے نتم الم رین کےنورنبو تکا 1آ وم علیہ السلا مکوجواب دماگیاکہ دوفو چو دیپ رسے مو بیآپ کے بے اب( )کا ہے دومن خبوت یں سب سے پیل ہیں مجن بارگاہ بے نیاز ٹیس جب نبوت ورسال کی یکل می سککی فو سے نو ربدت ام دن چا کےحصہ نکی اکن انان ےپ او فی ین ثپتلی دای یی کم انی لپ :اب وگ ٹس تے اور میں الیل دکی طرف سے تی تھا اور بعشت کے اختبار ےآپ چلال ام این ہیں ء نت ورسال تکا درواز ہ قیا مت کک بند ہو چکا ےہ ا بکوگی ٹینیس بنایا جات گا جوخودبنگاد ہکڑاب ودخال ہوگاء لَخْنَةُ الله عَلّی الْکَذِبیْنْ ۔یجآپ:وت ورساات کے انار سے اول ہیں اس لیے پر دز قیا مم تآپ بی باب شفاعح تکھلو اہی ںےہ اگاو رٹ العطت م۲ لآپ بی حا رکید میں کے آ پکوحید کی اجازت ل ےکی ء ام مود پت ای نکی اپ کے رین کی کان ات کے ان ہوگاء شا عمش یہوں گے اورآپ کی شفاعت پیا قبول وی اور نمعلوم رٹ الع کی یارجمت پراورتئیعنایت نماصص ہوگی۔
اَلَهُمٌ صَلٍ عَلٰی بَر الام و صَل عَلی نُوْرٍ الطّلام و صَل عَلی مِفْتَاح ذارِ السّلام و صَلِ عَلّی الشْفِیٔع فِیْ جَمیٔع انام ۔
رسول اللہ بے کا تن د جمال عمش کےٹور سے تار سے
)۹٦١( و للخطیب من محمد بن عبدالله بن إبراھیم العنبری: ُوْمْفَ مِنْ وُر لكُرْىِيْء وَ خُسُنک من نوْر الَْرّشِ.“
(کمافی میزان الاعتدال ج ٣ ص٦٦٥) )۹۹۰۴( بحم : جریل نازل ہو اورف رما اکہ: الد تھی نے فرمایا ے: اے
سط
کا تین عری کے ٹور سے حط ا کیا سے( میزان ا(اعتزا ل٣ ر٦٭۷الوایرا تر تا
جم کا نا مج ہہوگا ان سکودوزح کا عذر اب شہہوکا
(۳٦۹)وللدیلمی من طریق ابی نعیم: ”قال الله تعالیٰ: 2 فلت ک2 تَسَمی باشیک بالنار۔ ٠ (کما فی الاإتّحافات ر٦٦ 6
(۹۹۳) تر جعمہ :من بل مد نے فرمایا :اے مر چا !میس ای ےکس یت سکو
زاب ناریں دو گا جوآپ کے نام ( مم پراپنا نام در گا.۔ (الاافات التتہ:۷۷١) رت وجات دالا نام
جخرت ان عم رحللہ سے رواییت ےک ء نی اکم چا نے فرمایاکہجشس کے مین بی ہوںء اوراس نے ان یں سےکسی ای کک نا مبھیشھ ( لے نہ رکھا ہونذء دہ ڑا بے وفا ہے۔ وار ج ب تم اکا نام مر( بے ) رکھونے ا سےگالی شر دو برا چھلا ثکپوء اور ث ا سو مارو بللہ اس کے سا عمزت واکرام او رنظمت ویش افتکا سو ککرو_
(ا یر یٹ حواة او ان. ا ض٢٣)
1 کل محاشرہ ٹیس تیب بباری آگئی سے ء لوک اسیسے نام رک ہک یکوشش میں ہوتے ہیں جواڑوسں پڑدیسں بل ہگاوں ادان می کسی کانہ ہو ہخواہ دنام ید وصا رگ کےکیوں شہوں یا ا یے نام رکھیے میں جس سکی وجہ سے ا ف٢س پ۰ بلائی ںآلی جہوں کے حدبیث ٹیل اللہ پاک ن ےگس فدر ہثارت دی ےک ریس پیک نا مھ( ےن ) بر ہوگاء اللہ اک ا لکشم میں داش لک ںکر میں گے اینے ہے ہو یکا نام اسلا می نام رکھناء واللد بن افش ہے ۔کیا مان ھا ہیا کے نا مکتب تار کم ہیں؟ اللہ تھا یمیس اسلائیلکر کی اتا کی نی عطا عفر ماے ۔آ ین ا
اہ وش چلال نا مکی جات سے نار ےآزرادی
(+86 ورس ساسا امینس عزت آئی
”وف عَبَْانِ بَيْنَيَدی الله َعَالٰی فَيامْر بهمَا إِلی الج قيقولان کت
ما إِمَْامَكَ الجَنَه لم عمَلَ عَمَلاتُجَارِيا ہو فَْقُوْلَ لَهْمَا : عَبدی ادخ لُجَتَفرتٌۓ البٔث لی تَفْيیْأْ لیخ اَی سْنۂمُعَمَد رَ حم“ (کمافی تنزیه الشریعة ء ج: ٣۱ ص:۱۷۳) ۱
)۹۷۰٢() ہے رت الس مطللد سے روایت ۓ دوش اشقا یل ے سا ےکھڑے ہہوں گےءرن تا یحم دمیں کے ان دونو ںکو جہنت مس نے چا وہ دونوں موا لکن :ان زمارتے رت ای گن دی ھت جق تا لی ش راد ماما جک جم "ول کور میرے بنرے! تم دووں جنت میں دائل ہو جا یش نے اپنی رف سے سم ےک لیا سے جم میں ا سن سکوداخ لی سکرو گاج سک :امھ ( یق )ادراج( با ہوگا۔
(تنزیھة الشریعة ۱۷۲۱) 4 1 ےآ -- ة+ہ ا ٠. شب مع راج یش رسول اللہ چلائاک یقن تالی ےریت
(٥۰٦۹)و للخطیب عن أبی ھریرة ظلہ مرفوغا: ”ما ری بي إِلَی السمَا اتهلی بي جبرِیْل إِلی سر الْمنکھٰی فعْمَسَيیْیٗ فی النور غمسة ٹم تن مِبْیٗ فقلثُ: عَبیٔبیٗ جبَرِیٔل اخْوَجُ مَا گنت إِلییک تَتَغبی و تتتخی؟!فَقَال: یا مُحَمَذا نک فِیٗ مَوقفٍِ لا یَکُونْ یی یسر تہ رٹ الَقَوْسِ فَاتَابی الْمَلَکٌ فَقَال: إِّ الوحَمٰنَ یَسَبَ بح نَفسَة فَسَمعْثُ الرَحْمٰنَ بَقُوْل: با اللہ ما اعم الله لا ره ہلا اللہ فَقْلْك 0۳۷۳۰٦
"۳
قَال هگ٘دًا؟ فََالَ: بیا با هُرَيرَةَا ا تَحْرُیج رُوْحُۂ مِنْ جَسدہ تی یَرانی ارب مَوَضِعَة مِنَ ان“ [ضعیف جداً] رکما فی الفوائد المجموعة ص ۳۶۳)
)۹٦۵( رج : حضرت ااوہررہ نل سے رٹوم رت تے وت کی محراع جم وکو ( مھ پا کوآسان بر نے جایا گیا قذ جب لئ میہرے ساتھ سدرة* ىک ینک گئے نو وہاں جج وکونور میں پچھیا لیا گیاء ایک بار پچ رت رب جچھھ سے الک ہو گے و میں نے کہا: جب رب میہرے دوست ہیں اس وق تآ پکی محی تکا زیادجختاح ہول چہ جا ۓےکہ آپ مھ بھوڑکر جار سے ہیں ۔اکھوں نے عر سکیا :یا نم چان !ا آپ اس وقت اےے مقام پ می سک نے نی مل اورنہی لک متضرب یہا ںکھڑا ہوستگا۔ چہا ںآ پکوکنٹ راک یا کیا ہے۔اس وف تآ پ ون تعالی سے ان قریب ہیں تی ےکا نکنارہ سے ۔ لیں ایک فرشند مشرے پا لآ با اوداں ت ےگہاکہ:عن بعاشدوتالی ایت خودکرر پا ےن اس وقت میں ے سا:سبحان الما اعظم الله لا اله الا الله ٹس نے عو ضکیا: جوا سج کو پڑ ھے اس کے لی کیا انعام سے؟ نے آپ چا نے ارشادفمایا: اے الد ہرد ظیلنہ !ال ںی رو کم سے پرواز ہونے رتچ کت وہ بے رک ےکا اورٹیں اے جت میں اکا کان وکھا و ںگا اھ ضیست
نام لین چا فا اسلام اورخائم ش رات )۹٦٦( وفی الشفاء من حدیث الإسراء من طریق الربیع بن اُنس عن أبی ھریرۃ رضی الله عنۂ : ”یل لی دہ ترَۂ تھی ینُٹھی إِليهَا کل اعد مِنْ ائیک خَا غلی سَبِیْلِک و هیٗ اليَدْرَة المنَهی يَحْرج مِنْ اصُلهَا نار مِنْ مَاءِ عَبْر ایس ء وَ هار مِنْ لس لم بعر طَعْمة ء و انز مِنْ َمْرِلَاَوِلِلشَارِيینَء رَ هر مِنْ عَسّلِ مُصَفی وھ شَجَرَةيسیْر ارکب فی ظِلْھَا سَمعيْنَعَامَ وَإِنَ
27 2 ہد مم
رٍ و مو 2ف وھ و مھا سو وو اس کی ہر مو و و و ا وی کرو و 1 وَرَقة ٍنھا مُظِلة الخلقِ فغشِیھا نور و غَدِیَتھا المَلابِكة فال: فَھُو فَوْلة: ظط إذ ۳
يَغشٍی اليْذْرَة مَا یغشی) فقال تبارک و تعالی لَهُ: سَل فقَال:
اک اتَحَذْث إِبْرَامیْمَ عَلِيلاء وَ أَغطَيتة مُلگا عَظِيْمَء وَ کَلمْتَ مُوسلی تَکْلِیْمَاء وَ أَغْطَیْتَ دَاوٰد مُلگا عَظِیْمَاء وَألنْتَ لَه الْحَىِیْد وَمَعْرْتُ لَه الْجِبَالَء وَأَغْطَیْتَ سُلَيْمَامَ مُلگا عَظِيْمَاء وَمَحْرْت لَه الجنٗ و الس وَ الشيَاطِیْنَ و الریَا َء و أَعَطَيتة مُلگا ا يَنبَغی لَحَدِ مِنْ بَعْدہء وَ عَلَمْتَ عِيْسَی زار و الإِنْحِیْلْء وَجَعَلتَهیْری؛ الَكَمَة وَالبْرَصء وَأَعَذتۂ رَآَئَمِنَ الشُیْطان الرُجِیٔم, فَلَمْ يَكُنْ لَه عَلَيْهمَا سَبيْلّء فَقَال له رَبْهُ: قد اثََذْتک یا فهو مَكُتوّب فی السوَّْاة خَبِیْبُ الرَحَمنِ: ملک لی الناس کَاقَةء وَجَعَلث اتک ھُم وو وَھُمْ اَاحِرُونء وَجََلْ امک لا تَجْوزْلَهمْ عْطْبَةعَتی یَْهَدُوْا نُک عَبْدِیْ وَرَمُزْلِيْ ٌَجَعَلتَک اَل النِْییْنَ عَْقَاء و خرَمْ بَعْنّہ وَأغُطَيْتَکَ مَبْغَا می المتابیء لم أُفْطهَا نَا فبلَک, ٤ اَطَيتک خَوَاِیْمَ سُورَة القرَة مِن کُنْر تحت عَرْشِیٔ لَماعْطھَا لب بلک وَجَکَلتک فَاتِکَا وَ خَاتمًا.“ [ضعیف] (کما فی الاتحافات /1۵۱7)
(7)۹1۷م: جظرت الو ہریرہ لاد سے ردایت سے یھ( مر پل مس ےکہا گیاکہ بر سددة ای سے جہا ںم کآ پک ہراستی جات ےگا ؛ شر لہ وہ اتجاع سنت یس آپ کے ریقہ پر ہوہ پراییاسدرۃ نکی سے ج کی اص بڑ سے صاف شفاف بای کی یی جویھی بداو دایش ہشیش ( کیو نکہ دتیائی پان می و تک قائل اتال ہوا سے یپ جا ا تب او 7ا تق خراب نہ ہو) اور ائ ںکی اصل جڑ ے دودی کی شہ رس یھ ہیں جس کا ذائک ہیی بد لےگاننیسں اورشرا بک خر جو فرحت من ہو ںکی نے زاااون کے لوف لین یدک عپزن مو نک ارز آ سور بی ) رب یکا درخت ایا ہکس کے سای میں ستقر سا لک سوار چا جات ۓےگامگ رخ نییس ہوگاء جن سکا الیک ایک ند اتنا بڑا ہوک ینس کے یمج تما لوق سارہ اص لکرسکتی سے ء جس سکوور ہی فور چچھیانۓ
اڑا
ہوئے سے اور بچھ راس فو رکوفر نے اپینے پروں سے ڈجانۓے ہوئے ہیں ء چوق رآنن پا ککی او رت اٹ زی لیٹ ردیکھیں میں بیا نک یگئی ہیں بن بل میرد نے تضور بلاق سے فر مایا آپ بجھ اگ ءآپ چا نے فرمایا: رٹ العا لی نآپ نے ححضرت ایر کیم علیہ السلا مکوا نا شلیل وووست ا او رٹیم سلعطنت عطا فرماکی اورحضرت می کوکوو طور ب ہک لئ یکا شرف کشا اورنضرت دا کو میک تیم عطا کیا اورلہاکوان کے لی ےس رک کے رم بنایا ادد پا ڑک وسر کاو رحضرت لیا کم کیم کےساتھ جنات وانسان اورشیاشین وہ اکوتابع اورغلام 0ئ عم سکھایاء اوران کے ذر ای ہکوڑھی وجنائیکوشفا د نے تےء ا نکواورا نکی ما کو خحیطان مین سےتفوظاف ماکان دونوں پر شیطا نس بھی رح انیس پا تھاء اڈ اک نے تضور لے اکوف ما یا: 9 ن ےآ پکواپنا ماس حجبب منایا اور ىہ بات ورات مل ری ہوئی ےک ہآپ 'عجیب اض ہیں اور ن ےآ پکوتھا مکا نات عالم کے انسافو ںکا رسول ناک رکیچاسے او رآ پکی مت کواول (علم الی کے اندر وچود کے اقتمار سے منایا اور بعشت ومبحوتث ہونے کے اظتبار ےآ خر امت او رآ پکی اعم تکاکوئی خطبراسل وقنت تک درس ت یں ج بت کک تطیب اس با تک شہادت نہد ےک ہآپ میرے بندے اور رے رسول ہیں اور میں نے٦ پک پا یا مایا ےرک پکی نبوتکاعلم ازلی بش فپصلکیا) او رکیییے کے اعظتپار ےآ پکوتام امیا ہم لصو والسلام کے بحدم وٹ را ارآ پکوسورة بقر ہک یآ خری دو ہیی نزا عمش سے عطاگییںہ جولسی اور نیکوع اتی ںکی گیکیں اوریش ن ےآ پکوفاغ اسلام اور خاتم ش رات بنایا- روگ تی سدرق لت یل بی کے درخ تک و کت ہیں ۔ تھی کسی انا کیا آتالنا بر عمرس کے بے می ہی رکا درخت ہے۔ ۵
لٹ کی روایت میں ان ںکو چن ےآ سمان پہ تلایا سے دونوں روایجو ںکی شیقی اس رع ہوکتی ےک ائ کی جڑ ی ےآسمان پر اور شانحیس سنوی ںآسمان پ میٹ ہوگی ہیں۔ (قرٹی) اور ماف شمتوںکی رت ببآخریی عد سے ای لیے ا سک ضف کتے ہیں۔ ین رواات میں :ان ارول خی نع ھے سد انی پر ناد وو ہژن۔ یہاں سے متنعاننہ فرشتوں کے سرد ہہوتے :5 اور زین ےآ سان جا وا لے انمالناے وغیرُگھی فرش منڑیںیکک جاباتے ہیں دہاں سن تی کے سا تے نٹ یکی اورکوئی صورت ہوٹی ے۔۔(معارف الترآن )٣۰٠۸۸
--٠002 کے انور انار وٹ ر ہک وا کے کھلوں اور مچووں پر ا سکیں کر سکت جس اش راک ای سے اس ہی کی کے درخ تکوھی بیہا کیا ہی یں پ تاس نکیا جا اللدعی جاضنا ےک دہ بی رئی مس طر کی ہوگی۔ برحال دہ درخت اھ راو را دھ کی "۳ت ہے جواعمال ویبرہ اوھر سے چڑ ھت ہیں اور جوا حکام وشبرہ اوھ رے ات تے ہیں سب کا ضف وو سی سے ۔جھوع روایات ہے ہی ںٹ کچھ میں٦ ےکا لک سے آسمان میس اور یلا سا تو ی ںآ سمان میس ہوگاء وای اعم !تیریخ نی)
ٹن یک جن سے ۔نخلوقات ( لالہ ) کم مکی رسای لیس وی ںکک سے ای کے بر ےغیب سے جس سےالد تھی کےسواکوٹی وافن فککئیں -
رسول الد للا نے فرمایا ال سکی شا کا سام الیم ےک ایک سوارس ریس اس کے بے چاتتا رسے اور ایک لاکوسوار اس کے سام می سآ سے ہیں ال سکا خر سون ےکا سے اور اس کا پل منکو ںکی ط رح (مقدرار یس ) ہیں (بخوی رت )۱٠۸۲/٦
مفناتل 2 وہ اہک درخت جو ز اور اورلپا او رکھلوں سے اور تام رنگوں ہے آراستتہ ےہاگ ال کا پت زین گر جا فے زین کے سمارے رجے والو ںکو روش کمردے پیطولیٰ ے۔
دہ اتی جو سا کی آسمان پر ایک بی کا درخت سے زمین سے جو ہر
٦
7ء پ۰ سر جاک نشی بوجاٹی ے اور بچھراویراٹھائی اتی سے اور لاءاشٰ ےھولال عرسر گی پر اک رکھڑی ہوجا پی سے پھر بے اتکی سے ای - ا کا نام سسدرۃ انی جات
اس مقام برتمور چا نے یی راف یرت میس کنا اوک تعا ی غاد کی جیب وخریب الوار خلا تکا مشاہد ہکیاا ور بے شارف رشن اورسونے کے گے اور پروانے د بے جوسدرة ای یلوگیر ے ہو تھے ۔مصین میس اروذر خیللدکی ردامیت ےکہ تضور ےا نے فرب میس سددۃ نکی یہ بچاءجہاں جیب وخر یب الوان اوررشین یں بے معلو کی ںکہ و ہک یانیں پچ میں جشت میس دائ لکیاگیا نو اس کےکگنبدموتیوں کے جے انی اا سک مق فکاگی۔ (سیرت ا صطفیٰ /۱۰۵۵ء رح الباری ع/۷۹٦)
مت ا دریا
رت معاویہ من حیرہ ان نے میا نکیا میس نے خودسن اک رسول اللہ چ انف ارے تے جنت کے اندر بای کا ددیاےء اورنہ رکا دریا ےء اوروود کا ددیڑےء اورشرا کا درا ہےء بچھر ہرایک سے نہیں کال یگئی ہیں ۔ (ضاوتدی)
حضرت الو ہرد یل نکی روابیت ےک رسول اید لان نے فر مایا ججض تکی شہ ری نک سے پا و نے (ورؤ ایز کار رافک :ابی :الطرن)
جن تک شہ ری زین کےاوپہ میں مسروقیکابیان ےک جن تک خہری اف گڑھے کے( موا رپپ ک,قی ہیں۔ (رواہ ابن المبارك والبیھقی) ححخرت الس حلدہ سے دوایت ےک رسول الد انا نے فر مایا : شا یم خی لکرتے ہوکہ جن کی خر زین کےگڑ ھے( میں کہتی )ہو ںکی بیس ؛ ای دک یم دہ روئۓ مین پررواں ہو لگی اس کے دوفو یکنارے موتوں کے نے ہوں کے اور ا سکیٗٹی لص مک ہوگی-۔
ےا
جنت کا بای جم تک انی لولیمکت بای نز کے اخطلاط سے ا لکی لوڈیش بلاق ہشہد سے زیادہ 7ے مسب ارح ت277 کے تق کو ا سکی طرف رادجیں۔ (تفیرحن) جنت کے پاپ اوردددھ اورشراب کے بارے میں لا اماک دوس بتقیرات اور بدھ زی گی آغات سے خالی ہیں اور جم تکا دوس رکیممعفرنول اور مماسد سے نالی ہہوناءسورہ صافات گی آ یت می ںآ یا ے'لَافيهَا عو وَلَاهُمْ عَنهَا بن زقنَ (اصانات:ہ) ای ضر دنا کےشہد مکل پیل اور موم لا ہنا ےہ جس کی ضرم شا پا اک صاف ہون لا یاگیا- ا س01 شنمیں پانی دودھ شراب شھ۰دا ےعلق می میس ہیں اود مھا زئیمعنی لی نکی ضرورت یں تہ ہہ با تھی ہوئی ےکہ جن تک چزو ںکودیا کی چیزوں بر قیا سک سکیا جاسلتتاء دہا لک ہر چزکی لت وکیف ہج اور ہی ہوگا ج سکی دنا می سکوئی میں ۔(معارف القآن مگلرست )٥٢۸/" جن تک دور شراب .نہر ایک م فو عدیث میں کہم دودھ جاوروں کےعحن سے اکا ہوا نیس ء ْ ٹررلی گے اور صاف شرا بک نہر نک جھ ہے وا لک ول جو شکردیء دا تحت والی ء شہ بدمنظرےء بمہ و نے انچھیء پیٹ میں بہت لفبذء خہایت غوشمبودارء جس سے نعل میں فو رآ ۓ ند ماغ ٹس پچ ریس بلیں بھنگییں_ ذنفہ چٹ س بنتقل جاے۔ عدیث میس سےکہ بیشرا بگھ کسی کے پاتھو ںکی بای ہوئی نیس بکہ ا تعاٹیٰ کےعم سے تیار ہوئی ہے۔خونل ذا خوش رنگک ہے۔ جنت میں شھدکی خہ ری بھی ہیں جو ٦ہت صاف ے اورخوشمبودار اور ذا ئک کاکہناب یکیاے عد یت ش ریف میں ےک ہ بیشہدٹھی
کھیوں کے پیٹ سےکڑیں ء من اح کی ایک مہو عر بیث ہن ےکہ جنت میں دودھء
۸
پالیءشہدہ ادورشراب کےسحندرد ہیں مجن یں سے ال نکی خہری اور چشے جاریی ہہوتے ہیں۔ (ڑذزی٣نج) نت کے نہرو ںکا نظام
اہن ھردو کی عدیت مش سے مت ےکن ہیں پچ ر ایک عش میں لی یں دہاں سے بر یعاورشبروں کےتمامجلتقوں میس جالی ہیں۔
برای یس حطرت لتقیط بن عامر جب وفد مم سآ تھے و رسول الد لا سے دریاف تکیاکہ جفت می لکیا بکھ ہے ءآپ چلانا نے فرمایا صاف شہدکی نہر اور خی ر نے ےمد 2ک رن 'دالی خرن کی خرن اود کے دای ددد کی خورشن و رقراپ نت ہونے وا لے شفاف پانی کی شریی ادرطرح ط رح کے میوے جات ٹیب خیب نل و لکل جاز اور پک صاف جیویاں جوصا شی نکویی کی اورخوجھی صالیات ہو ںگ دنا کی لذن نکی رح ان سے لمذٹس اٹھائیں گےہ ہاں ہاں جال ۓئے شہ ہوں گے ۔ححضرت اف مات یں مہ خیای نہکرناکہ جن تکی ضہری بھی دنا کی خر ںکی طر کھدری ہوٹی رن و نون من کی ہیں می یں ا دک ینم دہ صاف دچموارز ان پر ملسا ں جاری ہیں ان ک ےکنار ےکنارے لوت اورموتیوں کے بے ہیں ا نکیمی مک خمالفسش ے۔
(تخیرا نکی رگارس د۷ /۹م۹) جو لن جنون ءفرات اورتل
خر اور رد تاذ ے رایت ےک رسول الشد لئ نے مایا :جج ناوجون اورفرات اورٗیل سب جض تک شہروں سے ہیں (رواسلم)
خر تگھروم نعوف یلاہ سے روابیت ےک رسول اللہ الا نے فرمایا: چار (ددیام جن کی خہریس ہیں نیل فرات چون اورٹجون اور جار پہاڑ جنت کے پہاڑ ہیں أعدء طورءلہانءاوردرقان-
۹
کحب اجار ادن ےکہاجحنت کے اندردر یا ۓ کیل شہ رکا در با سے اوردریااۓے دعلہ دورد یکا ددیا ےرات شرا کا 0 سرت ای کا درڑے۔(متتی ہمت کے اند رشن ددیائوں کے بدد نیدی نام ہیں ا نکی تقیقت شہدددد شراب اور بای ے۔ رقق) نکی نےکعب ا مارکا قول الس ط رب میا نکیاے : لزرابیۓ وج لتّوں ے انی کا دریا ےء اوردیااۓ رات وودی یکا درا ے اور یل جضتتو ںکی شراب کا ےدارا 75ت ات کے ش کا دریڑے۔اور بے چاروںل (جھتی) در مکونڑے لکن ہیں۔ تی رمظبری مگارس )٥۸۸/۷ شٰ 0 فک دم 7 الیک عدیث یں ےآپ چا نے فرمایا: اے لوگو جب تم الد تھالی سے جنت کے لیے دعا مانگوفو فردؤ کا سوا لک اکر دکیونکہفردوں جن ت کا درمیا لی اور ایی تین متقام سے شس سے تھا نہر جن کی بہردای ہیں اوداس کے او زی رشن ہے۔ (معارف الق رآ ن کا ندعلوک گل رست ۹7۸/۷) رسول امنمم یق ہضور سےکواگوں الطاف وعنایات سے داز گیا او رر مر کے بشاردات سےمسرورکی ایا یی اکہت جمہ می آپ نے ابھی پڑ ھا ےکربن ہل مہو نے رسول امضعم چڈےکوا نا عجبیب باکترا یں عیب الک کا لخقب دیاء ورک یکا نات عا لمکا رسول امضعم لے بنیاء پک امت جشت میں سب سے پل دائل ہوگیء جس ہآ کی تام امت کے بعدء ج ب بھی مت خطبۂمانورہپڑ ھےگی اس میں نطب“ میا نطب“ جو قرا متطبوں می ںآ پکی نبوت ورسالر کا ززمہہہوکا آپ اول نی ہیں ء اور پور کے اظتبار ےآ خر می ںآ ئے من ط0 ن ےآ پکوک ای سور فا عطائکیاء جھآپ سے پیےی نیکوعطانڑیش ہہوا۔ اورخوا تم
۳
سورہ پقر دش کےنزانے سے عطاہواج کی ن یکوآپ سے پک یمیس ملا۔ او رآ پکوفا ا مائم بنایا۔
اور ابو پ ربرد یل کیا ایک طوبیل عدییت یس ےکبعن بل شانہ نے انا ام میں بکرم لاف سے بیفر مایا آپ ےآپ کے پر وددگار ن ےکہاکہ میس نے چھ کان کیل اور عجبیپ بٹایاء اورتمام لوگوں کک لیے کی رون ر پناک مر جیاء اور خر سد رگھولاء اور را و تھ اناراء اور تبرکیآوا زکو بلز دکیاء مبرکی نو حید کے ساتھ تب ری رسالت او رعپد بی تکا بھی ذکر کیا جانا ےء او رتتیرکی ام تکو تی رالا عم اورالمت مت سطہ اور عاوللہاور معترلہ بنایاءشرف اور فضیلت کے اتا ک0.. او رظ پور اور وچجود کے ضاب سے آخ رین نایا اورآ پکی امت میں سے پیج لوک ا سے بات ےکلہ شین کے دل اورسین ہی یں ےن الک کلام ان کےسیینوں میں اور ولوں می سکھھا ہوا ہوگاء او رآ پکو وجودفوراٹی اور روعا یٰ کے اعتہار ے اول این اور بش کے اعتبار سے1خم الین بنایاء او رآ پکوسورہ فا اور خوا تم سورہبقردعطا کئ جھآپ سے پ یی ن یکوئیس د ہے ۔ او رآ پکوحون کوٹ عطا کی ء ادرآ ٹھ چرس مان طور پ رآ پک امم تکودمیں۔ اسلام اورمسلما نکا اقب ء اورجثرت اور چباداورنمازاورصدقہ اورصوم رمضیان اورام پالمحروف او رن ین امگر _ او رآ پکو فا ورام بنا باءم]نی اول الاخمیاءاو رآ خر الاخریاء بنایا۔ (سی رلصطفی اص ۸۰ء)
ہار ےآ ت ای ومد نی فداہ لی وائی چل ےکی مخجانب الد شان بی خرالی سے آ پکا تصورتیق میں مقام و عرتہ اورثرب و اتال ااطاف و عثاباتء بشارات و عطہات: اذارات شبات ء فیضائن وش و برکا تکا عالم بی ماوراء لور وخیالات ہیں ۔ عط اکر نے والا رٹ ال تم سے براب ہو ے واڑا ام این امام الانمیاءء سیل الاوفشن و الآخرین ہیں صلأ ۃ وسلام ہوا درشیم رس ےکا کات کساد رر راب وین پر فائز ہوک رعبد بی تک نحروظرے بلندکیا_ فَلمًا قَامَ عَبْاللهء صلی الله علیہ وسلم۔ (شنین اشر ف٣ اص ف۳۳ م۱ی)
۳
باب فی فضل إبراھیم عليه السلام بب :حرت مامالا مکفشیت (۷)) عن ابن مسعودۃلہ عن النبی ظلہٗ قال: قیل لە ماالمقام المحموذ؟ قال: ”اک يَوْم تل الله تَعَلٰی لی كرْمِيّه نظ کم يَنُط الرَحْل الْجَيبْةُ ِن تَصَائْله به وَهوَ كَِعَة ما ین السمَاءِوَ اض ء وَيُجَاه بكُم مُفَاةَعرَاة غَرَلّافيَکُوْنْ ال مَْ کسی إِيََهیميَهُولَ اللَهُعَالی: اما لی فیّتی بِریْعَمَيِبَیْصَاوَین مِنْ رِیَاط الجَنَةن سی لی ارہ تم أَُوْْعَنْيَمیْنٍ الله مُقَامَّ يَعبطیی الأَوَلُوْنَ وَالَاحِرُوْنَ.“ [ضعیف] (أخرجه الدارمی ج٢ ص٣۳۲ ترجمان السنە ج ٠۳ ص )٥۹٤
سب سے لے حضرت اب را تیم علیہ السا مکو جن تکالم اس عطا کیا
جا گا ججیک عرش کے داہنی طرف مج جا ہوں کے
(ے٦۹) 7 بج مہ : حضرت امن مسود اد سے روایت ےک رسول ایند ہلا سے سوا لکیا گیا کہ متقا مم ودکیا یڑ ےے؟ ( ایک مقام سے جورسول اللہ چاو اس ون تعیب ہوگا) ے آپ چا نے فرمایا: یراس دن ہہوگا کہ رت انت عش ٹیم سے اٹ یکری مرجلدہ اٹروڑ ہوگا یھی ھی فر ما ےکا 0 اکیاوہشسی بی نے وزنع ےآ وا زمر کنا ےء حالاکمہ ا سک" یکی وسح تآسمان وز ین کے درمیان فا صلہ کی برابر سے ا کے بعد چرم سبتخلو قکوحاض رکیا جا ۓگا۔ برقم سب گے پائوں٠ گے مہ ای رخقنہ کے ہوے لا جا گے و سب سے پییلے ابرا میم علیہ السلا مکوجنقی مباس ہنا جاےگ۔
تن بل مروف ا ےگا: خی ےکم کول راس ناو دداریک وی حا زی جخنت
۲۲
ہے لاک نکیل اولکو پہنائی جا ۓےگی۔ بچھراس کے بعد بھےکو( یی مر چڈااک) ہقیلس پہنایا جا ۓگاء پچ ریس ( مم یا ) عیل انلم کے داانی طر فکھٹرا ہو ںگا۔ یرالیامتظام ےکہ دگرب الین و خرین جھ پر رش کک میں گے۔ (ینی داہن طرف عرش پنضم سےکھرا کیا جانا مق کو دکی +0 ۔ (اترج الدارق۳۲۵/۲)
ول ات ابرائیم علیرالسلام
جخرت ابو ہ ریہ لہ سے روایت ےک رسول الد پا نے فر مایا( چند با ٹیس وہ ہیں جوسب سے بے حطرت ابرائیم علیرالعلام سے مرو ہوئیس
و و ٭ ی ۴+ <َ ٭٭+ ٭٭<< یّ + ٭٭ّ ٭٭+ ٭د
سب سے پییلمبمال ی کی سضت انھوں نے شرو ںعکی۔
سب سے پپ یہ قیامت کے دا نال امس ز یبن نکرایا جات ےگا۔ سب سے پیل انھوں نے میں تراشھیں۔
ع+-ء سا کا فو کر سب س پیل ناشن انھوں نے تراے۔
سب سے پیل ہکسمالہ (کمدال نےکر ای خخقراھوں ن ےکی۔ سب سے پپ یہ باجامدانھوں نے پہنا۔
سب سے پلیہ اتک اکھوں نے اکالی۔
سب سے چپ استرہ سے زمرناف پال اکعوں نے ليیے۔
سب سے بے مب رپرانکھوں نے خطبددیا۔
سب سے پ سالک ر کے مین مفسرہہ اورقل بکیت تی ماٹھوں نے ابا دکی۔ سب سے بی جنر ے پر پیم اکھوں نے لگاا۔
سب سے پی مان انیھوں نے بتائی۔
سب سے لے معا نقہاکصوں ن ےکیا۔
۲٣ى
٭ سب سے پییلہ تر بدکھانا اکھول نے تیارکیا۔
پا سب سے پل ود روٹی جوقر یملق سکیطر فمفسوب ہے انھوں نے جیا رکی۔ ( مان الے ح: ۳ ضش:۲۹۵)
یرسب اشیاملکن ےکہسب سے پیل ان سے بی ش رو ہوگی ہوں با ان ٹیل رت ابر ڈیم علیہ السلا مک یکوٹی تحصوصییت ای ہوجن سکی ہناء پر ا نکی بت حضرت ڈیم علیرالسلا مکی جانب اوٹ یج گی ہو۔
کر یکی وسعمت اوریقی تال یکی گی
انل حدبیث قدی ٹل سب سے بی ج بات وا ک کی ہے وہ یہ ہےکبیقی بل جہن نیم سے اپٹ یکری رج فرما ےگا نوہ اس طرع آوا نکر ےکی جیما اکیاو کسی بڑکی نز کے وزلنع ےآوا زمر ن ےکنا ہے۔ ھا اکلہ ال سک" یکی وسح تآسمان وز ین کے درمیان فاصذی براہرے۔
ا نکی نے حطرت ابوذرخفاری داد لف لکیا ےک انھوں نے آنحفضرت پا سے ددیاف تکیاککہکر کیا اورکڑی ہے؟ آپ چلال نے فرما ام سے اس ذا کیا جس کے ہبی مبریی جان ےک ہسا نی یآسماموں اور زبیتو ںکی مثا لکری کے مقابلہ یش ای ے تیے ایک بڑے مییران می ںکوئی علق انی ڈال دیا جاائۓ-
اورجنع دوسرکی ردابات یں ہ ےک نشی کے ساس ےکم ری یکی ما بھی ایی بی سے یے ایک بڑے میران میں انکشت ری یکا علقہ ۔حضرت ابد ہریرہ دیلندکا قول ےک کی عشل کےساتے انم سے اورآ یت وَسسع شزسّة السملواتِ وَالازض کا مطلب بر ےکہ رن یکی وضعحت اع او رما نکی ویسعمت کے برا سے ۔حضرت این عباس کا تل ردکی ےکک ری کے اندرسانو ںآ سان المے ہس جی ےی ڈعال میس سمات دنم ڈال دن جائیں۔
حر تک یکرم الد وہہ اور مال دشھی انڈ ریما کا قول ےک کی کے ہر پا کا
۳"
طول سمانو ںآ سمانوں اورسافوںل زنینوں کے برا جم سے ۔ک کی عیش کے سا مے ےکر یکو چارفرشے اٹھاۓ ہو ہیں ہرفرحتے کے پا رمنہ ہیں ان فرشتتوں کے قرم سا تو یں بی زین کے نے پھر یہ ہیں ء یرمسافت پاچ سح مر لگ راہ کے براجر ہے۔ ایک ف رشن کی شحل اإوالیشر٠ نی وم علیہ السلا مکی طط ر یئ سال یمک تح یودن کے یکین ارتا زا سے دوس رےف رشن کی صصورت چو یاوں کےسردارمچنی یل لکی طرح ہے جو چو پایوں کے لیے سا لبھررز نکی دعا ماظن رتا سے مان جب سےگوسالہکی لوجاک یاکئی اس وت سے اس کے چچرہ پر چایرانئیں موی ہں۔ کر کی الدکی طر فخببت
کی او رعش کی نسہدت الد تھال کی طر فک رن ےکی وج یہ ہےکہ یہ چرس ایک زاص عم کے جلو لی کے لے یسوی ہیں۔ یجن اہر یکو ئی خائ ض مک می ہے اورجنس رح لیا تکی افواع اوراقسام میس ہ رخ ےکی گی ید ہے ای طرح جج بی ںککری اوررش کی بات مد ہیدہ ہوں اورایک دوسرے سے متتاز ہوں _ داشرا م۔
رس /۱۲م) قامت کے ون انا نکی بک یکا منظر
دوس کی بعر یٹ بین ےک قیامت کے ون ہرنفص گے پائؤں ن حم او راغ رختنہ 2 ر31 ارم سے دنیا می سآیا بتھا۔ فقیامت کے دن ابی رب حاضری ت عدیث ش لآیا ےک جقرت عائشہ شی اللرعنہا نے سوا لکیا ایک دوسر ےکودیگھیں کے نو شم وجیاب نہ ہوگا؟ آپ نے جواب وراکک ندمت اض دنن کا ہیں ہوکا سی نی ورای افرنفری ہوگیء ہرس اپنے احوال میس اییا اگ رفمار اور پر یجان ہوکا کہ دوسرے کے
احوال سے سے گان اور اٹل ہوا تن ای جھم س بک ستا رکی وخفاری فرمائیں ۔آ ین
حضرت ا برا ڈیم علیہ السلا مو فی علیہ
جحخرت ابرا ڈیم علیہ السلا مکوسب سے پیل جھقی لہ زی بت نکرایا جات ۓگگا کیوکمہ
۵
راوڑقی ش سب سے پیل رت الع تک فو حید کیا ی کی اط راچ یکون کرک ےگ میس ڈالا گیا نتھا۔ ما عم سے لاس اتاراگیا تھا۔ جن کے اع زاز بیس رب الع کی جاب سے امت کے وع ء سب سے پل ا نکوجقی حا ہکا شاک عنایت ہوگاء اور سب رات ا نکی فدائیت پر عمزت کنا جا گا۔ مہ ایک جز وی فضیلت سے جوحخرت ٹیل الکو متیاب الرعطا 7
عمش رن کے داہنی طرف رسول الا چا ہوں کے دوسراجشقی علّہ وا شاک جناب حطرت مجر ڈنو پبہنایا جات ےکا او عمش لیم 23 دا ہنی جاخب رسول ال کا مقام بہوگا جم سکو دس کر خمام اون وآ خرین خبطہ و رشن ککرییی گےء اس رع مقا مود کے امام ام دشر خلا بارکگاہ رٹ العنت کے مقرب بہوں گے اوران کے ما مر بکو دک ربھی ری فکر میں گے۔ واد رام !
ابرا ڈیم علیہ السلام نے سب سے پیل /ہماا نکی ضیاف تک خقنکیا اور با لکی مضیدری دی
)۹٦۸( عن سعید بن المسیب ظلہ قال:
”کا بْرَامیْم فَ السّلام 07 لاس مك اعت 6.۲ لاس اعتَيَء وَأَوَلَ النّاسِ رَای اليِيْبَ فَقَالَ: یا رَبٌ! مَا هذًا؟ فَقَالَ اللَهتَبارک رَ تعالی : فیا إبْرَامیْمْ فقال: رَبٌ! زِذُنِیٗ وَفَارَا.“
[ضعیف] (أخرجه مالك فی المؤطا ص٥۷٣ ترجمان السنە ج ٤٠ص )٦۹٤
(۸) ہم : میدن مسیتب دلد سے روابیت ہس ےک ابرا ڈیم علیہ السلام نے سب سے پیل ما نک ضیافت دمبمانی کی اور سب سے پپھلہ با لک سفیری یھی توانر تمالی سےسوا لکیا:بارب ابیسفیر یکیاے؟ تن تجارک تھا ٹی نے فرمایا: آ کا وقارو اترام ےو اکھوں نے فرمابا: چرمیرے وقاروات رام یس اضافکردہچے_
٦
سضر با لکا ا رام تیچ کال کر نے سے احراز یچ
کو بی بات سی ےکسفید جال سے انسانی ارام میس اضافہ ہو جا تا ے اور سفید پال والو کا دوصرے لوک اتتر ا کر تے ہیں اورخو ھی دہ جو و جوا لی کا امنک چاتا رکاے۔ لآ خر کی بیٹ یکا جیٹگی اخا و ماب اہو جا ا سے ہگ رآ کا ون ھا بھی نہ معلو مکیوں انا نال ہگ ایی جو انی اترا مکی مخیاب ادشدعلامت وی سے اس کون مککر کے قدرکی سیاہی سے زیادہ پالو کی سیاہی کے جیجے من ہن کن رآ جا ہے ہمہ وقار اترام پٹ کا نکیا حجاہت ےہ ہرکوکی جا ہت ےک میرا:قاراوگوں یں ہو اترام ہو اور جب الد تھا لی دقارکی علامت ظاہ رک تے ہیں فو ہم بای بن جاتے ہیں او من حم کے خضا بک کے ای ےآ پکو دوک دینے ہیں . پیل لوک دوسرو ںکو دم کہ د نے تے اب لک خووکو دوک میس رت ہیں ۔ ارک اہی ہو مہندب یکا خضاب کی اورٹس ساہ خضاب کر ےآخرت سےففلت پیرانہ جیلو رکوسیاہی سے شہ بد لیے۔
سیاد اد رکال خضابءٹٹس سے پالو ںکی سیاہی اصکی سیادی معلوم ہوکرو ون بی سےء الہ ممامدکو بحالت ججہاد ارحاب اعداء(مڑی نو ںکوڈرانے اور رحب ڈالے ) کے لیے فقہاء نے درس کہا ے۔ رسول الد یا نے ہطرت الو دی داز کے وال کو نر یکا خضاب لگا ےکا منورہدیا تھا رایاغیّسروا بشئےیء واجتنبوا السُواد بت ردارکالا کمر نے سے بیچنا۔ (مسلم کاب اللباس :فو یگمودی. ح۱۹ ل۴۵۲)
سیا وکا نے خضا بکاعم
سر و لال خضاب بالانظاقی جاتز و درست سے اور سیاہ خضاب بہاد ٹل بہت شن کے لے بھی جائز ہے۔ او ز بہت کے واسل ملف فیہ ہے۔ عام مار کا قول کمراہت ےلین را نرکرناے۔
وٴاماالخضابْ بالیوَادِ الَحالص تَغِيْرُ ججائز مال سکالا خضاب درست
کۓ
نڑیں جع اکہابود اد نسائی این ضبان اورحائم شش ردایت ہے حاکم ن ےکہ الک الاسناد ے یکون قوم یبخحضبون فی آخر الزمان بالسواد کحواصل الحمام لا ریس ون راکسحة الجدة خرت این عما ںکی مفوغ عد یت ےک ہآ خ ری ز مانے میں ای لوک ہوں کے جوکا لا خضا بکر یں کے تی ےک کبوت کے گے کے بے داشددان ( الا ہوا ے وو جم کی خوشبوگھی سوگ یکیں گے .( اف راہ الا پارڈ )
علامہابکن تج ری نے اپٹ یکتاب الفز واج می کالما خضا بکر لن ےکوگنا ہکہبرہ بی شار کیاے۔الخضاب بالسواد من الکبائرکالاخضا بگناہکبیبرہ بل سے ہے۔اوراال کی تا یرس امام برا ی کی م فو حد یٹ حطرت اودرداء یل دکیاف لکی ہے۔
“ن خحضب بالسواد سود الله وجھہ یوم القیامة خرت اودرداءی مو روایت ےش نین نے کالاخضا بکیا ایند تال یٰ ا ں کی شح لکو قیامت کے دن کالا کردہیی گے۔اورامام اھ نے اپتی من می روای تا لکی سے غیسے واالشیےب ولانقضر سوا السواد ۔کالاخضاب میں اصلیت بی شخم ہو ای سے جال میس اصصلیت کارنگ نمایاں ہہوتا سے اورکا نے رنگ میں خداع اور کہ سے ۔نظرت ال وگ رصدرل جلدہ کے وال رکورحول الد چان نے فر مایا تھا:غیّر واھذ١ابشی واجتنبوا السواد. الامر للوجوب وترک الواجب الموعید واج بکوکچھوڑ نا وخیدکا باعث ےبیون کال نہ کر ےکا عم نہوئی چا تھا۔ لہا الا خضاب شہکرنا فر مان بی علیہ ااصلؤۃ والسلام ہوا۔ ان اتاوکی بیس سیا خضاب لگانے وا لن کو فا نککھا ے اور اس کی امام ت کرد وگ بھی ہے۔
(ا٣ن الفتاو یی )٣۹۳/ یل ے لیے اعداد النتاوییٰ۲۱۵/۳ء آپ کے مسائل اور ا کال ۳۲۰۸ء وٹ ودب ۵۳/۱۹ کی طرف مرا تحص تک ں-
۸
رت ابر ڈیم علیہ السلا رکیل ارد بنا ےکی حکست
)۹٦۹( ولابی الشیخ_ فی الثواب عن عمرطلچہ:
”إنّ الله عَزٌوَجِلبَعَتَ جِبْرِیْلَ إلی إنْرَاهیْم فَقَالَله: یا إِبْرَاهیْم اِنَیَ لم اتخدک خعَلِيا نک ابد عِبَادِیٔء وَ لکن اِطُلَعْتُ فی قُلَوْب الْمُوْمِيِیْنَ فَلمَ اجذ قَلّبَا اُسُخی مِن قَبْلِک.“ (کمافی کنزالعمال ج۳۲۲۹۸۸۱۱)
(7)۹۹۹ جم : حر تعھ را سے رواییت سے من یل مر نے جج ریل علیہ السلا مکو1براڈیم علیہ العلام کے پا سکیا اورفر مایا اے ابرا پیم شس ن ےآ پل اشن لیے یں ہنا اکہآپ میرے بندول میں سب سے (یاد عباد گار اد ہیں ۔ الہتہ یش نے تام مرن رون ٹیس جا می کرد بیکھا لے ک0 و ہیں پاپا(اں ےآ پکوییل بنایا سے )۔ نز احمال۳۶۲۹۸۷۱)
رت ابرائی علیہ السا ماع ال یک یل میں سرعت وجلدی
. ۸" اَی علی طن مرسی بی غلى ض ابی
2 بر إِيْرَاهیم اح بِقدُوْم فَاشْمَد عَلَيه فاَوحَی الله ِليه : عَجِلَتَ قَبْل ان تائرک بائیۃ قال: :یا رَب! كَرَهْث ان اؤَحْرَآئرک.
[ضعیف] (کما فی المطالب العالیة ج ۷۸۸۱)
(۹ے۹)نھ بحم : موی بج نىپی ان والد سے روای کر تے ہیں رت اب رانیم
علیہ السلا مکوختن ہکا عم ای لاف رہ یکدا ل لیا ادرابنا خق ہک لیا۔ ج ب نکی کی شرت
بوگی نو ال تھالی نے وگینمہگ یآ پ نے جلد کی ء اچھ یآ پک وع نیو ملا تھ اکس یز سے
خقنرکرنا ہے ۔حخرت ابرا ڈیم نع کیا : رٹ الحزن تآ پکا عم مان یہ بات مشے پنند نہ آل ہار لی یس تا تی کی جا ۔ (الطالب العالیہار۸ءے)
یل ال کی اڈلیت واشیاج ش رلعت حضرت ابرا میم علیہ السلام ال تھا لی کے سیل ہیں اور مشا ہرک مو کیا نحقت سے خوب خو بمحفهوطط ہیں ررفطر تکی سلائتی اور طہار تقلب ذو ا شی زیانع ج١ن عکوت السمو ات والا بش سے رک یگئی ہے ۔ ابا ئی کیل اللرکوموہو ب من انی ء فو حید پارک یکا اٹوکھا اسلوب وبییرا يف وقات کے ذرہ ذ رہ سے نما کی بافت اور وجدا کا کیو بط بتلوقا کی بے بھی خال نکی فنررت وقوت خی تناد یکا شتوری مشاہ نیل الکو ا 0 قتالاد یک اقال ے برغ لاق ل انظزم تک ہار ضورت نکی تضور یکا شعوری وزوقی لف وس وریل الف رکومشاہدہ ہود ہا تھا یحم باریآیا خہکروف را ش ےکدال تح ہش تام ورخت شی لک ورام ال یکو و کرنے می اد نا نی کی اوراس میدران می بھی الب ت کا طقہ قام تج نیل الہ کے دامن میس بت ہوگیا۔ جب خقنہ کے بعددردڈ نی فو ںکرنے گے نے من تعالی نے فر مایا خقضنس آلہ جتھیار سےکرنا جا نے بن اٹھی تلایا یی ںگیا تھا او رآپ نے جل در یک کی ۔کننا عحبدیت میس ڈو ہا ہواکہ ےک رٹ العن ت٦ آپ ےک کیل میں جا خ شلیل سے ہو یہ 'زارودترتوا اس لے جلدی ےی لج رکریا۔ یہی می الد یل ايل رکون حید ار یکی سزائیس دخول نارکی ایت حاصل سے حم مارک سے لی دعدانیت کےتقیر وی مزا بی ڈیا اتاراگیااولیت اٹ یکو حاصل ہے خی تی شی کا فی آدم می قیام تکک کے لیے رواج ابرائی می کی سنت ہےء جنت میں این لہ وا شا کبھی ابر می می لکو پہنایاجا ۓگا۔ باب : فی فضل اسحاق عليه السلام ہب :حفرت اسحاقی علیرالسلا مک فضیلت (۹۷۱) عن العباس بن عبدالمطلب طلہ قال: قال رسول الله :
۳
”فَال تي الله دَاوَذُ: یا رَب! اَصمَع النَاسٔ مَقُولوْنَ: رب إِسْحَاق !ا قَال: إِنَ اِسْحَاق جَاد لی بنفِو.“ [ضعیف] (أخرجه الحاکم فی المستدرك ج ٢ ص٥٥٠) ا حا علیرالسلا مکی فدائیتء رت العزت کے لیے (ا۹2) تٴ حم : ععباس لہ مین عبدالمطلب سے روابیت ےک رسول اللہ خلا نے ف رما اککہ: الد کے نی داد نے فر مایا رٹ الھنت ٹیل مخما ہو يک لوک کت ہی ںکررتٹ ٦ 0-7 4 - ء 7 ٭َ اسحاقی_بن بل مجر نے فرماما: ا انی انی ےآ پکومیرے لیے فندا یے ہوئۓ ے (اسماقی رٹ الع تکی ذات کے لیے فدائیت کے مظام پر تھےء اس لیے لوکوں نے مال بنال اہ نرہ یل فداحیت ہونو ای می احاقی مس ر بک ذات کے لے فداحیتکگی )۔ (اخ رز ال اگ نی اصعر رلك۵۵۱۲) ۰+ ہر 01.۲ صر 7 ّٰك٣ ححضرت داد گی بارگاد رٹ الزنت شیل دعا اور ال کا جواب (۹۷۲) وللہزار عن العباس لہ أیضا: ”قَال داوؤڈ عَلَيْه السلامَ: أَسألک بحَق آبَائیٔ ِیْرَاهیْم و اِسْخَاق و بَعَقُوْب. فَقَال: ما بَرَاهیْمْ فَلَقِیَ فی الَار فَصَبَرَمِنْ أَجْلِیْ ء و تِلک يَلیَة لم لک وَامًا إِسْعَاق فَيَدلَ تفْسَۂ لِيَذيَع فَصَبَر مِن اجُلِیٔ یلک بَليَالمْ تْک, وَ أَم يَفقوْبُ فَغابَ عَنَهيُوْمْفُ ولک بَيَةْلَمْ تک“ ہم 7 ۹ +٭+ از مائیش کے بعدنص تعتی ے (۲ے7)۹م: ححضرت عاسل نہ سے روابیہت ہے حقرت داوٗوعلی السلام نے دعا مکی ء اے ادا بس ای نے آباء ابراڈیم واسحاق و یتقو بعییہم العلام کے اجترام و مقام کے وسیلہ سے جوآپ کے پا ال نکوحاصل سے دع ارتا ہوں-
سے
جن بل مجر نے فر مایا :ہاں ابرائین آگ میں ڈانے گئے و میریی رضا کے اط صبرکیا اور ایک بای دحیب تنھی جو تھے حاص لیس اور ہاں اسحائی نے ابنی جا نکی تر بای دی از نہوں نو ھیری خوگی کے لیے ص کیا ٠ ۲ء لا ج وآ پکووصل نیس اور لیتقوبٰ سےا کا بیٹا اف الک تک جدا ہوگیا تھاء رای کم ون تھا جھآپ کو اص لبیں۔ (ئح ازئر۶۷۸)
دڑھ یکی ایک روایمت یئ ےک دا دعل السلام ےتا 7-7 ابرازیم واسحاقی و یتقو ب لہا السلام جلیما بنا دے تعن تعالی نے و ینگ کے ابر ئی مک آگ میں ڈا لک رآز مایا اوراحا یکو کے ساتجھ اور یتقو کو اوس کت پآزایا و کھوں نے صصیرکیاء نی اے دا ا مکوفھ آز مایا یی سکیا نان لوگوں جیا مقا٣کھرب کیسے لے گا_ زع ارڈ حضرت اس احیل علیہ السلام ہیں ن کہ اسحاقی علیہ السلام مچی صواب ہے۔وائڈدانم
تام محدین نف ری ن کا انفاقی ےک زع ال حضرت اسماشنل علیہ السلام ہیں ش کہ ضرت